• 19 اپریل, 2021

’’بنیادی مسائل کے جوابات‘‘ (قسط نمبر 10)

’’بنیادی مسائل کے جوابات‘‘
(بیان فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)
قسط نمبر 10

سوال:۔ عورتوں کے اپنے چہرہ پر پلکنگ اور تھریڈنگ وغیرہ کرنے نیز جسم پر تصاویر گندھوانے کے بارہ میں سوال پیش ہونے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 02 فروری 2019ء میں درج ذیل جواب عطاء فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:۔

جواب:۔ احادیث میں مومن عورتوں کو اپنے جسموں پر مختلف تصاویر گندھوانے، چہرے کے بال نوچنے، خوبصورتی اور جوان نظر آنے کیلئے سامنے کے دانتوں میں خلا پیدا کرنے، منصوعی بالوں کے لگانے، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے وغیرہ امور سے منع فرمایا گیا ہے، اس کی مختلف وجوہات ہیں۔

اگر ان باتوں سے انسان کے جسمانی وضع قطع میں اس طرح کی مصنوعی تبدیلی واقع ہو جائے کہ مرد و عورت کی تمیز جو خدا تعالیٰ نے انسانوں میں رکھی ہے وہ ختم ہو جائے۔ یا اس قسم کے فعل سے شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے اس کی طرف میلان پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس سے منع فرمایا گیا۔ پھر احادیث میں جہاں ان امور سے منع کیا گیا وہاں حضور ﷺ نے یہ بھی انذار فرمایا کہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے اس قسم کے کام شروع کئے۔ پس اس سے استدلال ہو سکتا ہے کہ یہود جن کے ہاں زنا کاری پھیل چکی تھی اور فحاشی کے اڈے قائم ہو گئے تھے، اس کام میں ملوث خواتین، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی خاطر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہوں، اس لئے رسول خدا ﷺ نے ان کاموں کی شناعت بیان فرما کر مومن عورتوں کو اس سے منع فرمایا۔

علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد اس وقت کے حالات کے پیش نظر وقتی ہو، بالکل اسی طرح جس طرح حضور ﷺ نےایک علاقہ کے اسلام قبول کرنے والے لوگوں کو اس علاقہ میں شراب بنانے کیلئے استعمال ہونے والے برتنوں کے عام استعمال سے منع فرما دیا تھا۔ لیکن جب ان لوگوں میں اسلامی تعلیم اچھی طرح رچ بس گئی توپھر حضور ﷺ نے انہیں ان برتنوں کے عام استعمال کی اجازت دیدی۔

اسلام نے اعمال کا دار مدارنیتوں پر رکھا ہے۔ پس اس زمانہ میں بھی اگر ان افعال کے نتیجہ میں کسی برائی کی طرف میلان پیدا ہو یا اسلام کے کسی واضح حکم کی نافرمانی ہوتی ہو تو یہ کام حضور ﷺ کے اس انذار کے تحت ہی شمار ہو گا۔ جیسا کہ اس زمانہ میں بھی خواتین اپنی صفائی یا ویکسنگ وغیرہ کرواتے وقت اگر پردہ کا التزام نہ کریں اوردوسری خواتین کے سامنے ان کے ستر کی بے پردگی ہوتی ہو تویہ بے حیائی ہے جس کی اجازت نہیں ہے اور شاید یہ خواتین اسی انذار کے نیچے آتی ہوں۔ لیکن پردہ کے اسلامی حکم کی پابندی کے ساتھ اگر کوئی عورت ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

سوال:۔ ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار کیا کہ کیا ایک سفر میں ایک سے زیادہ عمرے کرنے بہتر ہیں یا ایک عمرہ کرنے کے بعد باقی وقت دیگر عبادات میں گزارا جائے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 02 فروری 2019ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا:۔

جواب:۔آنحضور ﷺ کی سنت سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سفر میں ایک ہی عمرہ فرمایا۔ لیکن حضور ﷺ نے کہیں اس کی ممانعت نہیں فرمائی کہ ایک سفر میں ایک سے زائد عمرے نہیں ہو سکتے۔ اس لئے اگر کوئی شخص حضور ﷺ کی سنت کے مطابق ایک سفر میں صرف ایک ہی عمرہ کرے اور باقی وقت دیگر عبادات میں گزارے تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر وہ ایک سے زیادہ عمرے کرنا چاہے تو چونکہ عمرہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف، صفاء اور مروہ کے چکر، ذکر و اذکار اور نوافل ہوتے ہیں، اس لئے اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں۔

سوال:۔ ایک خاتون نے بیوہ کے عدت کے دوران لجنہ کے پروگراموں میں شامل ہونے، نماز باجماعت کیلئے مسجد میں آنے اور عزیزوں کے گھروں میں جانے کے بارہ میں مسائل دریافت کئے ۔ نیز لکھا ہے کہ بڑی عمر کی عورتوں کیلئے عدت کی پابندی نہیں ہونی چاہئیے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 02 فروری 2019ء میں ان امور کے بارہ میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:۔

جواب:۔ بیوہ کی عدت کے احکامات میں تبدیلی کے حق میں آپ نے اپنے خط میں جو طلاق کے بعد اسی خاوند کے ساتھ نکاح والی دلیل (کہ قرآن کریم کے مطابق طلاق کے بعد عدت پوری ہونے پر پہلے شوہر سے نکاح صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کسی دوسرے مرد سے شادی ہو اور پھر وہ طلاق دے ۔ لیکن اب دوسرے مرد سے شادی کے بغیر بھی پہلے خاوند سے نکاح ہو جاتا ہے۔ پس جس طرح اس حکم میں نظر ثانی کی گئی ہے، اسی طرح خاوند کی وفات کے بعد کی عدت میں بھی عورت کی عمر کے لحاظ سے نظرثانی ہونی چاہئیے۔) دی ہے وہ غلط ہے۔ نہ پہلے ایسا کوئی حکم تھا اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے۔ آپ نے اپنی کم علمی کی وجہ سے طلاق کے بارہ میں دو الگ الگ احکامات کو خلط ملط کر دیا ہے۔

اسی طرح بیوہ کی عدت کے بارہ میں بھی آپ اسلامی تعلیمات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ اسلام نے عورت کو اپنے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی استثناء نہیں رکھا اور نہ ہی ا س حکم میں عمر کی کوئی رعایت رکھی ہے۔پس بیوہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ عدت کا یہ عرصہ حتی الوسع اپنے گھر میں گزارے، اس دوران اسے بناؤ سنگھار کرنے، سوشل پروگراموں میں حصہ لینے اور بغیر ضرورت گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں۔

عدت کے عرصہ کے دوران بیوہ اپنے خاوند کی قبر پر دعا کیلئے جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ قبر اسی شہر میں ہو جس شہر میں بیوہ کی رہائش ہے۔ نیز اگر اسے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے تو یہ بھی مجبوری کے تحت آتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی بیوہ کے خاندان کا گزارا اس کی نوکری پر ہےیا بچوں کو سکول لانے ، لے جانے اور خریداری کیلئے اس کا کوئی اور انتظام نہیں تو یہ سب امور مجبوری کے تحت آئیں گے۔ ایسی صورت میں اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ سیدھی کام پر جائے اور کام مکمل کر کے واپس گھر آ کر بیٹھے۔مجبوری اور ضرورت کے تحت گھر سے نکلنے کی بس اتنی ہی حد ہے۔ کسی قسم کی سوشل مجالس یا پروگراموں میں شرکت کی اسے اجازت نہیں۔پس شریعت میں نئی نئی چیزیں داخل کرنے اور نئی نئی بدعتیں پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔

سوال:۔ ایک دوست نے ان احادیث کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں راہنمائی کی درخواست کی جن احادیث میں جنگ کے دوران، عام لوگوں کے جھگڑوں اور میاں بیوی کے مابین صلح کرانے کیلئے جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 28 جنوری 2019ء میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:۔

جواب:۔ قرآن کریم اور مستند احادیث میں جھوٹ کو أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ (یعنی بڑے بڑے گناہوں میں سے بڑا گناہ) قرار دیا گیا ہے۔ اور آنحضور ﷺنے اس سے اجتناب کی بار بار نصیحت فرمائی ہے۔

جہاں تک آپ کے خط میں مذکور روایت کا تعلق ہے تو ایسی ایک روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ام کلثوم بنت عقبہؓ سے مروی ہے اور اس روایت کے الفاظ محتاط اور قابل تاویل ہیں۔ چنانچہ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِيْ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُوْلُ خَيْرًا وَيَنْمِيْ خَيْرًا۔ یعنی جو شخص لوگوں میں صلح کروانے کیلئے نیک بات کرے اور اچھی بات آگے پہنچائے وہ جھوٹا نہیں ہے۔

اس کی مثال ایسے ہے کہ صلح کروانے والا شخص ایک فریق کی دوسرے فریق کے بارہ میں کہی ہوئی باتوں میں سے اچھی اور نیک باتیں دوسرے فریق تک پہنچا دے اور اس فریق کے خلاف کہی جانے والی باتوں کے بارہ میں خاموشی اختیار کرےتو ایسا صلح کروانے والا جھوٹا نہیں کہلا سکتاہے۔

سنن ترمذی نے حضرت اسماء بنت یزید ؓسےاس روایت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ يُحَدِّثُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِْيَهَا وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ۔ یعنی تین باتوں کے سوا جھوٹ بولنا جائز نہیں۔ خاوند اپنی بیوی کو راضی کرنے کیلئے کوئی بات کہے۔ لڑائی کے موقع پر جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کروانے پر جھوٹ بولنا۔

پہلی بات یہ ہے کہ سنن ترمذی میں بیان یہ روایت قرآن کریم کے واضح حکم اوراحادیث صحیحہ میں مروی دیگر روایات کے خلاف ہونے کی بناء پر قابل قبول نہیں ۔ اور دوسری بات یہ کہ اسلام نے جھوٹ کو کسی موقعہ پر بھی جائز قرار نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس یہ تعلیم دی کہ جان بھی جاتی ہو تو جانے دو لیکن سچ کو ہاتھ سے مت جانے دو۔

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس بارہ میں ہماری راہنمائی فرمائی ہے۔ چنانچہ حضور علیہ السلام اپنی تصنیف لطیف «نور القرآن نمبر 2» میں ایک عیسائی کے اسی اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
«قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔۔۔۔۔۔ اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہر گز اجازت نہیں بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ ان قتلت و احرقت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کی مخالف ہو تو وہ قابل سماعت نہیں ہو گی کیونکہ ہم لوگ اسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ہاں بعض احادیث میں توریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ اور اُسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پاوے تو شاید اس کو حقیقی کذب ہی سمجھ لے کیونکہ وہ اس قطعی فیصلہ سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے مگر توریہ جو درحقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہے اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جواز حدیث میں پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں جو توریہ سے بھی پرہیز کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ مگر باوصف اس کے بہت سی حدیثیں دوسری بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ توریہ اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کے برخلاف ہے اور بہر حال کھلی کھلی سچائی بہتر ہے اگرچہ اس کی وجہ سے قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔‘‘

(نورالقرآن نمبر2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 403 تا 405)

پس یہ بات کسی طرح بھی ماننے کے لائق نہیں کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس لئے اگر ان احادیث کی کوئی تطبیق ہو سکتی ہو جو قرآن و سنت کے مطابق ٹھہرے تو اس تطبیق کے ساتھ ہم ان احادیث کو قبول کریں گے ورنہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی واضح تعلیم کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہم ان احادیث کوقابل قبول نہیں ٹھہراتے۔

سوال:۔ عورتوں کے ایام حیض میں مسجد میں آ کر بیٹھنے نیز ان ایام میں تلاوت قرآن کریم کرنے کے بارہ میں ایک خاتون کی ایک تجویز پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 13 مارچ 2019ء میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب:۔ مذکورہ بالا دونوں امور کے بارہ میں علماء و فقہاء کی آراء مختلف رہی ہیں اور بزرگان دین نے بھی اپنی قرآن فہمی اور حدیث فہمی کے مطابق اس بارہ میں مختلف جوابات دیئے ہیں۔ اسی طرح جماعتی لٹریچر میں بھی خلفائے احمدیت کے حوالہ سے نیز جماعتی علماء کی طرف سے مختلف جوابات موجود ہیں۔

قرآن کریم، احادیث نبویہ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں، خواتین کے ایام حیض میں قرآن کریم پڑھنے کے متعلق میرا موقف ہے کہ ایام حیض میں عورت کوقرآن کریم کا جو حصہ زبانی یاد ہو، وہ اسےایام حیض میں ذکر و اذکار کے طور پر دل میں دہرا سکتی ہے۔ نیز بوقت ضرورت کسی صاف کپڑے میں قرآن کریم کو پکڑ بھی سکتی ہے اور کسی کو حوالہ وغیرہ بتانے کیلئے یا بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کیلئے قرآن کریم کا کوئی حصہ پڑھ بھی سکتی ہے لیکن باقاعدہ تلاوت نہیں کر سکتی۔

اسی طرح ان ایام میں عورت کوکمپیوٹر وغیرہ پر جس میں اسے بظاہر قرآن کریم پکڑنا نہیں پڑتا باقاعدہ تلاوت کی تو اجازت نہیں لیکن کسی ضرورت مثلاً حوالہ تلاش کرنے کیلئے یا کسی کو کوئی حوالہ دکھانے کیلئے کمپیوٹر وغیرہ پر قرآن کریم سے استفادہ کر سکتی ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔

ان ایام میں عورت مسجد سے کوئی چیز لانے کیلئے یا مسجد میں کوئی چیز رکھنے کیلئے تو مسجد میں جا سکتی ہے لیکن وہاں جا کر بیٹھ نہیں سکتی۔ اگر اس کی اجازت ہوتی تو حضور ﷺعید میں شامل ہونے والی ایسی خواتین کیلئے کیوں یہ ہدایت فرماتے کہ وہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔ پس اس حالت میں عورتوں کو مسجد میں بیٹھنے کی اجازت نہیں۔

اگر کوئی خاتون اس حالت میں مسجد میں آتی ہےیا کوئی بچی ایسی حالت میں اپنی والدہ کے ساتھ مسجد آئی ہے یا اچانک کسی کی یہ حالت شروع ہو گئی ہے تو ان تمام صورتوں میں ایسی خواتین اور بچیاں مسجد کی نماز پڑھنے والی جگہوں میں نہیں بیٹھ سکتیں۔بلکہ کسی نماز نہ پڑھنے والی جگہ پر ان کے بیٹھنے کا انتظام کیا جائے۔

سوال:۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماء اللہ کینیڈا کی Virtual ملاقات مؤرخہ 16 اگست 2020ء میں تربیت کے مختلف پہلوؤں کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ممبران عاملہ کو توجہ دلاتے ہوئے درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب:۔ ماؤں کے ذریعہ تربیت کریں کہ جو آجکل کی یہاں بچیاں پڑھ رہی ہیں ان کے ساتھ ان کے تعلقات دوستانہ ہونے چاہئیں۔ اور ان کا یہاں جو باہرنکل کے، یونیورسیٹیز میں جا کے، کالجز میں جا کے Exposure ہے اس کے ساتھ اگر مائیں پوری طرح تعلیم یافتہ نہیں ہیں تو پھر وہ آپ لوگوں سے مدد لیں۔ لیکن اس کے باوجود لڑکیوں کے ساتھ تعلق رکھیں۔ اور لڑکیوں کی تربیت یہ کریں کہ وہ جیسی مرضی تعلیم حاصل کریں لیکن جو دین کو دنیا پہ مقدم رکھنے کا عہد ہے، اس کو سامنے رکھیں کہ وہ کیا ہے؟صرف دنیا میں ہی نہ پڑ جائیں۔ یہاں ان کو یہ بھی Realize کروانا چاہئے کہ یہاں آ کے اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی لحاظ سے فضل کئے ہیں ان دنیاوی فضلوں پر اللہ تعالیٰ کے شکرانے کا صحیح اظہار یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دین سے Attach ہوا جائے۔ یہ اکثر لڑکوں میں بھی ہوتا ہے اس لئے پھر ماؤں کی تربیت اس لحاظ سے بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ پندرہ سال تک یا کم از کم تیرہ چودہ سال تک لڑکے بھی ماؤں ہی کے زیر اثر ہوتے ہیں(اس لئے مائیں لڑکوں کی بھی اس حوالہ سے تربیت کریں)۔ پھر ماؤں کی تربیت کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ یہ جو مردوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے یہ بھی آپ لوگوں نے ہی کرنی ہے۔ مردوں میں بھی تربیت کی کمی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جیسا مرضی کام کرتے رہیں اور عورتیں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کی بھی ذمہ داری ہے۔ لیکن آپ لوگوں نے تربیت کے لحاظ سے اس چیلنج کو بھی لینا ہے کہ لڑکوں میں، چھوٹی عمر کے اطفال جو ہیں ان کی بھی تربیت ایسے کریں کہ جب وہ خدام میں شامل ہوں تو وہ جماعت سے Attach ہوں۔ اسی طرح بچیاں جب ناصرات سے لجنہ میں آئیں تو وہ جماعت سے Attach ہوں ۔ یہاں کے ماحول کا جو اثر ہے، کیونکہ کھلی تعلیم دی جاتی ہےاور بعض کھلے سوال کئے جاتے ہیں ۔ اس پر آپ لوگوں نے ان کو کھل کے جواب دینے ہیں۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ آپ ایک Survey کریں اور ایک سوالنامہ بنا کر بھیجیں۔ ہر مجلس میں جائے۔ اور لڑکیوں کو کہیں کہ بیشک اپنا نام نہ لکھو اور تمہارے ذہن میں کسی بھی قسم کے جو سوال دین کے بارہ میں ہیں یا دنیا کے بارہ میں ہیں اور دین اور دنیا کے فرق کے بارہ میں ہیں یا کچھ شبہات ہیں، وہ بیشک ظاہر کر دو۔ پھر لجنہ کےLevel پر مختلف Forums پہ ان کے جواب دینے کی کوشش کریں اور یہاں مجھے بھیجیں۔ یہاں بھی ہم کوئی پروگرام بنا سکتے ہیں۔ ایم ٹی اے میں بھی اس کے جواب دے سکتے ہیں۔ پھر آپ کے وہاں ایم ٹی اے سٹوڈیو بن چکا ہے، وہاں آپ لوگ ایم ٹی اے کے ساتھ Coordinate کر کے ایک پروگرام بنا سکتے ہیں۔ اور لجنہ ایک پروگرام بنائے اور بغیر نام لئے ان سوالوں کے جواب دے کہ آجکل یہ یہ Issue اٹھتے ہیں یا یہ یہ سوالات دنیا میں پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہماری بعض بچیوں کے ذہن بھی Pollute ہو رہے ہیں۔ ان کے ذہنوں کو ہم نے کس طرح صاف کرنا ہے۔ تو اس طرح کے بعض سوال ہیں کہ آپ کھل کے ایم ٹی اے پر Discuss کر سکتے ہیں اور بعض ہیں جو نہیں کر سکتے، ان کو Personal Level پہ جا کے ان کے جواب دینے پڑیں گے۔پھر بعض بغیر ناموں کے سوال آئیں گے تو ان کو انٹر نیٹ پہ اس طرح رکھیں، کوئی ایسا Forum بنائیں جہاں تربیت کیلئے ایسے سوالوں کے جواب دیئے جا سکیں۔ تو آجکل اس زمانہ میں یہ بہت بڑے چیلنجز ہیں جو میڈیا نے، لوگوں نے شبہات پیدا کرنے کیلئے ڈال دیئے ہوئے ہیں۔ پھر So Called تعلیم کے نام پہ اپنے آپ کو زیادہ ہی پڑھی لکھی سمجھ کے سمجھتی ہیں کہ شاید اسلام کی تعلیم بڑی Back Word تعلیم ہے۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم سے زیادہ اس زمانہ میں کسی بھی مذہب کی کو ئی تعلیم ایسی نہیں ہےجو ماڈرن ہو اور جو زمانہ کے حساب سے اپنے آپ کو Adjust کرنے والی ہو۔

(مرتبہ:۔ ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اپریل 2021