• 20 جون, 2021

حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ

تعارف صحابہ کرام ؓ
حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ۔سنگرور ریاست جیند

حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ ولد مکرم مولوی محمد امیر شاہ صاحب قوم قریشی دراصل موضع بیرمی (Birmi) ضلع لدھیانہ کے رہنے والے تھے، بعد ازاں سنگرور ریاست جیند میں سکونت پذیر ہوگئے۔ آپ اپنی روایات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’میرا نام رحمت اللہ خلف مولوی محمد امیر شاہ صاحب قوم قریشی سکنہ موضع بیرمی ضلع لدھیانہ ہے۔ خدا نے اپنے فضل و رحم سے مجھے چن لیا اور غلامی حضور سے سرفراز فرمایا ورنہ مَن آنم کہ مَن دانم۔ تفصیل اس کی یہ ہے:

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے چند ماہ لدھیانہ میں قیام فرمایا، میری عمر اس وقت قریبًا 17-18 برس کی ہوگی اور طالب علمی کا زمانہ تھا، مَیں حضور کی خدمت اقدس میں گاہ بگاہ حاضر ہوتا رہا، مجھے وہ نور جو حضور کے چہرہ مبارک پر ٹپک رہا تھا، نظر آیا جس کے سبب سے میرا قلب مجھے مجبور کرتا کہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں ہے مگر گرد و نواح کے مولوی لوگ مجھے شک میں ڈالتے۔ اسی اثناء میں حضور کا مباحثہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے لدھیانہ میں ہوا، جس میں مَیں شامل تھا۔ اس کے بعد خدا نے میری ہدایت کے لیے ازالہ اوہام کے ہر دو حصے بھیجے، وہ سراسر نور و ہدایت سے لبریز تھا۔ خدا جانتا ہے کہ مَیں اکثر اوقات تمام رات نہیں سویا، اگر کتاب پر سر رکھ کر غنودگی ہوگئی تو ہوگئی ورنہ کتاب پڑھتا رہا اور روتا رہا کہ خدا یہ کیا معاملہ ہے کہ مولوی لوگ کیوں قرآن شریف کو چھوڑتے ہیں؟ خدا جانتا ہے کہ میرے دل میں شعلہ عشق بڑھتا گیا، میں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو لکھا کہ حضرت مرزا صاحب عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تیس آیات سے ثابت کرتے ہیں، آپ براہ مہربانی حیات کے متعلق جو آیات و احادیث ہیں، تحریر فرمادیں اور ساتھ جو تیس آیات قرآنی جو حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں، تردید فرما کر میرے پاس بھجوا دیں، میں شائع کرا دوں گا۔ جواب آیا کہ آپ عیسیٰ ؑ کی حیات و ممات کے متعلق حضرت مرزا صاحب یا اس کے مریدوں سے بحث مت کرو کیونکہ اکثر آیات وفات ملتی ہیں، یہ مسئلہ اختلافی ہے، اس امر پر بحث کرو کہ مرزا صاحب کس طرح مسیح موعودؑ ہیں؟جواب میں عرض ہوا کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑ فوت ہوگئے ہیں تو حضرت مرزا صاحب صادق ہیں۔ جواب ملا کہ آپ پر مرزا صاحب کا اثر ہوگیا ہے، میں دعا کروں گا۔ جواب میں عرض کیا گیا کہ آپ اپنے لیے دعا کرو۔ آخر میں آستانۂ الوہیت پر گرا اور میرا قلب پانی ہوکر بہہ نکلا گویا میں نے عرش کے پائے کو ہلا دیا، عرض کی خدایا! مجھے تیری خوشنودی درکار ہے، میں تیرے لیے ہر ایک عزت کو نثار کرنے کو تیار ہوں اور ہر ایک ذلت کو قبول کروں گا، تو مجھ پر رحم فرما۔ ….. میں نے بیعت کا خط لکھ دیا مگر حاضر قادیان دارالامان 27؍دسمبر 1898ء بروز منگل بعد نماز مغرب بیعت کا شرف حاصل ہوا۔ خدا کے فضل سے مجھے وہ استقامت عنایت فرمائی کہ کوئی مصائب مجھے تزلزل میں نہیں ڈال سکتا مگر یہ سب کچھ حضور کی صحبت کے طفیل تھا، جو بار بار حاصل ہوئی اور ان ہاتھوں کو حضور کی مٹھیاں بھرنے کا فخر ہے گو مجھے اعلان ہونے پر رنگا رنگ کے مصائب پہنچے مگر خدا نے مجھے محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اُس نقصان سے بڑھ کر انعام عنایت کیا اور میرے والد اور بھائی اور قریبی رشتہ دار احمدی ہوگئے اگر طوالت کا خوف نہ ہوتا تو مَیں چند واقعے تحریر کرتا۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے مَیں درود تاج احمدی ہونے کے بعد بھی پڑھا کرتا تھا، میرے استاد مولوی عبدالقادر لدھیانوی جو احمدی ہوگئے تھے، مجھے منع فرماتے تھے کہ شرک ہے مت پڑھا کرو۔ میں نے کہا مسیح موعودؑ سے کہلا دو پھر چھوڑ دوں گا۔ اتفاقًا کسی جلسہ سالانہ پر خاکسار اور مولوی صاحب بھی موجود تھے، حضور ہوا خوری کے لیے نکلے، بہت اصحاب ہمراہ تھے، مولوی صاحب نے اس موقعہ پر عرض کیا کہ حضور منشی رحمت اللہ صاحب درود تاج پڑھتے ہیں، میں نے منع کیا تھا کہ یہ شرک ہے مگر یہ منع نہیں ہوئے۔ حضور نے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا ، کیا ہے؟ درود تاج پڑھو۔ میں نے پڑھ کر سنایا تو فرمایا اس میں تو شرک نہیں، تو مولوی صاحب نے عرض کیا یہ الفاظ ہیں دَافِعُ الْبَلَاءِ وَ الْوَبَاءِ وَ الْقَحْطِ وَ الْمَر ضِ وَ الْاَلَم تو حضور نے فرمایا: آنحضرت ﷺ کے مرتبہ کو لوگوں نے سمجھا نہیں، اس میں کیا شک ہے حضور کا نام واقعی دافِعُ البلاء اور وَبَاء ہے، بہت لمبی تقریر فرمائی۔ مولوی صاحب خوش ہوگئے۔‘‘

(بشارات رحمانیہ جلد دوم از عبدالرحمن مبشر صاحب صفحہ 114-117۔ لاہور آرٹ پریس انار کلی لاہور) (رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 58-60)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت کے ساتھ وابستہ رہے۔ آپ نے اگست 1947ء کو سنگرور میں ہی وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے، آپ بفضلہ تعالیٰ موصی (وصیت نمبر 1960) تھے، یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگا ہوا ہے۔

آپ کی اہلیہ حضرت حشمت بی بی صاحبہ ؓ کو بھی صحابیہ ہونے کا شرف حاصل تھا، انھوں نے 1905ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر لدھیانہ کے موقع پر بیعت کی توفیق پائی۔ حضرت حشمت بی بی صاحبہ نے 6 اگست 1971ء کو بروز جمعۃ المبارک بہاولپور میں وفات پائی جہاں سے جنازہ ربوہ لایا گیا اور بوجہ موصیہ ہونے (وصیت نمبر 9523) کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔ وفات پر آپ کے بیٹے مکرم غلام احمد صاحب نے لکھا:
’’مرحومہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت 1905ء میں (جب حضور سفر دہلی سے واپسی پر بمقام لدھیانہ قیام فرما ہوئے) آپ بیان فرماتی تھیں کہ حضور اقدس دوپہر کے وقت بذریعہ ریل گاڑی لدھیانہ پہنچے تھے، اسی شام مغرب کی نماز کے کچھ دیر بعد عاجزہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضور اقدس اس وقت پلنگ پر تشریف فرما تھے، سر پر رومی ٹوپی اور سفید لباس زیب تن تھا۔ بیعت کے لئے دس بارہ کے قریب عورتیں موجود تھیں۔ حضور اقدس نے بیعت کرنے والی عورتوں سے دریافت فرمایا کہ بیعت کے الفاظ اردو میں کہلائے جاویں یا پنجابی میں؟ اس پر چند عورتوں نے پنجابی زبان کی درخواست کی، چنانچہ حضور الفاظ بیعت بولتے جاتے تھے اور ہم عورتیں انھیں اونچی آواز میں دہراتی جاتی تھیں۔ بیعت کے دوران بہت سی عورتیں حضرت اقدس کی زیارت کی غرض سے کمرہ کی کھڑکیوں اور دروازہ میں کھڑی تھیں۔ بیعت اور دعا کے اختتام پر حضور نے عورتوں کی کثرت اور ان کے اشتیاق زیارت کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ آپ گھبرائیں نہیں، مَیں باہر آجاتا ہوں۔ چنانچہ حضور باہر تشریف لاکر وسطِ صحن میں کھڑے ہوگئے اور پانچ سات منٹ وہاں کھڑے رہے، اس کے بعد حضور اسی کمرہ میں جس میں بیعت ہوئی تھی، واپس تشریف لے گئے۔ والدہ مرحومہ بیان فرماتی تھیں کہ اگلے روز صبح کو حضور کی تقریر لدھیانہ میں مجمع عام میں ہوئی، یہ تقریر ایک مکان کے آگے کھلی جگہ میں ہوئی، ہم عورتوں نے حضور کی تقریر پاس کے ایک مکان کی چھت پر جھرنوں کے پیچھے بیٹھ کر سنی۔

والدہ محترمہ کو یہ بجا فخر تھا کہ آپ نے اس زمانہ کے مامور کی بیعت کی جس کو سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ نے سلام کہا ،اور آپ کی زیارت کی۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی سختی سے پابند تھیں، جب تک صحت نے اجازت دی، نفلی روزوں کا اہتمام رکھا، صرف گذشتہ رمضان المبارک کے روزے بوجہ بیماری نہ رکھ سکیں۔ روزانہ تلاوت قرآن زندگی کا عام معمول تھا، نظر کمزور ہونے پر بھی تکلیف اٹھا کر دوپہر کی روشنی میں جب تک نظر نے ساتھ دیا، روزانہ تلاوت قرآن کریم فرماتی رہیں، کثیر تعداد میں بچوں کو قرآن کریم پڑھایا۔ سادہ زندگی اور مسلسل محنت آپ کا شعار تھا، اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کرنے کی عادی تھیں۔ فقیروں اور سائلوں کو خالی ہاتھ واپس بھیجنا نا پسند کرتی تھیں …..‘‘

(الفضل 29اگست 1971ء صفحہ4)

(نوٹ: آپ کی تصویر بشارات رحمانیہ کتاب سے لی گئی ہے۔)

(غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مئی 2021