• 4 مارچ, 2024

خطبہ جمعہ فرمودہ 13؍جنوری 2023ء

خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 13؍جنوری 2023ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا مجھے نماز پڑھنے والوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔یہ آج کل کے مسلمانوں کے لیے بھی سبق ہے

اخلاص و وفا کے پیکر بعض بدری صحابہ حضرت عبد اللہ بن جحشؓ،حضرت صالح شقرانؓ، حضرت مالک بن دُخشمؓ، حضرت عکاشہؓ، حضرت خارجہ بن زیدؓ، حضرت خالدبن بُکَیرؓ اور حضرت عمار بن یاسرؓ کی سیرت کے بعض پہلوؤں کا دلنشین تذکرہ

مہدی آباد برکینا فاسو میں 9؍احمدیوں کی افسوس ناک شہادت
شہداء کی بلندیٔ درجات نیز برکینا فاسو کے حالات کے لیے احبابِ جماعت کو دعا کی تحریک

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِؕ﴿۴﴾ إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

جیساکہ میں نے گذشتہ ایک خطبہ میں بتایا تھا کہ

بعض صحابہؓ کے ذکر کا کچھ حصہ رہ گیا ہے وہ بیان کروں گا

تو آج اسی سلسلہ میں

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں

پہلے بیان ہو گا۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو اَسد سے تھا اور قبیلہ کے متعلق بعض کہتے ہیں کہ آپ بنی عبد شمس کے حلیف تھے جبکہ بعض کے نزدیک حَرْب بن اُمَیَّہ کے حلیف تھے۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد3 صفحہ195 عَبْدُاللّٰہ بِنْ جَحَش،دار الکتب العلمیۃ بیروت 2003ء)

حضرت عبداللہ بن جحشؓ کے قدو قامت کے بارے میں

آتا ہے کہ نہ دراز قد تھے، نہ ہی پست قد تھے۔ آپ کے سر کے بال نہایت گھنے تھے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ67 عبداللّٰہ بن جحش دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

ایک مہم کے موقع پر آپ کو امیر مقرر کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ارشاد فرمایا وہ آپ کی سخت جانی، مستقل مزاجی اور بے خوفی کا اظہار کرتا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم پر ایک ایسے آدمی کو امیر مقرر کر کے بھیجوں گا جو اگرچہ تم سے زیادہ بہتر نہیں ہو گا لیکن بھوک اور پیاس کی برداشت میں تم سے زیادہ مضبوط ہو گا۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن جحشؓ کی امارت میں مکہ اور طائف کے درمیان وادیٔ نخلہ کی طرف گئے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد1 صفحہ481-482 مسند سعد بن ابی وقاص حدیث 1539 مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)
(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر جزء2 صفحہ365-366 ذِكْرُ أَوَّلِ الْمَغَازِي وَهِيَ غَزْوَةُ الْأَبْوَاءِ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت1976ء)

اس مہم میں کامیابی کے بعد جو مالِ غنیمت ملا اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اس سریہ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کے متعلق بعض کا

خیال ہے کہ یہ پہلا مالِ غنیمت ہے جس کو مسلمانوں نے حاصل کیا۔

حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے اس مال غنیمت کو پانچ حصوں میں منقسم کر کے بقیہ چار حصوں کو تقسیم کر دیا اور ایک کو بیت المال کے لیے رکھ لیا۔ یہ پہلا خُمس تھا جو اسلام میں اس دن مقرر ہوا۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد3 صفحہ195 عَبْدُاللّٰہ بِنْ جَحَش،دار الکتب العلمیۃ بیروت 2003ء)

امام شعبی سے روایت ہے کہ

اسلام میں سب سے پہلے جھنڈے کی ابتدا حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے کی۔ نیز سب سے پہلا مالِ غنیمت حضرت عبداللہ بن جحش ؓکا حاصل کیا ہوا تقسیم کیا گیا۔

(حلیۃ الأولياء وطبقات الأصفياء جلد1 صفحہ108 عَبْدُ اللّٰهِ بْنِ جَحْشٍ۔دار الفکر بیروت 1996ء)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ سیرت خاتم النبیینؐ میں ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کُرز بن جابر یہ مکہ کا ایک رئیس تھا جس نے قریش کے ایک دستہ کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پر جو شہر سے صرف تین میل کے فاصلے پر تھی اچانک چھاپہ مارا۔ (یہ اَور مہم ہے) اور مسلمانوں کے اونٹ وغیرہ ہانک کر لے گیا۔ اس کے اچانک حملے نے طبعا ًمسلمانوں کو بہت متوحش کردیا اور چونکہ رؤسائے قریش کی یہ دھمکی پہلے سے موجود تھی کہ ہم مدینہ پر حملہ آور ہوکر مسلمانوں کو تباہ وبرباد کر دیں گے، مسلمان سخت فکرمند ہوئے اورانہیں خطرات کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ فرمایا کہ قریش کی حرکات وسکنات کازیادہ قریب سے ہو کر علم حاصل کیا جاوے تاکہ اس کے متعلق ہرقسم کی ضروری اطلاع بروقت میسر ہو جاوے اور مدینہ ہر قسم کے اچانک حملوں سے محفوظ رہے۔ (ہاں یہ جو پہلے ذکر ہو چکا ہے وہ اسی مہم کے بارے میں آپ فرما رہے ہیں۔) پھر کہتے ہیں چنانچہ اس غرض سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ مہاجرین کی ایک پارٹی تیار کی اور مصلحتاً اس پارٹی میں ایسے آدمیوں کو رکھا جوقریش کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے تاکہ قریش کے مخفی ارادوں کے متعلق خبر حاصل کرنے میں آسانی ہو اور اس پارٹی پرآپؐ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن جحشؓ کو مقرر فرمایا۔ اور اس خیال سے کہ اس پارٹی کی غرض وغایت عامة المسلمین سے بھی مخفی رہے آپؐ نے اس سریہ کو روانہ کرتے ہوئے اس سریہ کے امیر کوبھی یہ نہیں بتایا کہ تمہیں کہاں اور کس غرض سے بھیجا جارہا ہے بلکہ چلتے ہوئے اُس کے ہاتھ میں ایک سربمہر خط دے دیا اورفرمایا اس خط میں تمہارے لیے ہدایات درج ہیں۔ گو یہ حوالہ پہلے کچھ حد تک بیان ہو چکا ہے لیکن حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے حوالے سے نہیں بیان ہوا تھا۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ جب تم مدینہ سے دودن کا سفر طے کرلو تو پھر اس خط کوکھول کر اس کی ہدایات کے مطابق عمل درآمد کرنا۔ چنانچہ عبداللہ اوران کے ساتھی اپنے آقا کے حکم کے ماتحت روانہ ہو گئے اور جب دو دن کا سفرطے کرچکے تو عبداللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو کھول کر دیکھا تو اس میں یہ الفاظ درج تھے کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان وادیٔ نخلہ میں جاؤ اوروہاں جا کر قریش کے حالات کاعلم لو اور پھر ہمیں اطلاع لا کر دو اور چونکہ مکہ سے اس قدر قریب ہو کر خبر رسانی کرنے کا کام بڑا نازک تھا۔

آپؐ نے خط کے نیچے یہ ہدایت بھی لکھ دی کہ اِس مشن کے معلوم ہونے کے بعد اگر تمہارا کوئی ساتھی اس پارٹی میں شامل رہنے سے متأمل ہو اور واپس چلا آنا چاہے تو اسے واپس آنے کی اجازت دے دو۔

عبداللہ نے آپؐ کی یہ ہدایت اپنے ساتھیوں کو سنا دی اورسب نے یک زبان ہوکر کہا کہ ہم بخوشی اس خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ اس کے بعد یہ جماعت نخلہ کی طرف روانہ ہوئی۔ راستہ میں جب مقام بُحْرَان میں پہنچے تو سعد بن ابی وقاص اور عُتبہ بن غَزْوَان کا اونٹ کھو گیا اور وہ اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور باوجود بہت تلاش کے انہیں نہ مل سکے اوراب یہ پارٹی صرف چھ کس کی رہ گئی۔ (سعد بن ابی وقاص کے ضمن میں اس کا کچھ حصہ بیان ہوا تھا۔)

پھر لکھتے ہیں کہ مسٹر مارگولیس اس موقع پر لکھتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ نے جان بوجھ کر اپنا اونٹ چھوڑ دیا اوراس بہانہ سے پیچھے رہ گئے۔ آپ لکھتے ہیں کہ ان جاں نثارانِ اسلام پر جن کی زندگی کاایک ایک واقعہ ان کی شجاعت اور فدائیت پر شاہد ہے اورجن میں سے ایک غزوہ بئرِمعونہ میں کفار کے ہاتھوں شہید ہوا اور دوسرا کئی خطرناک معرکوں میں نمایاں حصہ لے کر بالآخر عراق کا فاتح بنا، اس قسم کا شبہ کرنا اور شبہ بھی محض اپنے من گھڑت خیالات کی بنا پر کرنا مسٹر مارگولیس ہی کا حصہ ہے۔ لکھتے ہیں کہ پھر لطف یہ ہے کہ مارگولیس صاحب اپنی کتاب میں دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ مَیں نے یہ کتاب ہرقسم کے تعصّب سے پاک ہوکر لکھی ہے۔ بہرحال یہ جملہ معترضہ تھا۔ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت نخلہ پہنچی اوراپنے کام میں مصروف ہو گئی اوران میں سے بعض نے اخفائے راز کے خیال سے اپنے سر کے بال منڈوا دیے تاکہ راہگیر وغیرہ ان کو عمرہ کے خیال سے آئے ہوئے لوگ سمجھ کر کسی قسم کا شبہ نہ کریں لیکن ابھی ان کو وہاں پہنچے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اچانک وہاں قریش کاایک چھوٹا سا قافلہ بھی آن پہنچا جو طائف سے مکہ کی طرف جارہا تھا اور ہر دو جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہو گئیں۔ مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خفیہ خفیہ خبر رسانی کے لیے بھیجا تھا
لیکن دوسری طرف قریش سے جنگ شروع ہوچکی تھی اور اب دونوں حریف ایک دوسرے کے سامنے تھے

اور پھر طبعاً یہ اندیشہ بھی تھاکہ اب جو قریش کے ان قافلہ والوں نے مسلمانوں کودیکھ لیا ہے تو اس خبر رسانی کا راز بھی مخفی نہ رہ سکے گا۔ ایک دقّت یہ بھی تھی کہ بعض مسلمانوں کو خیال تھا کہ شاید یہ دن رجب یعنی شہرِ حرام کاآخری ہے جس میں عرب کے قدیم دستور کے مطابق لڑائی نہیں ہونی چاہیے اور بعض سمجھتے تھے کہ رجب گزرچکا ہے اور شعبان شروع ہے اور بعض روایات میں ہے کہ یہ سریہ جُمَادَی الآخِر میں بھیجا گیا تھا اور شک یہ تھا کہ یہ دن جُمَادَی کا ہے یا رَجَبْ کا۔ لیکن دوسری طرف نخلہ کی وادی عین حرم کے علاقہ کی حد پر واقع تھی اور یہ ظاہر تھا کہ اگر آج ہی کوئی فیصلہ نہ ہوا تو کل کویہ قافلہ حرم کے علاقہ میں داخل ہو جائے گا جس کی حرمت یقینی ہو گی۔ غرض ان سب باتوں کو سوچ کر مسلمانوں نے آخر یہی فیصلہ کیا کہ قافلہ پرحملہ کر کے یاتو قافلہ والوں کو قید کر لیا جاوے اور یا مار دیا جاوے۔ چنانچہ انہوں نے اللہ کانام لے کر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں کفّار کا ایک آدمی جس کا نام عمروبن حضرمی تھا مارا گیا اور دو آدمی قید ہوگئے لیکن بد قسمتی سے چوتھا آدمی بھاگ کرنکل گیا اور مسلمان اسے پکڑ نہ سکے اور اس طرح ان کی تجویز کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اس کے بعد مسلمانوں نے قافلہ کے سامان پر قبضہ کر لیا اور چونکہ قریش کاایک آدمی بچ کر نکل گیا تھا اور یقین تھا کہ اس لڑائی کی خبر جلدی مکہ پہنچ جائے گی۔ عبداللہ بن جحش اور اُن کے ساتھی سامان غنیمت لے کر جلدی جلدی مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔

لکھتے ہیں کہ مسٹر مارگولیس اس موقع پرلکھتے ہیں کہ دراصل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ دستہ دیدہ دانستہ اس نیت سے شہرحرام میں بھیجا تھا کہ چونکہ اس مہینہ میں قریش طبعا ًغافل ہوں گے۔ مسلمانوں کوان کے قافلوں کو لوٹنے کا آسان اور یقینی موقع مل جائے گا لیکن ہر عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مختصر پارٹی کو اتنے دُور دراز علاقہ میں کسی قافلہ کی غارت گری کے لیے نہیں بھیجا جا سکتا خصوصاً جبکہ دشمن کا ہیڈ کوارٹر اتنا قریب ہو اور پھر یہ بات تاریخ سے قطعی طورپر ثابت ہے کہ یہ پارٹی محض خبر رسانی کی غرض سے بھیجی گئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ علم ہوا کہ صحابہؓ نے قافلہ پر حملہ کیا تھا توآپؐ سخت ناراض ہوئے۔ چنانچہ روایت ہے کہ

جب یہ جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپؐ کو سارے ماجرا کی اطلاع ہوئی تو آپؐ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں شہرِ حرام میں لڑنے کی اجازت نہیں دی ہوئی۔ اورآپؐ نے مالِ غنیمت لینے سے انکار کر دیا۔

اس پر حضرت عبداللہؓ اوران کے ساتھی سخت نادم اور پشیمان ہوئے۔ اورانہوں نے خیال کیا کہ بس اب ہم خدا اور اس کے رسولؐ کی ناراضگی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ صحابہؓ نے بھی ان کو سخت ملامت کی اور کہا کہ تم نے وہ کام کیا جس کا تم کو حکم نہیں دیا گیا تھا اورتم نے شہرِ حرام میں لڑائی کی حالانکہ اس مہم میں تو تم کو مطلقاً لڑائی کاحکم نہیں تھا۔ دوسری طرف قریش نے بھی شور مچایا کہ مسلمانوں نے شہرِ حرام کی حرمت کو توڑ دیا ہے اور چونکہ جو شخص ماراگیا تھا یعنی عمروبن حضرمی وہ ایک رئیس آدمی تھا اور پھر وہ عتبہ بن ربیعہ رئیسِ مکہ کاحلیف بھی تھا اس لیے بھی اس واقعہ نے قریش کی آتش غضب کو بہت بھڑکا دیا اور انہوں نے آگے سے بھی زیادہ جوش وخروش کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی۔ چنانچہ جنگ بدر زیادہ ترقریش کی اسی تیاری اور جوشِ عداوت کانتیجہ تھا۔ الغرض اس واقعہ پر مسلمانوں اور کفار ہر دو میں بہت چہ میگوئیاں ہوئیں اور بالآخر ذیل کی قرآنی وحی نازل ہوکر مسلمانوں کی تشفی کاموجب ہوئی۔ اور وہ یہ ہے کہ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ قِتَالٍ فِیۡہِ ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِیۡہِ کَبِیۡرٌ ؕ وَصَدٌّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَکُفۡرٌۢ بِہٖ وَالۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ٭ وَاِخۡرَاجُ اَہۡلِہٖ مِنۡہُ اَکۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَالۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ وَلَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا (البقرہ: 218)

یعنی لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ شہرِحرام میں لڑنا کیسا ہے؟ تُو ان کو جواب دے کہ بے شک شہرِحرام میں لڑنا بہت بری بات ہے لیکن شہرِحرام میں خدا کے دین سے لوگوں کو جبراً روکنا بلکہ شہرِحرام اور مسجد حرام دونوں کا کفر کرنا یعنی ان کی حرمت کو توڑنا اور پھر حرم کے علاقہ سے اس کے رہنے والوں کو بزور نکالنا جیساکہ اے مشرکو! تم لوگ کررہے ہو یہ سب باتیں خدا کے نزدیک شہرِحرام میں لڑنے کی نسبت بھی زیادہ بری ہیں اوریقینا ًشہرِ حرام میں ملک کے اندر فتنہ پیدا کرنا اس قتل سے بدتر ہے جو فتنہ کوروکنے کےلیے کیا جاوے۔ اور اے مسلمانو !کفار کا تو یہ حال ہے کہ وہ تمہاری عداوت میں اتنے اندھے ہورہے ہیں کہ کسی وقت اورکسی جگہ بھی وہ تمہارے ساتھ لڑنے سے باز نہیں آئیں گے اور وہ اپنی یہ لڑائی جاری رکھیں گے حتیٰ کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں بشرطیکہ وہ اس کی طاقت پائیں۔

چنانچہ

تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام کے خلاف رؤسائے قریش اپنے خونی پراپیگنڈا کو اشہرِ حرام میں بھی برابر جاری رکھتے تھے بلکہ اشہرِ حرم کے اجتماعوں اور سفروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ان مہینوں میں اپنی مفسدانہ کارروائیوں میں اوربھی زیادہ تیز ہوجاتے تھے اورپھر کمال بے حیائی سے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے وہ عزت کے مہینوں کواپنی جگہ سے ادھر ادھر منتقل بھی کر دیا کرتے تھے جسے وہ نَسِئی کے نام سے پکارتے تھے

اور پھر آگے چل کر تو انہوں نے غضب ہی کر دیا کہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں باوجود پختہ عہدوپیمان کے کفّارِ مکہ اوران کے ساتھیوں نے حرم کے علاقہ میں مسلمانوں کے ایک حلیف قبیلہ کے خلاف تلوار چلائی۔ پھر جب مسلمان اس قبیلہ کی حمایت میں نکلے توان کے خلاف بھی عین حرم میں تلوار استعمال کی۔ پس اس جواب سے مسلمانوں کی تو تسلی ہونی ہی تھی قریش بھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے اوراس دوران میں اُن کے آدمی بھی اپنے دو قیدیوں کوچھڑوانے کے لیے مدینہ پہنچ گئے لیکن چونکہ ابھی تک سعد بن ابی وقاص اور عتبہ واپس نہیں آئے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق سخت خدشہ تھا کہ اگروہ قریش کے ہاتھ پڑ گئے تو وہ قریش انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی واپسی تک قیدیوں کوچھوڑنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میرے آدمی بخیریت مدینہ پہنچ جائیں گے تو پھر میں تمہارے آدمیوں کو چھوڑ دوں گا۔ چنانچہ جب وہ دونوں واپس پہنچ گئے تو آپﷺ نے فدیہ لے کر دونوں قیدیوں کو چھوڑ دیا لیکن

ان قیدیوں میں سے ایک شخص پر مدینہ کے قیام کے دوران میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ فاضلہ اور اسلامی تعلیم کی صداقت کا اس قدر گہرا اثر ہوچکا تھا کہ اس نے آزاد ہوکر بھی واپس جانے سے انکار کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آپؐ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہوگیا اور بالآخر بئر معونہ میں شہید ہوا۔ اس کا نام حَکَم بن کَیْسَان تھا۔

(ماخوذ ازسیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ؓ صفحہ330تا 334)

حضرت عبداللہ بن جحش ؓکی تلوار غزوہ احد کے دن ٹوٹ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عُرجون یعنی کھجور کی ایک شاخ مرحمت فرمائی۔ پس وہ آپؓ کے ہاتھ میں تلوار کی طرح ہو گئی۔ اسی دن سے آپؓ عُرْجُون کے لقب سے مشہور ہوئے۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد3 صفحہ196 عَبْدُاللّٰہ بِنْ جَحَش، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2003ء)

ابو نعیم کہتے ہیں کہ

حضرت عبداللہ بن جحش اپنے رب کی قسم اٹھانے والے اور محبتِ الٰہی کو قلب میں جگہ دینے والے اور سب سے پہلے اسلامی جھنڈا قائم کرنے والے تھے۔

(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء جلد1 صفحہ108 عَبْدُ اللّٰهِ بْنِ جَحْشٍ۔دار الفکر بیروت 1996ء)

امام شعبیؒ سے روایت ہے کہ میرے پاس بنی عامر اور بنی اسد کے دو آدمی آپس میں فخر و مباہات کا اظہار کرتے ہوئے آئے۔ بنی عامر کے شخص نے بنی اسد کے شخص کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ اسدی کہہ رہا تھا کہ میرا ہاتھ چھوڑ دو جبکہ عامری کہہ رہا تھا کہ خداکی قسم! میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا تو امام شعبی کہتے ہیں کہ مَیں نے اسے کہا کہ اے بنی عامر کے بھائی! اس کو چھوڑ دو اور اسدی سے کہا کہ

تمہاری چھ خوبیاں ایسی ہیں جو پورے عرب میں کسی میں نہیں ہیں۔

وہ یہ ہیں۔ نمبر ایک: کہ تم میں سے ایک خاتون سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے کروا دیا اور ان دونوں کے درمیان سفیر حضرت جبرئیل تھے اور وہ خاتون حضرت زینب بنت جحش ؓ تھیں اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔ نمبر دو: تم میں سے ایک شخص تھا جو کہ جنتی تھا مگر پھر بھی زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتا تھا اور وہ حضرت عکاشہ بن محصنؓ تھے اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔ نمبر تین: اور

اسلام میں سب سے پہلا عَلم یعنی جھنڈا جو دیا گیا وہ بھی تم میں سے ایک شخص حضرت عبداللہ بن جحش ؓکو دیا گیا اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔ نمبر چار: سب سے پہلا مالِ غنیمت جو اسلام میں تقسیم ہوا وہ عبداللہ بن جحش کا مالِ غنیمت ہے۔

نمبر پانچ: اور بیعتِ رضوان میں جس شخص نے سب سے پہلے بیعت کی وہ تمہاری قوم کا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپؐ کی بیعت کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس بات پرمیری بیعت کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جو آپؐ کے دل میں ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میرے دل میں کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا فتح یا شہادت۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت اَبُوسِنَانؓ نے بیعت کی۔ اس کے بعد لوگ آتے اور کہتے کہ حضرت اَبُوسِنَانؓ والی بیعت پر ہم بھی بیعت کرتے ہیں اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔ نمبر چھ: اور جنگِ بدر کے دن سات مہاجرین تمہاری قوم کے تھے اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔

(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء جلد4 صفحہ315-316 عامر بن شراحیل الشعبی۔دار الفکر بیروت 1996ء)

پھر ایک روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن جحشؓ جب اُحُد کے دن شہید ہوئے تو حضرت زینب بنت خُزَیْمَہؓ آپ کے نکاح میں تھیں۔ ان کی شہادت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت خُزَیْمَہؓ سے شادی کر لی۔ آپؓ آٹھ ماہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دو تین ماہ رہیں اور ماہ ربیع الآخر کے آخر میں آپؓ کی وفات ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کا جنازہ پڑھا اور جنت البقیع میں دفن کیا۔

(إمتاع الأسماع جلد6 صفحہ52 ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ، دار الکتب العلمیۃ بیروت1999ء)

باقی ذکر جیسا کہ میں نے کہا پہلے ہو چکا ہے۔

اگلا ذکر حضرت صالح شُقرانؓ کا ہے۔

بعض کے نزدیک حضرت شُقرانؓ اور حضرت ام ایمنؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے والد کی طرف سے ورثہ میں ملے تھے۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ الجزء الثالث صفحہ 284 ’’شقران‘‘۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1995ء) غلام تھے۔ غزوۂ بدر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد فرما دیا تھا۔ (اسدالغابہ فی معرفۃالصحابہ جزء2 صفحہ636 شقران دار الکتب العلمیۃ بیروت2003ء)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جن اشخاص کو غسل دینے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں حضرت صالح شُقْرَانؓ بھی تھے نیز ان کے علاوہ آٹھ اہل بیت اَور بھی تھے۔

(الطبقات الکبریٰ جزء3 صفحہ36-37 مطبوعہ دار احیاء التراث العربی 1996ء)

مسند امام احمد بن حنبل کی روایت ہے کہ حضرت صالح کو ایک سعادت اَور حاصل ہے۔ وہی جو غسل کے بارے میں ذکر ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غسل دیا جا رہا تھا تو اس وقت جو اصحاب پانی انڈیل رہے تھے ان میں حضرت صالح شقرانؓ اور حضرت اسامہ بن زیدؓ تھے۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ جب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے لیے اکٹھے ہوئے تو گھر میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ خانہ ہی تھے۔ آپؐ کے چچا حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ، حضرت فضل بن عباسؓ، حضرت قُثَم بن عباسؓ، حضرت اسامہ بن زیدؓ اور حضرت صالح شقرانؓ، آپؐ کے آزاد کردہ غلام۔ اسی دوران گھر کے دروازے پر کھڑے بنو عوف بن خزرج کے حضرت اوس بن خَوْلِی انصاریؓ جو بدر میں شامل تھے انہوں نے حضرت علی ؓکو پکار کر کہا اے علی! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمارا حصہ بھی رکھنا۔ حضرت علیؓ نے ان سے فرمایا: اندر آ جاؤ۔ چنانچہ وہ بھی داخل ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے موقع پر موجود تھے مگر انہوں نے غسل دینے میں شرکت نہیں کی۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض آپ پر ہی تھی اور حضرت عباسؓ، فضل اور قُثَم حضرت علیؓ کے ساتھ پہلو مبارک بدل رہے تھے اور حضرت اسامہؓ اور صالح شقرانؓ پانی ڈال رہے تھے اور حضرت علیؓ آپؐ کو غسل دینے لگے۔

(مسند امام احمد بن حنبل جلد1 صفحہ682-683 حدیث نمبر 2357 عالم الکتب بیروت لبنان مطبوعہ 1998ء)

علامہ بلاذریؒ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت شقرانؓ کے صاحبزادے عبدالرحمٰن بن شُقران کو حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓکی طرف روانہ کیا اور لکھا کہ

میں تمہاری طرف ایک صالح آدمی عبدالرحمٰن بن صالح شُقران، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، کو بھیج رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کے والد کے مقام کا لحاظ رکھتے ہوئے اس سے سلوک کرنا۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابہ الجزء الخامس صفحہ31، عبد الرحمان بن شقران۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1995ء)

ایک روایت ہے کہ علامہ بَغْوِی کہتے ہیں کہ حضرت شُقرانؓ نے مدینہ میں رہائش اختیار کی تھی اور آپؓ کا ایک گھر بصرہ میں بھی تھا۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ الجزء الثالث صفحہ285’’شقران‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1995ء)

حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں آپؓ کی وفات ہوئی۔

(امتاع الاسماع جلد6 صفحہ316 فصل فی ذکر موالی رسول اللّٰہ ﷺ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1999ء)

ان کے خاندان کا آخری فرد ہارون الرشید کے عہد میں مدینہ میں فوت ہوا۔ اسی طرح بصرہ میں بھی ان کے خاندان کا ایک شخص رہتا تھا۔ مصعب کہتے ہیں کہ اس کی نسل آگے چلی یا نہیں اس کا مجھے علم نہیں۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد 2 صفحہ 636 ’’شقران‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2003ء)

حضرت صالح شقرانؓ سے مروی ہے کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گدھے پر سوار خیبر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔ آپؐ اشارے سے نماز ادا فرما رہے تھے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد5 صفحہ505-506 حدیث شقران مولیٰ رسول للّٰہ حدیث نمبر 16137عالم الکتب بیروت 1998ء) یعنی سواری پر بیٹھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ سواری پر نماز ادا کی جا سکتی ہے کہ نہیں؟

حضرت مالِک بن دُخْشُمؓ

یہ بھی ایک صحابی ہیں جن کے ذکر کا کچھ حصہ رہتا ہے۔ ان کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت مالک بن دُخْشُم کا نام مالک بن دُخَیْشِنْ اور ابنِ دُخْشُنْ بھی بیان ہوا ہے۔

(صحیح بخاری کتاب الصلاة باب المساجد فی البیوت، حدیث نمبر 425)
(مطالع الانوار علی صحاح الآثار جلد3 صفحہ62 وزارۃ الاوقاف قطر 2012 از مکتبۃ الشاملۃ)

آپؓ کے والد کا نام دُخْشُم بن مَرْضَخَہ تھا جبکہ ان کا نام دُخْشُم بن مالِک بن دُخْشُم بن مَرْضَخَہ بھی بیان ہوا ہے۔ آپؓ کی والدہ کا نام عُمَیرہ بنت سعد تھا۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء3 صفحہ414، مالک بن دخشم،دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان، 1990ء)
(سیرت ابن ہشام جلد2 صفحہ336، زیر عنوان من بنی دعد، دارالکتاب العربی بیروت لبنان، 1990ء)

حضرت مالک ؓکی شادی جمیلہ بنت اُبَیْ بنِ سَلُول سے ہوئی جو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول کی ہمشیرہ تھیں۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جزء7 صفحہ52-53، جمیلہ بنت ابی بن سلول، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان، 1994ء)

سُہَیل بن عَمرو کو قیدی بنانے کے موقع پر حضرت مالکؓ نے یہ اشعار کہے تھے

اَسَرْتُ سُہَیْلًا فَلَا اَبْتَغِیْ
اَسِیْرًا بِہٖ مِنْ جَمِیْعِ الْاُمَمْ

وَخِنْدَفُ تَعْلَمُ اَنَّ الْفَتٰی
فَتَاہَا سُہَیْلٌ اِذَا یُظَّلَمْ

ضَرَبْتُ بِذِی الشَّفْرِ حَتَّی انْثَنٰی
وَ اَکْرَہْتُ نَفْسِیْ عَلٰی ذِی الْعَلَمْ

کہ میں نے سُہیل کو قیدی بنایا اور اس کے بدلہ میں تمام اقوام سے کسی کو بھی قیدی نہیں بنانا چاہتا۔ بنو خِنْدَف جانتے ہیں کہ سُہَیل ہی اپنے قبیلہ کا جوانمرد ہے جب ان پر ظلم کیا جائے۔ مَیں نے جھنڈے والے پر وار کیا یہاں تک کہ وہ جھک گیا اور میں نے کٹے ہوئے ہونٹ والےسے، مراد سُہَیل بن عَمرو سے تھا، جنگ کرنے پر اپنے آپ کو مجبور کیا۔

(سیرت ابن ہشام جزء2 صفحہ290-291، زیر عنوان امر سہیل بن عمرو و فداؤہ۔ دار الکتاب العربی بیروت 1990ء)

غزوۂ بدر کے قیدیوں کے حوالے سے اُسْدُ الْغَابَہ میں ایک روایت ہے کہ ابو صالح حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ابویُسر مالک بن دُخْشُم عَوْفِی اور طارق بن عُبَید انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو اِس جنگ میں کسی کو قتل کرے گا اسے اتنا ملے گا اور جو کسی کو قید کرے گا اسے اتنا ملے گا اور ہم نے ستّر لوگوں کو قتل کیا اور ستّر کو قید کیا۔ اس پر حضرت سعد بن معاذؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم بھی ان لوگوں کی طرح کر سکتے تھے مگر ہم نے صرف اس وجہ سے نہیں کیا کیونکہ ہم مسلمانوں کی پیچھے کی طرف سے حفاظت کر رہے تھے۔ غنیمتیں تھوڑی ہیں اور لوگ بہت ہیں۔ اگر آپؐ ان لوگوں کو اتنا دیں گے جس قدر آپؐ نے وعدہ کیا ہے تو بعض لوگوں کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔ پس یہ لوگ باتیں کرتے رہے کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوۡلِ (الانفال: 2) کہ اے رسول! لوگ تجھ سے اموال غنیمت کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تو ان سے کہہ دے کہ اموالِ غنیمت اللہ اور اس کے رسولؐ کے ہیں۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد3 صفحہ69-70، طارق بن عبید،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

غزوۂ احد کے دن حضرت مالِک بن دُخْشُمؓ حضرت خارِجہ بن زیدؓ کے پاس سے گزرے۔ حضرت خارجہؓ زخموں سے چُور بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو تیرہ کے قریب مہلک زخم آئے تھے۔ حضرت مالکؓ نے ان سے کہا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں۔ حضرت خارجہؓ نے کہا اگر آپؐ کو شہید کر دیا گیا ہے تو یقیناً اللہ زندہ ہے اور وہ نہیں مرے گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام پہنچا دیا ہے۔ فَقَاتِلْ عَنْ دِیْنِكَ اس لیے تم بھی اپنے دین کے لیے قتال کرو۔

(کتاب المغازی للواقدی المجلد الاول صفحہ280 ’’غزوۃ احد‘‘ عالم الکتب۔ 1984ء)

ایک دوسری روایت میں اس واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہید ہونے کی افواہ پھیلی تو حضرت مالک بن دخشم ؓحضرت خارجہ بن زیدؓ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سینے پر تیرہ مہلک زخم آئے تھے۔ حضرت مالکؓ نے ان سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں۔ حضرت خارجہؓ نے جواب دیا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو یقینا ًاللہ زندہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا۔ یقینا ًانہوں نے پیغام یعنی اسلام کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ پس اپنے دین کی خاطر لڑو۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت مالک ؓحضرت سعد بن ربیع ؓکے پاس سے گزرے اور ان کو بارہ مہلک زخم آئے تھے۔ حضرت مالکؓ نے حضرت سعدؓ سے کہا۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔ حضرت سعدؓ نے جواب دیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے پیغام کو پہنچا دیا ہے۔ پس اپنے دین کی خاطر لڑو کیونکہ اللہ زندہ ہے وہ کبھی نہیں مرے گا۔

(امتاع الاسماع جلد1 صفحہ165، غزوہ احد، زیر عنوان خبر خارجہ بن زید)

ایک روایت میں بیان ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ یعنی حضرت مالک بن دخشمؓ منافقین کی پناہ گاہ ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟ تم کہتے ہو منافق ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتا؟ لوگوں نے عرض کیا جی۔ یارسول اللہؐ نماز تو پڑھتا ہے مگر وہ ایسی نماز ہے جس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اس پر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا
مجھے نماز پڑھنے والوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔

(المعجم الکبیر للطبرانی باب العین، ما اسند عتبان بن مالک، روایت نمبر 44 جزء18 صفحہ26، مکتبہ ابن تیمیہ قاہرہ)

یہ آج کل کے مسلمانوں کے لیے بھی سبق ہے۔

ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن دُخْشُمؓ کے ساتھ حضرت مَعْن بن عَدِیؓ کے بھائی حضرت عاصم بن عدیؓ کو مسجد ضرار کے منہدم کرنے کے لیے روانہ فرمایا تھا۔

(المنتظم فی تاریخ الملوک والامم از علامہ جوزی، جلد5 صفحہ216، عاصم بن عدی، دارالکتب العلمیۃ بیروت، لبنان)

حضرت مالکؓ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی نسل نہیں چلی۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء3 صفحہ415، مالک بن دخشم، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان، 1990ء)
پھر

حضرت عُکَّاشَہ بن مِحْصَن ؓ

کا کچھ تھوڑا سا ذکر ہے۔ ان کا نام عکاشہ تھا۔ مِحْصَن بن حُرْثَان ولدیت تھی۔ ابو محصن ان کی کنیت تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دَور میں بارہ ہجری میں ان کی شہادت ہوئی۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد4 صفحہ64-65، عکاشہ بن محصن، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

امام شعبیؒ نے عکاشہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ

ایک شخص تھا جو کہ جنتی تھا مگر پھر بھی زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتا تھا
اور وہ عکاشہ بن محصن تھے۔

(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء جلد4 صفحہ315-316 عامر بن شراحیل الشعبی۔ دار الفکر بیروت1996ء)

دو ہجری میں غزوۂ بدر کے فوراً بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جحشؓ کو ایک مہم پر روانہ فرمایا۔ اس سریہ میں حضرت عکاشہ بن محصنؓ بھی شامل تھے۔

(السیرة الحلبیة جز3 صفحہ219 سریہ حضرت عبد اللّٰہ بن جحش دار الکتب العلمیة بیروت 2002ء)

سیرتِ حلبیہ میں ہے کہ غزوۂ احد کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اپنے کمان سے تیر اندازی فرماتے رہے جس کا نام کَتُوم تھا کیونکہ اس سے تیر اندازی کے وقت کوئی آواز نہیں پیدا ہوتی تھی۔ آخر مسلسل تیر اندازی کی وجہ سے اس کمان کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ یہاں تک کہ آپ کی اس کمان کا ایک سرا ٹوٹ گیا جس میں تانت باندھی جاتی ہے۔ غرض مسلسل تیر چلانے سے وہ کمان ٹوٹ گئی۔ آپ کے ہاتھ میں کمان کی بالشت بھر ڈوری باقی رہ گئی۔ حضرت عکاشہ بن محصنؓ نے کمان کی ڈوری باندھنے کے لیے وہ آپ سے لی مگر وہ ڈور چھوٹی پڑ گئی اور انہوں نے آپؐ سے عرض کیا یا رسول اللہؐ! یہ ڈور چھوٹی پڑ گئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے کھینچو پوری ہو جائے گی۔ حضرت عکاشہؓ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قَسم! جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے مَیں نے ڈور کھینچی تو وہ کھنچ کر اتنی لمبی ہو گئی کہ میں نے اس سے کمان کے سر پر دو تین بل بھی دیے اور اطمینان سے اس کو باندھ دیا۔

(السیرة الحلبیة جز2 صفحہ311 ’’غزوہ اُحد‘‘ دار الکتب العلمیة بیروت 2002ء)

ایک روایت ہے کہ

چھ ہجری میں عُیَیْنَہ بن حِصْن نے غطفان کے گھڑ سواروں کے ساتھ غَابَہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ دینے والی اونٹنیوں پر حملہ کیا۔

یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ چرا کرتے تھے۔ چراگاہ تھی۔ غابہ میں بَنُو غِفَار کا ایک مرد اور ایک عورت بھی رہتے تھے۔ دشمنوں نے حملہ کر کے مرد کو قتل کر دیا اور عورت کو اونٹنیوں کے ساتھ لے گئے۔ اس واقعہ سے سب سے پہلے باخبر ہونے والے حضرت سَلَمہ بن اَکْوَعؓ تھے۔ وہ صبح کے وقت غابہ کے لیے نکلے اور ان کے ساتھ حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ کا غلام اور اس کے ساتھ گھوڑا تھا۔ جب وہ ثَنِیَّة الْوَدَاع مقام پر چڑھے تو انہوں نے حملہ آوروں کے بعض گھوڑے دیکھے تو سَلْع پہاڑ کی ایک جانب سے اوپر چڑھے اور پیچھے اپنے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا۔ پھر حملہ آور جماعت کے تعاقب میں یہ شکاری جانور کی مانند تیزی سے نکلے یہاں تک کہ ان لوگوں کو جا لیا اور ان پر تیر برسانے شروع کر دیے۔ جب بھی گھڑ سوار اُن کی طرف متوجہ ہوتے تو حضرت سَلَمہ بھاگ جاتے اور واپس لَوٹتے اور جب موقع ملتا تو وہ تیر برساتے۔ جب اس واقعہ کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپؐ نے بھی مدینہ میں اعلان کیا کہ خطرہ ہے۔ گھڑ سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے۔ ان گھڑ سواروں میں حضرت عکاشہ بن محصنؓ اور دیگر صحابہؓ شامل تھے۔ اس معرکہ میں حضرت عکاشہ بن محصنؓ نے اَوْبَار اور اس کے بیٹے عَمرِو بن اَوْبَار کو جا لیا۔ وہ دونوں ایک اونٹ پر سوار تھے۔ حضرت عکاشہؓ نے ان کو ایک نیزے میں ہی پرو دیا اور دونوں کو قتل کر دیا اور چھینی ہوئی بعض اونٹنیاں واپس لے آئے۔

(سير أعلام النبلاء جزء2 صفحہ5 تا 7 غزوہ ذی قرد مؤسسۃ الرسالۃ بیروت 1996ء)

پھر ذکر ہے

حضرت خارجہ بن زیدؓ

کا۔ ان کی کنیت ابوزید تھی۔ (الطبقات الکبری لابن سعد الجزء الثالث صفحہ397 ’’خارجہ بن زید‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء) ایک روایت میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت سعد بن مُعَاذ ؓ اور حضرت خارجہ بن زیدؓ نے یہود کے چند علماء سے تورات میں موجود چند باتوں کے متعلق پوچھا جن کا جواب دینے سے ان علماء نے انکار کر دیا اور سچ کو چھپایا، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَالۡہُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَیَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ (البقرہ: 160) یقینا ًوہ لوگ جو اسے چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح نشانات اور کامل ہدایت میں سے نازل کیا ہے اس کے بعد بھی کہ ہم نے کتاب میں اس کو لوگوں کے لیے خوب کھول کر بیان کر دیا تھا۔ یہی ہیں وہ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور اس پر سب لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔

(تفسیر طبری، الجزء3 صفحہ250 مکتبۃ ابن تیمیۃ القاہرۃ)

پھر

حضرت زِیَاد بن لَبِیدؓ

کا ذکر ہے۔ ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو بَیَاضَہ بن عامر سے تھا۔ آپؓ کی نسل مدینہ اور بغداد میں مقیم تھی۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء3 صفحہ448 زیاد بن لبید،دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

ان کے بارے میں ضَحَّاکْ بن نُعمان بیان کرتے ہیں کہ مسروق بن وائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وادیٔ عقیق سے مدینہ آئے۔ (عرب میں کئی وادیوں، کانوں اور دوسری جگہوں کا نام عقیق ہے۔ سب سے مشہور وہ وادیٔ عقیق ہے جو مدینہ کے عین مغرب سے گزرتی ہے۔ بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ سے مکہ جانے والی سڑک اسی عقیق سے ہوتی ہوئی ذُوالْحُلَیْفَہ پہنچتی تھی۔ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ آج کل کا راستہ بھی یہی ہے۔) اور اسلام قبول کیا اور اسلام پر عمدگی سے قائم رہے۔ آپ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں چاہتا ہوں کہ آپؐ میری قوم میں ایک ایسے آدمی کو بھیجیں جو انہیں اسلام کی طرف بلائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف حضرت زِیَاد بن لَبِید انصاریؓ کو بھیجا۔

(المعجم الکبیر جزء20 صفحہ336 حدیث 795 من اسمہ مسروق۔ مسروق بن وائل الحضرمی۔ مکتبۃ ابن تیمیۃ القاہرۃ)
(اردو دائرہ معارف اسلام جلد 13 صفحہ 414۔ دانش گاہ پنجاب لاہور 2005ء)

حضرت زیادؓ اکتالیس ہجری میں حضرت معاویہ کے دَور حکومت کے شروع میں فوت ہوئے۔ طبرانی کہتے ہیں کہ حضرت زیادؓ کوفہ میں رہے اور مسلم اور اِبْنِ حَبَّان کہتے ہیں کہ آپ شام میں رہے۔ ابن حَبَّان کہتے ہیں کہ آپ فقہاء صحابہ میں سے تھے۔

(تہذیب التہذیب جزء1 صفحہ652-653 زیاد بن لبید بن ثعلبہ۔مؤسسۃ الرسالۃ بیروت 2014ء)

حضرت زیاد بن لبیدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا ذکر فرمایا اور فرمایا یہ بات علم اٹھ جانے کے وقت ہو گی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ!علم کیسے چلا جائے گا اور ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بچے اپنے بچوں کو قیامت کے دن تک اسے پڑھائیں گے۔ جب قرآن جاری رہے گا تو پھر کس طرح علم اٹھ جائے گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اللہ تیرا بھلا کرے اے زیاد! میں تمہیں مدینہ کے سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ کیا یہود اور نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھتے جو ان دونوں میں ہے لیکن اس کی کسی بات پر عمل نہیں کرتے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب ذَهَابُ الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ حدیث: 4048) علم اس وقت اٹھ جائے گا جب قرآن پڑھیں گے تو سہی لیکن مسلمان عمل نہیں کریں گے اور یہی کچھ ہم آج کل دیکھ رہے ہیں۔

پھر یزید بن عبداللہ بن قُسَیط سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عکرمہ بن ابوجہل کو پانچ سو مسلمانوں کے ساتھ حضرت زیاد بن لبیدؓ اور حضرت مہاجر بن ابی امیہ کی مدد کے لیے بھیجا۔ وہ لشکر کے پاس اس وقت پہنچے جب انہوں نے نُجَیْر جو کہ یمن میں ہے اس کو فتح کر لیا تھا۔ پھر حضرت زیاد بن لبیدؓ نے ان کو مال غنیمت میں سے حصہ دیا۔ فتح کے بعد یہ قافلہ پہنچا تھا۔ امام شافعی ؒکہتے ہیں کہ حضرت زیادؓ نے اس معاملہ کے بارے میں حضرت ابوبکرؓ کو لکھا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان کو جواباً خط لکھا کہ مالِ غنیمت پر صرف اسی کا حق ہے جو جنگ میں شریک ہوا ہے۔ اور ان کے خیال میں عکرمہ کا کوئی حصہ نہیں بنتا کیونکہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ حضرت زیادؓ نے اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے عکرمہ اور اس کے لشکر کو دلی خوشی سے اس مالِ غنیمت میں شامل کر لیا۔

(کتاب السنن الکبریٰ۔ جزء9 صفحہ86 کتاب السیر باب الغنیمۃ لمن شھد الوقعۃ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

پھر ذکر ہے

حضرت خالد بن بُکیرؓ

کا۔ بُکَیر بن عبدِ یالیل ان کی ولدیت تھی۔ قبیلہ بنو سعد سے ہیں جو بنی عدی کے حلیف تھے۔

(اسد الغابۃ جلد2 صفحہ194 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

ابنِ اسحاق نے کہا ہے کہ ہمیں ایاس اور ان کے بھائیوں عاقل، خالد اور عامر کے علاوہ کوئی بھی چار ایسے بھائی معلوم نہیں جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے ہوں۔ ان چاروں بھائیوں نے اکٹھی ہجرت کی اور مدینہ میں رِفَاعَہ بن عبدالمنذِر کے ہاں قیام کیا۔

(الاصابہ فی تمییزالصحابہ الجزء الاول صفحہ310، ایاس بن ابی بکیر،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ جنگِ احد کے بعد قبائل عَضَل اور قَارَہ کے چند لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں اسلام کی رغبت ہو رہی ہے آپؐ ہمارے ساتھ اپنے اصحاب میں سے چند لوگ روانہ فرمائیں تاکہ وہ ہماری قوم کو دین کی تعلیم دیں اور قرآن پڑھائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مَرْثَدْ بن ابی مَرْثَدؓ کی امارت میں چھ صحابہ کو ان کے ساتھ بھجوا دیا جن میں حضرت خالد بن بُکَیرؓ بھی شامل تھے۔ ان کو ان لوگوں نے بعد میں دھوکے سے شہید بھی کر دیا تھا جو دین سیکھنے کے لیے لے کے گئے تھے۔

(السیرۃالنبویۃ لابن ہشام صفحہ591-592، ذکر یوم الرجیع فی سنۃ ثلاث، دارالکتب العلمیۃ بیروت2001ء)

پھر

حضرت عمار بن یاسرؓ

کا ذکر ہے۔ ان کی کنیت ابویَقْظَان تھی۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ187 ’’عمّار بن یاسر‘‘۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

ان کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے تاریخ کی کتابوں سے اخذ کر کے لکھا ہے کہ ’’ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمارؓ نامی غلام کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ سسکیاں لے رہے تھے اور آنکھیں پونچھ رہے تھے۔ آپؐ نے پوچھا عمار! کیا معاملہ ہے؟ عمار نے کہا اے اللہ کے رسولؐ! بہت ہی بُرا۔ وہ مجھے مارتے گئے‘‘ یعنی دشمن مارتے گئے ’’اور دکھ دیتے گئے اور اُس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میرے منہ سے آپؐ کے خلاف اور دیوتاؤں کی تائید میں کلمات نہیں نکلوا لئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لیکن تم اپنے دل میں کیا محسوس کر تے تھے؟ عمار نے کہا دل میں تو ایک غیرمتزلزل ایمان محسوس کرتا تھا۔‘‘ گو منہ سے مَیں نے آپؐ کے خلاف کہہ دیا لیکن دل میں میرے ایمان تھا۔ ’’آپؐ نے فرمایا

اگر دل ایمان پر مطمئن تھا تو خدا تعالیٰ تمہاری کمزوری کو معاف کر دے گا۔‘‘

(دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد20 صفحہ195)

حضرت عمار بن یاسرؓ کی ہجرتِ حبشہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ ہجرت حبشہ ثانیہ میں شریک تھے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ189 ’’عمّار بن یاسر‘‘۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

حضرت عثمانؓ کے زمانۂ خلافت میں ہونے والی شورش کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ ثانی ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’جب یہ شورش حد سے بڑھنے لگی اور صحابہؓ کرام کو بھی ایسے خطوط ملنے لگے جن میں گورنروں کی شکایات درج ہوتی تھیں تو انہوں نے مل کر حضرت عثمانؓ سے عرض کیا کہ کیا آپؓ کو معلوم نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جو رپورٹیں مجھے آتی ہیں وہ تو خیر و عافیت ہی ظاہر کرتی ہیں۔ صحابہؓ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اس اس مضمون کے خطوط باہر سے آتے ہیں اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔ حضرت عثمانؓ نے اس پر ان سے مشورہ طلب کیا کہ تحقیق کس طرح کی جاوے اور ان کے مشورہ کے مطابق اسامہ بن زید کو بصرہ کی طرف، محمد بن مسلم کو کوفہ کی طرف، عبداللہ بن عمر کو شام کی طرف، عمار بن یاسر کو مصر کی طرف بھیجا کہ وہاں کے حالات کی تحقیق کر کے رپورٹ کریں کہ آیا واقع میں امراء رعیت پر ظلم کرتے ہیں اور تعدّی سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کے حقوق مار لیتے ہیں اور ان چاروں کے علاوہ کچھ اَور لوگ بھی متفرق بلاد کی طرف بھیجے تاکہ وہاں کے حالات سے اطلاع دیں۔ (طبری جلدنمبر۶ صفحہ۲۹۴۳ مطبوعہ بیروت)

یہ لوگ گئے اور تحقیق کے بعد واپس آ کر ان سب نے رپورٹ کی کہ سب جگہ امن ہے اور مسلمان بالکل آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کے حقوق کو کوئی تلف نہیں کرتا اور حکام عدل و انصاف سے کام لے رہے ہیں۔ مگر عمار بن یاسر نے دیر کی اور ان کی کوئی خبر نہ آئی …ان کی طرف سے خبر آنے میں اس قدر دیر ہوئی کہ اہلِ مدینہ نے خیال کیا کہ کہیں مارے گئے ہیں مگر

اصل بات یہ تھی کہ وہ اپنی سادگی اور سیاست سے ناواقفیت کی وجہ سے اُن مفسدوں کے پنجہ میں پھنس گئے تھے جو عبداللہ بن سبا کے شاگرد تھے۔

مصر میں چونکہ خود عبداللہ بن سبا موجود تھا اور وہ اس بات سے غافل نہ تھا کہ اگر اس تحقیقاتی وفد نے تمام ملک میں امن و امان کا فیصلہ دیا تو تمام لوگ ہمارے مخالف ہو جاویں گے۔ اس وفد کے بھیجے جانے کا فیصلہ ایسا اچانک ہؤا تھا کہ دوسرے علاقوں میں وہ کوئی انتظام نہیں کر سکا تھا مگر مصر کا انتظام اس کے لئے آسان تھا۔ جونہی عمار بن یاسر مصر میں داخل ہوئے اس نے ان کا استقبال کیا اور والیٔ مصر‘‘ عمرو بن عاص ’’کی برائیاں اور مظالم بیان کرنے شروع کئے۔ وہ اس کے لسانی سحر کے اثر سے محفوظ نہ رہ سکے۔‘‘ ایسی باتیں کیں کہ ان پہ اس کی باتوں کا جادو چل گیا۔ بڑا بولنے والا تھا ’’اور بجائے اس کے کہ ایک عام بے لوث تحقیق کرتے۔ والیٔ مصر کے پاس گئے ہی نہیں اور نہ عام تحقیق کی بلکہ اسی مفسد گروہ کے ساتھ چلے گئے اور انہی کے ساتھ مل کر اعتراض کرنے شروع کر دئیے۔

صحابہؓ میں سے اگر کوئی شخص اس مفسد گروہ کے پھندے میں پھنسا ہؤا یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے تو وہ صرف عمار بن یاسر ہیں۔ ان کے سوا کوئی معروف صحابیؓ اس حرکت میں شامل نہیں ہؤا اور اگر کسی کی شمولیت بیان کی گئی ہے تو دوسری روایات سے اس کا رد بھی ہو گیا ہے۔ عمار بن یاسر کا ان لوگوں کے دھوکے میں آ جانا ایک خاص وجہ سے تھا۔‘‘ یہ نہیں تھا کہ خدا نخواستہ ان میں منافقت تھی بلکہ وجہ اَور تھی ’’اور وہ یہ کہ جب وہ مصر پہنچے تو وہاں پہنچتے ہی بظاہر ثقہ نظر آنے والے اور نہایت طرّار و لسّان لوگوں کی ایک جماعت ان کو ملی جس نے نہایت عمدگی سے ان کے پاس والیٔ مصر کی شکایات بیان کرنی شروع کیں۔ اتفاقاً والی مصر ایک ایسا شخص تھا جو کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت مخالف رہ چکا تھا اور اس کی نسبت آپؐ نے فتح مکہ کے وقت حکم دیا تھا کہ خواہ خانہ کعبہ ہی میں کیوں نہ ملے اسے قتل کر دیا جائے اور گو بعد میں آپ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ’’نے اسے معاف کر دیا مگر اس کی پہلی مخالفت کا بعض صحابہؓ کے دل پر جن میں عمار بھی شامل تھے اثر باقی تھا۔ پس ایسے شخص کے خلاف باتیں سن کر عمار بہت جلد متأثر ہو گئے اور ان الزامات کو جو اس پر لگائے جاتے تھے صحیح تسلیم کر لیا اور احساس طبعی سے فائدہ اٹھا کر سبائی یعنی عبداللہ بن سبا کے ساتھی اس کے خلاف اس بات پر خاص زور دیتے تھے۔‘‘

(اسلام میں اختلافات کا آغاز، انوار العلوم جلد4 صفحہ280 تا 281 و 283 تا 284)

ان کے ساتھ یہ بھی مل گئے لیکن یہ بھی لکھا ہے کہ جنگ صِفِّیْن کے موقع پر حضرت عمار بن یاسرؓ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ

اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہنے والے اور مال اور اولاد کی طرف لوٹنے کی خواہش نہ رکھنے والے کہاں ہیں؟ تو آپؓ کے پاس لوگوں کی ایک جماعت آ گئی۔ حضرت عمارؓ نے اُن سے مخاطب ہو کر کہا۔ اے لوگو! ہمارے ساتھ ان لوگوں کی طرف چلو جو حضرت عثمان بن عفانؓ کے خون کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ مظلوم قتل کئے گئے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ حضرت عثمانؓ کے قتل کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان لوگوں نے دنیا کا مزہ چکھ لیا ہے،

یہاں اب ان کو سمجھ آ گئی تھی کہ فتنہ والے کتنا فتنہ پیدا کر رہے ہیں اور پھر کہا کہ اب اس سے یعنی دنیا سے یہ لوگ محبت رکھتے ہیں اور اسی کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ انہوں نے جان لیا ہے کہ حق ان کے ساتھ چمٹ گیا ہے تو وہ حق ان کے اور ان کے دنیاوی امور کے درمیان حائل ہو جائے گا اور ان لوگوں کو اسلام میں کوئی سبقت حاصل نہیں جس کے باعث یہ لوگ لوگوں کی اطاعت اور امارت کے حقدار ہوں۔ ان لوگوں کو تو کوئی سبقت حاصل نہیں ہے کہ ان کو امیر بنایا جائے صرف فتنہ پیدا کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے متبعین کو یہ کہہ کر دھوکا دیا کہ ہمارے امام مظلوم قتل کر دئیے گئے ہیں تاکہ یہ جابر بادشاہ بن جائیں اور یہ ایسی چال ہے جس کے ذریعہ وہ اس حد تک پہنچ گئے ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ اگر یہ لوگ حضرت عثمان کے قصاص کا مطالبہ نہ کرتے تو لوگوں میں سے دو افراد بھی ان کی اتباع نہیں کرتے۔

پھر آپؓ نے کہا کہ اے اللہ! اگر تُو ہماری مدد فرمائے جیسا کہ تُو کئی مرتبہ مدد فرما چکا ہے اور اگر تُو ان کو ان کے مقصد میں کامیاب کرے تو ان کے لیے اس وجہ سے کہ انہوں نے تیرے بندوں میں نئی باتیں پیدا کر دی ہیں ایک دردناک عذاب جمع رکھ۔

(تاریخ طبری جلد3 صفحہ98 دار الکتب العلمیۃ بیروت 1987ء)

محمد بن عمرو وغیرہ سے مروی ہے کہ جنگِ صِفِّین میں خوب زوروں کی جنگ ہو رہی تھی اور قریب تھا کہ دونوں فریق فنا ہو جائیں۔ معاویہ نے کہا یہ وہ دن ہے کہ جس میں عرب فنا ہو جائیں گے سوائے اس کے کہ انہیں اس غلام یعنی عمار بن یاسر کی کمزوری پہنچے۔ یعنی حضرت عَمَّار شہید کر دیے جائیں۔ تین دن اور رات شدید جنگ رہی۔ تیسرا دن ہوا تو حضرت عمارؓ نے ہاشم بن عُتْبہ بن ابی وقاص سے کہا جن کے پاس اس روز جھنڈا تھا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں مجھے ساتھ لے چلو۔ ہاشم نے کہا اے عمار! آپؓ پر خدا کی رحمت ہو۔ آپ ایسے آدمی ہیں کہ جنگ آپ کو ہلکا اورخفیف سمجھتی ہے۔ مَیں تو جھنڈا اس امید پر لے کر چلوں گا کہ اس کے ذریعہ سے میں اپنی مراد کو پہنچ جاؤں۔ اگر مَیں کمزوری دکھاؤں گا تو پھر بھی موت سے امن میں نہیں ہوں۔ وہ برابر ان کے ساتھ رہے یہاں تک کہ انہوں نے سوار کیا۔ اپنے ساتھ سوار کر لیا۔ پھر حضرت عمارؓ اپنے لشکر میں کھڑے ہوئے۔ ذُوالکَلَاع اپنے لشکر کے ساتھ ان کے مقابلے پر کھڑا ہوا۔ ان دونوں نے آپس میں جنگ کی اور قتل ہوئے۔ دونوں لشکر برباد ہو گئے۔

حضرت عمارؓ پر حوَیّ السّکْسَکِیّ اور ابو غَادِیَہ مُزَنِی نے حملہ کیا
اور ان دونوں نے آپ کو شہید کر دیا۔

اَبُوالغَادِیہ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے قتل کیسے کیا؟ تو اُس نے کہا کہ جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ ہمارے قریب ہوئے اور ہم ان کے قریب ہوئے تو انہوں نے پکارا کہ کوئی مقابلہ کرنے والا ہے۔ سکاسک یمن کے ایک قبیلہ کا نام ہے اس میں سے ایک شخص نکل کر آیا۔ دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار چلائی۔ پھر حضرت عمارؓ نے سکسکی کو قتل کر دیا۔ پھر انہوں نے پکارا کہ اب کون مقابلہ کرنا چاہتا ہے؟ حمیر یمن کے ایک قبیلہ کا نام، اس میں سے بھی ایک شخص مقابلے کے لیے گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار چلا ئی۔ عمار نے حمیری کو قتل کر دیا۔ حمیری نے ان کو زخمی کر دیا تھا۔ پھر انہوں نے پکارا کہ اَور کون مقابلہ کرنا چاہتا ہے؟ میں ان کی طرف نکلا۔ یعنی کہتا ہے غلام اور ہم دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار چلائی۔ ان کا ہاتھ کمزور ہو چکا تھا۔ میں نے ان پر خوب زور سے دوسرا وار کیا جس سے وہ گر پڑے۔ پھر میں نے ان پر تلوار سے ایسی ضرب لگائی کہ وہ ٹھنڈے ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمارؓ کو شہید کیا گیا تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے جو شخص حضرت عمار بن یاسر کی شہادت کو غیرمعمولی خیال نہیںکرتا اور اسے اس سے رنج نہیں وہ ضرور غیر ہدایت یافتہ ہے۔

عمار پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو جس دن وہ اسلام لائے اور اللہ عمار پر رحم کرے جب چار اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا تھا تو یہ چوتھے ہوتے تھے اور پانچ کے ذکر میں یہ پانچویں ہوتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدیم اصحاب میں سے تھے۔ کسی ایک یا دو کو بھی اس میں شک نہ تھا کہ عمار کے لیے بہت سے موقعوں پر جنت واجب ہوئی۔ پس عمار کو جنت مبارک ہو اور ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ عمار حق کے ساتھ اور حق عمار کے ساتھ ہے۔ عمار جہاں کہیں بھی جائیں گے حق کے ساتھ ہی جائیں گے اور عمار کا قاتل آگ میں ہے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد3 صفحہ۱۹۸،۱۹۷، دارالکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

سعید بن عبدالرحمٰن اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمربن خطابؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جُنبی ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا۔ تو حضرت عمار بن یاسرؓ نے حضرت عمر بن خطابؓ سے کہا۔ کیا آپؓ کو یاد نہیں کہ ہم یعنی میں اور آپ ایک سفر میں تھے۔ آپؓ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں تو مٹی میں جانوروں کی طرح لوٹا اور نماز پڑھ لی۔ گویا پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کیا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو صرف اس طرح کافی تھا اور آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے۔ پھر ان پر پھونکا اور اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔

(صحیح بخاری کتاب التیمم باب التیمم ھل ینفخ فیھا حدیث نمبر 338)

ابووائل کہتے ہیں کہ حضرت عمارؓ نے ہمیں خطبہ دیا اور مختصر دیا اور بلیغ کلام کیا۔ جب وہ منبر سے نیچے اترے تو ہم نے کہا اے اَبُو یَقْظَان! آپؓ نے بہت بلیغ کلام کیا ہے لیکن مختصر کیا ہے۔ آپؓ نے اسے لمبا کیوں نہ کیا تو انہوں نے کہا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی کی لمبی نماز اور مختصر خطبہ اس کی عقلمندی کی نشانی ہے۔ پس نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر کرو اور یقینا ًبعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔

(صحیح مسلم کتاب الجمعۃ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ حدیث نمبر 2009)

حسّان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنی داڑھی میں خلال کیا۔ یعنی انگلیاں داڑھی پہ پھیریں۔ اُن سے کہا گیا یا راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ

میں داڑھی کا خلال کیوں نہ کروں جبکہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔

(جامع ترمذی ابواب الطہارة حدیث نمبر 29)

عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا۔ دُور ہٹ مردود بدتر۔ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی کو اذیّت پہنچا رہا ہے۔

(جامع ترمذی ابواب المناقب عن رسول اللّٰہ ﷺحدیث نمبر 3888)

تو یہ تھے کچھ ذکر۔ باقی جورہ گئے ہیں وہ ان شاء اللّٰہ آئندہ ہوں گے۔

ایک افسوس ناک خبر

بھی ہے۔ برکینا فاسو میں ہمارے نو احمدی پرسوں شہید کر دیے گئے۔ بڑا افسوس ناک واقعہ ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ اور بڑے ظالمانہ طریقے سے ان کو شہید کیا گیا لیکن

ان کے ایمان کا امتحان بھی تھا اور جس پر وہ ثابت قدم رہے۔

یہ نہیں کہ اندھا دھند فائرنگ کر کے بلکہ ہر ایک کو بلا بلا کر شہید کیا ہے لیکن بہرحال اس کی تفصیلات کچھ آئی ہیں، کچھ آ رہی ہیں۔ اس لیے مَیں ان شاء اللّٰہ ان کا تفصیلی ذکر اگلے جمعہ میں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے رحم کا سلوک فرمائے۔ ان سب کے درجات بلند کرے۔ دعا بھی کرتے رہیں۔ وہاں کے حالات ابھی بھی ٹھیک نہیں۔ جو دہشت گرد آئے تھے وہ دھمکی دے کے گئے ہیں کہ اگر دوبارہ مسجد کھولی تو ہم دوبارہ آئیں گے اور حملہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ وہاں کے احمدیوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ بہرحال تفصیلی ذکر ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ ہفتہ کروں گا۔

(الفضل انٹرنیشنل 3؍فروری 2023ء صفحہ 5 تا 11)

پچھلا پڑھیں

ایک تصحیح

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 فروری 2023