• 1 دسمبر, 2020

تعارف سورۃ الاحزاب (33ویں سورۃ)

تعارف سورۃ الاحزاب (33ویں سورۃ)
(مدنی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 74 آیات ہیں)
ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003ء

وقت نزول اور سیاق و سباق

یہ سورۃ مدینہ میں ہجرت کے پانچویں سال سے لے کر ساتویں سال کے دوران نازل ہوئی۔ اور ممکنہ طور پر آٹھویں اور نویں سال تک مکمل ہوئی۔اس معین وقت کی دلیل کے لیے اس سورۃ میں تسلی بخش شواہد موجود ہیں۔ سابقہ چندسورتوں میں یہ پیشگوئی بار بار اور پرزور طریق پر کی گئی تھی کہ اسلام ترقی کرتا چلا جائے گا اور مضبوط ہو جائے گا یہاں تک کہ پورا عرب اس پیغام کو قبول کر لے گا اور بت پرستی اس سرزمین سے ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائے گی۔ سابقہ سورۃ السجدۃ میں بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں کو جملہ مادی سہولتیں اور دنیاوی شان و شوکت بھی میسر آئیں گی۔

اس سورت کے اختتام پر کفار کا یہ طنز بھی درج ہے کہ آخر یہ پیشگوئی جو اسلام کی فتح اور کثرت سے پھیلنے کی بابت ہے کب پوری ہوگی؟اس کا بھرپور جواب موجودہ سورۃ میں دیا گیا ہے اوریہ بتایا گیا ہے کہ اسلام کی نشاۃ اور ترقی کی پیشگوئی تو پہلے ہی پوری ہو چکی ہے اور اسلام ایک مضبوط طاقت بن چکا ہے۔

مضامین کا خلاصہ

اسلام کے سیاسی طاقت اور شان و شوکت کے طور پر ابھرنے کے بعد اور ایک ریاست کی شکل اختیار کرنے کے بعد شرعی احکام مسلمانوں کی سیاسی اور معاشرتی رہنمائی کے لیے تیزی سے نازل ہوئے۔ موجودہ سورت ایسے کئی احکام پر مشتمل ہے۔ اس سورت کے ابتدا میں ہی عربوں کے دیرینہ رواج جو منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا بنانے کا رواج تھا، اس کا قلع قمع کیا گیا ہے۔ پھر اس سورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے درمیان بہت گہرے اور حقیقی روحانی تعلق کا ذکر کیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بطور ایک روحانی باپ کے مسلمانوں کی جانوں سے بھی زیادہ انہیں عزیزہیں اور آپ ﷺ کی ازواج ان کی مائیں ہیں۔

بعد ازاں اس سورۃ میں غزوہ خندق کے تفصیلی حالات سے آگاہی دی گئی ہےجو مسلمانوں کے خلاف اس وقت تک ہونے والی سب سے خطرناک جنگ تھی۔ پورا عرب وجود واحد کی طرح اسلام کے خلاف محاذ آرائی کے لئے مجتمع تھا اور اسلحہ سے لیس فوج جس کی تعداد دس ہزار سے بیس ہزار تھی ،مدینہ پر چڑھائی کے لیے بڑھ رہی تھی۔ مسلمانوں کی تعداد بارہ سو بتائی جاتی ہے اگر چہ چند مؤرخین کے نزدیک عورتیں اوربچے شامل کر کے مسلمانوں کی کل تعداد تین ہزار تھی۔یہ مقابلہ بظاہر بےجوڑ تھا۔ مسلمانوں کی حالت نا گفتا بہ تھی۔ مگر خدا نے اپنے فرشتوں سے تائید فرمائی اور اس مضبوط دشمن کو پسپا کر دیا۔

اگلی چند آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک مذہبی جماعت میں مخلص اور بے لوث خدمت گزاروں کی کوئی کمی نہیں ہوتی اگرچہ ان کی صفوں میں چند منافق اور ایمانی کمزوری والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ منافقین بالجہر اپنے مومن ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں مدینہ پر ایک بڑی طاقت کا حملہ ہوا تو وہ حقیر بہانوں کے ساتھ مسلمانوں کی صفوں سے نکل کر الگ ہوگئے۔ انہوں نے اپنے عہدوں کی بھی پرواہ نہ کی۔ بنوقریظہ نے عہد شکنی میں پہل کی جب کہ مسلمان مصائب میں گھرے ہوئے تھے اور ہر طرف سے حملہ آور چڑھائی کر رہے تھے اور اسلام کا وجود معرض خطر میں تھا۔ حملہ آوروں کی سرکوبی کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان (بنوقریظہ) کی جانب بڑھے اور انہیں ان کےکئے کی سزا ملی۔

غزوہ خندق کے نتیجہ کے طور پر بنوقریظہ کو جلاوطن کردیا گیا اور مسلمانوں کے ہاتھ کثیر مقدار میں مال غنیمت لگا۔ ایک مظلوم اور مالی لحاظ سے نہایت کمزور اقلیت، اس معرکہ کے بعد ایک فراخی والی اور مضبوط سلطنت بن چکی تھی۔ دنیاوی مال ومتاع کے حصول سے مادہ پرستی اور آرام و آسائش کی خواہشات پنپنے لگیں اور قربانی اور خدمت کی روح کو گزند پہنچا۔یہ وہ مقام ہے جس کا ایک مصلح کو خاص طور پر خیال رکھنا ہوتا ہے۔ آرام اور راحت کا خیال سب سے پہلے گھریلو معاملات کو اثر انداز کرتا ہے اور اہل بیت ہونے کے حوالہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور دیگر اہل خانہ کو بے نفس ہو کر ایک اعلیٰ مثال قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جس میں دنیاوی مال و متاع سے بیزاری کا اظہار ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کو آرام اور سکون والی زندگی اور سادہ زندگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باعث سعادت صحبت کے درمیان انتخاب کا کہا گیا ہے جس پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کےانہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاک صحبت کو منتخب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کو خاص طور پر حکم دیا گیا ہے کہ وہ نیکی اور تقوی میں دوسروں کے لیے نمونہ بنیں۔ جیسا کہ مرتبہ اور مقام کے لحاظ سےخدا کے پیغمبر کی بیویوں کے مقام کے شایان شان ہے اور مسلمانوں کو ان کے دین کی تعلیمات سکھائیں۔

پھر اس سورۃ میں حضرت زینب اور حضرت زید کی شادی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس شادی کی ناکامی (طلاق) اور حضرت زینب کا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آنے سے دو مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے۔ پہلے تو حضرت زینب کا جو آپ کی کزن تھی اور عرب کی حمیت اور حسب نسب اور معاشرے میں اعلیٰ مقام پر فخر کرتی تھی۔ ان کی شادی ایک آزاد کردہ غلام سے کروائی جس کا مقصد آپﷺ کا معاشرے سے تمام حسب نسب کی برتری کا احساس ختم کرنا تھا جو عرب معاشرے کا حصہ تھیں جیسا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق سب انسان یکساں اور آزاد ہیں۔

پھر اس سورۃ میں اس ممکنہ گمراہی کا بھی رد کیا گیا ہے جو منہ بولے بیٹوں کے حوالے سے جنم لے سکتی تھی کہ حقیقی بیٹوں کی غیر موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نرینہ اولاد کے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور یہ کہ آپ کی جماعت (نعوذ باللہ) ایک وارث کی تلاش میں ہی ختم ہو جائے گی۔ اس کے جواب میں اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ یہ خدا کا منصوبہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا نہ ہو مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ لاولد رہیں گے بلکہ آپ روحانی باپ ہونے کی وجہ سے پوری انسانیت کے باپ کے درجہ پر ہیں۔

اس بات کی دلیل کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسی جماعت قائم کریں گے جو نیک اور ایمانداروں کی ہوگی۔آپ کی ازواج ان کی مائیں ہیں اور یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان سے شادی ایک بڑا گناہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ اپنی موجودہ بیویوں میں سے کسی کو طلاق نہ دیں اور نہ ہی مزید شادی کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کو حکم دیا گیا ہے کہ خاص طور پر امہات المومنین کا خطاب ملنے کے بعد اب انہیں اپنے مرتبہ اور مقام کے مطابق، جب وہ گھر سے باہر نکل رہی ہوں، لباس میں خاص اصولوں کو اپنانا ہوگا۔یہ احکامات عمومی طور پر سب مسلمان عورتوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

اپنے اختتام پر یہ سورت بتاتی ہے کہ انسان کو اشرف المخلوق ہونے کے ناطے اپنے اعلیٰ مقام کو سمجھنا چاہیے۔ انسان کو غیر معمولی طاقتیں اور صلاحیتیں دی گئی ہیں جو دوسری مخلوق کو میسر نہیں۔ اس لیے ان شرعی احکامات پرعمل پیرا ہو کر وہ الٰہی صفات میں رنگین ہو سکتا ہے۔

(مرسلہ: مترجم: وقار احمد بھٹی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 نومبر 2020