• 19 اپریل, 2021

جب کہ تُو قادر خدا ہے مالکِ ارض و سماء

جب کہ تُو قادر خدا ہے مالکِ ارض و سماء
ذہن و دل پر بھی تصرّف تو دکھا سکتا ہے تُو
کون سا عُقدہ ہے جو وا ہو نہ تیرے ہاتھ سے
کیسی ہی بگڑی ہو میری جاں بنا سکتا ہے تُو
الاماں یہ تیرگی اور ہیچ میری کاوشیں
ٹمٹماتا سا دیا سورج بنا سکتا ہے تُو
کیسا ہی سرکش ہو جس کے دل پہ ہوں تا لے پڑے
تجھ کو قدرت ہے کہ اس کو بھی سنا سکتا ہے تُو
آج جیشِ ابرہہ پھر برسرِ پیکار ہے
پر یقیں ہے پھر سے کعبہ کو بچا سکتا ہے تُو
ہر طرف ڈالے ہیں ڈیرے لشکرِ طاغوت نے
اس کے ہر اک مکر کو بے شک مٹا سکتا ہے تُو
شعلہ ہیں جن کی زبانیں اور سراپا آگ ہیں
اس جہاں سے راکھ بھی ان کی اڑا سکتا ہے تُو
جس سے چاہے تختِ شاہی چھین لے اک آن میں
جس کو چاہے تختِ شاہی پر بٹھا سکتا ہے تُو
دے نویدِ زندگی مجھ کو مرے قادر خدا
ایک حرفِ کن سے مردوں کو جِلا سکتا ہے تُو
درد و غم، یاس و الم کی دھند سے دے کر نجات
عافیت سے پُر ہوا ہم پر چلا سکتا ہے تُو
جو صدا نہ چار دیواری سے باہر جا سکے
تُو جو چاہے سارے عالم کو سنا سکتا ہے تُو

(ا۔ر۔ بدر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مارچ 2021