• 18 اپریل, 2021

علوم جدیدہ کی تحصیل

مَیں ان مولویوں کو غلطی پر جانتا ہوں جو علوم جدیدہ کی تعلیم کے مخالف ہیں۔ وہ دراصل اپنی غلطی اور کمزوری کو چھپانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ اُن کے ذہن میںیہ بات سمائی ہوئی ہے کہ علوم جدیدہ کی تحقیقات اسلام سے بدظن اور گمراہ کر دیتی ہے اور وہ یہ قرار دیئے بیٹھے ہیں کہ گویا عقل اور سائنس اسلام سے بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ چونکہ خود فلسفہ کی کمزوریوں کو ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے یہ بات تراشتے ہیں کہ علوم جدیدہ کا پڑھنا ہی جائز نہیں۔ اُن کی رُوح فلسفہ سے کانپتی ہے اور نئی تحقیقات کے سامنے سجدہ کرتی ہے۔ مگر وہ سچا فلسفہ اُن کو نہیں ملا جو الہام الٰہی سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے وہ ان کو اور صرف اُنہی کو دیا جاتا ہے جو نہایت تذلّل اور نیستی سے اپنے تئیں اور اللہ تعالیٰ کے دروازے پر پھینک دیتے ہیں۔ جن کے دل اور دماغ سے متکبّرانہ خیالات کا تعفّن نکل جاتا ہے اور جو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے گِڑگڑا کر سچی عبودیت کا اقرار کرتے ہیں۔

علوم جدیدہ کو اسلام کے تابع کریں

پس ضرورت ہے کہ آج کل دین کی خدمت اور اعلائے کلمتہ اللہ کی غرض سے علوم جدیدہ حاصل کرو اور بڑے جدوجہد سے حاصل کرو۔ لیکن مجھے یہ بھی تجربہ ہے جو بطور انتباہ بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ ان علوم ہی میں یکطرفہ پڑ گئے اور ایسے محو اور منہمک ہوئے کہ کسی اہل دل اور اہل ذکر کے پاس بیٹھنے کا ان کو موقعہ نہ ملا اور خود اپنے اندر الٰہی نور نہ رکھتے تھے وہ عموماً ٹھوکر کھا گئے اور اسلام سے دُور جا پڑے۔اور بجائے اس کے کہ ان علوم کو اسلام کے تابع کرتے اْلٹا اسلام کو علوم کے ماتحت کرنے کی بےسود کوشش کر کے اپنے زعم میں دینی اور قومی خدمات کے متکفّل بن گئے۔ مگر یاد رکھو کہ یہ کام وہی کر سکتا ہے یعنی دینی خدمات وہی بجا لا سکتا ہے جو آسمانی روشنی اپنے اندر رکھتا ہو۔

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ43۔ ایڈیشن 1988)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اپریل 2021