• 25 جون, 2024

راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو

لاک ڈاؤن کے دنوں میں ایک روز بس یونہی خیال آیا کہ ہر کام میں خدا کی حکمت ہوتی ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے۔ تویہ شعر زبان پر جاری ہوا۔

ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلاء ہو
راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو

بہر حال دماغ سوچتا رہا۔ بہت سے خیالات آئے۔ بہت غور کیا نقصان تو کوئی نظر نہیں آیا۔ فوائد ہی نظر آئے۔ نقصان تو تب ہوتا اگر ہم اپنے پیارے خلیفہ کی تصویر اور آواز نہ سن سکتے۔ یا براہ راست خطبہ جمعہ سننے سے محروم ہوجاتے مگر الحمدللّٰہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ اس لاک ڈاؤن کے فوائدا گرتفصیل سے لکھے جائیں تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا میں صرف ایک واقعہ بیان کرونگی۔ اور اس سے جوسبق حاصل ہوتا ہے وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

’’کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ’’یا‘‘ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘

یو کے میں میری بھتیجی کی شادی اپریل میں ہونا قرار پائی تھی۔ تاریخ طے کرنے کے ساتھ ہی دونوں خاندانوں میں بھر پور تیاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دونوں گھروں میں پہلے پہلے بچہ کی شادی تھی۔ اور یہ تو بہت ہی اہم ہوتی ہے۔ شادی کارڈ چھپوائے گئے تقسیم کرنے شروع کر دیئے۔ دونوں فیملیز نے دسمبر میں ہی رخصتی اور دعوت ولیمہ کے لئے ہال بک کروا لئے تھے۔ جو تقریباً چار، چارسو افراد کے لئے تھے۔ 16 مارچ کو میں بھی یو کے شادی میں شمولیت کے لئے پہنچ گئی۔ شاید میں نے اپنی پوری زندگی میں کسی شادی کے لئے اتنی بھر پور تیار ی نہیں کی تھی جتنی اس موقع پر کی۔ مگر وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔20 مارچ کو کر و ناوائریس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہو گیا۔ بارڈر بند فلائٹس بند تمام سرگرمیاں ختم۔ شادی کی تاریخ وقتی طور پر کینسل کر دی گئی اور عزیز و اقارب کو مطلع بھی کر دیا گیا۔

گھر جب روزانہ خبریں سنتے تو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا کہ یہ سلسلہ تو جلد ختم ہونے والا نہیں۔ رجسٹری آفس بھی بند ہوگیا اور لیٹر بھی آگیا۔تو اس موقع پر جبکہ ہر گھر مسجد بن چکا تھا۔ دعاؤں کا سلسلہ بہت زیادہ زور پکڑ گیا تو الله تعالیٰ نے فریقین کے دل میں ایک خواہش پیدا کی کہ اپنی دنیاوی خواہشات کو چھوڑو۔ وقت ضائع نہ کرو اور سادگی کے ساتھ مقررہ تاریخ پر رخصتی کر دو۔

اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فنا
ترک رضائے خویش پئے مرضئ خدا

دونوں طرف بچوں ( دلہا، ودلہن ) سے مشورہ کیا گیا تو دونوں نے بخوشی والدین کے فیصلے کوقبول کیا۔ جماعتی کارروائی کے بعد نکاح کی اجازت مل گئی جو کہ پہلے سے رخصتی کی مقررہ تاریخ تھی۔

4 افراد مسجد میں گئے۔ دلہا، ولی اور دو گواہ۔ نکاح ہوا اور اس کے بعد تین افرادو دلہن کے گھر رخصتی لینے آ گئے۔ دلہن آف وائٹ سادہ لباس میں ملبوس بغیر مہندی کے ہاتھ۔ ساده سا میک اَپ اور لائٹ سی جیولری۔ دلہا بجائے شیروانی اورٹر بن کے صرف کوٹ پتلون پہنے آیا۔ دونوں کو بٹھایا۔ دعا کی اور رخصت کر دیا۔

شادی ہوگئی۔ دلہن پیا دیس سدھارگئی۔ دل غمگین تھے، آنکھیں اشکبار تھیں۔بچی کی رخصتی کے موقع پر ایسا ہوتا ہے مگر اس موقع پر کچھ زیادہ ہی ہوا مگر آفرین ہے ان بچوں کے جنہوں نے ان حالات میں ایک بے مثال قربانی دے کر ایک لازوال داستان امر کر دی۔ جسے آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی کہ شادی کے لئے روایتی انداز میں سجا ہوا خوبصورت بیش قیمت سٹیج، ان کے جوڑے کے ہم رنگ شیروانی میں ملبوس دلہا، ایک مخصوص انداز میں دلہا دلہن کی اینٹری، چار سولوگوں کی موجودگی، چٹ پٹے کھانوں کا لمبا چوڑا menu، ویڈ یوگرافی یاoutdoor فوٹو شوٹ ضروری نہیں ہے۔ نکاح ضروری ہے۔ اور چار لوگوں کی موجودگی میں بھی رخصتی ہو جاتی ہے۔

الله تعالیٰ ہمیں دنیاوی خرافات سے بچا کر قرآن و سنت پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دین میں آسانیاں ہیں اور ہمیں ان آسانیوں کو اپنانے کی توفیق دے۔ آمین

(مسز نسیم مرزا۔یوکے)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اکتوبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ