• 25 ستمبر, 2020

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ جمعہ مورخہ 3 جنوری 2020ء کا خلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ جمعہ مورخہ 3 جنوری 2020ء کا خلاصہ بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

وقف جدید کے 63 ویں سال کا اعلان

وقف جدید میں مالی قربانی کرکے خدا تعالیٰ کا قرب پانے اور اپنے ایمانوں میں مضبوطی حاصل کرنے والوں کے ایمان افروز واقعات

وقف جدید میں کل جماعتہائے احمدیہ کو 96 لاکھ 43 ہزار پاؤنڈ کی مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ اس سال برطانیہ مجموعی طور پر وصولی کے لحاظ سے سر فہرست ہے،پھر پاکستان ہےاور پھر جرمنی ہے

پاکستان ،بھارت اور دنیا کے عمومی حالات کے درست ہونے کے لئے دعا کرنے کی تحریک

نئے سال کی حقیقی مبارکباد ہم پر جو ذمہ داری ڈال رہی ہے اس کا ہر احمدی بڑے چھوٹے،مرد،عورت کو احساس ہونا چاہئے

اپنی دعاؤں اور خداتعالیٰ سے تعلق میں ایک خاص کیفیت پیدا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے تبھی حقیقی برکتیں حاصل کرنے والے ہوں گے

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح ا لخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےمورخہ 3 جنوری 2020ء کو مسجد بیت الفتوح لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹر نیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔اس خطبہ کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
حضور انور نےحضرت مسیح موعودؑ کی تصنیف ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں بیان خدا تعالیٰ کو پانے اسے پہچاننے اس پر ایمان مضبوط کرنے کے بارے میں آٹھ وسائل میں سے پانچواںوسیلہ بیان فرمایاجس میں آپؑ فرماتے ہیں کہ:پانچواں وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھہرایا ہے۔ یعنی اپنا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی عقل کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اس کو ڈھونڈا جائے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ جَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُم وَاَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُون۔ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِ یَنَّھُمْ سُبُلَنَا ۔ یعنی اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرو۔ اور جو کچھ ہم نے عقل اور علم اور فہم اور ہنر وغیرہ تم کو دیا ہے وہ سب کچھ خدا کی راہ میں لگاؤ۔ جو لوگ ہماری راہ میں ہر ایک طور سے کوشش بجا لاتے ہیں ہم ان کو اپنی راہیں دکھا دیا کرتے ہیں۔

پھر خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا طریق بتاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ:تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا تعالیٰ سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے اور اگر تم میں سے کوئی خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی۔

حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں مخلصین ہیں جن کو جب چندے کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی جائے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے لئے مالی قربانی میں بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں گزشتہ کئی سال سے جماعتی نظام کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ نئے آنے والوں کو مالی نظام کی یا مالی قربانی کے نظام میں ضرور شامل کرنا چاہئے۔ کوئی چاہے ایک پینس دینے کی ہی استطاعت رکھتا ہو وہ اپنی استطاعت کے مطابق دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایسی مثالیں دیکھنے میں آتی تھیں۔ حضور انور نے ایک واقعہ میں حضرت منشی ظفر احمد ؓ کی مالی قربانی کا ذکر کر کے فرمایا :ایسے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کو عطا فرمائے جو خدا کی محبت کے حصول کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہتے تھے۔ یہ وہ نمونہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ نے قائم فرمایا اور جس پر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود ؑ کے ماننے والوں نے عمل کیا اور یہ اُس وقت کی بات نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح مختلف تحریکات میں لوگ مالی قربانیاں دیتے ہیں اور اپنے پر تنگیاں وارد کر کے مالی قربانیاں کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بھی جو کسی کا ادھار نہیں رکھتا ان کو کس طرح لوٹا بھی دیتا ہے۔

حضور انور نے فرمایا: آج کیونکہ وقف جدید کے نئے سال کا اعلان بھی ہونا ہے اس لئے وقف جدید کے حوالے سے چند واقعات پیش کروں گا۔فرمایا: گیمبیا کے ایک نومبائع احمدی دوست عبداللہ ای جاوو صاحب جن کا تعلق ایک گاؤں سے ہے وہ مکئی اور گراؤنڈنٹ کی فصل بوتے تھے لیکن گزشتہ چند سالوں سے کوئی خاص فصل نہیں اُ گ رہی تھی۔ اس سال انہوں نے گراؤنڈ نٹ کے بیج فروخت کر کے اپنا وقف جدید کا چندہ ادا کر دیا جو تقریباً سات سو ڈلاسی تھا تا کہ اللہ تعالیٰ ان کے کھیتی کے کام میں، زمیندارے میں برکت ڈالے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس مالی قربانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُن کی فصل میں اتنی برکت ڈالی کہ گزشتہ سال کی نسبت انہیں تین گنا منافع ہوا چنانچہ فصل کاشت کرنے کے بعد انہوں نے مزید ایک ہزار ڈلاسی وقف جدید میں ادا کیا۔

انڈونیشیا کے ایک دوست نے اپنا چندہ وقف جدید پانچ لاکھ انڈونیشین روپیہ ادا کیا انڈونیشین روپے کی ویلیو بہت ہی کم ہے بہرحال ان کے حساب سے کافی ہے یہ بھی، چند دنوں کے بعد کسی نے اپنی زمین ان کو بیچ دی جو انہوں نے پندرہ ملین انڈونیشین میں خرید لی۔ چند ہفتوں کے بعد ہی یہ زمین پچاس ملین انڈونیشین میں کسی اور نے ان سے خرید لی۔ اب کہتے ہیں ان کا یہ یقین ہے کہ چندہ وقف جدید کی برکت سے یہ تھوڑے ہی وقت میں مجھے پینتیس ملین کا منافع ہو گیا۔ ایک دُنیادار اس کو اپنی کاروباری ہوشیاری سمجھے گا کہ دیکھو میں نے کتنا ہوشیاری سے کاروبار کیا کہ چند ہفتوں میں پندرہ ملین سے پینتیس ملین بنا لیا لیکن جو اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا چاہتے ہیں جو اس کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہیں جو اس کی خاطر قربانیاں کرتے ہیں ان کے دل میں کیا احساس پیدا ہوا ،یہ کہ کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر چندہ دیا تھا قربانی کی تھی اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑھا کر ادا کر دیا۔

ہیٹی میں پورٹ آف پرنس کے ایک نو احمدی ابراہیم صاحب چند دن قبل دفتر سے گھر جا رہے تھے۔ راستے میں ان کی ایک فائل گر گئی جس میں بعض ضروری کاغذات اور سندات تھیں اور تیرا ہزار گورد کی رقم تھی ان کے ہاں جو کرنسی ہے وہاں۔ انہوں نے واپس جا کر سارا رستہ چیک کیا فائل نہیں ملی انہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے دل میں عہد کیا کہ میں نے وقف جدید کا جو ایک ہزار گورد کا وعدہ کیا تھا وہ ضرور پورا کروں گا چاہے پیسے میرے پاس ہوں یا نہ ہوں کہیں سے لے کے کر دوں گا چنانچہ میں نے کسی سے قرض لے کر وعدے کے مطابق اپنا چندہ ادا کر دیا۔ کہتے ہیں کہ چندہ دیا تھا تو اسی دن شام کو جس دن چندہ ادا کیا کسی نامعلوم شخص کا فون آیا کہ آپ کی فائل میرے پاس ہے مجھ سے آ کر لے جائیں کہتے ہیں مَیں فوراً پہنچا تو اس شخص نے مجھے فائل پکڑا دی اور کہنے لگا کہ مجھے آپ کا پتا تلاش کرنے کے لئے فائل اندر سے دیکھنی پڑی تھی اس لئے جب مَیں نے فائل بھی آپ کی کھولی ہے آپ اپنی رقم اور کاغذات چیک کر لیں تو مَیں نے چیک کیا تو تمام رقم اور کاغذات فائل میں موجود تھے۔ کہتے ہیں اس پر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ محض چندے کی برکت تھی جس کی وجہ سے میرے گمشدہ کاغذات ضروری کاغذات تھے وہ بھی مجھے مل گئے جن کا بظاہر ملنا مشکل تھا اور رقم بھی۔

قادیان سے سلیجا صاحب ان کا اس سال چندہ وقف جدید بقایا تھا ان کے بھائی نے ان کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اب سال کا اختتام ہے اس کی جلدی ادائیگی کرو لیکن ان کے اکاؤنٹ میں اس قدر رقم نہیں تھی کہ مکمل چندہ ادا کر سکیں بلکہ کل رقم کا صرف تیس فیصد ہی اکاؤنٹ میں موجود تھا۔ موصوف بڑے فکر مند تھے کہ کس طرح مکمل ادائیگی کریں۔ آخر جو رقم اکاؤنٹ میں تھی وہی انہوں نے چندہ ادا کر دی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزانہ طور پر چند ہی لمحات میں اکاؤنٹ میں اتنی مزید رقم آ گئی جس سے وہ بقایا بھی ادا کر سکتے تھے چنانچہ اسی وقت انہوں نے وہ رقم اپنے وعدے کے مطابق ادا کر دی۔ کہتے ہیں کہ ہمیشہ وعدہ جات سال کے اختتام سے پہلے ادا کر دیا کرتے تھے لیکن اس سال ان کی اور ان کے بچے کی بیماری کی وجہ سے بقایا رہ گیا تھا وہ بڑے پریشان بھی تھے اس بات سے لیکن اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر اس کا انتظام کر دیا اور کہتے ہیں میرے ایمان میں تقویت کا باعث بنا یہ۔

گنی بساؤ میں ایک ضعیف بوڑھی خاتون ہیں مسکوتہ صاحبہ ان کو وقف جدید کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی گئی تو کہنے لگی کہ میں نے وعدے کے مطابق رقم جمع کر کے رکھی ہوئی تھی لیکن کل رات اپنے بھائی کی طرف جا رہی تھی کہ راستے میں وہ رقم کہیں گم گئی ہے گر گئی ہے میں وہ رقم تلاش کر رہی ہوں جونہی مجھے رقم ملے گی میں ادائیگی کر دوں گی۔ اس کے بعد وہ رقم تلاش کرتی رہیں لیکن کہیں نہیں ملی۔ اس پر انہوں نے اپنی بیٹی سے کچھ رقم اُدھار لے کر وقف جدید میں ادا کر دی اور یہ رقم ادا کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ ڈھونڈھنے کی کوشش کی اپنی گری ہوئی تھیلی۔ کہتی ہیں ابھی میں چند میٹر دُور گئی تھی کہ وہی رقم جو پلاسٹک کے ایک لفافے میں بند تھی سڑک کے درمیان میں پڑی ہوئی مل گئی اس پر بہت خوش ہوئیں اور اگلے دن واپس آئیں اور اپنے وعدے کے مطابق ادائیگی مکمل کی اور پھر یہ لوگوں کو بتانے لگی کہ چندے کی وقف جدید کے چندے کی برکت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو گمشدہ رقم واپس دلا دی۔

تنزانیہ کے اروشا ریجن کی ایک جماعت میں چندے کی تحریک کی گئی۔ ایک غریب خاتون فاطمہ صاحبہ جو کیلے اور پھل بیچ کر گزارہ کرتی ہیں انہوں نے دو دن کی تمام آمدنی وقف جدید میں ادا کر دی اور اپنی فیملی کو بھی باقاعدہ وقف جدید میں شامل کروایا۔ اسی طرح جماعت کی ایک اور ضعیف خاتون ہیں ان کو بھی تحریک کی گئی تو اگلے دن صبح آٹھ بجے خود مشن ہاؤس آئیں اور پانچ ہزار شلنگ وقف جدید میں ادا کئے۔ اب یہ وہ لوگ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حیرت ہوتی ہے ان لوگوں کو دیکھ کر کہ کس طرح قربانیاں کرتے ہیں اور توجہ دلانے پر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ توجہ دلائی جائے تو یہ لوگ قربانی بھی کرتے ہیں ۔ پھر رشیا کے خدایانوو صاحب آرمینین ہیں لیکن رشیا میں رہتے ہیں انہیں کافی مطالعہ اور سوچ بچار کے بعد احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ قبول احمدیت کے ساتھ ہی انہیں جماعت میں مالی قربانی کے نظام سے متعارف کروایا گیا اس کے بعد انہوں نے باقاعدہ ہر ماہ چندہ وقف جدید اور تحریک جدید ادا کرنا شروع کر دیا۔ کام کے سلسلہ میں ملک کے اندر بھی اور ملک سے باہر بھی کافی سفر کرتے ہیں لیکن سفروں میں رہنے کے باوجود باقاعدگی سے چندہ ادا کرتے ہیں۔ چھوٹا موٹا کام ہے ان کا اس میں کرتے ہیں یہ نہیں کہ کوئی بہت صاحب حیثیت ہوں اس لئے سفر کرتے ہیں۔ جنوری 2020ء میں اپنے کام کے سلسلہ میں انہوں نے آرمینیا جانا تھا وہاں سے کازان جانا تھا یہ کام بہت ضروری تھا لیکن ان کے پاس سفر کے اخراجات کے لئے مناسب رقم میسر نہیں تھی۔ پریشانی بھی تھی دُعا بھی کر رہے تھے کہتے ہیں 30 دسمبر والے دن ایک ایسی کمپنی سے ان کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی گئی جس نے یہ رقم انہیں فروری میں ادا کرنی تھی۔ یہ کہتے ہیں کہ ان کے علاوہ اور بھی لوگ ہیں جنہیں یہ رقم فروری میں ملنی ہے لیکن صرف ان کو یہ رقم فروری کے بجائے دسمبر میں ادا کر دی گئی اور یہ ان کا یقین ہے کہ یہ صرف اور صرف چندے کی برکت ہے ورنہ یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ اتنے لوگوں میں سے یہ رقم صرف مجھے تیس دسمبر کو کیوں دی گئی اور وہ مزید لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سلوک اور پیار کا اندازہ صرف ایک احمدی مسلمان کو ہی ہوسکتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ بھی ایمان مضبوط کرتا ہے۔

حضور انور نے وقف جدید کے 63 ویں نئے سال کا اعلان فرمایا۔ دورانِ سال وقف جدید میں مالی قربانیوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئےفرمایا کہ وقف جدید میں کل جماعتہائے احمدیہ کو 96 لاکھ 43 ہزار پاؤنڈ کی مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ گزشتہ سال سے یہ رقم 5 لاکھ پاؤنڈزیادہ ہے۔اس سال برطانیہ دُنیا کی جماعتوں میں مجموعی طور پر وصولی کے لحاظ سےسر فہرست ہے،پھر پاکستان اور پھر جرمنی ہے ۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید میں شاملین کی تعداد 18 لاکھ 21 ہزار ہو گئی ہے اور اس سال ان کا اضافہ 89 ہزار ہے۔ حضور انور نے مجموعی وصولی کے لحاظ سے مختلف ممالک کی دس بڑی جماعتوں کی تفصیل بیان کرنے کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمام قربانی کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔ حضور انور نے پاکستان، بھارت اور دُنیا کی عمومی حالات بیان کر کےدُعا کی تحریک فرمائی۔ فرمایا: نیا سال شروع ہوا ہے ہم ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہیں۔ نئے سال کی حقیقی مبارکباد ہم پر جو ذمہ داری ڈال رہی ہے اس کا ہر احمدی بڑے چھوٹے مرد عورت کو احساس ہونا چاہئے اور اس کے لئے اپنی تمام کوششوں اور صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہئے اور اپنی دُعاؤں میں اور خدا تعالیٰ سے تعلق میں ایک خاص کیفیت پیدا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے تبھی ہم اس سال کی حقیقی برکتیں حاصل کرنے والے ہو سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 جنوری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 جنوری 2020