• 23 اکتوبر, 2020

خوش الحانی سےقرآن کی تلاوت

ایڈیٹر بدر تحریر کرتے ہیں کہ :۔
صبح کو حضرت سیر کے واسطے تشریف لے گئے ۔ خدام ساتھ تھے۔ حافظ محبوب الرحمن صاحب جو کہ اخویم منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پورہ اور بھائی جان منشی ظفر احمد صاحب کے عزیزوں میں سے ہیں ساتھ تھے۔ حضرت نے حافظ صاحب کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ :۔
یہ قرآن شریف اچھا پڑھتے ہیں اور میں نے اسی واسطے ان کو یہاں رکھ لیا ہے کہ ہر روز اُن سے قرآن شریف سُنا کریں گے۔ مجھے بہت شوق ہے کہ کوئی شخص عمدہ ، صحیح ، خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنے والا ہوتو اس سے سُنا کروں۔

پھر حافظ صاحب موصوف کو مخاطب کرکے حضرت نے فرمایا کہ :۔آج آپ سیر میں کچھ سنائیں۔

چنانچہ تھوڑی دور جاکر آپ نہایت سادگی کے ساتھ ایک کھیت کے کنارے زمین پر بیٹھ گئے اور تمام خدام بھی زمین پر بیٹھ گئے اور حافظ صاحب نے نہایت خوش الحانی سے سورہ دہر پڑھی جس کے بعد آپ سیر کے واسطے آگے تشریف لے گئے ۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ197)

قرآن شریف کو بھی خوش الحانی سے پڑھنا چاہیے۔ بلکہ ا سقدر تاکید ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور خود اس میں ایک اثر ہے۔ عمدہ تقریر خوش الحانی سے کی جائے تو اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔ وہی تقریر ژولیدہ زبانی سے کی جائے تو اس میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جس شئے میں خدا تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے اس کو اسلام کی طرف کھینچنے کا آلہ بنایا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔ حضرت داؤد کی زبور گیتوں میں تھی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ جب حضرت داؤد خدا تعالیٰ کی مناجات کرتے تھے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ روتے تھے اور پرندے بھی تسبیح کرتے تھے۔

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ524)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اکتوبر 2020