• 22 مئی, 2022

حمد باری تعالیٰ

وہ ستار ہے اور وہی میرا پیار
کہ در پر ہوئی جس کے میں زار زار

وہی جانتا ہے حقیقت ہے کیا
وہی بھید کھولے ہے ہم پر ہزار

وہی ذات قدرت وہی بادشاہ
وہی سب کی سنتا ہے آہ و پکار

وہی پیار سے گود میں لے ہمیں
بنے مشکلوں میں ہماری مہار

سبھی کو فنا ہے جہاں میں یہاں
کہ زندہ خدا تو ہے پروردگار

ترے بن مرے دل کے چاروں طرف
عجب ایک پھیلا ہوا تھا غبار

سمندر یہ دریا یہ جھرنے سبھی
اسی کی کرامت اسی کا حصار

اسی نے ہی پھولوں میں خوشبو بھری
اسی سے چمن میں بھی آئی بہار

دیا بن کے راہوں میں جلتے ہیں جو
’’خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار‘‘

(دیا جیم۔ فیجی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ