• 23 جنوری, 2021

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 17)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں (قسط 17)

پریس انٹرپرائز۔ 17 مارچ 2005ء میں اپنی رپورٹ Bettye W. Miller کے حوالہ سےخبردیتاہےجس کاموضوع تھاکہ عراق میں امن کس طرح قائم ہو سکتا ہے؟

مذہبی لوگوں کی نظر سے دیکھا جائے تو عراق میں جنگ غیراخلاقی اور غیرضروری ہے۔ اگرچہ اس میں بھی مختلف مذاہب مختلف خیال رکھتے ہیں۔ ایک خاتون میڈلین میکے کہتی ہیں کہ ’’حضرت عیسیٰؑ نے کہا ہے کہ اپنے ہمسایوں سے محبت کرو۔ کسی بھی طریق سے آپ عراق کی جنگ کو صحیح نہیں کہہ سکتے۔‘‘

شمشاد ناصر جو جماعت احمدیہ کی مسجد بیت الحمید کے امام ہیںکہتے ہیں کہ مسلمانوں کا تو یہ فرض ہے کہ وہ امن قائم کریں۔ ان کا مذہب انہیں یہی سکھاتا ہے۔

فون پر انٹرویو دیتے ہوئے امام شمشاد نے کہا کہ اسلام میں بلاوجہ جنگ یا کسی بھی دہشت گردی کی بالکل کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن بعض لوگ اپنے اپنے مذاہب کی تعلیم کا غلط مطلب نکال کر اپنے حق میں ثابت کر لیتے ہیں جو غلط ہے۔ اسلام تو ہر ایک مسلمان کو اپنے اپنے ملک کے قوانین کی پابندی سکھاتا ہے اور یہ کہ جب کوئی حکومت مذہب میں دخل اندازی کرے توسیاست دانوںکےساتھ اس کےخلاف بات کی جائے۔امام شمشاد نے کہا کہ ہمارے نزدیک جنگ کوئی ذریعہ اصلاح نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ہمارا تو نعرہ ہی یہ ہے کہ ’’محبت سب کے لئے۔ نفرت کسی سے نہیں۔‘‘

اسی طرح اخبار نے یہودی نظریہ اور دیگر لوگوں کے نظریات بیان کئے ہیں جس میں جنگ کو ضروری قرار دیا گیا تھا۔

ڈیلی بلٹن اپنے 18 مارچ 2005ء کی اشاعت میں مختصراً خبر شائع کرتا ہے جس کا عنوان ہے:

’’چینو امام پاکستانی سفیر سے ملاقات کرتا ہے‘‘

خبر میں بتایا گیا ہے کہ امام شمشاد آف مسجد بیت الحمید چینو نے پاکستان کے امریکہ میں متعین سفیر جناب جہانگیر کرامت صاحب کے ساتھ لاس اینجلس کی ایک تقریب میں ملاقات کی۔ سفیر محترم نے پاکستان کے موقف کو واضح کیا جو اس وقت دہشت گردی کے سدّباب میں وہ کر رہا ہے۔ اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کا وفد جس کی قیادت امام شمشاد کر رہے تھے، بھی سفیر پاکستان کو ملا۔ یاد رہے کہ احمدیہ فرقہ کو پاکستان میں مظالم کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں بے حیثیت سمجھا جاتا ہے خصوصاً سنی اور شیعہ علماء کی جانب سےاور حکومت کی جانب سے انہیں ظلم و ستم کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

انڈیا پوسٹ نے 18 مارچ 2005ء کی اشاعت میں صفحہ 19 پر ہماری ایک خبر دی ہے جس کا عنوان یہ ہے :
’’جماعت احمدیہ کا وفد پاکستانی ایمبیسیڈر سے ملتا ہے‘‘ اس کے ساتھ ایک تصویر بھی ہے جس میں خاکسار (سید شمشاد احمد ناصر) سفیر محترم کو اسلامی اصول کی فلاسفی پیش کر رہا ہے۔ انڈیا پوسٹ نیوز سروس کے حوالہ سے اخبار نے خبر دی کہ لاس اینجلس میں ورلڈ افیئر کونسل نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں پاکستان کے سفیر جہانگیر کرامت صاحب مہمان خصوصی تھے۔

سفیر محترم نے دیئے گئے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اخبار نے لکھا کہ پاکستان 1947ء میں معرض وجود میں آیا۔ اس کے بعد سے اب تک اقلیتوں کے حقوق کی اس ملک میں حفاظت نہیں ہوئی۔ بلکہ متشدد قسم کے گروہ حکومت پر ہمیشہ اثر انداز رہے ہیں۔ سفیر محترم نے دہشت گردی اور موجودہ جنگ میں پاکستان کی کیا ذمہ داریاں ہیں، کے بارے میں حاضرین کو بتایا۔ اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کا وفد جس کی قیادت امام شمشاد کر رہے تھے، بھی سفیر محترم سے ملا اورانہیں جماعت کی طرف سے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ پیش کی۔

العالم العربی نے عربی سیکشن میں ہماری ایک خبر دی ہے جو 18 مارچ 2005ء کی اشاعت میں شائع شدہ ہے۔

’’خبر کا عنوان ہے کہ ’’جماعت احمدیہ مسلمہ کا وفد پاکستان کے امریکہ میں سفیر سے ملاقات کرتے ہیں‘‘

اس خبر میں ایک تصویر بھی ہے۔ تصویر میں خاکسار پاکستان کے سفیر جناب جہانگیر کرامت صاحب کو کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ پیش کر رہا ہے۔ تصویر میں خاکسار کے پیچھے مکرم انور محمود خان صاحب نظر آرہے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ لاس اینجلس میں ورلڈ آفیئر کی آرگنائزیشن کے زیراہتمام ایک سیمینار ہوا جس میں مہمان خصوصی امریکہ پاکستان کے سفیر مکرم جہانگیر کرامت صاحب تھے۔ انہوں نے اپنے ملک کی پالیسیوں کا ذکر کیا۔ اس آرگنائزیشن کے زیراہتمام یہ دوسری میٹنگ تھی جس میں پاکستانی سفیر نے شرکت کی۔ خبر کے آخر میں ہے کہ جماعت احمدیہ اسلامیہ کا وفد جو مسجد بیت الرحمید چینو سے تعلق رکھتا تھا، نے بھی سفیر محترم سے ملاقات کی اور انہیں اس موقعہ پر کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی پیش کی۔ امام شمشاد نے یہی کتاب کونسل جرنل آف لاس اینجلس کو بھی پیش کی۔

الانتشار العربی اپنی 24 مارچ 2005ء صفحہ 22 پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ کا خلاصہ ¼ صفحہ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی تصویر کےساتھ شائع کرتا ہے۔ آپ کی تصویر کے نیچے لکھا ہے حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس۔

یہ خطبہ جمعہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے مسجد بیت الفتوح میں 4 مارچ 2005ء کو ارشاد فرمایا تھا جس میں قرآن کریم کی عظمت اور فضائل کا تذکرہ ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ آپ نے سورۃ البینہ کی آیات 3 اور 4 تلاوت کی اور آپ نے اپنے خطبہ میں قرآن کریم کے فضائل اور برکات بیان فرمائیں۔

آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودوامام مہدیؑ فرماتے ہیں:
خاتم النبیین کا لفظ جو آنحضرت ﷺ پر بولا گیا ہےخود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہواور سارے کمالات اس میں موجود ہوں……‘‘

آپ مزید فرماتے ہیں:
آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کو نہ کبھی حاصل ہوا اور نہ آئندہ حاصل ہو گا اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات کمال آپ پر ختم ہو چکے تھے۔

آپ نے حضرت عائشہؓ کی حدیث بیان فرمائی کہ جب آپ سے آنحضرت ﷺ کے خلق کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ اس نے کہا کہ کیوں نہیں۔ تو انہوں نے فرمایا : کَانَ خُلُقُ نَبِیّ اللّٰہِ ﷺ القرآن۔ نبی کریم ﷺ کے اخلاق قرآن ہی تھے۔

یعنی قرآن کریم میں جس طرح لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، آپ ﷺ نے عبادت کی۔ قرآن کریم میں جس طرح لکھا ہے کہ حقوق العباد ادا کرو،آپ ﷺ نے حقوق العباد ادا کئے۔ قرآن کریم میں جن باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے آپؐ نے ان باتوں اور حکموں پر عمل کیا۔ قرآن کریم نے جن باتوں سے رکنے کا حکم د یا گیاہےآپ ﷺ نے ان کو ترک کیا۔

آپ نے آنحضرت ﷺ کے قرآن کریم کے پڑھنے اور تلاوت کرنے کے بارے میں حضرت ام سلمہؓ سے روایت بیان کی ہےکہ آپ قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرتے تھے اور آپ تلاوت کے وقت اللہ تعالیٰ کے کلام پر بہت غور و فکر بھی کرتے تھے۔

آپ نے حضرت مسیح موعود ؑ کی یہ عبارت بھی بیان فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھو کہ صرف ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ (ہود: 113) نے ہی بوڑھا کر دیا۔ آپ کی یہ حالت کیوں ہوئی؟ صرف اس لئے کہ ہم اس سے سبق لیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہادی ٔکامل اور پھر قیامت تک کے لئے اور کُل دنیا کے لئے مقرر فرمایا۔ آپ کی زندگی کے تمام واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بہت سی احادیث نبویہ بیان فرمائیں جن میں آنحضرت ﷺ کے قرآن کریم کی تلاوت کا بیان تھا اور قرآن مجید پڑھنےپڑھانےاوریاد کرنے کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔ ان احادیث کو بیان کرنے کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
یعنی قرآن کریم کو پڑھو،ا س کی تعلیم کو پھیلاؤ اور اس پر عمل بھی کرواور دوسروں کو بھی بتاؤ۔ پھر آپ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ جو شخص قرآن شریف پڑھتا ہے اور اس کا حافظ ہے وہ ایسے لکھنے والوں کےساتھ ہو گا جو بہت معزز ہوں گے۔

آپ نے قرآن کریم کی برکات اور اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھیں! آپ ﷺ کو ہر وقت یہ لگن تھی کہ اس کتاب کو امت ہمیشہ پڑھتی رہے اس پر عمل کرتی رہے۔ کہیں یہ نہ ہو کہ وہ اس کو چھوڑدے۔ یقیناً اس کے لئے آپؐ دعائیں بھی کرتے تھے۔ خدا کرے کہ امت آپؐ کی اس دلی تمنا کو سمجھے۔ آپ ﷺ چاہتے تھے کہ امت قرآن کریم کی تعلیم کو پڑھے اوراس پر عمل کرے تا قرآن کریم کی تعلیم دنیا میں رائج ہو جائے۔

الاخبار نے عربی سیکشن میں 24 مارچ 2005ء کو ایک تصویر کے ساتھ خبر دی ہے۔ جس کا عنوان ہے :
’’جماعت اسلامیہ احمدیہ پاکستانی سفیر سے مل رہی ہے‘‘ اور امام شمشاد پاکستانی سفیر کو کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی پیش کرر ہے ہیں۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ لاس اینجلس میں ورلڈ آرگنائزیشن کی میٹنگ میں جہاں پاکستانی سفیر مہمان خصوصی تھے، ان کی تقریر کے بعد جماعت احمدیہ کا وفد ان سے ملا اور امام شمشاد ناصر نے انہیں بانی جماعت احمدیہ کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی پیش کی۔

الانتشار العربی عربی اخبار ہے۔ اس کے انگریزی سیکشن میں 24 مارچ 2005ء کی اشاعت میں صفحہ 26 پر ہماری جماعت کی ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے:

احمدیہ مسلم کمیونٹی کا وفد امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر سے ملتا ہے

اخبار نے خبر کےساتھ ایک تصویر بھی شائع کی ہے۔ تصویر میں خاکسار سید شمشاد ناصرمبلغ سلسلہ احمدیہ۔ پاکستانی سفیر مکرم جہانگیر کرامت صاحب کو اسلامی اصول کی فلاسفی پیش کر رہا ہے ۔ خاکسار کے پیچھے لاس اینجلس جماعت کے جنرل سیکرٹری مکرم انور محمود خان صاحب بھی کھڑے ہیں۔

اخبار نے لکھا کہ لاس اینجلس ورلڈ آفیئرز نے ہلٹن ہوٹل میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں مہمان خصوصی پاکستان کے سفیر مکرم جہانگیر کرامت صاحب تھے جو امریکہ میں متعین ہیں۔ ڈائریکٹر آف لاس اینجلس ورلڈ افیئر نے مکرم جہانگیر کرامت صاحب کا تعارف کرایا جس کے بعد سفیر محترم نے تقریر کی اور پاکستان کی پالیسیوں اور امریکہ کے ساتھ تعلق کے بارے میں بھی بیان کیا۔

خبر کےآخر میں لکھا ہے کہ اس موقعہ پر احمدیہ مسلم کمیونٹی کے وفد جس کی قیادت امام شمشاد ناصر آف مسجد بیت الحمید کر رہے تھے، نے بھی پاکستانی سفیرسے ملاقات کی اور ان کی خدمت میں اسلامی اصول کی فلاسفی کتاب بطور تحفہ پیش کی۔ (یہ کتاب بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ نے لکھی ہے) اس موقعہ پر احمدیہ مسلم کمیونٹی نے اس تقریب میں شامل بہت سے اعلیٰ افسران سے بھی ملاقات کی اور تعارف کروایا۔

الانتشار العربی ۔یہ ایک عربی اخبار ہے۔ اس کی ایڈیٹر مکرمہ فاطمہ عطیہ صاحبہ ہیں جو کہ ایک مسلمان ہیں۔ا ن کا یہ اخبار الانتشار العربی، شامی فلسطینی اور لبنانی کمیونٹی میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے دیگر عربی اقوام بھی اس اخبارکو پڑھتی ہیں۔ مسجد بیت الحمید سے ان کا آفس قریباً ایک گھنٹہ کی مسافت پر تھا۔ خاکسار مہینہ میں ایک دو دفعہ ضرور ان کو ملنے جاتا اور ان کے سٹاف سے سلام دعا ہوتی۔ جماعت کےعقائد پر بات بھی ہوتی۔ ان کو متعدد مرتبہ عربی زبان میں شائع شدہ جماعت کا لٹریچر بھی دیا گیا۔ ان کوانگریزی ترجمۃ القرآن ان کی فرمائش پر مہیا بھی کیا گیا۔

عربی میں خصوصاً حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب الاستفتاء ، اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ، کرامات الصادقین اور القول الصریح فی ظہور المہدی جو کہ مکرم مولانا نذیر احمد مبشر صاحب کی کتاب ہے، دی گئیں۔ اس کے علاوہ گاہے بگاہے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات جمعہ کا عربی ترجمہ بھی دیا جاتا رہا ہے۔

چینو چیمپئن 16 اپریل 2005ء کےشمارےمیں صفحہ B-7 پر ایک تصویر کے ساتھ خبر دیتاہے :
’’اسلام کی خدمت کے لئے کمربستہ‘‘ اس خبر میں ہے کہ 35 احمدی بچے اور بچیاں (جو وقف نو ہیں) مسجد بیت الحمید میں اپنے اجتماع کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم بھی سنایا اور اپنی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔

الانتشار العربی نے 21 اپریل 2005ء کےشمارےکےصفحہ 26 پر انگریزی سیکشن میں ہماری ایک خبر شائع کی ہےجس کا عنوان یہ ہے:

احمدیہ مسلم کمیونٹی۔ بیت الحمید مسجد چینو کیلیفورنیا

نوعمر واقفینِ نو مسجد بیت الحمیدمیں اکٹھے ہوئے ہیں۔ اخبار نے واقفین نو بچوں اور بچیوں کی تصویر بھی شائع کی ہے جس میں مکرم ناصر نور صاحب اور خاکسار بچوں کےساتھ ہیں۔ تصویر کے پیچھے کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلَ اللّٰہ نظر آرہا ہے اور وقف نو کا بینر بعض دعاؤں کے ساتھ بھی نمایاں طور پر نظر آرہا ہے۔

اخبار نے لکھا کہ قریباً 35 بچے اور بچیاں جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام /احمدیت کے لئے وقف کی ہوئی ہیں مسجد بیت الحمید میں اپنے اجتماع کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس اجتماع کی صدارت امام شمشاد ناصر نے کی تلاوت قرآن کے بعد بچوں نے تقاریر کیں۔ عزیزم فراز احمد جس کی عمر 10 سال ہے، نے سب شاملین کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی کہ وہ باقاعدہ نماز پڑھیں، تلاوت کریں اور مسجد سے پکا تعلق قائم رکھیںنیز جھوٹ سے اجتناب اور دیانت داری کوشعار بنائیں۔

عزیزم رضوان جٹالہ جن کی عمر 15 سال ہے، نے آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کے مطابق سادہ زندگی گزارنے کی ترغیب دی۔ اسی طرح یہ بھی کہاکہ بچوں کو چاہئے کہ وہ بڑوں کا ادب و احترام بھی کریں۔

عزیزہ عنبر خان جو 9 سال کی بچی ہے، نے بڑی عمدہ خوش الحانی سےقصیدہ پڑھا جو کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے آنحضرت ﷺ کی مدح میں کہا ہے۔ اخبار نے قصیدہ کےدرج ذیل ابتدائی اشعار کا انگریزی ترجمہ بھی نقل کیا ہے۔

یَا عَیْنَ فَیْضِ اللّٰہِ وَالْعِرْفَانِ
یَسْعٰی اِلَیْکَ الْخَلْقُ کَالظَّمْاٰنِ

اس موقعہ پر امام شمشاد ناصر نے بچوں اور والدین کو نصیحت کرتے ہوئے بتایا کہ بچوں کو خصوصی توجہ دی جائےاوران کی صحیح تربیت کی جائے انہوں نے ماؤں کو خاص طور پر اسکی طرف توجہ دلائی۔ اس سلسلہ میں امام نے کہا کہ صحیح تربیت کے لئے بہت ضروری ہے کہ سیٹیلائٹ کے ذریعہ MTA کو دیکھا اور سنا جائے۔ آخر میں جماعت احمدیہ کا تعارف اور خاکسار کا تعارف لکھا ہے۔

نوٹ: خاکسار یہاں اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ ایک خبر بار بار دہرائی جارہی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک خبر مختلف اخباروں میں اور پھر انگریزی، اردو، عربی اور عربی اخبار کے انگریزی سیکشن میں آرہی ہے اس لئے یہ بات محسوس ہو رہی ہو گی کہ یہ دہرائی گئی ہے۔ لیکن اخبار یا ان کے سیکشن زبان کے لحاظ سے اور ہیں اور اس طرح ہمارا پیغام مختلف کمیونٹیز مثلاً امریکن، عرب اور ایشین کمیونٹیز تک پہنچا ہے۔ الحمد للہ علیٰ ذالک

ایک ہی اخبار نے ایک ہی خبر دو مرتبہ دی ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک دفعہ اپنے عربی سیکشن میں اوردوسری دفعہ انگریزی سیکشن میں دی ہے۔ اسی طرح عربی اخبارات کے مختلف نام ہیں۔ اخبار کا نام دہرایا جارہا ہے لیکن اس کے سیکشن الگ الگ ہیں۔

ایک یہ اخبار (الانتشار العربی) نے اپنی اشاعت 21 اپریل 2005ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ ¼ صفحہ پر حضور کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خطبہ جمعہ کا موضوع تھا ’’آنحضرت ﷺ کا توکل علی اللہ‘‘۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس خطبہ جمعہ میں آنحضرت ﷺ کے کئی واقعات مثلاً طائف کا واقعہ، ہجرت مدینہ کا واقعہ، خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق کو غار ثور میں جواب دینا کہ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا اور آنحضرت کی شجاعت کا واقعہ جب سراقہ نے آپؐ کا پیچھا کیا، تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے آنحضرت ﷺ کی حدیث بھی توکل کے ضمن میں بیان فرمائی کہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر حقیقی توکل کرو گے تو خداتمہیں وہاں سے رزق عطا کرے گا جہاں سے تمہیں گمان بھی نہ ہو گا۔ جیسے پرندے صبح خالی پیٹ اپنے گھونسلوں سے جاتے ہیں اور جب شام کو واپس آتے ہیں تو ان کے پیٹ بھرے ہوتے ہیں۔

خطبہ جمعہ کے اس خلاصہ کے نیچے لکھا ہے کہ اگر آپ کو اسلام و احمدیت کے بارے میں مزید معلومات درکارہیں تو جماعت کی ویب سائٹ الاسلام ڈاٹ آرگ اور فون نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

انڈیا ویسٹ نےاپنی اشاعت 13 مئی 2005ء کےصفحہ C-42 پر واقفین نو اور واقفات نو کی ایک تصویر کے ساتھ خبر شائع کی ہے جس کا عنوان ہے:
’’احمدی بچے اور بچیاں، مسجد بیت الحمید میں‘‘

خبر میں بتایا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے 35 چھوٹے بچیاں اور بچے مسجد بیت الحمید چینو میں اکٹھے ہوئے ہیںجنہیں ان کی پیدائش سے ہی اسلام کی خدمت کے لئے وقف کیا گیا ہے۔ یہ اپنے سالانہ اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ اس اجتماع کی صدارت امام شمشاد احمد ناصر نے کی۔ تلاوت کے بعد بچوں نے قرآن کریم کے یاد کئے ہوئے حصے سنائے اور مختلف عناوین پر تقاریر بھی کی گئیں۔ عزیزم فراز احمد جن کی عمر دس سال ہے، نے بچوں کو ایک مسلمان ہونے کے حوالہ سے ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ وہی شخص اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکتا ہے جو مسجد کے ساتھ تعلق رکھے۔ قرآن پڑھےاورپانچ نمازیں باقاعدگی کے ساتھ پڑھے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ایمانداری کو اپنانا چاہئے اور جھوٹ سے پرہیز کرنا چاہئے۔

عزیزم رضوان احمد جن کی عمر 15 سال ہے، نے سادگی پر تقریر کی کہ سادہ زندگی اختیار کرنی چاہئے۔ والدین اور بڑوں کا عزت و احترام کرنا چاہئے اور آپ کا دل ہمیشہ مسجد سے اٹکا رہنا چاہئے۔عزیزہ عنبر خان جس کی عمر 9 سال ہے، نے آنحضرت ﷺ کی شان میں قصیدہ پڑھا۔

امام ناصر نے والدین اور بچوں کو صحیح تربیت کی طرف توجہ دلائی اورکہاکہ اس پر خاص توجہ دینی چاہئے۔ا نہوں نے خصوصاً ماؤں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تربیت کے لئے ہمارے پاس بہترین ذریعہ MTA ہے۔ اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ خبر کے آخر میں جماعت کی ویب سائٹ الاسلام کاایڈریس لکھاگیاہے۔ نیزجو تصویر شائع کی ہے اس میں بچے اور بچیاں نظر آرہی ہیں جنہوں نے اپنے اپنے انعامات اور سرٹیفیکیٹ ہاتھ میں اٹھائے ہوئے ہیں۔

چند بچوں کے نام جو اس تصویر میں نمایاں ہیں، یہ ہیں:سید زکریا، (یہ اس وقت لاس اینجلس جماعت کے جنرل سیکرٹری ہیں)،جلیس ڈار، (اس وقت جامعہ کینیڈا کی آخری کلاسوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں)، رضوان جٹالہ (اس وقت ڈاکٹر بن رہے ہیں)،اور خاکسار کے ساتھ مکرم ناصر نور صاحب ہیں اوران کے بچے بھی اس تصویر میں شامل ہیں۔ مکرم ناصر نور صاحب اس وقت جماعت احمدیہ لاس اینجلس کے صدر ہیں۔ حزقیل ڈار اور بچیوں میں صالحہ ڈارہیں۔

الانتشار العربی نے 19 مئی 2005ء کی اشاعت میں انگریزی سیکشن میں ایک تصویر کے ساتھ خبر دی ہے۔ خبر کا عنوان ہے کہ جماعت احمدیہ چینو (کیلیفورنیا) کے ممبران کی نیشنل شوریٰ (مجلس مشاورت ) میں شرکت۔ جو تصویر شائع کی گئی ہے اس میں دائیں سے مکرم مولانا مبشر احمد صاحب (مشنری) خاکسار سید شمشاد احمد ناصر (مشنری) مکرم داؤد حنیف صاحب مشنری انچارج ، مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نائب امیر امریکہ، مکرم ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب نائب امیر امریکہ نظر آرہے ہیں۔

خبر میں لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کے 60 جماعتوں سے نمائندگان 3 دن کی مجلس مشاورت کے لئے میری لینڈ میں اکٹھے ہوئے جو کہ موجودہ حالات کے تناظر میں بہت سے مسائل پر گفتگو کریں گے۔

لوکل جماعت چینو کے ریجن کے درج ذیل احباب مکرم امام شمشاد ناصرصاحب، مکرم ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب، مکرم انور خان صاحب، مکرم وسیم اے سید صاحب، مکرم جلال الدین صاحب صدر جماعت، مکرم جمیل محمد صاحب، مکرم عاصم انصاری صاحب، مکرم مونس چوہدری صاحب، مکرم آفتاب خان صاحب اور مکرم محمود خان صاحب شامل ہوئے۔

اس سال شوریٰ میں 160 احباب حاضری تھے۔ شوریٰ کے موقعہ پر بجٹ کی تجویز، اسی طرح تبلیغ کی سب کمیٹی اور دیگر سب کمیٹیوں کے اجلاسات ہوئے۔ اس موقعہ پر منعم نعیم صاحب ہیومینیٹی فرسٹ کے صدر نے بھی رپورٹ دی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح اس کے ذریعہ کام ہو رہا ہے۔

شوریٰ کے بعد ایک سیشن ہوا جس میں سوالات کے جوابات دیئے گئے۔ جس میں جماعت کے علماء اور دیگر لوگوں نے سوالات کے جوابات دیئے۔

الانتشار العربی نے اپنی اشاعت 19 مئی 2005ء میں قریباً نصف صفحہ پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ عربی زبان میں حضور انور کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔

اس خطبہ جمعہ میں حضور انور نے سورۃ مزمل کی آیت 73:7 اور سورۃ الشوریٰ کی آیات 219-220 سے آنحضرت ﷺ کا ارفع مقام اور آپ کی عبادات کے بارے میں فرمایا۔ آپ نے آنحضرت ﷺ کی نماز تہجد کا نقشہ کھینچا کہ اتنی دیر عبادت کرتے کہ پاؤں متورم ہو جاتے۔

حضور انور نے حضرت عائشہؓ کا بھی ذکر فرمایا کہ ایک رات ان کے ہاں آپ کی باری تھی تو ان سے عبادت کی اجازت لی۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہؓ کی بھی بعض خوبیاں یہاں بیان فرمائیں۔ آپ کو اپنی آخری بیماری کے ایام میں بھی خداتعالیٰ کی عبادت کا کتنا خیال تھا کہ اس وقت بھی مسجد جا کر نماز باجماعت ادا کرنے کی خواہش تھی۔ پس جس طرح آنحضرت ﷺ کے دل میں خداتعالیٰ کی محبت اور عبادت کا خیال ہر وقت غالب رہتا تھا اسی طرح جماعت احمدیہ کے افراد کو خداتعالیٰ کی محبت اور عبادت کرنی چاہئے اور آپؐ کے اسوہ حسنہ کو اپنانا چاہئے۔

العالم العربی یہ بھی لاس اینجلس کا ایک اور بڑا مشہور عربی کا اخبار ہے۔یہ اپنی 20 مئی 2005 صفحہ 12B پر عربی میں ہمارے خدام الاحمدیہ اجتماع کی خبر ایک تصویر کےساتھ شائع کرتا ہے۔ تصویر میں شاملین اجتماع خدام و اطفال ہیں جن کےساتھ درمیان میں مکرم ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب نائب امیر امریکہ اور خاکسار سید شمشاد احمد ناصر ریجنل مبلغ ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ مسجد بیت الحمید میں خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کا اجتماع ہوا۔ جس میں بچوں کے لئے علمی و ورزشی مقابلہ جات ہوئے۔ اور اول دوم سوم آنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ اس میں 70 نوجوان شامل ہوئے۔ مکرم ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب نے نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ہمیں اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے چاہئیں۔ امام شمشاد ناصر آف مسجد بیت الحمید نے بھی نوجوانوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ انہیں اعمال صالحہ بجا لانے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنا چاہئے۔

خبر کے بعد خاکسار کے تعارف میں لکھا ہے کہ شمشاد احمد مسجد بیت الحمید کے امام ہیں۔ جنہوں نے خدمت اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے اور امریکہ آنے سے پہلے وہ پاکستان گھانا اور سیرالیون میں خدمات اسلامیہ بجا لا چکے ہیں اور لاس اینجلس آنے سے پہلے وہ ڈیٹن، میری لینڈ، ہیوسٹن میں خدمات بجا لا چکے ہیں۔ اگرکسی کو مزید معلومات چاہئیں تو وہ مسجد کے فون پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

انڈیا پوسٹ 20 مئی 2005ء کی اشاعت میں اخبار نے ہمارے ریجنل اجتماع خدام الاحمدیہ و اطفال الاحمدیہ کی خبر ایک رنگین تصویر کے ساتھ شائع کی ہے۔

انڈیا پوسٹ نیوز سروس کے حوالہ سے خبر لکھتا ہے کہ احمدیہ مسلم کمیونٹی لاس اینجلس نے مسجد بیت الحمید میں خدام و اطفال کاریجنل اجتماع کیا۔ اس میں 70 کی حاضری تھی یہ 7 مئی کو ہوا۔ اس اجتماع میں علمی و ورزشی مقابلہ جات بھی ہوئے۔ علمی مقابلہ جات میں قرآن کی تلاوت، اردو اور انگریزی نظم اور تقاریر کا مقابلہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ورزشی مقابلہ جات میں رسہ کشی، باسکٹ بال اور دوڑ کے مقابلہ جات ہوئے۔

اس موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر حمید الرحمٰن صاحب صدر جماعت نے کہا کہ ہمارے بچے ہماری کمیونٹی کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اس لئے ہمیں ان کے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے چاہئیں۔ آخری سیشن میں جیتنے والوں کو انعامات بھی دیئے گئے۔

امام شمشاد ناصر نے اس موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ہمیں پیار، محبت سکھاتا ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ احترام کرتے ہوئے اپنے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنانا چاہئے اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہئے اور اس قسم کے اجتماعات ہمارے مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ امام شمشاد نے کہا۔

ہماری جماعت اور ہمارے نوجوان گزشتہ 25 سالوں سے یہاں اس علاقہ میں خون کے عطیات دینے، غرباء کی ہمدردی اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے، خوراک و لباس مہیا کرنے اور سڑکوں کی صفائی میں بھی مصروف ہیں۔ تصویر میں ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب اور خاکسار بچوں کو انعامات تقسیم کر رہے ہیں۔

چینو ہلز چیمپئن نے 21 مئی 2005ء کی اشاعت میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع کی خبر شائع کی ہے کہ 70 مسلم نوجوان ساؤتھ کیلیفورنیا کے ریجن سے بیت الحمید میں اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے مختلف علمی و ورزشی مقابلہ جات میں حصہ لیا۔ جس میں تلاوت قرآن کریم، اردو، انگریزی تقریرنظم اور باسکٹ بال وغیرہ۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام شمشاد ناصر نے کہا کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ ہمیں آپس میں پیار و محبت و اخوت کا مظاہر کرنا ہے اور یہ اجتماع اس بات میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

الاخبار نے اپنے انگریزی سیکشن میں 24 مئی 2005ء کی اشاعت صفحہ 29 پر دو تصاویر کے ساتھ ہماری جماعت کی خبر دی ہے ایک تصویر میں سامعین بیٹھے ہیں۔ خبر کا عنوان ہے ’’چینو سے جماعت احمدیہ کے ممبران نے مجلس مشاورت میں شرکت کی۔سامعین کی تصویر کے نیچے لکھا ہے ‘‘شوریٰ کے نمائندگان امریکہ کی 60 جماعتوں سے’’دوسری تصویر میں بائیں سے مکرم ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب آف LA، مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب آف کلیولینڈ، مکرم امام داؤد حنیف صاحب آف ڈی سی، مکرم امام شمشاد صاحب آف LA، مکرم امام مبشر صاحب آف شکاگو سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

جیسا کہ خبر کے عنوان سے ظاہر ہے کہ یہ جماعت احمدیہ کی مجلس مشاورت کی خبر ہے۔ خبر میں لکھا ہے کہ جماعت کی مجلس مشاورت جو سلورسپرنگ میری لینڈ میں 3 دن کے لئے ہوئی اس میں امریکہ کی 60 جماعتوں سے نمائندگان، مختلف مسائل پر گفتگو اور حل نکالنے کے لئے جمع ہوئے۔ یہاں لاس اینجلس کی جماعت سے نمائندگی کرتے ہوئے یہ لوگ شامل ہوئے۔ مکرم امام شمشاد ناصر صاحب، مکرم ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب نائب نیشنل صدر، نیشنل سیکرٹریز مکرم انور محمود خان صاحب، مکرم وسیم سید صاحب، مکرم جلال الدین احمد صاحب صدر جماعت، منتخب نمائندے، مکرم جمیل محمد عاصم انصاری صاحب، مکرم مونس چوہدری صاحب، مکرم آفتاب خان صاحب اور مکرم محمود خان صاحب شامل ہیں۔

شوریٰ میں نیشنل ایگزیکٹو اور قریباً 160 نمائندگان شامل ہوئے۔ سب کمیٹی مال نے بجٹ پر بحث کی۔ اسی طرح تبلیغ سب کمیٹی نے بھی ممبران کو بتایا کہ جب بھی اسلام کے بارے میں اعتراضات کا جواب دینا ہو تو سنجیدگی اور نرمی کو اختیار کرنا چاہئے جس میں احترام کا پہلو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔

خبر کے آخر میں ہیومینٹی فرسٹ کے بارے میں لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ نے مختلف قدرتی آفات کے موقعہ پر متاثر افراد کی بے لوث خدمت کی۔
شوریٰ کے اجلاسات کی صدارت مکرم ڈاکٹر احسان اللہ ظفر صاحب امیر جماعت امریکہ نے کی۔ جبکہ ان کی معاونت مختلف سیشن میں مکرم داؤد حنیف صاحب مشنری انچارج امریکہ، مکرم ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب، مکرم ڈاکٹر ظہیر باجوہ صاحب، مکرم زندہ محمود باجوہ صاحب اور مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نے کی۔

شوریٰ کے اختتام پرایک سیشن سوال و جواب کا بھی ہوا۔ سوالوں کے جواب دینے والے پینل میں مولانا داؤد حنیف صاحب اور امام شمشاد ناصر شامل تھے۔

الاخبار عربی اخبار نے اپنے عربی سیکشن میں 24مئی 2005ء کی اشاعت صفحہ 23 پر مسجد بیت الحمید میں ہونے والے اجتماع خدام الاحمدیہ و اطفال الاحمدیہ کی خبر ایک تصویر کے ساتھ شائع کی ہے۔ تصویر میں ڈاکٹر مکرم حمید الرحمٰن صاحب صدر جماعت لاس اینجلس اور خاکسار(سید شمشاد) نیز تمام شاملین اجتماع خدام و اطفال ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اس میں 70 خدام و اطفال نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں ڈاکٹر مکرم حمید الرحمٰن صاحب اور امام شمشاد ناصرنے تقاریر کیں۔ خدام کے علمی و ورزشی مقابلہ جات بھی ہوئے، جیتنے والوں کو انعام بھی دیئے گئے۔

خبر کے آخر میں جماعت احمدیہ کا تعارف ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ اس وقت دنیا کے 200 ممالک میں پھیل چکی ہے اور اس کا ماٹو ہے محبت سب کے لئے نفرت کسے سےنہیں۔ مسجد کا پتہ اور فون نمبر بھی آخر میں درج ہے۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مرسلہ: مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 جنوری 2021