• 29 ستمبر, 2020

آجکل کی لغویات میں سے ایک چیز سگریٹ وغیرہ بھی ہیں

پھر آجکل کی لغویات میں سے ایک چیز سگریٹ وغیرہ بھی ہیں جیسا کہ مختصر سا میں پہلے ذکر کر آیا ہوں۔ نوجوانوں میں اس کی عادت پڑتی ہے اور پھر تمام زندگی یہ جان نہیں چھوڑتی سوائے ان کے جن کی قوت ارادی مضبوط ہو۔ اور پھر سگریٹ کی وجہ سے بعض لوگوں کو اور نشّوں کی عادت بھی پڑ جاتی ہے۔

ایک دفعہ ایک شخص نے امریکہ سے تمباکو نوشی سے متعلق اس کے بہت سے مجرب نقصان ظاہر کرتے ہوئے اشتہار دیا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کوبھی اشتہار سنایا گیا تو آپؑ نے فرمایا کہ: ’’اصل میں ہم اس لئے اسے سنتے ہیں کہ اکثر نو عمر لڑکے، نوجوان تعلیم یافتہ بطور فیشن ہی کے اس بلا میں گرفتار و مبتلا ہو جاتے ہیں تا وہ ان باتوں کو سن کر اس مضر چیز کے نقصانات سے بچیں‘‘۔ یعنی جو لوگ مبتلا ہوتے ہیں وہ یہ باتیں سنیں تو اس کے نقصانات سے بچیں۔ فرمایا: ’’اصل میں تمباکو ایک دھواں ہوتا ہے جو اندرونی اعضاء کے واسطے مضر ہے۔ اسلام لغو کاموں سے منع کرتا ہے اور اس میں نقصان ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سے پرہیز ہی اچھا ہے‘‘۔

(ملفوظات جلد3 صفحہ110 الحکم 28فروری 1903)

تو وہ لوگ جو اس لغو عادت میں مبتلا ہیں کوشش کریں کہ اس سے جان چھڑائیں۔ اور والدین خاص طور پر بچوں پر نظر رکھیں کیونکہ آجکل بچوں کو نشوں کی باقاعدہ پلاننگ کے ذریعے عادت بھی ڈالی جاتی ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ یہ ہو جاتا ہے کہ بیچارے بچوں کے برے حال ہو جاتے ہیں۔ آپ یہاں بھی دیکھیں کس قدر لوگ ان نشوں کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد ان ملکوں میں جن میں آپ رہ رہے ہیں، آپ دیکھیں گے سگریٹ پینے کی وجہ سے حشیش یا دوسرے نشوں میں مبتلا ہو گئی۔ اور اپنے کاموں سے بھی گئے، اپنی ملازمتوں سے بھی گئے، اپنی نوکریوں سے بھی گئے، اپنے کاروباروں سے بھی گئے، اپنے گھروں سے بھی بے گھر ہوئے اور زندگیاں برباد ہوئیں۔ بیوی بچوں کو بھی مشکل میں ڈالا۔ خود پارکوں، فٹ پاتھوں یاپُلیوں کے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں۔ گندے غلیظ حالت میں ہوتے ہیں۔ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ ڈسٹ بنوں (Dust Bins) سے گلی سڑی چیز یں چن چن کے کھارہے ہوتے ہیں۔ تو یہ سب اس لغوعادت کی وجہ سے ہی ہے۔ اس لئے کسی بھی لغو چیز کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں پھر بڑی بن جایا کرتی ہیں۔ ۔۔۔

اب تو افیون سے بھی زیادہ خطرناک نشے پیدا ہو چکے ہیں۔ پس ان لغویات سے بچنے والے ہی تقویٰ پر قائم رہ سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والوں میں شمار ہو سکتے ہیں۔ یہاں جس طرح فرمایا کہ افیون کا نشہ شراب سے بڑھ کر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شراب کبھی پی لی تو کوئی حرج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ حرام ہے۔ ان ملکوں میں کیونکہ شراب بہت عام ہے اور صحبتیں بھی ایسی مل جاتی ہیں جہاں شراب پینے والے مل جاتے ہیں اس لئے اس بارے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

(خطبہ جمعہ 20 اگست 2004)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 ستمبر 2020