• 19 اپریل, 2021

امتحان میں پاس ہونے کے گُر

تبرکات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب

اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ طالب علم محنت کر کے امتحان کیلئے مقررہ کتابیں تو تیار کر لیتے ہیں لیکن امتحان دینے کے طریق اور فن کو نہیں جانتے۔ اس کی وجہ سے بہت سے طالب علم باوجود تیاری کے امتحانوں میں فیل ہو جاتے ہیں۔ یا کم از کم اتنے نمبر حاصل نہیں کر سکتے جو انہیں تیاری کے لحاظ سے حاصل کرنے چاہئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امتحان پاس کرنا یا امتحان میں اعلیٰ نمبر لینا صرف علمی تیاری پر ہی منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے لئے چند زائد باتیں بھی درکار ہیں جن کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ دراصل جو باتیں امتحان پاس کرنے یا اعلیٰ نمبر حاصل کرنے میں ممد و معاون ہیں ان میں سے بعض کے لحاظ سے امتحان دینے والے کی مثال ایک دکان دار کی سی ہے۔ اگر ایک دکان دار کے پاس مال تو بہت ہے لیکن اس نے اپنے مال کو دوکان میں کسی اچھی ترتیب سے نہیں رکھا اور نہ ہی اس کی صفائی کا خیال کیا ہے بلکہ اس کا مال ایک انبار کی صورت میں بے ترتیبی اور ابتری کے ساتھ گردو غبار کے ساتھ ڈھکا ہوا ادھر اُدھر پڑا ہے تو ایسا مال کبھی بھی خریدار کو خوش کرنے اور دکان میں کشش پیدا کرنے کا باعث نہیں ہو گا۔ لیکن اگر خواہ مال تھوڑا ہو مگر وہ ایک ترتیب کے ساتھ سجا کر دکان میں رکھا جائے اور ہر چیز صاف اور ستھری صورت میں رکھی ہو تو باوجود وہ مال کے کم ہونے کے ایسی دکان گاہک کی خوشی اور کشش کا باعث ہو گی۔

اسی طرح امتحان دینے والے طالب علم کا حال ہے اگر ایک امیدوار نے اپنے پرچے میں علم تو بہت بھر دیا ہے لیکن اس کے جوابات کا انداز ٹھیک نہیں، پرچے میں کوئی مؤثر ترتیب نہیں، صفائی کا خیال نہیں، خط خراب ہے، سطریں ٹیڑھی ہیں، حاشیہ اچھا نہیں چھوڑا گیا اور دوسری ضروری باتوں کا خیال نہیں رکھا گیا تو باوجود اس کے کہ ایسے پرچے میں بہت کچھ علم ٹھونس دیا گیا ہو تو وہ ممتحن کے دل پر اچھا اثر نہیں پیدا کرے گا۔ لیکن دوسری طرف اگر ایک طالب علم کے جوابوں کا انداز اچھا ہے اس نے ترتیب کا خیال رکھا ہے، صفائی کی طرف توجہ دی ہے، اور خط صاف ہے اور سطریں سیدھی لکھی ہیں، حاشیہ اچھا چھوڑا ہے اور دوسری ضروری باتوں کا بھی خیال رکھا ہے تو باوجود علم کی کمی کے ممتحن اس کے پرچے کو دیکھ کر خوشی محسوس کرے گا۔

خلاصہ یہ کہ گو اصل چیز تو علم ہی ہے اور امتحان پاس کرنے کے لئے طالب علموں کے واسطے سب سے ضروری چیز علمی تیاری ہے لیکن وہ زائد باتیں جن سے امتحان پاس کرنے اور اچھے نمبر حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اور ان سے ممتحن کی طبیعت پر اچھا اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ انہیں بھی ضرور مدنظر رکھنا چاہئے۔ تجربہ کاروں کا اندازہ ہے کہ امتحانات میں اگر 75 فیصد علمی تیاری کا اثر ہوتا ہے تو 25 فیصدی ان زائد باتوں کا بھی ضرور اثر ہوتا ہے۔ اس لئے کسی سمجھدار طالب علم کو ان کی طرف سے غفلت نہیں برتنی چاہئے۔ اس مختصر نوٹ کے بعد ذیل میں وہ باتیں درج کی جاتی ہیں۔ جو گویا امتحان پاس کرنے کے لئے بطور گر کے ہیں اور امیدواروں کو چاہئے کہ انہیںمدنظر رکھ کر فائدہ اٹھائیں۔

(1) طالب علموں کو چاہئے کہ اخلاقی اور دینی لحاظ سے اپنے آپ کو بہت اچھی حالت میں رکھیں اور کسی ایسی بات کی طرف قطعاً توجہ نہ دیں۔ جو ان کے اخلاق یا دین پر کسی طرح برا اثر ڈالنے والی ہو اور نیکی پر قائم رہتے ہوئے خدا سے دعائیں کرتے رہیں کہ وہ ان کا معین و مددگار ہو۔ امتحان کے کمرہ میں جا کر بھی پرچہ شروع کرنے سے پہلے ضرور دعا کر لیا کریں۔ دعا کرنے سے خدائی مدد کے علاوہ انسان کے دل میں تقویت اور امید پیدا ہوتی ہے اور کم ہمتی اور مایوسی پاس نہیں آتی۔

(2) امتحان کے قریب اور امتحان کے دنوں میں طالب علموں کو چاہئے کہ اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ کچھ نہ کچھ وقت ورزش اور تفریح کے لئے ضرور نکالیں۔ اور نیند کو اتنا کم نہ کریں کہ وہ صحت یا دماغی حالت پر خراب اثر ڈالے۔ امتحان کے دنوں میں طالب علموں کو خصوصاً اپنی پوری نیند سونا چاہئے تاکہ امتحان کے کمرہ میں بے خوابی کی وجہ سے سردرد یا سستی یا تھکان یا نیند وغیرہ کا غلبہ نہ پیدا ہو۔ اور دماغ پوری طرح صاف اور ہوشیار رہے۔ اسی طرح یہ ضروری ہے کہ امتحان کے دنوں میں اپنی خوراک کو بہت ہلکا رکھا جائے اور کوئی ثقیل غذا یا دیر سے ہضم ہونے والی چیز ہرگز استعمال نہ کی جائے اور معدہ کو ایسی حالت میں رکھنا چاہئے کہ نہ تو اسہال کی صورت کہ امتحان کے کمرہ میں ہی رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہونے لگے۔ اور نہ ہی قبض کی صورت ہو جو گرانی اور سردرد وغیرہ کا باعث ہوتی ہے غرض امتحان کے دنوں میں ہر طرح اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہئے اور جن طالب علموں کو اس سے کسی تکلیف کا اندیشہ نہ ہو۔ انہیں چاہئے کہ امتحان کے ایام میں صبح اٹھ کر غسل بھی کر لیا کریں کیونکہ نہانے سے بدن میں چستی اور نشاط کی حالت پیدا ہوتی ہے۔

(3) یونیورسٹی کی طرف سے جو رول نمبر ہر امیدوار کو ملتا ہے اسے حفاظت کے ساتھ اپنے پاس رکھیں اور اس پر جو ہدایت درج ہوں انہیں اچھی طرح پڑھ کر سمجھ لیں اور ان پر عمل کریں اور امتحان میں جاتے وقت رول نمبر کا پرچہ اپنے ساتھ لیتے جاویں۔

(4) اگر ممکن ہو تو امتحان سے ایک دن پہلے یا کم از کم کچھ وقت پہلے امتحان کے کمرہ میں جا کر اپنی سیٹ کو دیکھ لینا چاہئے تاکہ عین وقت پر تلاش کرنے سے طبیعت میں گھبراہٹ نہ پیدا ہو۔ نیز اگر سیٹ میں کسی قسم کا نقص ہو تو افسر کو بروقت توجہ دلا کر اس کی اصلاح کی جا سکے۔

(5) ہمیشہ وقت مقررہ سے کچھ وقت پہلے امتحان کے کمرہ میں پہنچ جانا چاہئے اور امتحان کے دنوں میں حتی الوسع اپنے پاس گھڑی رکھنی چاہئے تاکہ وقت کا اندازہ رہے۔ دیر کر کے پہنچنے سے بعض اوقات امتحان سے رہ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور بہرحال وقت کا ضائع جانا اور گھبراہٹ کا پیدا ہونا تو یقینی ہے۔

(6) امتحان کے کمرہ میں داخل ہونے سے پہلے اپنی جیبوں وغیرہ کو اچھی طرح دیکھ کر اس بات کا اطمینان کر لینا چاہئے کہ کوئی کتاب یا نوٹ بک یا کاپی یا امتحان کے مضمون سے تعلق رکھنے والا کوئی کاغذ تمہارے پاس نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسی چیز تمہارے پاس ہو تو اسے باہر ہی چھوڑ آنا چاہئے۔ یا امتحان کے سپرنٹنڈنٹ یا سپروائزر کے پاس رکھ دینا چاہئے بعض اوقات غلطی سے کوئی قابل اعتراض چیز ساتھ چلی جاتی ہے اور پھر افسران کے نوٹس میں آنے پر امیدوار مجرم قرار پاتا ہے۔

(7) ہر امیدوار کو چاہئے کہ امتحان کیلئے جن چیزوں کا انتظام امیدوار پر چھوڑا گیا ہے وہ اچھی صورت میں مہیا کر کے امتحان کے کمرہ میں اپنے ساتھ لیتے جاویں عموماً دو عمدہ ہولڈر، ایک سیسہ کی پنسل، ایک سرخ اور نیلی پنسل، ایک چاقو اور ربڑ کا ٹکڑا، اور سامانِ نتھی اپنے ساتھ لے جانا چاہئے ان کے علاوہ اگر کسی طالب علم کو اپنی عادت کے مطابق کسی اور چیز کی ضرورت محسوس ہو اور قواعد کی رو سے اس کا ساتھ لے جانا منع نہ ہو تو وہ بھی ساتھ رکھی جا سکتی ہے۔ ہولڈروں کے نب ایسے ہونے چاہئیں جو پہلے سے کسی قدر استعمال کر کے رواں کر لئے جائیں نیز ڈرائینگ، جیومیٹری، سائنس، جغرافیہ، تاریخ وغیرہ کے پرچوں میں طالب علموں کو چاہئے کہ اپنے ساتھ نقشہ کشی کا ضروری سامان لیتے جائیں اور جملہ شکلیں اور نقشے پوری احتیاط اور صفائی کے ساتھ تیار کریں۔ سلائی اور سوزنی وغیرہ کے عملی امتحانوں میں بھی ضروری سامان ساتھ رکھنا چاہئے۔

(8) دوران امتحان میں اگر کسی طالب علم کو کسی چیز کی ضرورت پیش آئے تو اسے چاہئے کہ اپنی جگہ کھڑا ہو کر منتظمین سے اپنی ضرورت بیان کر کے اپنی مطلوبہ چیز حاصل کر لے۔ کسی صورت میں امتحان کے وقت کسی دوسرے امیدوار کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرنی چاہئے۔

(9) بعض امیدوار امتحان کے کمرہ میں جا کر اور سوپروائزروں اور ممتحنوں کے اجنبی چہروں کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔ جس کا اثر لازماً ان کے امتحان پر پڑتا ہے۔ یہ گھبراہٹ دراصل اعصابی کمزوری یا اجنبیت یا بزدلی کا نتیجہ ہوتی ہے مگر کوشش سے دور کی جا سکتی ہے۔ طالب علموں کو چاہئے کہ پورے عزم کے ساتھ اس قسم کی گھبراہٹ کا مقابلہ کیا کریں اور اسے کبھی بھی اپنے دل پر غالب نہ ہونے دیں۔ بلکہ اپنے اندر جرأت اور خود اعتمادی پیدا کریں۔ اور یقین رکھیں کہ وہ لوگ جو ان کے سامنے ہیں وہ ان کے دوست ہیں نہ کہ دشمن۔ اگر بالفرض وہ دشمن بھی ہیں تو ایسے دشمن ہیں جو مفتوح ہونے کے لئے ان کے سامنے لائے گئے ہیں۔

(10) جو کاپیاں جواب کیلئے دی جاتی ہیں انہیں جوابات شروع کرنے سے پہلے دیکھ لینا چاہئے کہ وہ پھٹی ہوئی اور خراب نہ ہوں اگر وہ خراب ہوں تو انہیں اسی وقت بدلوا لینا چاہئے اور کاپی کے اوپر جو ہدایات لکھی ہوئی ہوں ان کو اچھی طرح پڑھ کر سمجھ لینا چاہئے۔ اور ان کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ کاپی میں جو جگہ رول نمبر اور مضمون وغیرہ درج کرنے کیلئے مقرر ہے اس میں شروع میں ہی ضروری اندراجات کر لینے چاہئیں اور کاپیاں واپس دینے سے پہلے انہیں آپس میں اچھی طرح نتھی کر لینا چاہئے۔

جب سوالات کا پرچہ تقسیم کیا جائے تو اسے دعا کرنے کے بعد پڑھنا چاہئے۔ اور جواب شروع کرنے سے پہلے سوالات کا سارا پرچہ احتیاط سے پڑھ لینا چاہئے۔ اور پرچے کے شروع یا آخر یا درمیان میں اگر کوئی ہدایات درج ہوں تو انہیں بھی احتیاط کے ساتھ دیکھ لینا چاہئے۔ بعض اوقات یہ ہدایت درج ہوتی ہے کہ اتنے سوالوں میں سے صرف اتنے کرو یا یہ کہ سوالات کے فلاں فلاں حصوں کے جوابات الگ الگ کاپیوں میں لکھو وغیرہ وغیرہ۔ مگر بعض اوقات طالب علم ان ہدایات کو اچھی طرح نہیں پڑھتے اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سوالات کے پرچے میں ایک صفحہ ختم کر کے دوسری طرف بھی سوالات لکھے ہوئے ہوتے ہیں مگر طالب علم غلطی سے صفحہ الٹا کر نہیں دیکھتے۔ اور جو سوالات پہلے صفحہ پر درج ہوتے ہیں انہی کے جواب لکھ کر امتحان سے اٹھ آتے ہیں۔ جس کا نتیجہ ظاہر ہے۔ پس امیدواروں کو چاہئے کہ پرچہ سوالات کو الٹ پلٹ کر اچھی طرح تسلی کر لیا کریں کہ کوئی سوال رہ تو نہیں گیا۔

(12) اگر سوالات کا پرچہ دیکھنے سے تمہیں وہ مشکل معلوم ہو اور تم سمجھو کہ تم اسے حل نہیں کر سکتے تو پھر بھی ہرگز نہ گھبراؤ کیونکہ گھبرانے سے مشکل میں زیادتی ہو گی نہ کہ کمی۔ اور دماغ اور بھی پریشان ہو جائے گا۔ بلکہ چاہئے کہ کوشش کر کے اپنی حالت میں سکون اور اطمینان کی حالت پیدا کرو اور پھر دوبارہ سہ بارہ پرچہ کو غور سے دیکھو اور اسے سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنی طبیعت کو اس طرف لگاؤ کہ تم کوشش کر کے پرچے کو یقینا حل کر سکو گے۔ اس طرح تمہاری گھبراہٹ دور ہو گی اور جو پرچہ شروع میں مشکل نظر آتا ہے وہ سب کا سب یا اس کے بہت سے حصے تمہارے لئے آ سان ہو جائیں گے۔ کسی پرچہ کے متعلق یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ایسا مشکل ہے کہ تم اسے حل نہیں کر سکتے۔ بلکہ دلیری اور جرات کے ساتھ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ تم اگر کوشش کرو گے تو خدا کی مدد سے پرچے کو آسانی کے ساتھ حل کر سکو گے۔ یہ خیال تمہارے اندر ایک غیر معمولی ہمت پیدا کر دے گا اور تمہارے دماغ کی بند کھڑکیاں کھل جائیں گی۔ اور تم دیکھو گے کہ جو چیز مشکل نظر آتی تھی وہ اب آسان ہو گئی ہے۔ اگر زیادہ گھبراہٹ ہو تو دوچار منٹ کیلئے پرچے کو ہاتھ سے رکھ دو اور آ نکھیں بند کر کے خدا سے دعا کرو کہ وہ تمہیں سکون اور ہمت عطا کرے۔ اور جب دل ذرا ٹھہر جائے تو پھر دوبارہ پرچے کو اٹھا کر اس نیت سے پڑھو کہ اس دفعہ وہ تمہارے لئے مشکل نہیں رہے گا۔ غرض ہر جہت سے اپنی طبیعت میں اطمینان اور ہمت اور امید کو قائم رکھو اور گھبراہٹ کو اپنے پاس تک نہ پھٹکنے دو۔

(13) امتحان کے لئے تیاری کرتے ہوئے اور امتحان دیتے وقت کبھی یہ خیال نہ کرو کہ تم نے صرف امتحان پاس کرنا ہے اور بس۔ بلکہ یہ نیت رکھو کہ تم نے اعلیٰ نمبروں پر امتحان پاس کرنا ہے۔ اس سے تمہاری ہمت میں بلندی پیدا ہو گی اور تمہارے جوابوں کا معیار اونچا ہو جائے گا۔ امتحان کے کمرے میں آخر وقت تک یہ کوشش جاری رکھو کہ تمہارے جوابات کے وہ حصے جو بہتر بنائے جا سکیں وہ اپنی انتہائی حد تک بہتر بنا دیئے جائیں تاکہ تم زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کر سکو۔ نیت کا اثر انسان کے اعمال پر پڑتا ہے۔ جو طالب علم صرف پاس ہونے کی نیت رکھتا ہے وہ کبھی بھی اچھے نمبر نہیں لے سکتا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا طالب علم فیل ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی ذرا سی غلطی اسے اس کے معیار سے نیچے گرا دیتی ہے۔ لیکن جو امیدوار اعلیٰ نمبر لینے کا ارادہ رکھتا ہے اور اسی نیت سے اپنے جوابات لکھتا ہے وہ اگر کسی نقص کی وجہ سے اعلیٰ نمبر نہیں بھی لے سکتا تو کم از کم پاس ضرور ہو جاتا ہے۔ پس پرچہ کرتے وقت ہمیشہ یہ نیت رکھو اور اسی کے مطابق کوشش کرو۔ کہ تم نے زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے ہیں۔

(14) جوابات کاپی کے صرف ایک طرف لکھنے چاہئیں اور دوسری طرف کو خالی چھوڑ دینا چاہئے۔ البتہ دوسری طرف سیسہ کی پنسل سے رف کام کیا جا سکتا ہے جو بعد میں پنسل سے چرفی کا نشان دے کر کاٹ دینا چاہئے۔ کاپی کے سیدھے طرف کافی حاشیہ چھوڑنا چاہئے جو کسی صورت میں صفحہ کی چوڑائی کے چہارم حصہ سے کم نہیں ہونا چاہئے۔ اسی طرح ہر صفحہ کے اوپر اور نیچے کچھ جگہ خالی چھوڑ دینی چاہئے اور بالکل کنارے تک صفحہ کو نہیںبھر دینا چاہئے۔ اچھا حاشیہ چھوڑنے اور اوپر اور نیچے جگہ خالی رکھنے سے تمہاری تحریر بہت خوبصورت نظر آئے گی اور ممتحن کے دل پر اچھا اثر پڑے گا۔

(15) جوابات دینے میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اسی ترتیب کو مدنظر رکھا جائے جو سوالات کے پرچے میں رکھی گئی ہے۔ بلکہ یہ ضروری ہے کہ پہلے ان سوالات کو کیا جائے جو امیدوار کو اچھی طرح آتے ہوں۔ البتہ جو سوال کیا جائے اس کے مقابل پر حاشیہ میں اس سوال کا نمبر درج کر دینا چاہئے۔ مگر بہرحال پہلے وہ سوال کرنے چاہئیں جو طالب علم کو اچھی طرح آتے ہوں۔ اس طرح ایک تو شروع میں ہی ممتحن کے دل پر اچھا اثر پڑے گا اور گویا تمہاری دکان کا ماتھا سج جائے گا اور دوسرے ابتداء میں ہی مشکل سوال میں پڑ جانے سے طالب علم کا قیمتی وقت ضائع نہیں ہو گا اور نہ ہی طبیعت میں گھبراہٹ پیدا ہو گی۔ ورنہ بعض اوقات شروع میں ہی مشکل سوالوں کو ہاتھ ڈال دینے سے اور پھر ان کو اچھی طرح حل نہ کر سکنے سے امیدوار ایسا گھبرا جاتا ہے کہ جو سوال اسے اچھی طرح آتے ہیں وہ بھی غلط ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ پس یہ نہایت ضروری ہے کہ سب سے پہلے ان سوالوں کو کیا جائے جو آسان ہوں اور طالب علم آسانی کے ساتھ ان کا جواب دے سکتا ہو۔ البتہ جب ایسے سوالات کر لئے جائیں تو پھر بقیہ سوالات کی طرف توجہ دے کر انہیں بھی حتی الوسع کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر وقت ہو تو کسی سوال کو بھی مشکل سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا چاہئے۔ بسا اوقات ایک سوال جو شروع میں مشکل نظر آتا ہے وہ سوچنے اور غور کرنے سے آسان ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایک سوال سارا نہ آتا ہو تو جتنا آتا ہو اتنا ہی کر دینا چاہئے۔ لیکن بہرحال پہلے ان سوالوں کو کرنا چاہئے جو اچھی طرح آتے ہوں۔

(16) ہر سوال کا جواب شروع کرنے سے پہلے سوال کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا اصل منشاء کیا ہے اور طالب علم سے کیا پوچھا گیا ہے۔ بعض اوقات طالب علم بغیر سوال کو اچھی طرح سمجھنے کے اس کا جواب دینا شروع کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سوال کچھ اور ہوتا ہے اور جواب کچھ اور۔ بغیر سوال کو سمجھنے کے کبھی جواب دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

(17) حتی الوسع ایک صفحہ پر ایک ہی سوال کرنا چاہئے اور اگر کسی سوال کا جواب اس قدر مختصر ہو کہ وہ صفحہ کی تھوڑی سی جگہ لے کر ختم ہو جائے تو صفحہ کے نیچے یا کونے میں سرخ یا نیلی پنسل سے نمایاں کر کے ’’پی۔ ٹی۔ او ’’یا‘‘ آگے دیکھیں‘‘ کے الفاظ لکھ دینے چاہئیں تاکہ ممتحن اسی جگہ پرچہ کو ختم نہ سمجھ لے۔

(18) جواب لکھتے ہوئے سوال کی عبارت کو درج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف حاشیہ میں سوال کا نمبر درج کر دینا کافی ہوتا ہے۔ اگر ایک سوال کے کئی حصے ہوں تو حاشیہ میں حصہ کا نمبر بھی درج کر دینا چاہئے۔ سوال کی عبارت کو جواب کے ساتھ درج کرنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اس سے مفت میں طالب علم کا وقت ضائع ہوتا ہے اور یہ طرز دیکھنے میں بھی کچھ اچھی نہیں لگتی۔ البتہ اگر کوئی سوال ایسا ہو کہ کسی وجہ سے اسے جواب میں دہرانا ضروری ہو تو پھر اسے درج کرنا چاہئے۔

(19) سوالات کا جواب بالعموم مختصر اور ضروری حد تک محدود رہنا چاہئے۔ سوائے اس کے کسی سوال کا جواب تفصیل اور تشریح کے ساتھ دیا جانا ضروری ہو۔ غیر متعلق باتیں لکھنا اور فضول طور پر جواب کو لمبا کر دینا وقت کو ضائع کرتا اور ممتحن کے دل پر بُرا اثر پیدا کرتا ہے۔

(20) بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ امیدوار کسی سوال کا جواب معین طور پر نہیں دے سکتا لیکن صحیح جواب سے ملتا جلتا جواب دے سکتا ہے اور جو بات پوچھی گئی ہے اس کا ایک مبہم اور منتشر مگر اصولی طور پر درست جواب اس کے ذہن میں ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں امیدوار کو اس سوال سے ڈر کر اسے ترک نہیں کر دینا چاہئے بلکہ جس حد تک بھی وہ جواب دے سکتا ہے اسے درج کر دینا چاہئے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ ایسا سوال پرچہ کے آخر میں درج کیا جائے۔ اسی طرح بعض اوقات ترجمہ وغیرہ میں امیدوار کو کسی لفظ یا عبارت کا صحیح ترجمہ یاد نہیں ہوتا یا نہیں آتا مگر سیاق و سباق سے وہ اس کا مفہوم سمجھ لیتا ہے۔ ایسی صورت میں بھی اس حصہ کو چھوڑ نہیں دینا چاہئے بلکہ ایسے لفظ یا عبارت کے مفہوم کو اپنے لفظوں میں ادا کر دینا چاہئے۔ مگر یہ بات ایسے رنگ میں ہرگز نہیں ہونی چاہئے کہ ممتحن کو یہ خیال پیدا ہو کہ گویا اسے دھوکہ دیا جا رہا ہے۔

(21) جوابات میں حتی الوسع صاف اور سلیس اور شستہ عبارت لکھنی چاہئے اور مشکل اور غیر معروف الفاظ اور پیچدار فقرات سے حتی الوسع پرہیز کرنا چاہئے۔ سادہ الفاظ مشکل الفاظ کی نسبت بہت زیادہ بہتر ہوتے ہیں اور ان میں غلطی کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔ جو امیدوار مشکل اور غیر معروف الفاظ اور پیچدار بندشوں کے عادی ہوتے ہیں ان کی تحریر میں یقیناً دوسروں کی نسبت بہت زیادہ غلطیاں ہوتی ہیں اور ایک سمجھدار ممتحن کبھی بھی ایسی تحریر کو صاف اور شستہ تحریر پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ البتہ جن امیدواروں کو زبان پر کسی حد تک قدرت حاصل ہو ان کے لئے حسب موقع اور حسب ضرورت اپنی تحریر میں زور اور بلندی پیدا کرنے کے لئے مناسب طریق اختیار کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ مگر یہ ہر ایک کا کام نہیں ہے اور مبتدیوں کو بہرحال اس کوشش سے پرہیز کرنا چاہئے۔

(22) جواب دینے میں اس بات کو خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ہر سوال کی اہمیت اور اس کے نمبروں کے مطابق اسے وقت دیا جائے اور ایسا نہ ہو کہ تھوڑے تھوڑے نمبروں والے سوالات پر لمبے لمبے اور غیر ضروری جوابات لکھ کر وقت کو ضائع کیا جائے۔ بلکہ ہر سوال کی اہمیت کے لحاظ سے اسے وقت دینا چاہئے۔ اکثر طالب علم پرچہ کے لمبا ہونے اور وقت کے کم ہونے کی شکایت کیا کرتے ہیں۔ اور بعض اوقات یہ شکایت درست بھی ہوتی ہے لیکن اکثر صورتوں میں امیدواروں ہی کی غلطی ہوتی ہے کہ وہ مختلف سوالات کی اہمیت کا اندازہ نہیں کرتے اور غیر ضروری اور لاتعلق باتوں میں پڑ کر اپنے جوابات کو فضول طور پر لمبا کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اگر ہر سوال کی اہمیت کا اندازہ کر کے وقت کو تقسیم کیا جائے تو عموماً پرچہ وقت کے اندر اندر ختم کیا جا سکتا ہے۔

(23) جوابات لکھتے ہوئے پرچے کی ظاہری صفائی کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔ کیونکہ ممتحن کے دل پر اس کا بہت اثر پڑتا ہے۔ خط صاف ہو اور آسانی کے ساتھ پڑھا جائے۔ سطریں سیدھی ہوں۔ سطروں کے درمیان فاصلہ کم نہ ہو۔ پرچہ پر کسی قسم کا داغ اور دھبہ نہ پڑنے دیا جائے اور اگر کوئی حصہ کاٹا جائے تو وہ ایسے طور پر کاٹا جائے کہ پرچہ بدنما اور ناصاف نہ نظر آوے۔ پرچہ کی ظاہری خوبصورتی نہایت ہی ضروری اور اہم ہے جس کی طرف سے کبھی غفلت نہیں ہونی چاہئے۔ پرچہ کی خوبصورتی کو اس طرح بھی بڑھایا جا سکتا ہے کہ سوالوں کے نمبروں کے اوپر حاشیہ میں سرخ پنسل سے خط کھینچ دیا جائے اور اسی طرح جوابوں کے نمبروں پر اور دوسری جگہوں پر سرخ پنسل کا خط کھینچ دیا جائے۔ اس طرح پرچہ میں ایک قسم کی رنگینی اور خوبصورتی پیدا ہو جاتی ہے۔ الغرض خط کی عمدگی اور پرچے کی ظاہری صفائی اور خوبصورتی بڑی ضروری چیزیں ہیں اور ان کا پورا پورا خیال رکھنا چاہئے۔

(24) ہر سوال کا جواب ختم کرنے کے بعد اسے احتیاط کے ساتھ دہرا لینا چاہئے تاکہ کسی قسم کی غلطی نہ رہ جائے اور پھر آخر میں ایک یا دو دفعہ سارے پرچے کی مجموعی نظر ثانی بھی کر لینی چاہئے اور یہ نظرثانی پوری احتیاط سے ہونی چاہئے۔ تاکہ اگر کوئی غلطی یا نقص رہ گیا ہو تو اسے درست کیا جا سکے۔ نظر ثانی نہایت ضروری ہے حتیٰ کہ خواہ اس کی وجہ سے کوئی چھوٹا موٹا سوال ترک کرنا پڑے مگر نظرثانی بہرحال ہونی چاہئے۔ گھڑی دیکھ کر وقت کے آخر میں نظرثانی کے لئے مناسب وقت الگ کر دینا چاہے۔ جو طالب علم نظرثانی نہیں کرتے وہ سخت نقصان اٹھاتے ہیں اور کئی غلطیاں جو نظر ثانی سے نکل سکتی ہیں ان کے پرچوں میں رہ جاتی ہیں۔ نظرثانی کرتے وقت اس بات کے متعلق بھی تسلی کر لینی چاہئے کہ کوئی سوال یا اس کا کوئی حصہ جواب سے رہ نہ گیا ہو۔

(25) اکثر طالب علموں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ جلدی جلدی جوابات لکھ کر وقت سے بہت پہلے ہی کمرے سے نکل جاتے ہیں۔ یہ ایک بڑی نادانی کی بات ہے۔ آخر وقت تک بیٹھے رہنا چاہئے۔ اگر پرچہ بظاہر چھوٹا نظر آتا ہے تو یہ نہ سمجھو کہ ممتحن کا یہ منشاء ہے کہ بجائے تین گھٹنے کے صرف ڈیڑھ یا دو گھنٹے میں پرچہ ختم کر کے اٹھ جاؤ۔ بلکہ یقین رکھو کہ ممتحن تم سے زیادہ عقلمند ہے۔ اور اس نے جو سوالات دئے ہیں وہ وقت مقررہ کے مطابق دئے ہیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ اس صورت میں جوابات کو تفصیل اور تشریح کے ساتھ لکھو اور پورا وقت لے کر اٹھو۔ اور اگر شروع میں کوئی سوال مشکل سمجھ کر چھوڑ دیا تھا تو بقیہ وقت میں اسے سوچتے رہو۔ سوچنے سے عموماً مشکل سوال بھی حل ہو جاتا ہے اور اگر سارے سوالات کر بھی لئے ہوں تو پھر بھی وقت سے پہلے اٹھ جانا دانشمندی نہیں ہے۔ بلکہ اس صورت میں بار بار نظرثانی کر کے اپنے جوابات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہو تاکہ زیادہ سے زیادہ نمبر ملیں۔

(26) پرچے میں کسی طرح اپنا یا اپنے سکول کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔ اسی طرح کوئی بات ایسی نہیں لکھنی چاہئے جس سے امیدوار کی قوم اور مذہب کا پتہ چل سکے۔ بعض اوقات طالب علم زبان دانی کے پرچوں میں خط کے نیچے اپنا یا اپنے سکول کا نام لکھ دیتے ہیں۔ یا اپنے کسی ہم قوم یا ہم مذہب شخص یا دوست کو نام لے کر مخاطب کر لیتے ہیں۔ یا کسی اور طرح اپنی قومیت اور مذہب کا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ سب باتیں خلاف قاعدہ اور نقصان دہ ہیں۔

(27) امتحان میں کسی قسم کا ناجائز ذریعہ استعمال کرنا شرافت اور اخلاق اور مذہب اور قانون کے بالکل خلاف ہے۔ اور جو امیدوار ایسا کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اور اپنی قوم کو اور اپنی درسگاہ کے نام کو ایک ایسا داغ لگا دیتے ہیں جو پھر کبھی دھل نہیں سکتا۔ دیانت داری شریف انسان کا بہترین زیور ہے۔ اسے کسی غرض و غایت اور کسی قیمت پر بھی ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ ناجائز مدد دینا بھی ایسا ہی برا ہے جیسے ناجائز مدد لینا۔

(28) مندرجہ ذیل ہدایت کو گو امتحان پاس کرنے سے براہ راست تعلق نہیں ہے لیکن امیدواروں کے فائدہ کے لئے یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ کامیابی اور ناکامی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ عام حالات میں جو طالب علم محنت کرتے ہیں اور صحیح طریق پر محنت کرتے ہیں اور امتحان بھی صحیح طریق پر دیتے ہیں وہ خدا کے فضل سے کامیاب ہوتے ہیں اور وہی امیدوار فیل ہوتے ہیں جن کی تیاری یا امتحان دینے کے طریق میں کوئی نقص ہوتا ہے۔ لیکن بہرحال یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر خدانخواستہ ناکامی کی صورت ہو تو اس پر مایوس ہوکر بیٹھ نہیں جانا چاہئے اور نہ ہی بزدلوں کی طرح مایوسی کی حالت میں کسی لغو حرکت کی طرف مائل ہو جانا چاہئے۔ کئی ناکامیاں انسان کی آئندہ ترقی کا باعث بن جاتی ہیں۔ پس اگر تم کسی امتحان میں فیل ہو جاؤ تو اس ناکامی کو جواں مردوں کی طرح برداشت کرو۔ اور گو ایسے موقع پر صدمہ ہونا ایک طبعی امر ہے اور صدمہ نہ ہونا عموماً بے غیرتی کی علامت ہے لیکن اس صدمہ سے مایوسی میں پڑنے کی بجائے آئندہ زیادہ محنت کر کے فائدہ اٹھاؤ۔ اور اپنے خاندان اور قوم اور ملک کے لئے اچھا نمونہ قائم کرو۔

(مشکوٰۃ فروری 2001ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اپریل 2021