• 6 اگست, 2021

عبودیت تامہ (بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ)

عبودیت تامہ
ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بڑی لمبی لمبی اور دکھاوے کی نمازیں ادا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پرستش اور اس کی عبادت کا حق ادا کر رہے ہیں یا بڑی کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کی راہ میں بڑا مجاہدہ کر رہے ہیں یا اور دوسرے نیکی کے کام جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں ان کے ظاہر پر زور دینے لگ جاتے ہیں مگر حقیقت نماز سے ناآشنا اور حکمت روزہ سے بے خبر ہوتے ہیں اس قسم کی عبادت عند اللہ عبادت مقصود نہیں ہوتی۔

کشف المحجوب

مجھے اس وقت ایک بزرگ کا واقعہ یاد آگیا ہے حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کشف المحجوب میں لکھَا ہے کہ ایک شخص بڑے بزرگ تھے لیکن ابھی گہرائیوں میں ان کی پہنچ نہیں ہوئی تھی وہ نیکیوں کے ظاہر پر بڑا زور دیتے تھے ایک دفعہ وہ ایک اور بزرگ سے جن کی بڑی شہرت تھی ملنے گئے جب یہ وہاں پہنچے تو مغرب کی نماز ہو رہی تھی یہ بھی نماز میں شامل ہو گئے مگر یہ بزرگ جو نماز پڑھا رہے تھے اور جن کی انہوں نے بڑی شہرت سنی ہوئی تھی اور جن کی ملاقات کے لئے یہ صاحب ایک لمبا سفر طے کر کے وہاں پہنچے تھے وہ سورۂ فاتحہ کی تلاوت بھی صحیح نہیں کر رہے تھے چنانچہ یہ بڑے مایوس ہو ئے اور اپنے دل میں خیال کیا کہ میں نے اتنے لمبے سفر کی تکلیف بلا وجہ اور بے فائدہ اٹھائی ہے رات یہاں گزارتا ہوں صبح واپس چلا جاؤں گا انہوں نے شاید استغفار بھی کی ہوگی کہ بڑا گناہ ہو گیا ہے چنانچہ صبح سویرے اٹھے دریا قریب تھا دریا کی طرف جا رہے تھے تا کہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر وضو کر کے عبادت کریں مگر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شیر راستے میں سویا ہوا ہے وہ ان کے پاؤں کی آواز سے دفعۃ اٹھا اور ان کے پیچھے بھاگا یہ آگے آگے تھے اور وہ ان کے قدم بقدم پیچھے پیچھے آرہا تھا جس وقت اس بزرگ کی عبادت گاہ کے قریب پہنچے جن کی قراءت ان کو اچھی نہیں لگی تھی اور جن کے متعلق ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ جو شخص سورۃ فاتحہ کی تلاوت بھی صحیح نہیں کر سکتا وہ بزرگ کیا ہوگا

اللہ کے کتو!

وہ اس وقت اپنی عبادت گاہ سے باہر نکل رہے تھے وہ آگے بڑھے اور شیر کے کان پکڑ لئے اور اس کو کہنے لگے کہ اللہ کے کتو! کیا میں نے تمہیں یہ نہیں کہا ہوا کہ تم نے میرے مہمانوں کو تنگ نہیں کرنا

شیر دم ہلا رہا تھا اور ان کو کچھ نہیں کہہ رہا تھا چنانچہ جب انہوں نے شیر سے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ تو وہ فوراً وہاں سے چلا گیا

پھر وہ ان کو مخاطب کرکے کہنے لگے تم لوگ ظاہر کا زیادہ خیال رکھتے ہو اور ریاء سے بچتے نہیں اس لئے مخلوق خدا سے خوف کھاتے ہو پھر انہوں نے بڑے نمایاں رنگ میں اور بڑے عجیب طریق پر ان کو سمجھایا کہ دیکھو صرف ظاہر کے خیال رکھنے کی وجہ سے مخلوق خدا سے ڈر لگتا ہے مگر ہم لوگ باطن کا خیال نہیں رکھتے اس واسطے خدا کی مخلوق کا خوف نہیں کھاتے اللہ تعالیٰ کی بندگی میں ڈوبے رہتے ہیں اس کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے مقابلے میں ہر چیز کو مردہ سمجھتے ہیں۔‘‘

(خطبات ناصر جلد دوم بحوالہ انوار القرآن جلد3 صفحہ تا 356)

(انجینئر محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 جولائی 2021