• 15 اپریل, 2024

جماعت احمدیہ فلپائن کی تبلیغی و تربیتی سرگرمیاں

جماعت احمدیہ فلپائن کو اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں متعدد تبلیغی و تربیتی پروگراموں، نیز متعدد جماعتوں کے دورہ جات کی توفیق ملی۔

نیشنل اور لوکل مجلس عاملہ کا ریفریشر کورس

جماعت احمدیہ فلپائن کو 7 تا 9؍اکتوبر 2022ء کو لوکل مجلس عاملہ کے ممبران کے لئے نیشنل ریفریشر کورس کے انعقاد کی توفیق ملی۔ اس سے پہلے اگست میں نیشنل عاملہ کے ممبران کا ریفریشر کورس رکھا گیا تھا۔ اس بار تمام لوکل جماعتوں کی مجالس عاملہ کوریفریشر کورس کے لئے زمبوآنگا (شہر)مدعو کیا گیا۔ 7؍ اکتوبر 2022ء کو نماز جمعہ کے بعد پروگرام کا آغاز ہوا۔ خاکسار نے افتتاحی خطاب میں حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات کی روشنی میں عہدیداران کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ بعد ازاں پہلے سیشن میں نظام خلافت کی اہمیت و برکات پر تقریر ہوئی۔ اس کے بعد نظام جماعت کی اہمیت و افادیت پر تقریر ہوئی اور اس میں جماعت احمدیہ کے انٹرنیشنل، نیشنل اور لوکل سطح پر موجود انتظامی ڈھانچے کا تعارف کروایا گیا، نیز ذیلی تنظیموں کا بھی تعارف کروایا گیا۔ اگلے روز نیشنل عہدیداران نے اپنے اپنے شعبوں کا تعارف کروایا نیز لوکل عہدیداران کے سامنے اس ٹرم کے لائحہ عمل اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا ذکر کیا اور اس ضمن میں لوکل عہدیداران کی ذمہ داریوں کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ ماہانہ رپورٹ فارم اور مال کے گوشواروں کا تعارف اور وقت پر بھر کر بھجوانے کے بارے میں رہنمائی کی گئی۔ یہ پروگرام صبح 10 بجے سے لے کر مغرب تک جاری رہا اور درمیان میں نماز اور کھانے کا وقفہ لیا گیا۔ آخری روز گزشتہ دن کے رہ جانے والے شعبہ جات کو مکمل کیا گیا اور بعد ازاں نیشنل عاملہ کی میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ لوکل عاملہ کے ممبران کو بھی بطور ناظرین عاملہ میٹنگ میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تا لوکل لیول پر عاملہ میٹنگ کے انعقاد کا طریق سیکھ سکیں۔ نیز بعض معاملات میں اجازت کے ساتھ لوکل عاملہ کے ممبران سے مشورہ بھی کی گیا۔ اتوار 9؍اکتوبر 2022ء کو مغرب کی نماز کے ساتھ یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

جماعتوں کے دورہ جات

نیشنل سطح پر تین رکنی ٹیم جس میں مکرم عبدالمخلص صاحب (لوکل مشنری و نائب صدر فلپائن)، مکرم فیلان ہیڈنگ صاحب (لوکل معلم و نیشنل سیکرٹری تبلیغ) اور خاکسار شامل تھے، نے جماعت احمدیہ فلپائن کی مختلف جماعتوں کے دورے کیے اور متعدد تبلیغی و تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا۔

ہولو، سولو (Jolo, Sulu)

دورے کا آغاز ہولو جماعت سے ہوا۔ ہولو ، سُولو کے صوبے میں واقع ایک شہر ہے۔ اس شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے شدت پسند تنظیمیں متحرک ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقہ غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے مگر فی الحال حالات نسبتًا بہتر ہونے کے سبب کچھ غور و خوض کے بعد اس شہر کے دورے سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ 18؍اکتوبر کو مغرب کے وقت وفد زمبوآنگا سے بذریعہ بحری جہاز روانہ ہوا اور اگلے روز صبح 8 بجے کے قریب ہولو پہنچے۔صبح دس بجے لوکل جماعت نے مشن ہاؤس میں جلسہ سیرت النبی کا انعقاد کیا ہوا تھا۔ جلسے میں تقریبًا 50 سے زائد احمدی اور غیر احمدی احباب موجود تھے۔ تقاریر کے علاوہ بعد ازاں سوال و جواب کی محفل منعقد ہوئی جس میں غیر از جماعت دوستوں نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نیز جماعت کے دیگر عقائد کے بارے میں سوالات کئے۔

دوپہر کو اس صوبے اور ملحقہ صوبوں کے فوج کے ڈویژن سے ملاقات طے تھی۔ میٹنگ میں کمانڈر کے علاوہ، سویلین انچارج اور فوج کے امام بھی شامل تھے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، یہ میٹنگ دو گھنٹے تک چلی جس میں جماعت کے تعارف کے ساتھ ساتھ جماعت احمدیہ کی ملک میں امن کے قیام کے لئے کوششوں اور مستقبل میں تعاون کے بارے میں بات چیت ہوتی رہی۔ فوج کے افسران کو حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کتاب عالمی بحران اور امن کی راہ تحفۃً پیش کی گئی نیز فوج کی طرف سے بھی تحائف دیے گئے۔

اس کے بعد اس جزیرہ کے ایک دوسرے کونے میں موجود احمدی احباب سے ملاقات کے لئے گئے اور اس علاقہ کے لوکل کاؤنسلر سے ملاقات کی اور انہیں بھی جماعت کا تعارف کروایا۔ رات کو مغرب اور عشاء کی نماز کے لئے مشن ہاؤس واپس آئے اور عشاء کی نماز کے بعد لوکل مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد کیا گیا۔

پندامی، سولو (Pandami, Sulu)

اگلے روز سولو صوبے کے ہی ایک اور جزیرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ کشتی پر جگہ نہ ملنے کے باعث عرشہ پر ہی بیٹھ کر 6 گھنٹے کا سفر مکمل کیا۔ پندامی میں وفد نے تین روز قیام کیا۔ اس دوران نماز جمعہ کی ادائیگی کے علاوہ لوکل ممبران خاص طور پر نو مبائعین سے گھروں پر جا کر ملاقات کی گئی نیز ان علاقوں کا بھی دورہ کیا گیا جہاں مزید تعمیراتی کاموں کا ارادہ ہے۔ اسی طرح بعض ایسے دوستوں سے بھی ملاقات کی گئی جن کا بوجوہ جماعت سے رابطہ منقطع ہو چکا تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، ان ملاقاتوں کا بہت اچھا اثر ہوا اور یہ دوست نہ صرف اسی وقت سے جماعتی دوروں میں شامل ہونے لگ گئے بلکہ وفد کے جانے کے بعد بھی فعّال ہیں اور تحریکات اور پروگراموں میں شامل ہو رہے ہیں۔

اس علاقہ میں جماعت کا مشن ہاؤس سگان گانگ نامی علاقہ میں ہے مگر گزشتہ سال دو نئے علاقوں میں بھی بیعتیں ہوئی ہیں۔ ان دو علاقوں کے دورے کئے اور ان میں سے ایک علاقہ نیوگ نیوگ میں تبلیغی و تربیتی نشست کا انعقاد کیا۔ سوال جواب کی نشست میں اکثر سوالات توحید باری تعالیٰ کے بارے میں ہوئے اور انہیں مشرکانہ رسوم و رواج ترک کرنے کی تلقین کی گئی۔ احمدیت کے بارے میں بھی لیکچر ہوئے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ 5 مزید افراد کو بیعت کرنے کی توفیق ملی۔

سمیونول، تاوی تاوی
(Simunul, Tawi-Tawi)

پندامی سے وفد تاوی تاوی کے صوبے روانہ ہوا اور بحری جہاز پر تمام رات سفر کر کے اگلے روز بنگاؤ پہنچا اور وہاں سے چھوٹی کشتی پر سمیونول۔ سمیونول کا جزیرہ فلپائن میں باب الاسلام کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ عمومی طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ پہلے عرب تاجر یہیں آئے تھے اور مقامی لوگوں کو تبلیغ کر کے ان سے شادیاں کی اور یہیں آباد ہو گئے۔ سمیونول کی جماعت فلپائن کی دوسری سب سے پرانی جماعت ہے اور اوّلین مبلغین یہیں آ کر قیام کرتے تھے۔ یہاں دو دن رکنے کا پروگرام تھا۔ پہلے روز پہنچتے ہی دو تبلیغی نشستیں تھیں۔ پہلی تبلیغی نشست میں علاقہ کے معززین کو مدعو کیا گیا تھا اور جماعت احمدیہ کے تعارف کے بعد سوال جواب کا موقع دیا گیا۔ یہ پروگرام دو گھنٹے سے زائد جاری رہا اور اس میں 35 سے زائد غیر احمدی افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں ظہر کی نماز پڑھی گئی۔ عصر کی نماز کے بعد ایک اور تبلیغی نشست تھی جس میں نوجوانوں کی تنظیموں کے سربراہان کو مدعو کیا گیا تھا۔

شام کو عشاء کی نماز کے بعد لوکل جماعت کے جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں تلاوت اور نظم کے بعد آنحضرتﷺ کے شمائل کا مؤثر رنگ میں ذکر کیا گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، احباب جماعت نے تقاریر کا اچھا اثر لیا۔ اگلے روز باجماعت نماز تہجد سے دن کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں وفد نے احباب جماعت کے گھروں میں جا کر ان سے ملاقاتیں کیں خاص طور پر ایسے افراد کے گھروں کا دورہ کیا جن کا جماعت سے تعلق بوجوہ کمزور تھا، یا بعض ایسے لوگ جن کے والدین احمدی ہوتے تھے مگر اولاد نے جماعت سے تعلق نہیں رکھا۔ اسی طرح جماعت کے بزرگان اور بیمار افراد کے گھروں پر جا کر ملاقات کی۔

شام میں ایک احمدی دوست نے ایک اسکول میں سیرت النبیﷺ کے پروگرام کا اہتمام کیا اور درخواست کی کہ مسجد میں جس طرح شمائل محمدیﷺ کا ذکر کیا گیا تھا اسی طرح غیر احمدیوں کے سامنے بھی کیا جائے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، پروگرام میں 9 اسکولوں کے پرنسپل شامل تھے نیز 35 سے زائد اساتذہ و سٹاف بھی موجود تھے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، حاضرین نے جماعت کی طرف سے آنحضرتﷺ کی سیرت اور خصائل کے بیان کے طریق کو بہت سراہا اور اکثر نے کہا کہ ہمیں اس سے پہلے ایسے میلاد النبیؐ کے پروگرام میں شمولیت کا موقع نہیں ملا۔ ایک مہمان نے کہا کہ انہوں نے اس سے پہلے آنحضرتﷺ کی سیرت کا اس قدر خوبصورت بیان نہیں سنا۔ ایک اور مہمان نے کہا کہ وہ احمدیوں کے بارے میں بہت منفی سوچ رکھتے تھے اور احمدیوں کے سلام کا جواب بھی نہیں دیتے تھے مگر آج کے پروگرام نے ان کا ذہن یکسر بدل دیا ہے اور انہوں نے بعد میں وفد کے ممبران نیز دیگر احمدیوں کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوائیں۔ ایک اور مہمان نے کہا کہ تقریر کے دوران حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کا بیان کردہ ایک نکتہ ان کے لئے بالکل نیا تھا اور انہوں نے ہزارہا اسلامی لیکچر سنے ہیں مگر ایسا نکتہ کبھی نہیں سنا۔ گو کہ سوال جواب کی محفل میں بعض مہمانوں کی طرف سے تلخ کلامی بھی کی گئی مگر عمومی طور پر پروگرام کا بہت اچھا اثر ہوا اور اگلے روز سمیونول سے واپسی پر کشتی میں بھی بعض شاملین ،جنہیں ہم پہچانتے بھی نہیں تھے، نے آ کر پروگرام کی تعریف کی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ ذَالِکَ

سیبو (Cebu)

سمیونول سے وفد زمبوآنگا واپس آیا اور چند روز بعد خاکسار اور مکرم فیلان ہیڈنگ صاحب سیبو Cebu کے لئے روانہ ہوئے۔ سیبو آمد کا مقصد ایک پروفیسر صاحب جو کچھ عرصہ سے زیر تبلیغ تھے ان سے ملاقات کرنا تھا نیز ان پروفیسر صاحب نے ایک یونیورسٹی میں لیکچر کا بھی اہتمام کیا ہوا تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، ان پروفیسر صاحب سے ملاقات بہت مفید رہی اور انہوں نے احمدیت کی سچائی اور حضرت مرزا غلام احمد صاحبؑ کے دعویٰ مسیحیت و مہدویت کی تصدیق کی البتہ باقاعدہ بیعت کرنے کے لئے کچھ مہلت مانگی تاکہ وہ مزید دعا اور تسلی کر سکیں۔ موصوف کو اس سے پہلے کئی جماعتی کتب بھجوائی گئی تھیں جن کے بارے میں وہ سوالات کرتے رہے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ جواب ملنے پر تسلی کا اظہار کرتے رہے۔ انہوں نے ایک یونیورسٹی کے سینئر ہائی اسکول میں اسلام کی امن عامہ کے بارے میں تعلیمات کے موضوع پر خاکسار کے لیکچر کا بھی اہتمام کیا ہوا تھا مگر اس روز شدید بارش اور طوفان کی وجہ سے اسکول کی چھٹی کر دی گئی۔ البتہ اسکول کے پرنسپل سے ملاقات کے علاوہ اسکول کے 20 سے زائد سٹاف اور اساتذہ کے سامنے خاکسار کو اپنا لیکچر پیش کرنے اور سوال جواب کی محفل منعقد کرنے کی توفیق ملی۔

تکلوبان (Tacloban)

سیبو سے ہم بذریعہ ہوائی جہاز تکلوبان نامی شہر پہنچے۔ یہاں تقریباً 7 سال قبل تبلیغ کے نتیجہ میں بعض لوگ عیسائی مذہب کو ترک کر کے حلقہ بگوش اسلام احمدیت ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ مکرم فیلان صاحب بطور معلم یہاں مقیم رہے تھے مگر پھر بوجوہ یہاں مستقل کوئی معلم صاحب نہیں رہے۔ اس دورہ کا مقصد ان دوستوں سے ملنا اور جماعت کی تعلیم و تربیت کا از سر نو انتظام کرنا تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، یہاں دو دن قیام رہا اور دوستوں سے مشورہ کے بعد فی الحال فوری طور پر آن لائن کلاسوں کا انتظام کیا گیا جو شروع ہو چکی ہیں۔

سالوپینگ، بسیلان (Saluping, Basilan)

دو سال قبل یہاں ایک نئی جماعت قائم ہوئی تھی۔ 6 ممبر ان پر مبنی ایک وفد 4 دن کے دورےپراس جزیرے پر گیا۔ دوران قیام متعدد تعلیمی، تربیتی اور تبلیغی نشستوں کا اہتمام کیا گیا اور مستقبل میں مستقل مشن ہاؤس کے لئے بعض جگہوں کا معائنہ بھی کیا گیا۔

جلسہ ہائے سیرت النبیؐ

جیسا کہ گزشتہ سطور میں ذکر آ چکا ہے کہ اکتوبر اور نومبر 2022ء کے مہینوں میں جماعت احمدیہ فلپائن کو مختلف جماعتوں میں سیرت النبیﷺ کے جلسوں کے اہتمام کی توفیق ملی۔ یہ جلسے 6 جماعتوں یعنی زمبوآنگا، ہولو، پندامی، سمیونول، منیلا اور ماپون کی جماعتوں میں منعقد ہوئے۔ ان میں سے بعض جلسوں میں غیر از جماعت دوست بھی شامل ہوئے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان ادنیٰ مساعی میں برکت ڈالے اور فلپائن کے باشندے جلد احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو قبول کر کے دنیا و آخرت میں خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو سمیٹنے والے ہوں اور ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے احسن رنگ میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(طلحہ علی۔ مبلغ سلسلہ فلپائن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 فروری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی