• 18 اپریل, 2021

عشاق کو گستاخ کہو بات ہے کوئی

عشاق کو گستاخ کہو بات ہے کوئی
تم دن کو کہو رات تو وہ رات ہے کوئی
اُس حسن کی معراج پہ جاں اپنی فدا ہے
اس جاں سے بڑی دنیا میں سوغات ہے کوئی
وہ حسنِ دو عالم ہے مری جانِ تمنا
کونین میں اس ذات سے کب ذات ہے کوئی
ہو جاؤں مَیں اس یار کی بس خاکِ کفِ پا
بڑھ کر بھلا اس سے بھی مناجات ہے کوئی
ناصح نے کہا جب تو اسے چھوڑ دے حافظؔ
لگتا تھا میرے دل پہ پڑا ہات ہے کوئی

(ابنِ کریم)
(18 اگست 2020ء الفضل انٹر نیشنل)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اپریل 2021