• 31 اکتوبر, 2020

مسیح و مہدی ایک لمبے اندھیرے زمانے کے بعد آمد

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق، غلامِ صادق، امام الزمان اور آپؐ کی پیشگوئیوں کے مطابق آنے والے مسیح و مہدی کو اللہ تعالیٰ نے ایک لمبے اندھیرے زمانے کے بعد بھیج کر ہم پر جو احسان کیا ہے اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے۔ اور شکر کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادہ کے اقوال، ارشادات اور تحریرات کو پڑھ کر غور کریں اور اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جو یہ فرمایا ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ (التوبۃ: 119) صادقین کے ساتھ ہو جاؤ۔ صادقین کی صحبت سے فیض پاؤ۔ اس کے سب سے خوبصورت نظارے تو ہمیں اُس وقت ملتے ہیں جب صحابہ رضوان اللہ علیہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے فیض پاتے ہوئے آپ کی مجالس اور صحبت کا بھر پور فائدہ اُٹھایا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پہنچائے۔ آپؐ کی مجالس کے تذکرے سنائے۔ آپؐ کی نصائح ہم تک پہنچائیں، پھر یہ دوسرا زمانہ ہے جس میں آپؐ کے غلامِ صادق کا ظہور ہوا۔ آپ علیہ السلام نے اسلام کی خوبصورت تعلیم اور قرآنِ کریم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بے شمار کتب تحریر فرمائیں۔ اسلام کی بالا دستی اور برتری دنیا پر ثابت کی۔ لیکن آپ کی بہت سی مجالس ایسی بھی ہیں جو صحابہ کے ساتھ لگتی تھیں۔ بعض چھوٹی، بعض بڑی اور بعض جلسوں کی تقاریر کی صورت میں ایسی بھی ہیں جو ان کتب میں نہیں ہیں، جن میں آپ کے صحابہ اس صحبت سے فیض پاتے تھے جو اس زمانے کے صادق اور غلامِ صادق کے وجود سے برکت یافتہ تھی۔ ان مجالس کو اُس زمانے میں جماعت کے اخباروں نے محفوظ کیا۔ کتنے خوش نصیب تھے وہ لوگ جنہوں نے امام الزمان کی مجالس سے فیض پایا اور صحبتِ صادقین کے قرآنی حکم پر عمل پیرا ہوئے۔ ہم اُس مجلس میں بیٹھنے والوں اور مختلف قسم کے سوال کرنے والوں اور پھر اُن پُرحکمت باتوں کو محفوظ کرنے والوں کے بھی شکر گزار ہیں کہ اُن کے ذریعہ سے آج سو سال گزرنے کے بعد بھی ہم ان باتوں کو پڑھ اور سُن سکتے ہیں۔ اور اِن کو سُن کر، پڑھ کر چشمِ تصور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلامِ صادق کی مجلس میں اپنے آپ کو بیٹھا ہوا محسوس کر سکتے ہیں۔ آج مَیں نے ایسی ہی مجالس میں سے نماز، دعا اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے ضمن میں آپ نے جو نصائح فرمائیں اُن میں سے چند ارشادات کو، چندنصائح کو لیا ہے۔

1907ء کے جلسے کی اپنی ایک تقریر میں جو ایک لمبی تقریر ہے، ایک جگہ دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ: ’’یاد رکھو کہ یہ جو خدا تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی ابتداء بھی دعا سے ہی کی ہے اور پھر اس کو ختم بھی دعا پرہی کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایسا کمزور ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر پاک ہو ہی نہیں سکتا۔ اور جب تک خدا تعالیٰ سے مدد اور نصرت نہ ملے یہ نیکی میں ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ سب مُردے ہیں مگر جس کو خدا زندہ کرے۔ اور سب گمراہ ہیں مگر جس کو خدا ہدایت دے۔ اور سب اندھے ہیں مگر جس کو خدا بینا کرے۔ غرض یہ سچی بات ہے کہ جب تک خدا کا فیض حاصل نہیں ہوتا تب تک دنیا کی محبت کا طوق گلے کا ہار رہتا ہے‘‘۔

(ملفوظات جلدنمبر 10صفحہ 62۔ مطبوعہ لندن ایڈیشن 1984ء)

یہ جو دنیا کی محبت کا پھندا پڑا ہوا ہے یہ گلے میں پڑا رہتا ہے۔ وہی اس سے خلاصی پاتے ہیں جن پر خدا اپنا فضل کرتا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ خدا کا فیض بھی دعا سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اگر فضل حاصل کرنا ہے تو اس کے لئے بھی دعا مانگو۔

پھر نماز میں وساوس کو دور کرنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ:
’’یہ کیا دعا ہے کہ مُنہ سے تو اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم (الفاتحہ: 6) کہتے رہے اور دل میں خیال رہا کہ فلاں سودا اس طرح کرنا ہے۔ فلاں چیز رہ گئی ہے۔ یہ کام یوں چاہئے تھا۔ اگر اس طرح ہو جائے تو پھر یوں کریں گے۔ یہ تو صرف عمر کا ضائع کرنا ہے۔ جب تک انسان کتاب اللہ کو مقدم نہیں کرتا اور اسی کے مطابق عمل درآمد نہیں کرتا تب تک اُس کی نمازیں محض وقت کا ضائع کرنا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلدنمبر 10صفحہ 63-62۔ مطبوعہ لندن ایڈیشن 1984ء) اس کے لئے پھر وہی آپ نے بتایا کہ دعا کرو۔

حضرت مصلح موعودؓ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک بزرگ تھے وہ کسی مسجد میں گئے۔ وہاں کا جو امام الصلوۃ تھا وہ نماز پڑھاتے ہوئے اپنے کاروبار کے متعلق سوچ رہا تھا کہ مَیں یہ مال امرتسر سے خرید لوں گا، پھر دہلی لے کر جاؤں گا۔ وہاں سے اتنا منافع کماؤں گا۔ پھر اس کو کلکتہ لے جاؤں گا وہاں سے اتنا منافع ہو گا۔ پھر آگے چلوں گا۔ تو وہ بزرگ جو پیچھے نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز توڑ دی اور علیحدہ ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ کشفی طور پر اُن کو اللہ تعالیٰ نے اُس کے امام کے دل کی حالت بتا دی۔ بعد میں مقتدیوں نے شکایت کی مولوی صاحب! اس نے آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھی، توڑ دی تھی۔ بڑے غصّہ میں انہوں نے پوچھا کہ بتاؤ کیا وجہ ہے؟ تم نے کیوں نماز توڑی؟ تمہیں پتہ ہے یہ کتنا گناہ ہے۔ اُس نے کہا مولوی صاحب! مَیں کمزور بوڑھا آدمی ہوں۔ آپ نے سفر شروع کیا امرتسر سے اور کلکتہ پہنچ گئے، ابھی آپ نے بخارا تک جانا تھا۔ مَیں اتنی دور آپ کے ساتھ نہیں جاسکتا۔ تو بعض دفعہ نماز پڑھانے والوں کا بھی یہ حال ہوتا ہے۔

پھر 1906ء کی ایک تقریر میں آپ فرماتے ہیں کہ:
’’نماز کیا ہے؟ یہ ایک دعا ہے جس میں پورا درد اور سوزش ہو۔ اسی لئے اس کا نام صلوٰۃ ہے۔ کیونکہ سوزش اور فرقت اور درد سے طلب کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بد ارادوں اور بُرے جذبات کو اندر سے دور کرے اور پاک محبت اس کی جگہ اپنے فیضِ عام کے ماتحت پیدا کر دے‘‘۔ فرمایا ’’صلوٰۃ کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ نِرے الفاظ اور دعا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ایک سوزش، رقّت اور درد ساتھ ہو۔ خدا تعالیٰ کسی دعا کو نہیں سنتاجب تک دعا کرنے والا موت تک نہ پہنچ جاوے۔ دعا مانگنا ایک مشکل امر ہے اور لوگ اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں۔ بہت سے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت فلاں امر کے لئے دعا کی تھی مگر اس کا اثر نہ ہوا اور اس طرح پر وہ خدا تعالیٰ سے بدظنّی کرتے ہیں اور مایوس ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ جب تک دعاکے لوازم ساتھ نہ ہوں وہ دعا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ دعا کے لوازم میں سے یہ ہے کہ دل پگھل جاوے اور روح پانی کی طرح حضرتِ احدیت کے آستانہ پر گرے اور ایک کرب اور اضطراب اس میں پیدا ہو اور ساتھ ہی انسان بے صبر اور جلد باز نہ ہوبلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ دعا میں لگا رہے۔ پھر توقع کی جاتی ہے کہ وہ دعا قبول ہو گی‘‘۔ فرمایا ’’نماز بڑی اعلیٰ درجہ کی دعا ہے مگر افسوس لوگ اس کی قدر نہیں جانتے اور اس کی حقیقت صرف اتنی ہی سمجھتے ہیں کہ رسمی طور پر قیام، رکوع، سجود کر لیا اور چند فقرے طوطے کی طرح رٹ لئے، خواہ اُسے سمجھیں یا نہ سمجھیں‘‘۔ فرمایا کہ ’’… یاد رکھو کہ ہمیں اور ہر ایک طالبِ حق کو نماز ایسی نعمت کے ہوتے ہوئے‘‘ (یعنی نماز جیسی نعمت کے ہوتے ہوئے) ’’کسی اور بدعت کی ضرورت نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی تکلیف یا ابتلا کو دیکھتے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جاتے تھے اور ہمارا اپنا اور اُن راستبازوں کا جو پہلے ہو گزرے ہیں ان سب کا تجربہ ہے کہ نماز سے بڑھ کر خدا کی طرف لے جانے والی کوئی چیز نہیں۔ جب انسان قیام کرتا ہے تو وہ ایک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے۔ ایک غلام جب اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ دست بستہ کھڑا ہوتا ہے۔ پھر رکوع بھی ادب ہے جو قیام سے بڑھ کر ہے اور سجدہ ادب کا انتہائی مقام ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو فنا کی حالت میں ڈال دیتا ہے اُس وقت سجدہ میں گر پڑتا ہے۔ افسوس اُن نادانوں اور دنیا پرستوں پر جو نماز کی ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور رکوع سجود پر اعتراض کرتے ہیں۔ یہ تو کمال درجہ کی خوبی کی باتیں ہیں۔ … جب تک انسان اُس عالم میں سے حصہ نہ لے جس سے نماز اپنی حد تک پہنچتی ہے تب تک انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ مگر جس شخص کا یقین خدا پر نہیں وہ نماز پر کس طرح یقین کر سکتا ہے‘‘۔

(ملفوظات جلدنمبر 9صفحہ 111-109۔ مطبوعہ لندن ایڈیشن 1984ء)

(خطبہ جمعہ 20؍ مئی 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2020