• 29 ستمبر, 2020

خلافت خامسہ میں امن عالم کے لئے جماعت احمدیہ کی مساعی

قسط دوم

خلافت خامسہ کے آغاز سے ہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں امن عالم کے لئے کوششیں شروع کر دی گئی تھیں۔ ان کو 10 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس مضمون کے حصہ اول میں آپ چار حصوں کا ذکر پڑھ چکے ہیں ۔ اب باقی حصے پیش ہیں۔

(5)خدمت انسانیت

جماعت احمدیہ کا قیام 1889ء میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے قادیان میں فرمایا تھا، جو کہ ہندوستان کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔آپ نے اپنے آنے کی غرض یہ بیان فرمائی کہ دنیا کو امن اور برادرانہ یکجہتی کے ساتھ تحفّظ اور اسلام کی عالمگیر تعلیمات سے روشناس کروایا جائے۔ اس جماعت کے ماننے والے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ دنیا کے دلوں کو اپنے احسن نمونہ اور تبادلہ خیال کے ساتھ مضبوط دلائل دے کر اور اسلام کی حسین تعلیمات سے قائل کر کے ہی جیتا جا سکتا ہے۔ جماعت کے افراد اپنے آپ کو خدمت مخلوق خدا میں اکثر مصروف رکھتے ہیں۔

اس وقت دنیا میں 55ہسپتال، 15کالج ، 350سکول اور بے شمار ڈسپنسریاں اور کلینک دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ بے شمار اساتذہ ، ڈاکٹرز اور نرسیں اور رضا کار بغیر رنگ و نسل کی تمیز کے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔

ہیومینٹی فرسٹ جماعت کا ایک فلاحی ادارہ ہے جو دنیا میں جہاں بھی مصائب ہوں خدمات انجام دیتا ہے۔ بوسنیا، انڈونیشیا، پاکستان، سری لنکا غرض جہاں بھی ضرورت پڑی یہ امداد کے لئے پہنچے ہیں۔

حضرت امیر المومنین کی ہدایات کی روشنی میں جماعت کے رضا کار غریب ممالک میں بجلی، پانی اور صاف رہن سہن مہیا کرنے کے منصوبوں پر دور دراز کے علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔

جماعت کا نصب العین جس کے تحت تمام احمدی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہے

’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘‘۔

(الفضل انٹرنیشنل 24اپریل 2009ء صفحہ 16)

(6)دورہ جات وخطابات

دنیا میں امن کے قیام کے لئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کی گئی کوششوں میں ایک بہت بڑا حصہ آپ کے مختلف ممالک کے دورہ جات ہیں۔ ان دوروں میں حضور انور نے سربراہان مملکت سے ملاقاتوں، حکومتی وزراء،ممبر ان پارلیمنٹ، کونسلرز، میئرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز ، وکلاء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے معز زین کے ساتھ ملاقاتوں کے ذریعہ اسلامی تعلیم کے مطابق امن کا پیغام پہنچایا ۔ دنیا کی موجودہ صورت حال ، عالمی معیشت، ماحولیاتی آلودگی ، دہشتگردی کے سدّ باب اور عالمی امن کے قیام جیسے موضوع زیر بحث رہے۔ حضور انور کے اعزاز میں استقبالیہ تقاریب میں حضور انور نے اپنے خطابات میں اسلام کی پُر امن تعلیمات کا خوبصورت تذکرہ فرمایا۔دوسرے ان دورہ جات میں دنیا کے کئی ممالک میں پارلیمنٹس سے حضور انور کے خطابات بھی شامل ہیں۔ذیل میں ان میں سے چند کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

i. برطانوی پارلیمنٹ ،ہاوسز آف پارلیمنٹ (Houses Of Parliament) میں تا ریخی خطاب۔
22اکتوبر 2008ء کو صد سالہ خلافت جوبلی کے سلسلہ میں علاقہ پٹنی کی ممبر آف پارلیمنٹ نے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اعزاز میں ہاؤسز آف پارلیمنٹ میں ایک تقریب منعقد کی۔جس میں دونوں ایوانوں سے آئے ہوئے 30 سے زائد ممبران پارلیمنٹ ، حکومتی وزراء،مختلف ملکوں کے سفراء اور دیگر معززین سے حالات حاضرہ کے تناظر میں نہایت پُر حکمت اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔جسٹین گریننگ ایم پی اور وزارت خارجہ کی منسٹر Gillian Merron نے استقبالیہ ایڈریسز دیئے۔

(رپورٹ مرتبہ حامدہ سنوری فاروقی۔لندن از ۱لفضل انٹرنیشنل 2جنوری 2009 صفحہ 16)

ii.یورپین پارلیمنٹ میں پہلی دفعہ جماعت احمدیہ کے متعلق ایک پُر شکوہ تقریب
جماعت احمدیہ کی بنیاد حضرت مسیح موعود ؑنے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر 1989ء میں رکھی۔ابتدا میں ہندوستان کے چند پاک نفس لوگوں نے جماعت احمدیہ میں شمولیت کی سعادت حاصل کی۔ 100سال پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ ایک دن مسیح موعود کی جماعت کے لوگ یورپین پارلیمنٹ ہاؤس کی عظیم الشان اور با وقار عمارت میں بیٹھ کر اسلام احمدیت کا ذکر کر رہے ہوں گے۔ اور اس ذکر میں مغربی اقوام کی چنیدہ اور نہایت اہم شخصیات جماعت احمدیہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کریں گی۔

20ستمبر2011ء بروز منگل شام پانچ بجے یورپین پارلیمنٹ برسلز (بیلجیم) کے وسیع ہال (Room PHS 3C50) میں اس پُر شکوہ تقریب کا انعقاد ہوا جس میں 80 سے زائد یورپین پارلیمنٹ کے ممبران، سفارتی شخصیات،اعلیٰ علمی شخصیات اور صحافی حضرات کے علاوہ 16ممالک کے غیر از جماعت مہمان شریک ہوئے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں حضور انور نے فرمایا کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے انسان کو لازماً خدا کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اور یہی تمام مسائل کا حل ہے۔اس تقریب کی صدارت Dr. Charles Tannock ممبر یورپین پارلیمنٹ از UK نے کی۔

(رپورٹ مرتبہ نسیم احمد باجوہ مبلغ سلسلہ یو کے از الفضل انٹر نیشنل28اکتوبر 2011ء صفحہ 16)

iii.کیپیٹل ہل واشنگٹن ڈی سی (27جون 2012ء)
27جون 2012ء کو کیپیٹل ہل (CAPITOL HILL) واشنگٹن ڈی سی میں ایک تاریخی واقعہ رونما ہوا۔ امام جماعت احمدیہ عالمگیر حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اہم اراکین کانگریس و سینٹ، سفیروں، وائٹ ہاؤس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سٹاف، غیر سرکاری تنظیموں کے رہنماؤں، مذہبی قائدین، اساتذہ کرام، مشیروں، سفارتی نمائندوں، تھنک ٹینک اور پینٹا گون کے نمائندوں اور میڈیا کے افراد سے خطاب فرمایا۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا جس نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بعض با اثر تریں سیاست دانوں بشمول ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹک لیڈر نینسی پیلوسی (Nancy Pelosi) کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ براہ راست اسلام کے پیغام کو سن سکیں۔ اس تقریب کے بعد حضرت صاحب کو کیپٹل ہل کی عمارت کا دورہ کروایا گیا۔ بعد ازاں آپ کو پورے اہتمام سے ایوان نمائندگان میں لے جایا گیا۔ جہاں آپ کے دورہ امریکہ کے احتر ام میں ایک قرارداد پیش کی گئی۔ یہ قرارداد House Resolution No 709 تھا۔ یہ ریزو لیوشن بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور امریکی کانگریس کی طرف سے انتہائی عزت افزائی خیال کیا جاتا ہے۔

اس قرار داد کے ذریعہ حضور انور ایدہ اللہ کو ان کی واشنگٹن آمد پر خوش آمدید کہا گیا اور امن عالم، انصاف، عدم تشدد، حقوق انسانی، مذہبی آزادی اور جمہوریت سے ان کی وابستگی کو سراہا گیا۔پنسلوا نیا سے سینیٹر رابرٹ کیسی (Robert Casey) نے حضور انور کی عظیم قیادت نیز آپ کی امن، برداشت اور انصاف کے لئے دلی وابستگی پر آپ کو خراج تحسین پیش کیا۔

حضور انور نے اپنے خطاب میں قیام امن کے متعلق اسلامی نقطہ نظر پیش فرمایا۔ آپ نے دنیا کو امن کا راستہ بتاتے ہوئے انصاف پر مبنی بین الاقوامی تعلقات پر زور دیا۔

(The World Crises and The Pathway to Peace p.63)

iv.یورپین پارلیمنٹ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استقلال کی نہایت اہم تقریب اور تاریخی خطاب
4دسمبر 2012ء کو حضور انور ایدہ اللہ یورپین پارلیمنٹ برسلز بیلجیم تشریف لے گئے۔پروٹو کول روم نمبر 1 میں برطانیہ، ناروے، سپین، آئر لینڈ اور سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے بعض اہم افراد کی حضور انور ایدہ اللہ سے ملاقاتیں ہوئیں اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔

پارلیمنٹ ممبران سے حضور انور نے اپنے تاریخی انتخاب میں فرمایا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ ہر مذہب خدا کی طرف سے ہے۔ اگر ہر مذہب اپنے خدا کی طرف بلائے اور خدا کے پیغام پر عمل کرے تو ساری دنیا میں امن ہو سکتا ہے۔ آپ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ آپ نے بحیثیت خلیفۃ المسیح مختلف سر براہان مملکت کو امن کے قیام کے لئے خطوط لکھے ہیں۔ پوپ کو بھی خط لکھا ہے۔ آنریبل Dr. Charles Tannock ممبر یورپین پارلیمنٹ آج کی اس تقریب کے میز بان تھے۔

حضور انور کے خطاب سے قبل مختلف ممبران پارلیمنٹ نے اپنے ایڈریسز میں جماعت احمدیہ کی امن پسندی اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لئے مساعی پر خراج تحسین پیش کیا۔یورپین پارلیمنٹ کے پریس روم میں حضور انور نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب فرمایا جس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پریس اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی .برطانیہ کے MEP،Hon. Claude Moraes کی طرف سے حضور انور کے اعزاز میں تقریب ظہرانہ منعقد ہوئی۔

(تفصیل کے لئے دیکھیں الفضل انٹر نیشنل 28دسمبر 2012ء صفحہ 12۔15، The World Crises and The Pathway to Peace p.93 ،The Review of Religions, February 2013, Vol 108-Issue II, p 64)

(7)مساجد کی تعمیر کے ذریعہ قیام امن
تایخ اسلام پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہےکہ مساجد کی تعمیر پر شروع اسلام سے ہی زور دیا جاتا رہا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وعدہ دیا تھا کہ
’’…….کیا ہم نے ہر یک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا۔ اور جو شخص بیت الذکر میں باخلاص و قصد تعبد و صحت نیت و حسن ایمان داخل ہو گا وہ سوئے خاتمہ سے امن میں آ جائے گا……..بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے کہ جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا اسی مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے م س کے حروف سے بنائے مسجد کی تعریف بھی نکلتی ہے اور وہ یہ ہے۔ مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فیہ ۔ یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہر یک امر مبارک اس میں کیا جائے گا۔پھر بعد اس کے اس عاجز کی نسبت فرمایا۔ رفعت و جعلت مبارکا۔ تو اونچا کیا گیا اور مبارک بنایا گیا۔ والذین اٰمنوا ولم یلبسو ا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن و ھم مھتدون۔ یعنی وہ لوگ جو ان برکات و انوار پر ایمان لائیں گے کہ جو تجھ کو خدائے تعالیٰ نے عطا کئے ہیں اور ایمان ان کا خالص اور وفاداری سے ہوگا تو ضلالت کی راہوں سے امن میں آ جائیں گے اور وہی ہیں جو خدا کے نزدیک ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 559، از روحانی خزائن جلد 1صفحہ 667)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بارہا مختلف مقامات پرمختلف ممالک کے دورہ جات کے دوران مساجد کے سنگ بنیاد اور افتتاح کی تقاریب میں حضرت مسیح موعود کا یہ پیغام بنفس نفیس پہنچایا ہے۔ خاکسار یہاں پر حضور انور کے چند ارشادات پیش کرتا ہے:
’’مساجد بھی اسی طرح اللہ کا گھر ہیں اور عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ یہاں سے بھی امن کا پیغام دنیا کو پہنچتا ہے اور پہنچنا چاہیئے اور مساجد کی یہی حقیقی روح ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 6جولائی 2007ء بحوالہ خطبات مسرور جلد پنجم صفحہ 285)

’’یاد رکھیں کہ دوسروں کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کا بہت بڑا ذریعہ مسجدیں بھی ہیں ……. تبلیغ بھی کریں اور اس کے ساتھ ساتھ مسجدیں بناتے چلے جائیں ….. ان کے میناروں سے جب اللہ تعالیٰ کی توحید کی آواز گونجے گی اور آپ لوگوں کے عمل اور عبادتوں کے معیار بڑھیں گے تو یقیناً ان لوگوں کی غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی……..ان کو بھی پتہ چلے گا…….کہ یہ تو حُسن پھیلانے والا اور امن پھیلاننے والا مذہب ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 5جنوری 2007ء بحوالہ خطبات مسرور جلد پنجم صفحہ 5)

مساجد کے افتتاح اور سنگ بنیاد کی ان تقاریب میں وزراء،حکومتی نمائندگان کے علاوہ علاقہ کی معزز شخصیات بھی شرکت کرتی ہیں۔میڈیا پر اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔اس طرح مساجد کی تعمیر کے ذریعہ امن کا پیغام تمام دنیا تک پہنچتا ہے۔

i.مسجد بیت الفتوح لندن کا افتتاح: مورخہ 3اکتوبر2003ء
مسجد بیت الفتوح لندن کے علاقہ مورڈن میں واقع ہے۔ یہ مغربی یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ برطانیہ میں چھپنے والے ایک اخبار کے مطابق اس مسجد کی عمارت کا شمار یورپ کی 50جدید عمارات میں ہوتا ہے۔ (خلافت جوبلی سوونئیر۔ جماعت احمدیہ برطانیہ صفحہ 223) اس مسجد کا افتتاح 3اکتوبر 2003ء کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے ساتھ حضرت مرزا مسرور احمد ، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا تھا۔ افتتاح کی مناسبت سے 11اکتوبر 2003ء کو طاہر ہال میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں 600 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔ اس تقریب میں 44ممالک سے بطور خاص تشریف لانے والے نمائندگان کے علاوہ 17 ممالک کے ہائی کمشنرزاور سفیر صاحبان، برطانیہ اور کینیڈا کے ممبران پارلیمنٹ، یورپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ، گھانا کے ڈپٹی وزیر انرجی، لارڈ ایو بری، لبرل ڈیمو کریٹ پارٹی کے ڈپٹی لیڈر، لندن کے مختلف علاقوں کے میئر صاحبان نیز کرائیڈن اور لیمنگٹن سپا کے میئر صاحبان بھی موجود تھے۔

اس خصوصی تقریب کے شرکاء سے حضور انور نےخطاب فرمایا۔حاضرین میں سے مرٹین بوروکی میئر Maxine Martin، Roger Cascle MP،کینیڈا کے ممبر پارلیمنٹ Jim Karygiannis، ممبر پارلیمنٹ برطانیہ Dominique Greaves، لارڈ ایو بری اور امیر جماعت احمدیہ UK نے بھی خطاب کیا۔مسجد بیت الفتوح کی خبریں دنیا بھر کے 146 اخبارات، نیوز ایجنسیوں، ٹی وی اور ریڈیو نے نشر کیں۔

(رپورٹ رشید احمد چوہدری، پریس سیکرٹری از الفضل انٹر نیشنل 14نومبر2003ء)

ii.مسجد بیت النور کیلگری کینیڈا کا افتتاح:
مسجد بیت النور کیلگری کینیڈا کو افتتاح کے موقع پروزیر اعظم کینیڈا Hon. Stephen Harper کے علاوہ Dr. Stephane Dion لیڈر آف لبرل پارٹی و اپوزیشن لیڈر ،9 شہروں کے میئرز، 11فیڈرل ممبرز پارلیمنٹ، 5صوبائی وزراء13کونسلرز، 9ڈپلومیٹس ، 11جج حضرات اور مختلف کالجز اور یونیورسٹیز کے پرنسپلز، پروفیسرز، اساتذہ اور وکلاء حضرات اور RCMP (فیڈرل پولیس) کے آفیسرز اور زندگی کے دیگر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات ایک بڑی تعداد میں شامل ہوئیں ۔

iii.بہادر چیمپئن
وزیر اعظم کینیڈا نے اپنے ایڈریس میں کہا کہ یہ مسجد کینیڈا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی احمدی بستے ہیں امن و آشتی کے ساتھ ان علاقوں میں سکون کی زندگی گزارتے ہیں۔ یہ جماعت Pluralism کی بہترین مثال ہے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ ہم حضرت اقدس کو آزادی مذہب کا پرچارک ہونے کا ایک بہادر چیمپئن قرار دیتے ہیں۔

(الفضل انٹر نیشنل 19ستمبر2008ءصفحہ11)

اس بہا در چیمپئن سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطاب میں فرمایا :
’’احمدیت کے سو سال سے زیادہ کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ ہماری مساجد کے مینار وہ نور کے مینار ہیں جہاں سے صرف محبت، امن اور حفاظت کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔‘‘

(الفضل انٹر نیشنل 26ستمبر 2008ء صفحہ16)

iv.مسجد خدیجہ برلن جرمنی کا افتتاح: 17اکتوبر 2008ء
’’میں نے مسجد دیکھی اور خلیفہ کا خطبہ سنا ہے۔ آج میری زندگی میں سب سے زیادہ خوشی کا دن ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے خلیفہ کو دیکھا ہے اور پھر بات بھی کی ہے۔ میرے کانوں نے خلیفہ کی آواز سن لی ہے۔ اب میں کسی وقت بھی مر جاؤں لیکن یہ خوشی میرے ساتھ رہے گی۔‘‘

(مسجد خدیجہ کے موقع پر ایک 76سالہ خاتون کے حضور انور سے ملاقات کے بعد دلی تأثرات۔الفضل انٹر نیشنل 12دسمبر 2008ء ص 1)

مسجد خدیجہ برلن کی افتتاحی تقریب کو دنیا بھر کے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نے غیر معمولی طور پر کوریج دی۔

v.مسجد المہدی بریڈ فورڈ UKکا افتتاح: 7نومبر 2008ء
’’جماعت احمدیہ ایک جما عت کی حیثیت سے ہمیشہ امن، پیار اور محبت کا پیغام پھیلاتی ہے۔ یہ مسجد ہمیشہ نیک کاموں کے لئے روشنی کا گھر رہے گی۔ یہاں سے ہمیشہ محبت، پیار ، صلح اور خیر کا پیغام جائے گا۔‘‘

(تقریب عشائیہ میں حضور انور کا نہایت پُر مغز اور جامع خطاب۔ الفضل انٹرنیشنل 12دسمبر 2008ء صفحہ16)

تقریب عشائیہ میں ڈپٹی لارڈ میئر بریڈ فورڈ ،ممبران پارلیمنٹ، مختلف مذاہب کے نمائندگان، ڈاکٹرز، پروفیسرز،وکلاء و دیگر متعدد سرکاری و غیر سرکاری شخصیات نے شمولیت کی اور جماعت کی قیام امن کی کوششوں کو سراہا۔ بریڈ فورڈ کے ممبر پارلیمنٹ نے جماعت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ: ’’آج اس تاریکی کے دور میں جماعت احمدیہ روشنی کی طرح ہے۔‘‘

(الفضل انٹر نیشنل 12دسمبر 2008ء صفحہ16)

بریڈ فورڈ کے ڈپٹی لارڈ میئر نے کہا کہ: ’’بریڈ فورڈ میں جماعت احمدیہ کا بہت مثبت کردار رہا ہے۔‘‘

(الفضل انٹر نیشنل 12دسمبر 2008ء صفحہ16)

vi.مسجد بیت الرحمان ویلنسیا (سپین) کا افتتاح: 29مارچ 2013ء
آج جماعت کا 200سے زائد ممالک میں قیام ہو چکا ہے۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں وہاں ’’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ کا پیغام پھیلاتے ہیں۔

(الفضل انٹر نیشنل 03مئی 2013ء (مسجد بیت الرحمان کے افتتاح کے موقع پر استقبالیہ تقریب میں حضور انور کا خطاب)

اس کے علاوہ حضور انور نے براعظم افریقہ، امریکہ، یورپ ، ایشیاء، آسٹریلیا اور مشرق بعید کے اپنے دورہ جات میں سینکڑوں مساجد کا بنفس نفیس افتتاح فرمایاجن میں سے کچھ کا ذکر دورہ جات کے باب میں کیا جا چکا ہے۔

vii.مسجد مبارک قادیان (1883)سے مسجد مبارک ابوجا نائیجیریا (2008) تک کا سفر:
مسجد مبارک قادیان وہ پہلی احمدیہ مسلم مسجد تھی جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1883ء میں تعمیر کروایا تھا۔ اس سلسلہ میں آپؑ کو کئی الہام بھی ہوئے۔ مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فیہ انہیں میں سے ایک تھا۔

اس واقعہ کے 125سال بعد 29اپریل 2008ء کو آپؑ کے پانچویں مظہر سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے نائیجیریا کے شہر ابوجا میں انتہائی خوبصورت مسجد کا افتتاح فرمایا جس کا نام مسجد مبارک رکھا گیا۔ یہ خلافت جوبلی سے قبل آخری مسجد تھی جس کا حضور انور نے افتتاح فرمایا۔

برطانیہ میں حضرت مصلح موعود ؓنے 1913 میں پہلے مبلغ اسلام حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ؓکو بھجوایا اسی وقت سے مسجد کے حصول کے لئے کوشش شروع ہو گئی۔ چنانچہ 1924 میں مسجد فضل کا سنگ بنیاد حضرت مصلح موعودؓنے ہندوستان سے انگلستان تشریف لا کر خصوصی دعاؤں کے ساتھ اپنے دست مبارک سے رکھا اور یہ اتنی بڑی خبر تھی کہ سارے انگلستان اور یورپ کے بڑے بڑے سب اخبارات نے اسے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا کیونکہ اس ذریعہ سے مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کی ایک بہت مؤثر مہم کا آغاز کر دیا گیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کام میں اس قدر برکت دی کہ آج برطانیہ میں جماعت احمدیہ کی 33مساجد میں نمازیں ادا ہو رہی ہیں اور ایک مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ ان میں سے 15 مساجد کا افتتاح حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے دست مبارک اور خصوصی دعاؤں کے ساتھ فرمایا۔

اور اس وقت جبکہ جماعت احمدیہ کو قائم ہوئے 130 سال ہو چکے ہیں، جولائی 2013ء تک پاکستان کے علاوہ جماعت احمدیہ کو کل 16787 مساجد خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کی توفیق ملی۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے: صرف خلافت خامسہ کے پہلے دس سال میں (2003-2013ء) محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے 3528 مساجد ملیں جن میں تقریباً 2000 سے زائد بنی بنائی مساجد ، ان میں سے بعض ان کے اماموں کے ساتھ ملیں۔

(یہ معلومات حضور انور ایدہ اللہ کے 2003ء سے 2013ء کے جلسہ ہائے سالانہ کے دوسرے روز کے خطابات سے اخذ کی گئی ہیں۔)

اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہر دورہ کے موقع پر ہی دنیا کے کئی ممالک میں کئی مسجد کا افتتاح ہو رہا ہوتا ہے۔

٭…٭…(باقی آئندہ۔ ان شاء اللہ )…٭…٭

(پروفیسر مجید احمد بشیر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اگست 2020