• 19 جون, 2024

سو سال قبل کا الفضل

5؍فروری 1923ء دو شنبہ (سوموار)
مطابق 15؍جمادی الثانی 1341 ہجری

صفحہ اول و دوم پر نظارتِ تالیف و اشاعت (حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیالؓ) کی جانب سے 13 تا 27؍جنوری کی رپورٹس از متفرق جماعت ہائے ہندوستان شائع ہوئی ہیں۔

بلادِ خارجیہ کی رپورٹس کے تحت ذکر ہے کہ ’’مولوی عبدالرحیم صاحب نیر واپس لنڈن پہنچ گئے ہیں۔جیسا کہ پہلے اعلان ہو چکا ہے برلن میں 4/3ایکڑ زمین مسجد احمدیہ کے لیے مولوی مبارک علی صاحب نے خرید لی ہے۔نیز مولوی صاحب ٹیچنگز آف اسلام اور تحفہ شہزادہ ویلز کا جرمن میں ترجمہ کروا رہے ہیں۔ بعض جرمن فلاسفر جن کی مولوی صاحب سے ملاقات ہوئی احمدیت کے قریب آرہے ہیں۔ بلکہ ان کے خطوط سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمدیت وہ اسلام ہے جس اسلام کی تلاش میں یہ لوگ سرگرداں تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے رعب میں آکر خواجہ کمال الدین صاحب نے لکھا تھا کہ جرمنی میں اسلامی مشن نہیں بلکہ ایک اسلامی علوم کی تعلیم کے لیے ایک انسٹیٹیوشن کھولنا چاہیے۔ جیسا کہ خواجہ صاحب نے عقائدِ احمدیت بغیر احمد علیہ السلام کے ہندوستان اور انگلستان میں پھیلائے اسی طر ح غالباً عقائدِ اسلام آپ جرمنی میں بغیر محمدﷺ (فداہ ابی و امی) کے پھیلانا چاہتے ہیں۔‘‘

علاوہ ازیں جماعت ہائے امریکہ، گولڈکوسٹ(غانا)، آسٹریلیا اور ماریشس کی مختصر رپورٹس بھی شائع ہوئی ہیں۔ جماعت احمدیہ آسٹریلیا کی رپورٹ کے تحت ذکر ہے کہ ’’حسن موسیٰ خان صاحب ایک دو ورقہ اخبار مسلم سن شائن اپنے ہاتھ سے لکھ کر شائع کرتے ہیں اور اخباروں اور بعض واقف کار لوگوں میں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ عجیب محنت اور شوق ہے۔‘‘

اسی طرح نظارت بیت المال کی بھی ایک مختصر رپورٹ شائع ہوئی ہے۔

صفحہ3 تا 7 پر ایک مفصل مضمون بعنوان ’’مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ ’’آخری نبی‘‘ پر محققانہ نظر‘‘ شائع ہوا ہے۔ مضمون کے آغاز میں محترم خواجہ غلام نبی صاحب (مدیر الفضل) کا ایک نوٹ شائع ہوا ہے۔جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے خاتم النبیین کی بحث میں ’’آخری نبی‘‘ کے نام سے جو رسالہ لکھ کر اپنے سالانہ جلسہ پر تقسیم کیا تھا۔ اس کا جواب قسط وار شائع کیا جارہا ہے اور یہ اس کی قسط اول ہے۔

صفحہ7 اور 8 پر حضرت ماسٹر عبد الرحمان صاحبؓ سابق مہرسنگھ (بیعت:1890ء، پیدائش: 1872ء، وفات: جون 1952ء) کا ایک مضمون زیرِ عنوان ’’گوروگرنتھ صاحب کی زبردست پیشگوئی‘‘ شائع ہوا ہے۔ جس میں آپؓ نے گرو گرنتھ صاحب میں مذکور حضرت بابا گرونانکؒ کے چنداشعار کا ذکر کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ حضرت بابا گرونانکؒ نے ان اشعار میں حضرت مسیحِ موعودؑ کی پیشگوئی فرمائی ہے۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’اگرچہ جنم ساکھی بھائی بالا میں صاف طور سے گورونانک صاحب نے بتلا دیا تھا کہ ایک عظیم الشان گوروتحصیل بٹالہ میں ہوگا (قادیان) اور پھر نت نیم اور دسویں پادشاہی کے گرنتھ صاحب میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جگت کا عیسیٰ اصلاحِ خلق کے لیے آوے گا۔ جو دشٹوں کو تباہ کرے گا اور نیکوں کی رکھشاکرے گا(دیکھو رسالہ اسلام و گرنتھ) لیکن اب ہم گرنتھ صاحب جی سے حضرت مسیحِ موعود احمد معہود کی پیشگوئی پبلک کے روبرو پیش کرتے ہیں جو حضرت مسیحِ موعودؑ کے سوا کسی اور پر چسپاں ہو ہی نہیں سکتی۔ بعدازاں آپؓ نے وہ اشعار اور ان سے استدلال تحریر فرمایا ہے۔

صفحہ8 اور 9 پر ’’آرین تہذیب کا نمونہ‘‘ کے عنوان سے فضل حسین صاحب احمدی مہاجرکا مضمون شائع ہوا ہے۔

مذکورہ بالا اخبار کے مفصل مطالعہ کے لیے درج ذیل link ملاحظہ فرمائیں۔

https://www.alislam.org/alfazl/rabwah/A19230205.pdf

(م م محمود)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 فروری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی