• 29 فروری, 2024

انجم افشاں ودود مرحومہ کی یاد میں

وَ مَنۡ یُّہَاجِرۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یَجِدۡ فِی الۡاَرۡضِ مُرٰغَمًا کَثِیۡرًا وَّ سَعَۃً ؕ وَ مَنۡ یَّخۡرُجۡ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدۡرِکۡہُ الۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ اَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ﻃ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۰۱﴾

اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے تو وہ زمین میں (دشمن کو) نامراد کرنے کے بہت سے مواقع اور فراخی پائے گا۔ اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلتا ہے پھر (اس حالت میں) اسے موت آ جاتی ہے تو اُس کا اجر اللہ پر فرض ہوگیا ہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے-

مرحومہ انجم افشاں ودود صاحبہ موصیہ ہیں (وصیت نمبر 26458)۔ موصوفہ دوران ہجرت منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے ہی ایک ماہ کی علالت کے بعد ڈسٹرکٹ ہسپتال،نیگو مبو، سری لنکا میں صرف آخری چار دن ہسپتال میں داخل رہ کر 6؍مارچ 2019ء صبح 8بجے اپنے مولیٰ حقیقی سے جا ملیں۔

اناللّٰہ و انا الیہ راجعون

؎فاصلے بڑھ گئےپر قرب تو سارے ہیں وہ

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ)

عہدیداران نیگومبو سری لنکا کی لجنات نے میت کوغسل دیا۔ تجہیز و تکفین کے بعدمکرم طاہر احمد صاحب مربی سلسلہ جماعت احمدیہ نیگومبو سری لنکا نےمسجد احمدیہ کےوسیع دالان میں بعد نمازعصر نماز جنازہ ادا کروائی۔نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں احمدی عہدیداران اوراحمدی احباب مقامی و پاکستانی احمدی احباب ِ جماعت نے شرکت فرمائی۔

نماز جنازہ غائب

حضور اقدس حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کمال شفقت اورمحبت و رحمت سےمرحومہ انجم افشاں ودود کا نماز جنازہ غائب 7؍مئی یکم رمضان المبارک 2019ء مسجد فضل لندن میں پڑھایا۔

مرحومہ کا خاندانی تعارف

مرحومہ اپنے دادا جان حضرت محترم چوہدری امین اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (صحابی اور دادی حضرت محترمہ فضل بی بی رضی اللہ تعالیٰ عنہا صحابیہ) کی بڑی پوتی ہیں۔ اسی طرح مرحومہ اپنے نانا جان مرزا رحمت علی (مرحوم) اور نانی جان جنت الفردوس (مرحومہ) آف بگاشیر مظفرگڑھ کی بڑی نواسی ہیں۔

مرحومہ کے والد محترم چوہدری محمد یوسف صاحب اپنے والدین کے ہمراہ 1947ء میں قادیان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان تشریف لائے تھے۔مرحومہ کے دادا جان اور دادی جان اور والدین بہشتی مقبرہ ربوہ میں آسودہ خاک مدفون ہیں۔مرحومہ کی والدہ محترمہ قضاء الہٰی سے 31؍مارچ 2020ء جنرل ہسپتال لاہور میں مختصر علالت کے بعد اس جہانِ فانی سے کوچ فرما کر وہ بھی اپنے مالک حقیقی الحئی و القیوم کے پاس چلی گئی ہیں اسی طرح مرحومہ کے حقیقی سب سے بڑے بھائی مکرم چوہدری کلیم اللہ صاحب بھی اسلام آباد ہسپتال میں علاج معالجہ کے دوران مؤرخہ یکم دسمبر2019ءکو اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر کے اور اپنی اہلیہ نصرت صاحبہ اور تین بیٹوں اور ایک ننھی پوتی کو حوالہ بخدا کر کے ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو گئے۔

مرحومہ کے والد محترم چوہدری محمد یوسف صاحب آف بیڈن روڈ لاہور مؤرخہ 27؍دسمبر 2007ء کو مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے تھے۔ معمول کے مطابق نماز تہجداور نماز فجر ادا کرنے کے بعد اور تلاوتِ قرآن بھی روزانہ کی طرح ادا کی۔ تاہم صبح بیماری نے اچانک شدید حملہ کیا تب مرحومہ کے چھوٹے بھائی مکرم نعیم اللہ صاحب اور ان کے بیٹے مکرم جری اللہ صاحب اپنے والدِ محترم اور دادا جان کو ہسپتال لے گئے۔ہسپتال جاتے ہوئے اپنی اہلیہ محترمہ امتہ الحئی صاحبہ سے کہا جو اس وقت بقید حیات تھیں کہ اب میں واپس نہیں آؤں گا آپ نے میری بہت خدمت کی ہے آپ کا شکر گزار ہوں۔

مرحومہ انجم افشاں ودود صاحبہ اپنے والد صاحب کی وفات کے وقت خاکسار کے ہمراہ مؤرخہ 27؍دسمبر 2007ء قادیان جلسہ سالانہ پر تھیں۔ اس وجہ سے والد صاحب کے نماز جنازہ میں شرکت نہ کر سکیں۔ تاہم ان کو اور مجھے ان کے والد محترم اور خاکسار کے خسر مکرم چوہدری محمد یوسف صاحب کا نماز جنازہ غائب قادیان جلسہ سالانہ پر تمام حاضرین کے ساتھ ادا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی۔مرحومہ کو تین مرتبہ جلسہ سالانہ قادیان میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔

مرحومہ انجم افشاں ودود اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کی شادی خانہ آبادی رخصتی کے وقت ان کے نانا جان، نانی جان،خالہ جان، خالو جان، پانچ پھوپیاں،دو پھوپا جان اور ان کی اولادوں کو بیڈن روڈ لاہور میں تقریبِ شادی میں شرکت کی توفیق ملی۔

مرحومہ شادی سے پہلے بھی لاہور پاکستان میں بطور سیکرٹری اصلاح و ارشاد کی خدمات بجا لا تی رہی تھیں۔اسی تناظر میں خاکسار کوبہت خوشی تھی کہ ہونے والی شریک حیات جماعتی امور سر انجام دے رہی ہیں۔ دینداراور مخلص شریک حیات اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں۔ بعد شادی فوراً ہی نظامِ وصیت میں شامل ہونے کی اللہ تعالیٰ سےتوفیق پائی۔ مرحومہ حد درجہ خلیق اور ہمدردتھیں۔خدمت خلق میں پیش پیش تھیں۔

آخری وقت تک مرحومہ جماعتی امور سر انجام دیتی رہیں۔ مرحومہ صوم و الصلوٰت کی پابند تھیں۔ہسپتال میں دورانِ علاج ایک نمازِ عصر ادا نہ کر سکیں تب خاکسار کے کان میں کہا کہ ان میڈیکل آلات، مشینیں جو لگی ہوئی ہیں کی وجہ سے نماز عصر ادا نہیں ہو سکی۔گھر میں بھی میرے ہمراہ نماز با جماعت میں شریک ہو کر میری نماز بھی با جماعت بنا دیتی تھیں۔اب جب میں فن لینڈ گھر میں اکیلا نماز پڑھتا ہوں تو بہت یاد آتی ہیں کہ میری نماز ان کی زندگی میں با جماعت نماز ہو جاتی تھی۔

ان ایام میں مرحومہ مغفورہ کی والدہ محترمہ امتہ الحئی صاحبہ بیڈن روڈ لاہور اپنے چھوٹے بیٹے مکرم چوہدری نعیم اللہ صاحب کے ساتھ مقیم تھیں۔ مرحومہ کے چھوٹے بھائی مکرم چوہدری نعیم اللہ صاحب لاہور بھی عرصہ دراز سے پارکن سن بیماری اور پراسٹیٹ، ہرنیا اور پیٹ کی بیماری سے فراش ہیں۔

مرحومہ کی چھوٹی بہن محترمہ طلعت عائشہ فہیم صاحبہ اپنے شوہر فہیم احمد سلیمی اور تین بیٹوں، دانیال، ندیم، قاصد اور ایک بیٹی امۃ المصور کے ساتھ ان دنوں لندن میں مقیم ہیں۔ اور مرحومہ کی سب سے چھوٹی بہن محترمہ بشریٰ ہمایوں صاحبہ اپنے شوہر ہمایوں بیگ اور تین بیٹوں جہانگیر، جمال اور جاہدکے ساتھ گلشن راوی لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔

مرحومہ اپنے خاندان میں اپنی پانچ پھپھیوں اور ان کی اولادوں میں اپنے اعلیٰ اخلاق حسنہ کی بدولت ہمہ وقت ہر دل العزیز رہیں۔ آپ کی پانچ پھُپھیاں اور بیٹے بیٹیاں اور ایک داماد مربی سلسلہ مکرم حیدر علی صاحب حال امام جرمنی جماعت احمدیہ بھی اپنے اہل و عیال کے ہمراہ مرحومہ کے پاس سیرو تفریح کے لئے تربیلہ ڈیم تشریف لائے۔

ازدواجی زندگی

مرحومہ اپنی ذات و صفات میں مشعلِ راہ تھیں۔ انتہائی اطاعت گزار اور فرما نبردارتھیں۔ قبل از نکاح خاکساردعاؤں میں رات دن مشغول رہا۔ خاکسار نے ازدواجی زندگی کے آغاز کےلئے استخارہ کیا تو خواب میں آواز آئی ’’وَدُود آئی ہے‘‘۔ یہ واقعی ہی محبت و شفقت کی پیکراور ایثارو محبت سے لبریز تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفتِ ودود سے مزین تھیں۔ اسی تناظر میں خاکسار کوبہت خوشی تھی کہ ہونے والی شریک حیات اللہ تعالیٰ کا انمول تحفہ ہےجو اخلاق حسنہ سے عبارت ہے۔خاکسار کے عیوب و کمزوریوں کی پردہ پوش اور رازدار تھیں۔ وہ لباسِ تقویٰ سے آراستہ تھیں۔ 35 سالہ رفاقت میں اپنے شوہر یعنی خاکسار کوکمال انکساری اور کمال فراخی ذہن دل وجان سے حرز جاں بنا رکھا۔ساری زندگی پردہ پوشی کرتی رہیں، ایک وفا شعار بیوی تھیں۔ انکی قربانیوں کے35 سالہ دور کو اپنے اور غیر بھی رشک کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔ انکے صبر شکر اور 35 سالہ قربانیوں کو ضبط تحریر میں قلمبند کرنا یقیناً خاکسارکے لئےنا ممکن ہے۔

مرحومہ اہلیہ صاحبہ خاکسار کے خاندان میں کمال ایثار و قربانی کے بنا ء گلہ شکوہ تمام زندگی سر تسلیم خم کیے رہیں۔ خاکسار کے خاندان میں والدین 5 بھائی 4 بہنیں اور ان کی اولادیں اور رشتہ داروں میں اور احباب جماعت اندرون و بیرون تمام مرد و زن احباب و خواتین میں بطور نمونہ رطب اللسان رہیں۔

سسرالی معاملات

سسرال میں اپنی ساس امی صاحبہ کی خوشی کے لئےبرابر ہر قربانی دیتی رہیں۔ خاکسار کی والدہ محترمہ سعیدہ پروین صاحبہ اپنی اس بہو کے متعلق دوسری خواتین کے درمیان کہا کرتی تھیں کہ افشاں نے یعنی میری اس بہو نے کبھی بھی میرے گرم سرد کہنے پر مجھے پلٹ کر جواب نہیں دیا اور ادب و احترام کے لبادہ میں رہ کر خاموش ہو جاتی ہے۔اور میری ہر بات خاموشی سے سن لیتی ہے۔یہ ساس صاحبہ کی طرف سے ایک اطاعت گزار بہو کو سرٹیفکیٹ ہے۔ الحمدللّٰہ

مرحومہ خاکسار کے والد ماجدصاحب محترم نصیر الدین بھٹی مرحوم، اپنے سسر صاحب کی خدمات میں ہمیشہ پیش پیش تھیں۔ خاکسار کے والد محترم ہمیشہ اپنی اس بہو کے رطب اللسان رہتے تھے اور بہت دعائیں دیا کرتے تھے۔ ان کا بہو اور سسر کا رشتہ نہ تھا بلکہ باپ اور بیٹی کا رشتہ تھا۔ خاکسار کو بھی والد محترم کی خدمت پر توجہ دلاتی رہتی تھیں۔ مرحومہ آج کے معاشرہ میں تمام رشتوں کے حقوق کی ادائیگی میں سنگ ِمیل تھیں۔

مرحومہ اہلیہ صاحبہ خاکسار کی بہنوں سے بھی ادب اور احترام سے معاشرت کرتی تھیں۔

خاکسار کی اہلیہ انجم افشاں ودود ایک بہترین بیٹی اور ایک بہترین بہو، ایک بہترین بیوی، ایک بہترین بہن، ایک بہترین خالہ، بہترین پھوپی، ایک بہترین ممانی، ایک بہترین بھاوج، ایک بہترین دیورانی اور جیٹھانی، ایک بہترین نند، ایک بہترین چچی اور تائی تھیں۔ ایک بہترین ہمسائی،دوست اور ایک بہترین احمدی کارکن لجنہ تھیں۔

مرحومہ انجم افشاں کی وفات پرنیگومبو سری لنکا کی اکثر خواتین مرد و زن احمدی اور غیر احمدی، حتی کہ عیسائی خواتین نے کہا کہ آج ہماری ماں مر گئی ہے۔کیونکہ وہ ہر ایک کے دکھ درد میں برابرکی شریک تھیں اور ہر ممکن مالی مدد سے دلجوئی کرتیں تھیں۔مرحومہ خاکسار کی صرف جیون ساتھی اور شریک حیات نہ تھیں بلکہ بینظیر گوہر نایاب صفتِ ودود سے ملبوس،متصف و مزین تھیں۔

مرحومہ موصیہ اورصوم و الصلٰوۃ و تلاوت قرآنِ کریم کی پابند تھیں۔جماعتی اور تنظیمی چندوں و صدقات میں باقاعدہ تھیں۔ حضور انور کے خطباتِ جمعہ باقاعدگی سے سنتی تھیں۔ ہر جمعۃ المبارک کو مسجد میں جمعہ ادا کرتی تھیں۔ خلافت کےفرمودات کی روشنی میں توجہ دلاتی رہتیں۔ دس شرائط بیعت بھی یاد کرواتیں۔

تربیلا ڈیم میں بیاہ کر آئیں تو بطور ’’سیکرٹری ناصرات‘‘ خدمات کا موقع ملا۔ بڑی خوش اسلوبی سے کام کرتی رہیں اور ناصرات کی تربیت لائحہ عمل ناصرات الاحمدیہ اور جماعتی تعلیم کی روشنی میں کرتیں رہیں۔

نیز جماعتی امور سر انجام دیتی رہی ہیں۔ انتہائی دینداری اور اخلاص سے اپنی دینی اور جماعتی ذمہ داریاں ادا کرتی ر ہیں۔ مرحومہ شادی سے پہلے بھی لاہور پاکستان میں بطور سیکرٹری اصلاح و ارشاد کی خدمات بجا لا تی رہی تھیں۔ اسی تناظر میں خاکسار کوبہت خوشی تھی کہ ہونے والی شریک حیات جماعتی امور سر انجام دے رہی ہیں۔۔ بعد شادی فوراً ہی اللہ تعالیٰ سےنظامِ وصیت میں شامل ہونے کی توفیق پائی۔

تربیلہ ڈیم میں ہمارا سرکاری کوارٹر رہائش گاہ نماز سنٹربھی تھا،نماز جمعہ بھی ادا ہوتا تھا۔ جماعتی ڈش بھی لگی ہوئی تھی۔ احبابِ جماعت باقاعدگی سے خطبہ جمعہ حضور اقدس سننے آتے تھے۔ اس دوران لجنات و ناصرات کے جماعتی پروگرام اوردیگر احباب جماعت کے اقل و شرب کا اہتمام و مہمان نوازی بھی باقاعدہ کرتیں رہیں۔

جماعتی و دینی خدمات

مرحومہ خاکسار کے ساتھ لجنات و ناصرات کی تعلیمی و تربیتی امور کے لئے ضلع ہزارہ میں جماعتی دورہ جات میں ہمراہ رہتی تھیں۔ ہری پور، ایبٹ آباد، داتہ، مانسہرہ،پشاورمیں لجنات و ناصرات کی تربیت میں پیش پیش تھیں۔ مانسہرہ میں مکرم رانا کرامت اللہ صاحب (مرحوم) کے گھر میں قیام کے دوران انکی اہلیہ انکی بیٹیوں نواسیوں اور پوتیوں کے ساتھ دینی و تربیتی ماحول میں ان کے ساتھ اپناوقت صرف کرتی تھیں۔

ایبٹ آباد میں تنولی فیملی میں صدر لجنہ ایبٹ آبادکے ساتھ دینی و تربیتی ماحول میں وقت گزارتی تھیں۔ جلسہ سالانہ کے پروگراموں میں باقاعدگی سے ایبٹ آباد میں شرکت کرتی تھیں۔ ایبٹ آباد میں جماعتی مخالفت کے دوران میں تنولی فیملی کی دلجوئی کے لئے بھی جاتی رہیں۔

اسی طرح ٹوپی ضلع صوابی میں بھی احمدی لجنات کے ساتھ تربیتی رابطے میں تھیں۔ الغرض سرحد کے تینوں اضلاع میں اکثر و پیشتر دورہ جات میں خاکسار کے ساتھ رہتی تھیں۔

ٹاؤن شپ لاہور میں مختلف وقتوں میں تین حلقوںمیں بطورِ سیکرٹری اصلاح و ارشاد اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔

ٹاؤن شپ لاہورمیں ایک حلقہ سیکٹر 1A-میں صدر حلقہ لجنہ محترمہ حفصہ الیاس صاحبہ (حال جرمنی) کی عاملہ میں بطور سیکریٹری تربیت کام کیا۔ دورہ جات اور ماہانہ رپورٹ کے علاوہ دیگر ہفتہ وار رپورٹ بھی مترتب کیا کرتی تھیں۔ صدر لجنہ سیکٹر A-1 فرماتی ہیں کہ ’’مرحومہ کو جماعتی خدمت کا بہت شوق تھا۔ ہر خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں‘‘

ٹاؤن شپ لاہورکے ایک دوسرے حلقہ B-1,B-II میں بھی صدر حلقہ لجنہ کی عاملہ میں بطور سیکریٹری تعلیم و تربیت کام کیا۔نظام خلافت اور نظامِ جماعت اور عہدیداران کی اطاعت اور فرنبرداری اور اطاعت میں بہترین نمونہ تھیں۔

سری لنکا میں ماہ رمضان میں ناصرات اور لجنات و بچیوں کو باقاعدہ نماز تراویح کے لئے پیدل گروپ کی شکل میں اپنی نگرانی میں مسجد لیکر جاتی تھیں اور واپس لاتی تھیں۔

سری لنکا میں مرحومہ مختلف وقتوں میں دو نگران صاحبان لجنہ اماء اللہ سابقہ و موجودہ لجنات کے ساتھ تعلیم تربیت کا کام بجالاتی رہیں۔

• سابقہ نگران لجنہ اماءاللہ پاکستانی نیگومبو سری لنکا (حال کینیڈا) نام عشرت پروین زوجہ مکرم رانا محمد سرور فرماتی ہیں کہ خاکسار مکرم ارسلان سرور شہید مرحوم کی والدہ ہے (بیٹے کی شہادت راولپنڈی 12 ربیع الاول 2014ء) میں ہوئی۔

• نگران لجنہ اماء اللہ فرماتی ہیں کہ ’’خاکسار 2015ء میں پاکستان سے سری لنکا ہجرت کر کے آئی تو اس کے کچھ مدت بعد ہی سری لنکا میں جماعتی خدمات ادا کرنے کا موقع ملا۔ میں اس وقت بہت پریشان تھی کیونکہ میری تعلیم نہ تھی اور مجھے نیگومبو سری لنکا میں حلقہ گلشن ناصر کی ’’نگران لجنات پاکستانی‘‘ مقرر کیا گیا۔ اس وقت میرے ساتھ کچھ عرصہ کے لئے ایک جنرل سیکرٹری مقرر کی گئی جو کہ کچھ ہی ماہ بعدکینیڈا روانہ ہو گئیں۔

مرحومہ کے بارے میں میں جتنا بھی بتاؤں وہ کم ہے کہ وہ میرے ساتھ ہر وقت جماعت کی خدمت کرنے کے لئے تیار رہتی تھیں۔ میں نے جس وقت ان کو آواز دی، خواہ وہ وقت صبح کا ہو، دوپہر کا ہو، گرمی یا شام کا وقت ہو و ہ ہر لمحہ جماعت کی خدمت کے لئے تیار رہتی تھیں۔ ہمیں جب کوئی جماعتی کام یا پیغام کے لئے حلقہ کا دورہ کرنا پڑتا اگر ہمیں کوئی سواری رکشہ وغیرہ نہیں بھی ملتا تو مرحومہ میرے ساتھ پیدل سفر کر لیا کرتی تھیں اور جماعتی دورہ کئی مرتبہ ہمیں بہت دور دور تک پیدل سفر کر کے احمدی گھروں کو ڈھونڈ کر اُن سے مل کر اُن کی تجنید وغیرہ تیار کی اور نیز کسی بیمار کی تیمارداری کرنے کے لئے دورے کرنے پڑتے تھے وہ میرے ساتھ ساتھ رہتی تھیں۔مجھے انہوں نے کبھی بھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ میں پڑھی لکھی نہیں بلکہ جو پیغام لکھنا یا بتانا یا کہنا ہوتا ہر ایک چیز میں مجھ سے رہنمائی لیتیں کہ یہ ٹھیک ہے ایسے کرلو ں یا نہیں۔

مرحومہ جس گھر میں جاتیں وہاں بچیوں سے بے حد پیار کرتیں تھیں۔ اور سب کے ساتھ نرم زبان، اخلاق کے ساتھ پیش آتیں۔

آپ پردہ کی بہت زیادہ پابند تھیں اور میرے ساتھ احمدی گھروںمیں جانا وہاں ناصرات کو خاص طور پر بہت پیار سے پردہ کرنے کی تلقین کرتیں۔اس کے علاوہ کسی کی تکلیف کے بارے میں سننا تو ان سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔کہتیں کہ جب تک میں ان کو دیکھ نہ لوں مجھے تسلی نہیں ہوتی۔

ایک واقعہ کا میں یہاں ذکر کرتی ہوں کہ میرے بیٹے مکرم محمد احمد صاحب کا صبح کے وقت موٹر سائیکل پر دوسرے موٹر سائیکل لوکل سری لنکن سے ایکسیڈنٹ ہو گیا اور کافی چوٹیں لگیں جس کی ان کو اطلاع ملی تو فوراً متعلقہ جگہ پرمیرے بیٹے کو دیکھنے کے لئے اپنے شوہر کے ساتھ پہنچ گئیں۔ حالانکہ وہاں جانا خطرناک تھا لیکن نہایت ہی بہادر، نڈر اور ہمدردی رکھنے والی خاتون تھیں۔ ایکسیڈنٹ والی جگہ میرے بیٹے سے مل کر پھر میرے پاس میرے گھر آکر مجھے تسلی دی کہ گھبرائیں نہیں میں مل کر آ رہی ہوں۔آپ کا بیٹامحمد احمد بفضلہ تعالیٰ ٹھیک ہے۔

آپ (انجم افشاں صاحبہ) کی کوئی اولاد نہ تھی۔آپ کے بچے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ سب بچے بچیوں کو اپنی اولاد سمجھتی تھیں کہتی تھیں کہ سب میرے ہی بچے ہیں۔ اکثر جمعۃ المبارک کا خطبہ ہمارے گھر میں سنتی تھیں۔ آپ ایک اچھی مخلص دوست کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر سے بھی بہت پیار کرتی تھیں اکثر میں اُن کو کھانا کھانے کا کہتی تو کہتیں کہ میں (بھٹی صاحب) اپنے شوہر کے ساتھ ہی کھانا کھاتی ہوں۔ وفات سے کچھ دن قبل میرے گھر آئیں اور میری پوتی ’’عبیرہ احمد‘‘ سے ملیں اور کہنے لگیں کہ آج خاص طور پر صرف اس بچی سے جو کہ تین ماہ کی ہے ملنے آئی ہوں۔ میری بہو جس کا نام ’’منیبہ باصرہ‘‘ ہے سے ایک دفعہ کہا کہ اگر میری بیٹی آج زندہ ہوتی تو اس کی عمر بھی تمہارے جتنی تھی۔ ہر افسوس اپنے دل میں رکھتیں، کبھی بھی آنکھوں سے آنسو نہ آئے۔ بہت ہی ہمت والی، وفا دار، باپردہ، جماعت کے کاموں میں مخلص، اچھی بیوی، اچھی ساتھی تھیں اور بہترین دوست تھیں۔

ان کی وفات سے چند گھنٹے قبل میں اُن سے ملنے ہسپتال گئی۔ مجھے دیکھ کر اپنے چہرے سے آکسیجن ماسک اُتار کر مجھے ملیں اور کہا کہ مسجد میں میرے لئے دعا کروائیں۔میں نے فوراً گھر آکر اپنے بیٹے محمد احمد صاحب سے کہلوا کر مسجد میں جلد ان کی شفایابی کے لئے دعا کی درخواست کروائی۔ان کی وفات کے بعد پوسٹ مارٹم ہونے کے بعد جب غسل دیا گیا تو خاکسارہ کو بھی ان کو غسل دینے کا موقع ملا۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند کرے ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے شوہر اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔ اور اس طرح کے بہت سےبا برکت اور مخلص وجود جماعت کو عطا فرمائے۔ آمین اللھم آمین‘‘

• موجودہ نگران لجنہ نیگومبوسری لنکامحترمہ مبشرہ رشید فرماتی ہیں کہ:
’’محترمہ انجم افشاں صاحبہ نے اکتوبر 2016ء میں جماعتی خدمات بطور معاونہ تعلیم و تربیت کی حیثیت سے شروع کیں۔ وہ ناصرف تعلیم و تربیت کی خدمات انجام دیتی تھیں بلکہ جو بھی جماعتی خدمت انہیں دی جاتی وہ بخوبی انجام دیتیں۔ حلقہ کی تمام ممبرات لجنہ سے اُن کا خلوص و محبت کا رشتہ تھا۔ اپنے کام کے علاوہ شعبہ ناصرات میں مدد کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتیں۔ حلقہ نگران لجنہ اور احباب جماعت کے ساتھ اُن کی محبت کے مختلف انداز تھے۔ ہمیشہ سب کی دلجوئی کرتیں اور بچوں کو بے انتہا پیار کرتیں۔

خلافت سے محبت کا اظہار کرتیں اور ہمیشہ جماعتی خدمت کے لئے حاضر رہتیں۔ اللہ کے فضل سے مرحومہ موصیہ تھیں۔ ہمیشہ اپنے چندے کی ادائیگی سب سے پہلے کرتیں اور بعد میں اپنی ضروریات پوری کرتیں۔ جب بھی انہیں کوئی جماعتی تحریک کی ہمیشہ صفِ اوّل پر رہتیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں خدتعالیٰ اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین‘‘

• نائب سیکرٹری حلقہ تعلیم و تربیت نیگومبو سری لنکا فرماتی ہیں:
’’میرا آپ کے ساتھ تعلق صرف ایک سال پر محیط ہے لیکن اس تمام عرصہ میں میں نے آپ کو نہایت شفقت اور محبت کرنے والا پایا۔ پنج وقتہ نمازکی پابند اور قرآن مجید کی باقاعدہ تلاوت کرنے والی تھیں۔ مرحومہ کو قرآن کی تعلیم پر بھی کافی عبور حاصل تھا اور نہایت خوبصورت انداز سے سکھاتی تھیں کہ سننے والے کی روح پر اثر کرتا تھا۔ ہر معاملے میں نہایت مددگار طبعیت کی مالک تھیں اور جماعتی کام نہایت ذمہ داری اور فکر کے ساتھ سر انجام دیتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کے لوحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔‘‘

• گروپ لیڈر مکرمہ مبشرہ عمران نیگومبو سری لنکا فرماتی ہیں۔
’’آپ ایک نہایت سادہ مزاج اور احساس کرنے والی خاتون تھیں۔ ویسے تو میرا ان کے ساتھ کچھ عرصہ کا ساتھ رہا لیکن اتنا پیار کرنے والی اور تربیت کرنے والی خاتون تھیں کہ لگتا ہے کہ میں ان کو ہمیشہ سے جانتی ہوں۔ تربیت کا اتنا اچھا انداز تھا کہ کلاس کے دوران ہی بہت کچھ سیکھنے کو مل جاتا تھا۔ چندہ جات میں بھی پابند اور بڑھ چڑھ کر ادائیگی کرنے والی تھیں۔ اور بہت خوشی سے ہمیشہ اس بات کا اظہار کرتی کہ میرا سب کچھ میری پیاری جماعت کے لئے ہے۔ پنج وقتہ نماز کا التزام کرنا اور قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کرنا اور قرآن کریم با ترجمہ آسان طریق سے سیکھانا سب پر بہت عبور حاصل تھا۔ بیماری کے دوران بھی اللہ کے فضل سے نماز تہجد اور تمام نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی توفیق پائی۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔اور ہمیں ان کے نقشہ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔‘‘

• ایک نو عمر لجنہ حفظہ مبارکہ بنت ناصر محمود تحریر کرتی ہیں (حال سویڈن)
’’محترمہ انجم افشاں مرحومہ ہمارے حلقہ میں تعلیم و تربیت لجنات و ناصرات کے فرائض سر انجام دیتی رہیں اور اپنے حلقہ کی لجنات کو جماعتی ٹیسٹ کی بھی تیاری کرواتی تھیں اور ناصرات کی کلاس بھی لیتی تھیں۔ جس میں انہیں قرآن پاک سکھاتی تھیں اور نصاب پڑھاتی تھیں۔ جماعتی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ ضرورت مندوں کی مدد بھی بہت زیادہ کرتی تھیں۔ رمضان میں ایک گروپ کی شکل میں تمام لجنات اور ناصرات کو مسجد میں تراویح پڑھانے کے لئے لے کر جاتیں اور اپنے ساتھ واپس لاتیں۔ مالی امداد بھی بہت زیادہ کرتی تھیں۔ ماشاء اللہ ہم سات بہن بھائی ہیں ہم سب کو قرآن سکھاتیں اور ساتھ ساتھ سکول کا بھی پڑھاتی تھیں۔ اور ہمیں نماز کی طرف بہت توجہ دلاتی تھیں اور جماعت کے کاموں سے کبھی نہ کہتی تھی کہ مجھ سے نہ ہوگا چاہے صبح ہو دوپہر ہو یا خواہ رات ہو اگر کوئی بھی کام جماعت کے لئے کہا جائے تو وہ اس کام کو سر انجام دینے کے لئے ہر دم کوشش کرتی تھیں۔اور نماز وقت کی پابندی سے ادا کرتی تھیں۔ روزانہ باقاعدگی سے دو نفل بھی پڑھتی تھیں۔ ان کے مجھ پر بہت احسان ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

اسی طرح خاکسار (رقم الحروف) کے ساتھ خدمت خلق میں لجنہ کی رہائش کے لئے مکان کی تلاش میں گھنٹوں پیدل ممبرات لجنہ کے لئے کرایہ پر مکان تلاش کرتیں۔

خاکسار کو شعبہ جات کے متعلق بھی باقاعدہ یاد دہانی کرواتی تھیں۔ خاکسار کی جماعتی مصروفیت میں روزانہ اور ہفتہ وار پروگرام میں حاضر ہونے کی طرف توجہ دلاتی تھیں۔

خاکسار نیگمبو سری لنکا میں بطورِ نگران تعلیم و تربیت،نگران نظام وصیت، نگران شعبہ مال، مربی اطفال رہا، خاکسار کو باقاعدہ توجہ دلاتیں کہ موبائل پراحباب جماعت کو پیغام دیں کہ حضور انور کے خطبہ جمعہ سننے کے لئے وقت پر پہنچ کر سنیں، وقت پر جمعۃ المبارک پر مسجد میں پہنچیں، ہر جمعرات کو نفلی روزہ رکھنا، اتوار کو نماز تہجد ادا کرنے کے متعلق موبائل پر میسج کی طرف توجہ دلاتیں۔ کہ احباب جماعت کو توجہ بھی دلائیں اور یاد دہانی بھی کروائیں۔

فیملی رابطے

جماعت احمدیہ سری لنکا نے فیملی گھریلومعاملات اور مسائل کے لئے ہم دونوں میاں بیوی کواحمدی گھروں میں جاکر رابطے کرنا ذمہ داریاں سونپی ہوئی ہیں۔مرحومہ خاکسار کے ساتھ گھروں میں جاکر صلح کروانا اور سمجھانا کہ ہم اور ہماری اولاد جماعت کی امانت ہیں لہذا باہمی محبت اخوت اور پیار اور ایثار کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ خلیفۃ المسیح سے رابطے کرنے ہیں۔ دعاؤں کے لئے حضور اقدس کی خدمت میں خطوط لکھنے ہیں، نمازوں پر توجہ دینی ہے، تلاوت قرآن کریم میں اپنے آپ کو مشغول رکھنا ہے، جماعتی پروگراموں میں شامل ہونا ہے، اس طرح خود ہی اللہ اور دین کی طرف توجہ رہے گی اور باہمی رنجشیں بھی ختم ہوں گی اور گھروں میں سکون ہوگا۔ حالات کی مناسبت سے تلقین کرتی رہتی تھیں۔

دو مرتبہ جماعت کی ہدایت پر دوسرے شہر کولمبوڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایک لجنہ کی عیادت اور مشکلات حل کرنے کے لئےخاکسار کو ساتھ لے کر جانا اور مالی امداد کے علاوہ ان کی ضروریات بھی پوری کرنا اور جو جو لجنہ عدم توجہ کا شکار ہیں اُن سے ملاقاتیں کرنا، انکے گھر آباد رکھنے کے لئے ہر کوشش کرنا اور باوجود ناسازی طبیعت کے وقت اور مال کی قربانی میں پیش پیش تھیں۔

نو مبائعات سے رابطے رکھنا۔ ان کو اولاد کی طرح سمجھ کرعیدی دینا۔ ایک نو مبائعہ نے کہا کہ عیدی لے کر ایسا لگا کہ مجھے میری ماں نے عیدی دی ہے۔ کیونکہ اس کی والدہ غیراحمدی ہے اور پاکستان میں ہے۔اسی طرح دیگر نو مبائعات کو اور دیگر ناصرات اور لجنات کو بھی عیدی دینا ان کے عملی زندگی میں شامل تھا۔

ضلع پشاور میں ضلعی تربیتی پروگراموں میں، علمی مقابلہ جات میں، جلسہ ہائے سالانہ میں لجنات و ناصرات تربیلہ ڈیم کے ہمراہ بھر پور طریقہ کے ساتھ شمولیت کرتی رہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے سایہ عاطفت اور اپنی جنت الفردوس میں علّیین میں جگہ دےاور مرحومہ کے درجات بلند کرتا چلا جائے۔آمین

(ارشد اقبال بھٹی۔فن لینڈ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی