• 20 جون, 2021

’’بنیادی مسائل کے جوابات‘‘ (قسط نمبر 12)

‘‘بنیادی مسائل کے جوابات’’
قسط نمبر 12
بیان فرمودہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال:۔ ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ اگر میاں بیوی میں ان کی شادی کے عرصہ میں تین دفعہ طلاق ہو جائے تو تیسری طلاق کے بعد صلح کی کیا صورت ہو گی؟ اس پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 22 جولائی 2019ء میں درج ذیل جواب عطاء فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب:۔ قرآن کریم کا حکم اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ بہت واضح ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ایسی طلاق جس میں رجوع ہو سکے، صرف دو مرتبہ ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ۔ یعنی ایسی دو طلاقوں کے بعد اگر خاوند اپنی بیوی کو تیسری طلاق دیدے تو اس تیسری طلاق کے بعد اس خاوند کا اس بیوی سے صلح کرنے کا حق باقی نہیں رہتا۔ نہ عرصۂ عدت میں بغیر نکاح کے اور نہ ہی عدت کے ختم ہونے پر نکاح کے ساتھ وہ اس کے ساتھ خانہ آبادی کر سکتا ہے۔ جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح نہ کرے اور وہ خاوند اس عورت کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے طلاق دیدے۔

پس آپ کی بیان کردہ صورت میں اب ان میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوئی گنجائش نہیں، جب تک کہ ان کے درمیان حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ والی شرط پوری نہ ہو۔

سوال:۔ ایک خاتون نے لکھا کہ اگر کوئی غیر احمدی مسلمان مجھ سے کسی غیر از جماعت عالم کی لکھی ہوئی تفسیر کے بارہ میں پوچھے تو مجھے اسے کونسی تفسیر پڑھنے کیلئے بتانی چاہیئے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 22 جولائی 2019ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب:۔ پرانے بزرگوں کی تمام تفسیریں اچھی ہیں۔ آپ کی معلومات کیلئے چند تفسیروں کے نام لکھ رہا ہوں۔مثلاً تیسری صدی ہجری میں لکھی جانے والی تفسیر طبری، جس کا پورا نام ’’جامع البیان فی تاویل القرآن‘‘ ہے اور جسے ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید بن کثیر الطبری نے تصنیف کیا۔

چھٹی صدی ہجری میں امام ابو عبداللہ محمد فخر الدین ابن خطیب الرازی کی تصنیف کردہ تفسیر ’’مفاتیح الغیب‘‘، المعروف ’’التفسیر الکبیر‘‘ بہت عمدہ تفسیر ہے۔

ساتویں صدی ہجری میں لکھی جانے والی تفسیر بعنوان ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘ معروف بہ ’’تفسیر قرطبی‘‘ مشہور عالم ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابوبکر المعروف امام قرطبی نے تصنیف فرمائی۔

علاوہ ازیں تفسیر جلالین، تفسیر ابن کثیر اور تفسیر روح المعانی وغیرہ اچھی اور پڑھنے کے قابل تفاسیر ہیں۔

سوال:۔ ایک دوست نے بعض احباب کی طرف سے پوچھے جانے والے اس سوال کی بابت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے راہنمائی چاہی ہے کہ گھانا کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے جہاں ایسے غیراحمدی امام بھی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت کو سچا اور بہترین اسلام سمجھتے ہیں اور مخالفت بھی نہیں کرتے لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے قبول احمدیت کی توفیق نہیں پاتے۔ تو کیا ایسے افراد یا اماموں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہوگا؟ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 22 جولائی 2019ء میں اس کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب:۔ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غیر احمدی امام کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنے کے مسئلہ پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے اور جہاں آپ نے اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کو ہمارے لئے کھول کھول کر بیان فرمایا ہے وہاں آپ کے بیان کردہ مسئلہ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ چنانچہ ایک موقعہ پر ایسے لوگوں کی نسبت ذکر ہوا جو نہ مکفر ہیں نہ مکذب اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ دریافت کیا گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اگر وہ منافقانہ رنگ میں ایسا نہیں کرتے جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ (بامسلماں اللہ اللہ، بابرہمن رام رام) تو وہ اشتہار دیدیں کہ ہم نہ مکذب ہیں نہ مکفر (بلکہ بزرگ نیک ولی اللہ سمجھتے ہیں) اور مکفر ین کو اس لئے کہ وہ ایک مومن کو کافر کہتے ہیں، کافر جانتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو کہ وہ سچ کہتے ہیں ورنہ ہم ان کا کیسے اعتبار کر سکتے ہیں اور کیونکر ان کے پیچھے نماز کا حکم دے سکتے ہیں۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی۔

نرمی کے موقع پر نرمی اور سختی کے موقع پر سختی کرنی چاہیئے۔ فرعون میں ایک قسم کا رشد تھا اور اسی رشد کا نتیجہ تھا کہ اس کے مونہہ سے وہ کلمہ نکلا، جو صد ہا ڈوبنے والے کفار کے منہ سے نہ نکلا۔ یعنی آمَنْتُ أَنَّهٗ لَٓا إِلٰهَ إِلَّا (الَّذِي اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْ إِسْرَٓائِيْلَ)۔ اس کے ساتھ نرمی کا حکم ہوا۔ قُولَالَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا۔ اور دوسری طرف نبی کریم کو فرمایا وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ۔ معلوم ہوتا ہے ان لوگوں میں بالکل رشد نہ تھا۔ پس ایسے معترضین کے ساتھ صاف صاف بات کرنی چاہیئے تا کہ ان کے دل میں جو گند و خبث پوشیدہ ہے نکل آئے اور ننگ جماعت نہ ہوں۔‘‘

(اخبار بدر نمبر16 جلد7 مؤرخہ 23 اپریل 1908ء صفحہ4)

سوال:۔ ایک خاتون نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف توضیح مرام کے حوالہ سے فرشتوں کے چاند، سورج اور ستاروں پر اثر ڈالنے، ان اجسام کے انسانوں پر اثر ڈالنے، اور فرشتوں کے جسمانی طور پر زمین پر اترنے کے بارہ میں حضور انور سے راہنمائی چاہی ہے۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 22 جولائی 2019ء میں اس کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب:۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اس تصنیف لطیف میں فرشتوں کے کواکب پراثر انداز ہونے، سورج، چاند، ستاروں کے ہماری زمین کے نباتات و جمادات اور حیوانات پر اثر ڈالنے اور فرشتوں کے انسانوں پر روحانی اثرات ہونے کے مضامین کو نہایت لطیف انداز میں بیان فرمایا ہے۔

چنانچہ فرشتوں کے سورج، چاند، ستاروں پر اثر انداز ہونے کے آپ کے بیان کردہ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ملائکہ ان کواکب پر خدا تعالیٰ کے اذن کے تحت مدبر و منظم ہیں اور ان اجرام فلکی پر ان کی تاثیرات بالذات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہوتی ہیں۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اشارات قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض وہ نفوس طیبہ جو ملائک سے موسوم ہیں ان کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں۔ بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تاثیرات کو زمین پر اتارنے والے ہیں۔‘‘

پھر حضور علیہ السلام نے ایک مضمون یہ بیان فرمایا ہے کہ ان اجرام فلکی یعنی سورج ، چاند اور ستاروں کا ہماری زمین کے نباتات ،جمادات اور حیوانات پر دن رات اثر پڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ چاند کی روشنی سے پھل موٹے ہوتے، سورج کی گرمی اور تپش سے پھل پکتے اور میٹھے ہوتے اور بعض ہوائیں بکثرت پھل لانے کا موجب ہوتی ہیں۔

اس ضمن میں ایک مضمون حضور علیہ السلام نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جس طرح فرشتے خدا تعالیٰ کے حکم سے اجرام فلکی پر اپنی تاثیرات ڈالتے اور اجرام فلکی کا ہماری زمین کی ظاہری چیزوں پر اثر ہوتا ہے اسی طرح ملائکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہمارے دل و دماغ پر اپنا روحانی اثر بھی ڈالتے ہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور بہ حکمت کاملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہر یک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کیلئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ظاہری خدمات بھی بجا لاتے ہیں اور باطنی بھی۔ جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔‘‘

جہاں تک فرشتوں کے زمین پر اترنے اور انسانوں سے میل جول کرنے کا سوال ہے تو اس بارہ میں یاد رکھنا چاہیئے کہ قرآن کریم، احادیث نبویہ ﷺ اور ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ فرشتوں کا زمین پر نزول ان کے اصلی وجود کے ساتھ ہر گز نہیں ہوتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ انسانوں کی شکل میں متمثل ہو کر اس کے نیک بندوں سےمیل جول کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم اور احادیث میں ایسے کئی واقعات کا ذکر موجود ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہی نفوس نورانیہ کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہوجاتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

(توضیح مرام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ68 تا 72)

سوال:۔ایک بچی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام پر بننے والی ڈاکومینٹری Bloodline Of Christ کا ذکر کر کے اس میں بیان کہانی کی حقیقیت دریافت کی۔ حضور انور نے اپنے مکتوب مؤرخہ 21 نومبر 2019ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا:۔

جواب:۔ اس سے پہلے بھی اس موضوع پر کئی فلمیں بن چکی ہیں اور کتابیں بھی لکھی جا چکی ہے۔ اس ڈاکومینٹری میں بیان حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ہجرت کرنے کی بات تو ٹھیک ہے لیکن ان کے فرانس کی طرف ہجرت کرنے والی بات درست نہیں کیونکہ اس زمانہ میں فرانس میں ان کے پیرو کاروں کی کوئی جماعت نہیں تھی۔ بلکہ ان کے قبائل تو کشمیر کے علاقہ میں تھے۔ چنانچہ اسی طرف انہوں نے ہجرت کی تھی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس امر کو اپنی تصنیف ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ مختلف شواہد کے ساتھ ثابت فرمایا ہے۔

سوال:۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ہالینڈ کے خدام کی Virtual ملاقات مؤرخہ 30 اگست 2020ء میں ایک خادم نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ دنیا کے موجودہ حالات میں ہمیں Farming کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئیے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس پر فرمایا:۔

جواب:۔ سوال یہ ہے کہ پہلے جب یورپین یونین اکٹھی ہوئی ہے، انہوں نے ہر ملک میں اپنا اپنا علاقہ بانٹ لیا ہوا ہے کہ تم فروٹ اُگاؤ گے، تم Crops اُگاؤ گے، تم فلاں چیز اُگاؤ گے، تم فلاں چیز اُگاؤ گے۔ تو جب تک یورپین یونین قائم ہے، اس وقت تک تو بڑی اچھی بات ہے یہ کرتے رہیں۔اب ہالینڈ کے ذمہ انہوں نے لگایا ہوا ہے، ان کے ہاں Dairy Products ہیں یا Fruits ہیں۔ اور Fruits بھی خاص قسم کے ہیں۔ Pears وغیرہ اور Something like that۔ یوکے Brexit کے ذریعہ نکل گیا ہے، تھوڑی دیر بعد جب یہ پوری طرح نکل جائیں گے تو انہیں پھل منگوانے کیلئے بھی مشکل پیش آئے گی۔اور Wheat Crisis بھی آ جائے گا۔ تو ان کو مشکلات پیش آئیں گی، اس لئے یوکے کیلئے تو ضروری ہے کہ Agriculture پہ Focus کریں۔ اور اس کوزیادہ Develop کرنے کی کوشش کریں۔ اوراپنی Agriculture میں Self-sufficient بنیں، Grains میں بھی اور Vegetables میں بھی اور Fruits میں بھی۔ جہاں تک یورپ کا سوال ہے تو یورپ کا جو Grains ہے، اس میں تقریباً وہ Self-sufficient ہی ہیں۔ بلکہ Export بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح پھل وغیرہ ہیں۔ کچھ سبزیاں ہیں جو Tropical علاقوں سے یہ لاتے ہیں۔ وہ یہاں ہو نہیں سکتیں سوائے اس کے کہ Greenhouses بناکے وہ لگائی جائیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ اپنے ملکوں کی پیداوار کے لحاظ سے وہ کریں۔ اگر یورپ ایک رہے گا تو ٹھیک ہے۔ لیکن کل کو کوئی اور بھی ملک یورپین یونین سے نکلتا ہے تو پھر اس کو مشکل پڑے گی جس طرح انگلستان کو مشکل پڑ رہی ہے۔ پھر رشیا جب اکٹھا تھا تو اس وقت انہوں نے بنایا ہوا تھا کہ فلاں State میں گندم اُگے گی، فلاں میں کاٹن اُگے گی، فلاں میں فلاں Crop ہو گی۔ اور جب وہ ٹوٹ گئے تو پھر ان کی States کو بھی مسائل پیدا ہوئے۔ اس لئے کوشش یہ کرنی چاہئیے کہ اکٹھے رہیں اور اگر کہیں Chances پیدا ہونے کا امکان ہے تو جوہمارے Politicians ہیں ان کو یہ سوچنے سے پہلے کہ ہم نے علیحدہ ہونا ہے، اپنے لوگوں کی جو Staple Food ہے اس کو مہیا کرنے کیلئے بھی پہلے سوچنا چاہیئے کہ کس طرح ہم یہ مہیا کریں گے اور اس کیلئے پلاننگ ہونی چاہئیے۔ بغیر پلاننگ کو چھوڑ دیں تو پھر وہ حال ہوتا ہے جو اب یوکے کا ہونے والا ہے۔ تو سارے یورپین یونین کے ملکوں کو دیکھنا چاہئیے، بیٹھنا چاہیئے، غور کرنا چاہیئے کہ ہمارے سارے یورپ کی، جو ہماری یورپین یونین میں چھبیس ستائیس ملک شامل ہیں ان کی Requirement کیا ہے۔ اور اس Requirement کے حساب سے ہماری مختلف Grains کی ہر سال کی Produce کیا ہے۔ اور اس Produce کو ہم نےکس طرح مزید بہتر کرنا ہے۔ تو اس لحاظ سےٹھیک ہے آپ کی بات، کوشش کرنی چاہیئے۔ لیکن اگر اس کے بعد پھر Crisis آتا ہے اور Crisis کے بعد جنگ ہوتی ہے تو اس میں پتہ نہیں اگر کہیں کسی نے پاگل پن میں ایٹم بم استعمال کر دیا تو نہ وہاں Agriculture رہنی ہے اور نہ وہاں کچھ اور چیز رہنی ہے۔ تو اس لئے اللہ تعالیٰ ہی رحم کرے۔

سوال:۔اسی ملاقات میں ایک خادم نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ چھوٹے بچوں کی تربیت کیلئے کس طرح اور کیا طریق اختیار کیا جا سکتا ہے؟ اس پر حضور انور نے فرمایا:۔

جواب:۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو کہا ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اسی وقت تربیت کرو۔ اسی لئے اسلام میں یہ رائج ہے اوریہ سنت ہے، آنحضرت ﷺ بھی یہ فرمایا کرتے تھے اور پھر ہم عمل بھی اسی بات پہ کرتے ہیں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دائیں کان میں اذان دیتے ہیں اور بائیں کان میں تکبیر پڑھتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا نام اس کے کان میں پڑے اور توحید پہ وہ قائم ہو۔ تو تربیت جو ہے وہ تو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ پہلے دن سے شروع کر دو۔ یہ نہ دیکھو کہ بچہ چھوٹا ہے اس کو سمجھ نہیں آئے گی۔ بچہ چھوٹا ہے اس کو بتاؤ، کوئی چیز تم دیتے ہو تو تم کہو کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہار انتظام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، اللہ تعالیٰ نے مجھے سہولت مہیا کی۔ ہم نے توحید کو قائم کرنا ہے اس لئے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پہ ان کا ایمان پیدا کرو کہ جو چیز وہ حاصل کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ ان کیلئے ان کا انتظام کرتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ پہ آہستہ آہستہ یقین بڑھنا شروع ہو گا۔ پھر بتاؤ کہ جب اللہ تعالیٰ ہمیں چیزیں دیتا ہے تو ہم نے اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرنا ہے۔ پھر کہو کہ تم ابھی چھوٹے ہو، تمہیں پتہ نہیں، تم اللہ میاں سے صرف دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسی طرح انعامات دیتا رہے، ہمارے پہ فضل کرتا رہے ۔اور ہم بڑے ہو گئے ہیں اس لئے ہمیں کچھ تھوڑا سا پتہ لگ گیا ہے اس لئے ہم اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں۔ جب تم بڑے ہو گے تو تم بھی نماز پڑھنی شروع کر دو گے۔ پھر جب بچہ سات سال کا ہوتا ہے تویہی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس کو بتاؤ کہ تم نے نماز پڑھنی ہے یا نماز فرض ہے۔اور آہستہ آہستہ اس کو دو یا تین یا چارجتنی نمازیں بچہ پڑھ سکتا ہے پڑھتا رہے۔اور جب دس کا ہو جائے، اس وقت Matured دماغ ہو جاتا ہے، پھر اس کو نماز پڑھنے کی عادت ڈال دو۔ تو یہ شروع کی جو تربیت ہے، وہی ہے جو بچہ کو آخر تک کام دیتی ہے ۔ اور پھر قرآن کریم بھی بچہ پڑھتا ہے۔ لیکن اتنا بھی Stress بچہ پر نہ ڈالو کہ تین سال کی عمر میں اسے قرآن کریم پڑھانا شروع کر دو۔ چار سال کی عمر میں وہ تھک جائے اور جب گیارہ سال کی عمر کا ہو تو باہر کے ماحول میں جائے اور آزادی اس کو حاصل ہونا شروع ہو جائے۔ ایک درمیانہ رویہ اختیار کرو۔بچہ کو سمجھاؤ، اللہ تعالیٰ کی ذات پہ ایمان دلواؤ، اسلام کی سچائی کا ثبوت دو۔ اس زمانہ میں مسیح موعود کو دین کی سچائی قائم کرنے کیلئے بھیجا ہے اس کی باتیں بتاؤ۔ چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنا کر، صحابہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات سنا کر،نبیوں کے واقعات سنا کر، اللہ تعالیٰ کے جو لوگوں پہ فضل ہوئے ہیں ان کی کہانیاں سنا کے، جو تم پہ فضل ہوئے ہیں اس کی کہانی سنا کے Interest پیدا کرو ۔تو اس طرح ایک محبت پیدا کی جاتی ہے۔ نیک نیتی سے، توجہ سے ماں باپ بچوں کو سمجھاتے رہیں، دین کی طرف لاتے رہیں تو پھر دین سے وہ Attach ہو جائیں گے تو پھر خدا تعالیٰ کی طرف رجحان بھی ہو گا، پھر نمازوں کی طرف توجہ بھی ہوگی۔ لیکن پنجابیوں کی طرح یہ کہہ دینا کہ بچہ کو چھوڑ دو، بڑا ہو گا تو آپ ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ کام نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں سبق دیا کہ پہلے دن سے تربیت کرو۔ اس لئے ’’وڈا ہو کے ٹھیک ہو جائے گا‘‘ والی بات کوئی نہیں ہے۔ بچہ کی تربیت ساتھ ساتھ اس کی عمر کے لحاظ سے کرو اور اپنے نمونے دکھاؤ۔

سوال:۔ ہالینڈ کے خدام کی اسی 30 اگست 2020ء کی Virtual ملاقات میں ایک اور خادم نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ ایک خادم کو کونسے کام کم از کم روزانہ کرنے چاہئیں؟ اس پر حضور انور نے فرمایا:۔

جواب:۔ ایک خادم کو کم از کم روزانہ پانچ نمازیں وقت پہ پڑھ لینی چاہئیں۔ فجر کی نماز فجر کے وقت اٹھ کے پڑھو اور اگر نماز سینٹر یا مسجد قریب ہے تو وہاں جاکے باجماعت پڑھو۔ اور کام کے بعد مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی نماز سینٹر میں پڑھیں۔ اور کام پہ ظہر عصر کی نمازیں بھی پڑھیں۔ اپنی پانچ نمازوں کی پابندی کر لیں کیونکہ یہ بنیادی حکم ہے۔ یہ تو روزانہ کا کام ہے، یہ کام کر لیں۔ ٹکریں نہیں مارنی۔ اس لئے نماز پڑھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور میں نے اس لئے نماز پڑھنی ہے تو پھر جو باقی اخلاق ہیں وہ بھی پیدا ہو جائیں گے۔جب آپ نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کریں گے تو یہ دعا جب دل سے نکلے گی تو وہ یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ آپ کوروحانی معاملہ میں بھی صراط مستقیم پہ چلائے، صحیح گائیڈ کرتا رہے اور آپ صحیح رستہ سے اِدھر اُدھر Deviate نہ کریں۔ اور جو اخلاقیات اللہ تعالیٰ نے بتائے ہوئے ہیں، جو اللہ کی تعلیم ہے اس کے اوپر بھی صحیح چلتے رہیں۔ اور جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہیں گے تو ظاہر ہے کہیں گے کہ اے اللہ تعالیٰ ہم تیری ہی عبادت کرنا چاہتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں، ہماری مدد کر، ہمیں ان لوگوں سے بچا لے جن کو تو نے سزا دی اور جو صحیح رستے سے پھر گئے۔ تو اس کی رحمانیت مانگیں، اس کی رحیمیت مانگیں۔ اور پھر جب سنجیدگی سے نماز پڑھ رہے ہوں گے تو صرف دنیا ہی کی باتیں نہ مانگیں، اگلے جہاں کی بھی باتیں مانگیں۔ ایک خادم جب سنجیدگی سے نماز پڑھ لے گا تو سمجھ لیں کہ اس نے سب کچھ کر لیا۔

(مرتبہ:۔ ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مئی 2021