• 20 جون, 2021

رمضان کے روزے

تبرکات حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ

حدیث

عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

ترجمہ:۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کہ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان دار ہوتے ہوئے اور خدا کی رضا جوئی کی خاطر رکھے۔ اس کے گزشتہ گناہوں کو خدا معاف کر دیتا ہے۔ ایمان کا مقتضا یہ ہے کہ انسان خدا اور آنحضرت ﷺ کے احکام اور سنت پر عمل پیرا ہو اور ان احکام کے بجالانے میں لطف محسوس کرے۔ جس طرح مختلف احکام گزشتہ حدیثوں میں وارد ہو چکے ہیں کہ ان کو بجالانا ایمان کے تقاضا میں سے ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں رمضان کے روزوں کے متعلق وارد ہوا ہے۔ بات یہ ہے کہ جب تک محبوب کا کہا نہ مانا جائے محبوب راضی نہیں ہوتا۔ اور جو محبوب کا کہا مانتے ہیں انہیں ہر ایسی بات میں لطف آتا ہے۔ اسی طرح جو خداتعالیٰ کے لئے روزے رکھتے ہیں انہیں بھوک میں ہی لذت محسوس ہوتی ہے۔

جب ہم یہ یقین پیدا کر لیں کہ خدا روزوں سے خوش ہوتا ہےتو ہمارا ایمان تقاضا کرے گا کہ ہم خدا کو راضی کرنے کے لئے بھوک، پیاس برداشت کر لیں۔

گناہوں کی بخشش کے دو طریقے ہیں جو کہ قرآن مجید سے ثابت ہیں۔ ایک تو یہ ہے جو کہ دو باتوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ اول یہ کہ انسان اپنے صادر شدہ گناہوں کو یاد کر کے نادم و پشیمان ہو۔ اگر اس نے آج سے دس سال قبل کسی کو گالی دی ہو تو اس کو بھی یاد کر کے نادم و پشیمان ہوا کرے کہ میں نے کیسی نالائق حرکت کی تھی۔ دوم یہ کہ عہد کرے کہ آئندہ اس کام کے نزدیک نہیں جاؤں گا۔ اگر کوئی شخص ان باتوں میں سے کسی ایک کو چھوڑے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہو گی۔ وہ مذاہب (مثلاً عیسائی، آریہ وغیرہ) جن کا یہ اعتقاد ہے کہ گناہ کی سزا ضرور مل کر رہے گی اور توبہ کے قائل نہیں۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام بھی کیسا مذہب ہے کہ انسان کے منہ سے توبہ کہہ دینے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ مگر ان کا یہ اعتراض فطرتِ انسانی اور خدا کی مغفرت کے بالکل برعکس ہے۔ جب ہم روز و شب دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بنی نوع انسان ایک دوسرے کی غلطیوں کو معافی مانگنے پر معاف کر دیتے ہیں۔ تو خداتعالیٰ جو اھل المغفرہ اور قابل التوب ہے وہ کیوں نہ اپنے بندوں کے توبہ کرنے پر گناہ بخشے۔ توبہ تو انتہائی سزا ہے۔ کیونکہ توبہ کے بعد انسان کو گناہوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ تبھی توبہ قبول ہو سکے گی۔

دوسری بات جو گناہوں کا کفارہ ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان ان اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ (ھود:115) کو مدنظر رکھے۔ مثلاً اگر اس سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اس کے برعکس کوئی نیکی بجا لائے۔ اس طرح اس کی غلطی کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ ایک شخص کسی کو گالی دیتا ہے۔ اس نے نہایت نالائق حرکت کی اور وہ خود بعد میں اپنی اس حرکت پر نادم و پشیمان ہو تو چاہئے کہ وہ جس کو اس نے گالی دی اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ اس سے معافی مانگے، اس کی خدمت کرے وغیرہ وغیرہ۔ اس کا نتیجہ اور فطرت انسانی بھی یہی ہے کہ وہ شخص اس کے اس طرزِ عمل کو دیکھ کر اپنے دل سے اس کی گالی کو محو کر دے گا۔ کیا خدا اس بات پر قادر نہیں۔ جبکہ وہ اھل المغفرہ اور قابل التوب ہے کہ وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو ان کے معافی مانگنے پر اور اس کی رضامندی حاصل کرنے والے کام کرنے پر معاف کر دے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان کے روزوں کو موجبِ ثواب سمجھنے اور خلوصِ نیت (ایمان) کے ساتھ رکھنے پر خداتعالیٰ گزشتہ گناہ معاف کر دیتا ہے اور یہی خدا کی شان کے شایان ہے۔

(روزنامہ الفضل قادیان 9ستمبر 1943ء صفحہ3)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مئی 2021