• 7 اگست, 2020

صفائی ایمان کا حصہ ہے

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتےہیں:
’’اللہ تعالیٰ ظاہری صفائی پسند فرماتا ہے اور نظافت اور صفائی کے بارے میں خاص طور پر ہدایت ہے۔ دانتوں کی صفائی ہے، کپڑوں کی صفائی ہے جسم کی صفائی ہے، ماحول کی صفائی ہے اور عبادت کرنے کے لئے بھی ظاہری صفائی یعنی وضو کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں مسلمانوں میں صفائی کا معیار اتنا نہیں جتنی اس بارے میں نصیحت کی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جمعہ والے دن خاص طور پر نہانے اور خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔

(صحیح بخاری کتاب الجمعۃ باب الطیب للجمعۃ حدیث نمبر880)

مسجد میں آتے ہوئے ایسی چیزیں کھانے سے منع کیا ہے جن سے بو آتی ہو۔

(صحیح مسلم کتاب المساجد مواضع الصلاۃ باب نھی من اکل ثوماً … حدیث نمبر:1141)

پھر ماحول کی صفائی ہے۔ ہم نے، عموماً ہمارے بعض لوگوں نے جوخاص طور پر غریب ممالک ہیں یہ تصور کر لیا ہے، پاکستان بھی ان میں شامل ہے کہ اگر غربت ہو تو گندگی بھی ضروری ہے حالانکہ اپنے ماحول کی صفائی سے غربت یا امارت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اَلطُّہُوْرُ شَطْرُالْاِیْمَانِ،

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے یہ روایت ہے آپؓ بیان کرتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اَلطُّہُوْرُ شَطْرُالْاِیْمَانِ کہ طہارت، پاکیزگی اور صاف ستھرا رہنا یہ ایمان کا ایک حصہ ہے۔‘‘

(صحیح مسلم۔ کتاب الطھارۃ۔باب فضل الوضوء حدیث نمبر:422)

(خطبہ جمعہ مورخہ 25جنوری 2008ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اپریل 2020