• 3 اگست, 2020

دینی کاموں میں نظام اخوت

اخوت و مساوات اساس ہے مذہب کی اور خدا کی توحید و وحدانیت کی۔ یہ وہ نظریہ حیات ہے جو رنگ و نسل سے بالا، قومیت اور وطنیت کے امتیاز سے پاک اور احترام آدمیت کا علمبردار ہے اور یہی مرکزی نکتہ ہے جو تمام انسانوں کو بلا مذہب و ملت ایک لڑی میں پروتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿۱۴﴾

(الحجرات:14)

ترجمہ: اے لوگو! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلا شبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متّقی ہے۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) ہمیشہ باخبر ہے۔

آنحضورﷺ نے فرمایا: ’’تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو عجمی پراور گورے کو کالے پر فوقیت نہیں ما سوائے تقویٰ کے۔‘‘

(قرطبی)(بیہقی۔شعب الایمان 5137)

اسلام سے قبل معاشرہ خلفشار اور منانقشت کا شکار تھا۔ ہر طرف ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْر کا دور دورہ تھا۔ احترام آدمیت کا نام ونشان تک نہ تھا۔ مگر آنحضور ﷺ کی بعثت کے بعد اسی معاشرہ میں بسنے والے لوگ بااخلاق ہوتے گئے، باخدا بنے اور خدا نما ہوتے گئے۔ طبقاتی نظام ختم ہوا اور آنحضور ﷺ نے ان تمام کو بھائی بھائی بنا دیا۔ آپؐ فرماتے ہیں۔ اِنَّ الْعِبَادَۃَ کُلُّہُمْ اِخْوَۃٌ (مسند احمد) کہ تمام لوگ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ حتیٰ کہ غلاموں کو بھی بھائی بنا یا اور کہا گیا کہ ان کو وہی کھانا کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ ان کو وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔ اور فرمایا حَتّٰی یُحِبُّ لِاَ خِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ اور خود ہمارے پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے متعلق فرمایا کہ وَابْغُوْنِیْ فِی الْضُعَفَاء کہ مجھے غرباء اورکمزوروں میں تلاشی کرو آپؐ اس عورت کی قبر پر بھی پہنچ گئے۔ جو مسجد کے صحن میں جھاڑو لگاتی تھی اور آنحضورﷺ کی سیکیورٹی کے پیش نظر اسے رات کے اندھیرے میں دفن کر دیا تھا اور ایک دفعہ تو آنحضورﷺ نے ایک غریب کی آنکھیں پیچھے سے بھینچ دیں۔ اس کے بھانپنے پروہ اپنا جسم آنحضور ﷺ کے جسم کے ساتھ برکت کی خاطر رگڑنے لگا۔ آپؐ نے جب اخوت کا نظام جاری فرمایا تو انصارصحابہؓ نے مہاجر صحابہؓ کے لئے بے مثال قربانیاں دیں۔ ان کو اپنے اموال اور جائیداد میں حصہ دار قرار دے دیا۔

آج ضرورت اس امرکی ہےکہ ہم بھی صحابہؓ رسولؐ کے اسوہ اور طریق کو اپناتے ہوئے آپس میں اخوت اور بھائی چارہ کے نظام کو فروغ دیں۔ ایک دوسرے کے لئے قربانی کرناسیکھیں۔ ایک دوسرے کے لئے ایثار کرنا سیکھیں۔

اس نظام کو روحانی طور پر بھی ہم آپس میں فروغ دے سکتے ہیں۔ جیسے نمازوں میں جو سست ہیں ان کی ایسے افراد کے ساتھ اخوت قائم کی جا سکتی ہیں جو نمازی ہیں۔ گاڑی رکھنے والے افرادنمازوں میں سست افراد کو ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ یہ اخوت تلاوت قرآن کریم میں قائم ہو سکتی ہے،نفلی روزوں میں ہو سکتی ہ، حتیٰ کہ روزنامہ الفضل لندن آن لائن میں کی جا سکتی ہے۔ جو ایسے احمدی کو اخبار پڑھائے، پڑھ کر سنائے۔ ویب سائٹ یا ایپ سے آگاہ کرے یا ہر احمدی اس اہم روحانی نہر سے فائدہ اٹھا سکے۔

یہاں احمدی احباب کے استفادہ کے لئے ویب اورایپ وغیرہ کی تفصیل دی جارہی ہیں۔

پچھلا پڑھیں

سالانہ تقریب تقسیم انعامات و اسناد جامعہ احمدیہ تنزانیہ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 فروری 2020