• 20 جون, 2021

گزشتہ گناہ بخشے جانے کا مطلب

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آخری عشرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لئے اتنی کوشش فرماتے جو اس کے علاوہ کبھی دیکھنے میں نہ آتی تھی۔

(صحیح مسلم۔ کتاب الاعتکاف۔ باب الاجتہاد فی العشر الاواخر من شہر رمضان)

پس ہمارے سامنے یہ اُسوہ ہے۔ ان بقایا دنوں میں ہمیں چاہئے کہ خاص توجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں یہ دن گزاریں، دعاؤں میں لگ جائیں اور اپنی دنیا وآخرت سنوارنے والے بن جائیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور محاسبہ نفس کرتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے، اسے اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے اور جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے لیلۃ القدر کی رات قیام کیا اسے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

(بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر۔ باب فضل لیلۃ القدر)

گزشتہ گناہ بخشے جانے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اس کو آئندہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہو جائے گی اور نیکیاں کرنے کی طرف توجہ زیادہ پیدا ہو جائے گی اور اس کا ہر فعل خداتعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بن جائے گا۔ پس ایک مومن جب اپنی غلطیوں پر نظر رکھتے ہوئے، اپنا محاسبہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہو گا، اس کے آگے جھک رہا ہو گا، دعائیں کر رہاہو گا تو یہ دن یقینا اس میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنے والا دن ہو گا۔ پس ہر احمدی کو چاہئے کہ ان دنوں کواپنی زندگیوں کو سنوارنے کا ذریعہ بنا لیں اور خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جائیں۔

(خطبۂ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 21 اکتوبر 2005ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مئی 2021