• 1 دسمبر, 2020

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ نمونہ ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حوالہ پیش فرماتے ہیں:۔
اور توحید کو سمجھنے کے لئے جو دقتیں ہیں ان کا حل بھی ہمیں یہی بتاتا ہے۔ دقتیں دور کرنے کے لئے کوئی نمونہ ہونا چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ نمونہ ہے جس کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک فقرے میں یوں بیان فرمایا تھا کہ کَانَ خُلُقُہٗ الْقُرْآن

(مسند احمد بن حنبل جلد8 صفحہ 144 مسند عائشۃؓ حدیث25108 مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

اس ایک فقرے میں توحید کا اعلیٰ معیار بھی بیان ہو گیا۔ احکام قرآن کا عملی نمونے کا معیار بھی قائم ہو گیا اور احکامات کی تفصیل بھی سامنے آ گئی۔ پس جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لیا اس نے خدا تعالیٰ کو سمجھ لیا اور جس نے خدا تعالیٰ کو سمجھ لیا اس نے سب کچھ ہی سمجھ لیا کیونکہ شرک ہی تمام بدیوں، غفلتوں اور گناہوں کی جڑ ہے اور توحید پر قائم ہونے کے بعد انسان میں اعلیٰ اخلاق، علم، عرفان، تمدن، سیاست، دوسرے فنون میں کمال، سب ہی کچھ آ جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نور ایک تریاق ہے جس میں تمام امراض کا علاج ہے۔ پس ہمارا ماٹو جو خود بخود خدا تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے۔ باقی تفصیلات ہیں جو نصیحت کے طور پر کام آ سکتی ہیں۔ اس زمانے میں چونکہ دجال اپنی تمام طاقت کے ساتھ دنیا میں رونما ہوا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ میں دنیا کو دین پر مقدم رکھوں گا۔ یہ دجال کا مقصد ہے کہ دنیا کو دین پر مقدم کرنا ہے۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کے مقابل پر ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا نعرہ لگائیں۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی شرائط بیعت میں یہ فقرہ شامل فرمایا ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ اپنے اوپر ہم دین کی تعلیم لاگو رکھیں گے اور ہر مخالف کے اعتراض کے مقابل پر اسلام کا خوبصورت چہرہ دکھائیں گے اور یہ سب اس لئے کہ ہم لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہ کو دنیا میں قائم کرنے والے بنیں۔ ہم نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت اس مقصد کے حصول کے لئے کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً یہ فرمایا تھا کہ خُذُوْا التَوْحِیْد التوحید یَااَبْنَاءَ الفارس۔ (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد1 صفحہ267) یعنی کہ اے ابنائے فارس! توحید کو مضبوطی سے پکڑو۔ ابنائے فارس سے مراد صرف آپ کا خاندان ہی نہیں ہے بلکہ تمام جماعت روحانی لحاظ سے ابنائے فارس کے ماتحت آتی ہے اور یہ حکم تمام جماعت کے لئے ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ مصیبت کے وقت انسان کسی خاص چیز کو پکڑتا ہے۔ فرمایا کہ تم مصائب کے وقت توحید کو پکڑ لیا کرو کہ اس کے اندر باقی تمام چیزیں ہیں۔ پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ماٹو کو ہر وقت اپنے سامنے رکھیں۔

(ماخوذ از خطبات محمود جلد17 صفحہ 570 تا 571 خطبہ جمعہ فرمودہ 28؍ اگست 1936ء)

آج جبکہ شرک کے ساتھ دہریت بھی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے بلکہ دہریت بھی شرک کی ایک قسم ہے یا شرک دہریت کی قسم ہے۔ ہم اپنے آپ کو ایک نعرے پر محدود کر کے اور اس پر اکتفا کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے نہیں بن سکتے۔ نہ ہی ہم انسانیت کی خدمت کے زعم میں اپنی نمازوں اور عبادتوں کو چھوڑ سکتے ہیں۔ جو ایسا کرتا ہے یا کہتا ہے اس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ پس ہمیں اپنے حقیقی مطمح نظر اور مقصود کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم تمام دینی و دنیاوی انعامات کے حاصل کرنے والے بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(خطبہ جمعہ 9؍ مئی 2014ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 نومبر 2020