• 16 جنوری, 2021

حضرت چودھری غلام احمد صاحب کاہلوں رضی اللہ عنہ

تعارف صحابہؓ
حضرت چودھری غلام احمد صاحب کاہلوں رضی اللہ عنہ

حضرت چودھری غلام احمد صاحب رضی اللہ عنہ ولد چودھری علی محمدصاحب چہور کاہلواں تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ کےمشہور کاہلوں خاندان کے نمایاں فرد تھے اور سلسلہ احمدیہ کے مخلص خادم تھے۔ آپ بی اے پاس تھے اور بطور انسپکٹر ڈاک خانہ جات مختلف جگہوں پر ملازم رہے۔ آپ کی بیعت کا سال معلوم نہیں۔ کتاب تریاق القلوب(1899ء) میں پیشگوئی لیکھرام کی صداقت میں لکھے جانے والے مصدقین کے اسماء میں 94 نمبر پر ’’غلام احمد صاحب متعلم بی اے کلاس مشن کالج لاہور‘‘ درج ہے ، یہ اغلبًا آپ ہی ہیں۔ اس سے آگے 95 نمبر پر حضرت چودھری غلام حسن باجوہ صاحبؓ آف تلونڈی عنایت خان ضلع سیالکوٹ کا ذکر ہے، وہ بھی اس وقت مشن کالج لاہور میں سٹوڈنٹ تھے۔ (روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 184) آپ کے بیٹے محترم چودھری بشیر احمد صاحب نے اپنی پیدائش 1899ء یا 1900ء بتائی ہے اور اپنے آپ کو پیدائشی احمدی لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت تک آپ بیعت میں آ چکے تھے۔ محترم چودھری بشیر احمد صاحب مزید بیان کرتے ہیں: ’’میں اپنے والد صاحب مرحوم ،والدہ صاحبہ مرحومہ و دادی صاحبہ مرحومہ کے ساتھ قادیان آیا تھا۔ میرے والد صاحب، میری والدہ صاحبہ و دادی صاحبہ کو بیعت کرانے کے لئے اس موقع پر قادیان آئے تھے جس وقت میری والدہ صاحبہ اور دادی صاحبہ نے بیعت کی ہے۔ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ حضور کا لباس تقریباً وہی تھا جو فوٹو میں ہے۔ بیعت لیتے وقت حضور پنڈلی پر ہاتھ پھیرتے تھے۔ اس موقع پر حضور نے زنان خانہ میں ہی شام کی نماز کرائی تھی جس میں مستورات کے ہمراہ میں بھی شامل ہوا تھا۔ نماز ایک بڑے تخت پوش پر کرائی تھی۔ پچھلے پہر کا وقت تھا کہ میں اپنی والدہ صاحبہ اور دادی صاحبہ کے ہمراہ حضور کے مکان میں تھا اس وقت حضور ٹہل رہے تھے۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہ نمبر 2 صفحہ 70) آپ حضرت چودھری تاج محمد کاہلوں صاحبؓ (والد محترم چودھری شاہ نواز صاحب مالک شیزان انٹرنیشنل و شاہ نواز لمیٹڈ وغیرہ) کے چھوٹے بھائی تھے۔

قبول احمدیت کے بعد بڑے اخلاص اور جوش کے ساتھ سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ میں کوشاں رہے، بطور انسپکٹر ڈاک خانہ جات مختلف جگہوں پر متعین رہے اور احمدیت کا عمدہ نمونہ بن کر رہے ۔ حضرت چودھری نبی بخش صاحب رضی اللہ عنہ آف چونڈہ ضلع سیالکوٹ (بیعت: 1905ء۔ وفات: 1940ء) بیان کرتے ہیں: ’’…میں کرتاہ میں نائب تحصیلدار تھا اور وہاں چوہدری غلام احمد صاحب انسپکٹر ڈاکخانہ میرے پاس آیا کرتے تھے۔ چونکہ ہم ہموطن تھے اس لئے وہ میرے پاس ہی آکر قیام کیا کرتے تھے، وہ احمدی تھے، مجھے تبلیغ بھی کرتے تھے اور رسالہ ریویو آف ریلیجنز مطالعہ کے لئے دیا کرتے تھے۔ اس رسالہ نے بھی مجھ پر خاص اثر کیا تھا…اس کے بعد میں نے بذریعہ خط بیعت کر لی۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہ نمبر 10 صفحہ 201) اخبار الحکم 24؍نومبر 1905ء صفحہ 1 پر آپ کے قادیان آنے کے ارادے کی خبر یوں درج ہے: ’’ایسا ہی چودھری غلام احمد صاحب بی اے انسپکٹر ڈاکخانہ جات ایک ماہ کے لیے رخصت لے کر یہاں آنے والے ہیں۔‘‘ جس سے آپ کے شوق زیارت و صحبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا علم ہوتا ہے۔ سلسلہ احمدیہ کی تحریکات اور ضروریات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ بیان کرتے ہیں: ’’…. جب الحکم کے لیے کوئی تحریک میں نے کی، سب سے اول عملی جواب دینے والوں میں وہ ہوتے تھے یا مخدومی چوہدری رستم علی خاں صاحب…. چوہدری غلام احمد خان صاحب انسپکٹر ڈاک خانہ جات عزیز مکرم چوہدری بشیر احمد خاں صاحب سب جج کے والد محترم۔‘‘

(الحکم 21؍جنوری 1937ء صفحہ 4،5)

1909ء کے اواخر میں آپ کا تبادلہ دہلی سے لورالائی (بلوچستان) ہوگیا ، یہ ایسی جگہ تھی جہاں احمدیوں کی تعداد کم اور فاصلے دور ہونے کی وجہ سے ابھی احمدیہ انجمن کا قیام بھی عمل میں نہیں آیا تھا۔ آپ نے بذریعہ اخبار اعلان کر کے بلوچستان میں انجمن احمدیہ کے قیام اور احمدیوں کو آپس میں مربوط کرنے کی کوشش کی، ساتھ ہی جن احباب کے متعلق آپ کو علم ہوا اُن کو انفرادی بھی خطوط لکھ کر اس کام کی اطلاع دی، اس سلسلے میں آپ کا خط اخبار الحکم میں یوں درج ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہٗ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ۔ برادران! میں ستمبر گذشتہ سے دہلی سے تبدیل ہوکر بلوچستان میں آیا ہوں ۔ مجھے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں منسلک ہونے کا فخر مدت سے حاصل ہے مگر یہ معلوم کر کے کہ بلوچستان میں کسی جگہ انجمن احمدیہ باقاعدہ نہیں ہے اور اس علاقہ میں احمدی احباب بھی بہت ہی کم ہیں، افسوس ہوا ہے۔ تاریخ آمد سے ہی میرے دل میں یہ خیال جوش زن ہے کہ اگر جگہ جگہ نہیں تو کم از کم بلوچستان کے لیے ایک باقاعدہ انجمن احمدیہ قائم کی جاوے اور کل احمدی احباب موجودہ علاقہ بلوچستان کی ایک مکمل فہرست تیار کی جاوے اور جو فوائد اس سے مترتب ہوسکتے ہیں ان کے حصول کی سعی کی جاوے۔ اب تک مجھے صرف چند احمدی احباب مندرجہ فہرست مشمولہ کے علاقہ بلوچستان میں ہونے کا پتہ لگا ہے اور ان میں سے ہر ایک کی خدمت میں چٹھی ہذا کی ایک نقل بھیجی جاتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ہر ایک بھائی اس معاملہ میں اپنی رائے سے مجھے بواپسی مطلع فرماوے گا کہ کیا کرنا چاہیے، انجمن کا صدر مقام کہاں ہو اور کارکن کون ؟ انجمن مجوزہ کو کامیاب بنانے کے لیے ایک مخلص اور پُر جوش سکرٹری کی ضرورت ہے جو کسی صدر مقام پر رہائش رکھتا ہو اور خط و کتابت انجمن کے لیے اس کے پاس کافی وقت بھی ہو ….. جو بھائی سیکرٹری کا کام کرنے کے اہل ہوں وہ اس بار کو اٹھانے کی آمادگی ظاہر فرماویں۔ مَیں خود اس عہدہ جلیلہ کے فرائض بجا لانا اپنا فخر سمجھتا مگر معذور ہوں، نہایت عدیم الفرصت اور ہمیشہ خانہ بدوش ہوں۔ میرا ہیڈ کوارٹر برائے نام لورالائی میں مقرر ہے مگر دو دو مہینے تک مجھے ہیڈ کوارٹر پر واپس آنا نصیب نہیں ہوتا، تین ضلعوں ژوب، لورالائی اور سبی میں دورہ کرنا پڑتا ہے۔ البتہ سیکرٹری کو ہر طرح سے مدد دینے کے لیے جہاں تک میری طاقت میں ہوگا تیار ہوں گا۔ آپ کے جواب کا منتظر غلام احمد انسپکٹر ڈاکخانہ جات مشرقی بلوچستان لورالائی‘‘

(الحکم 28؍دسمبر 1909ء صفحہ 5)

ابھی آپ لورالائی میں ہی تھے کہ آپ کی اہلیہ حضرت ریشم بی بی صاحبہ (صحابیہ) 4؍مئی 1911ء کو وفات پاگئیں، اخبار الحکم لکھتا ہے: ’’ناظرین الحکم چودھری غلام احمد صاحب بی اے انسپکٹر ڈاکخانہ جات لورالائی کے نام سے خوب واقف ہیں۔ چودھری صاحب سلسلہ کے ایک نہایت مخلص اور سرگرم فدائی ہیں ، جہاں وہ اپنے فرض منصبی کو نہایت دیانت داری اور مستعدی سے ادا کرنے میں مشہور ہیں اور ان کے آفیسر ہمیشہ ان سے خوش رہتے ہیں وہاں وہ اپنی نیکی، طہارت اور خدا تعالیٰ سے سچے تعلق کے ایک درخشندہ نمونے ہیں، اشاعت سلسلہ کے لیے ایک پُر جوش اور درد مند دل پہلو میں رکھتے ہیں۔ 4؍مئی 1911ء کو چودھری صاحب کی مونس و غمگسار بیوی مردہ بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے فوت ہوگئی۔ مرحومہ چودھری صاحب کے نیک ارادوں اور دینی خدمات میں ان کی حوصلہ افزا محرک تھیں۔ یہ صدمہ چودھری صاحب کے لیے بڑا صدمہ ہے مگر خدا کے فضل سے بڑے صدمات کے برداشت کرنے اور رضا بالقضا پر اجر بھی بڑے ہوتے ہیں۔ مرحومہ نے اپنی یادگار چار بچے چھوڑے ہیں جن میں سے بڑا لڑکا بشیر احمد تعلیم الاسلام سکول میں پڑھتا ہے۔ چودھری صاحب کے اس غم میں کل قوم ان سے ہمدردی رکھتی ہے۔ حضرت اقدس نے جنازہ غائب کا حکم دیا ہے ، سب احباب جنازہ غائب پڑھ دیں ۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جواررحمت میں جگہ دے اور اپنی رضا کے مقام پر اٹھائے ، چودھری صاحب اور اُن کے بچوں کو صبر کی توفیق دے، آمین۔‘‘

(الحکم 14؍مئی 1911ء صفحہ 9 کالم 3)

اس بڑے صدمہ کے بعد آپ کی تعیناتی پھر پنجاب ہوگئی اور آپ جالندھر چھاؤنی میں متعین ہوئے۔ ابھی آپ کی اہلیہ کی وفات کو قریبا ًڈیڑھ سال کا عرصہ ہی گذرا تھا کہ تقدیر کی طرف سے آپ کا بھی بلاوا آگیا اور محض 36 سال کی عمر میں آپ نے 16؍اکتوبر 1912ء کو وفات پائی اور بوجہ موصی (وصیت نمبر 493) ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔ الحکم نے خبر وفات دیتے ہوئے لکھا: ’’نہایت افسوس اور دلی رنج سے لکھا جاتا ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ایک مخلص اور سرگرم قابل نوجوان چودھری غلام احمد صاحب بی اے پوسٹ ماسٹر جالندھر چھاؤنی نے 16؍اکتوبر 1912ء کو بعارضہ جنون انتقال کیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحوم سلسلہ کا ایک قابل قدر رکن تھا، اشاعت و تبلیغ کے لیے خدا تعالیٰ نے اسے ایک خاص جوش اور قوت عطا کی تھی۔ الحکم کے ساتھ انھیں ایک خاص انس اور محبت تھی۔ غرض مرنے والے میں بہت سی خوبیاں تھیں۔ مرحوم نے اپنی یادگار تین بیٹے اور ایک لڑکی چھوڑی ہے جو نابالغ ہیں۔ احمدی جماعتوں سے درخواست ہے کہ چودھری صاحب مرحوم کا جنازہ غائب پڑھا جاوے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماوے، آمین۔ چونکہ چودھری صاحب کو الحکم کے ساتھ خاص محبت تھی اس لیے میں کسی ایسے شخص کے نام جو اخبار کی قیمت ادا نہ کر سکتا ہو ان کی یادگار میں مفت ایک پرچہ جاری کروں گا۔‘‘ (الحکم 7؍نومبر 1912ء صفحہ2) اخبار بدر 24؍اکتوبر 1912ء صفحہ 2 پر بھی درخواست جنازہ کا اعلان موجود ہے۔

آپ کی اولاد میں تین بیٹے محترم چودھری بشیر احمد صاحب کاہلوں صاحب، مکرم چودھری رشید احمد کاہلوں صاحب کراچی (وفات: 5؍جون 2002ء مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) مکرم چوہدری نصیر احمد کاہلوں صاحب اور ایک بیٹی محترمہ زینب بی بی صاحبہ ڈسکہ (وفات: 7؍فروری 1972ء مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) اہلیہ مکرم چوہدری شکر اللہ خان صاحب (برادر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ) تھے۔

بڑے بیٹے حضرت چوہدری بشیر احمد کاہلوں صاحب کو بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ قادیان جانے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کرنے کا شرف حاصل تھا۔ آپ حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ کے بچپن کے دوست تھے۔ آپ نے بی اے کے بعد ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا اور وکالت کی پریکٹس کرتے رہے۔ 1931ء میں جج مقرر ہوئے۔ تقسیم ملک کے بعد کراچی میں بطور نائب امیر خدمت کی توفیق پائی۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ نے اپنی کتاب ’’تحدیث نعمت‘‘ میں آپ کا متعدد جگہ پر ذکر فرمایا ہے۔ ایک جگہ پر 1921ء میں قادیان میں غیر احمدی مولویوں کے ایک جلسہ کے ضمن میں حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’حضورؓ نے فرمایا کہ بعض مقامات پر انتظام کی مضبوطی کی ضرورت ہے جس کے لیے ارد گرد کے علاقے سے جماعتوں کے کچھ افراد کو بلانا ہوگا اور حضورؓ نے مشورہ طلب کیا کہ کون مستعد قابلِ اعتماد صاحب خرم و احتیاط نوجوان میسر آ سکتا ہے جو حضورؓ کا ارشاد جیسے اسے سمجھا دیا جائے، جماعتوں تک پہنچاوے۔ دو تین نام حضورؓ کی خدمت میں پیش گئے لیکن حضورؓ مطمئن معلوم نہ ہوئے۔ میں نے چوہدری بشیر احمد صاحب کا نام پیش کیا، فرمایا وہ ٹھیک ہیں۔ رات کے تین بجے کا وقت تھا چوہدری بشیر احمد صاحب کو طلب فرمایا اور تفصیلی ہدایات دیں۔ چار بجے کے قریب چوہدری صاحب دارالامان سے گھوڑے پر نکلے اور جو اُمور اُن کو تفویض کیے گئے تھے سب کی انجام دہی کے بعد ایک گھنٹہ قبل دوپہر واپس پہنچ کر حضورؓ کی خدمت میں رپورٹ پیش کردی۔ اس عرصے میں وہ گھوڑے پر سے نہیں اترے، موضع بھنگواں یعنی ننہال میں گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے ہی ناشتہ کر لیا۔ فجزاہ اللہ۔‘‘

(تحدیث نعمت صفحہ 215)

آپ نے 16؍نومبر 1985ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔آپ کے بیٹے مکرم چوہدری انور احمد کاہلوں صاحب جماعت احمدیہ برطانیہ کے امیر رہے۔

(مرسلہ: غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 جنوری 2021