• 23 اکتوبر, 2020

پردہ عورت کی عزت کے لئے ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
اسی طرح آج کل یورپ میں اسلام کو بدنام کرنے کا ایک ایشو پردہ کا بھی اٹھا ہوا ہے۔ ہماری بچیاں جو ہیں اور عورتیں جو ہیں ان کا کام ہے کہ اس بارے میں ایک مہم کی صورت میں اخباروں میں مضامین اور خطوط لکھیں۔ انگلستان میں یا جرمنی وغیرہ میں بچیوں نے اس بارے میں بڑا اچھا کام کیا ہے کہ پردہ عورت کی عزت کے لئے ہے اور یہ تصور ہے جو مذہب دیتا ہے، ہر مذہب نے دیا ہے کہ عورت کی عزت قائم کی جائے۔ بعضوں نے تو پھر بعد میں اس کی صورت بگاڑ لی۔ عیسائیت میں تو ماضی میں زیادہ دور کا عرصہ بھی نہیں ہوا جب عورت کے حقوق نہیں ملتے تھے اور اس کو پابند کیا جاتا تھا، بعض پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ تو بہر حال یہ عورت کی عزت کے لئے ہے۔ عورت کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنی عزت چاہتی ہے اور ہر شخص چاہتا ہے لیکن عورت کا ایک اپنا وقار ہے جس وقار کو وہ قائم رکھنا چاہتی ہے اور رکھنا چاہئے۔ اور اسلام عورت کی عزت اور احترام اور حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ پس یہ کوئی جبر نہیں ہے کہ عورت کو پردہ پہنایا جاتا ہے یا حجاب کا کہا جاتا ہے۔ بلکہ عورت کو اس کی انفرادیت قائم کرنے اور مقام دلوانے کے لئے یہ سب کوشش ہے۔

اس کے ساتھ ہی میں ان احمدی لڑکیوں کو بھی کہتا ہوں جو کسی قسم کے complex میں مبتلا ہیں کہ اگر دنیا کی باتوں سے گھبرا کر یا فیشن کی رَو میں بہہ کر انہوں نے اپنے حجاب اور پردے اتار دئیے تو پھر آپ کی عزتوں کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔ آپ کی عزت دین کی عزت کے ساتھ ہے۔ میں پہلے بھی ایک مرتبہ ایک واقعہ کا ذکر کر چکا ہوں۔ اس طرح کے کئی واقعات ہیں۔ ایک احمدی بچی کو اس کے باس (Boss) نے نوٹس دیا کہ اگر تم حجاب لے کر دفتر آئی تو تمہیں کام سے فارغ کر دیا جائے گا اور ایک مہینہ کا نوٹس ہے۔ اس بچی نے دعا کی کہ اے اللہ! میں تو تیرے حکم کے مطابق یہ کام کر رہی ہوں اور تیرے دین پر عمل کرتے ہوئے یہ پردہ کر رہی ہوں۔ کوئی صورت نکال۔ اور اگر ملازمت میرے لئے اچھی نہیں تو ٹھیک ہے پھر کوئی اور بہتر انتظام کر دے۔ تو بہر حال ایک مہینہ تک وہ افسر اس بچی کو تنگ کرتا رہا کہ بس اتنے دن رہ گئے ہیں اس کے بعد تمہیں فارغ کر دیا جائے گا۔ اور یہ بچی دعا کرتی رہی۔ آخر ایک ماہ کے بعد یہ بچی تو اپنی کام پر قائم رہی لیکن اس افسر کو اس کے بالا افسر نے اس کی کسی غلطی کی وجہ سے فارغ کر دیا یا دوسری جگہ بھجوا دیا اور اس طرح اس کی جان چھوٹی۔ اگر نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے تو خدا تعالیٰ ایسے طریق سے مدد فرماتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کے الفاظ دل سے نکلتے ہیں۔ پھر نویں شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خلق اللہ سے ہمدری اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کا لکھا ہے۔

(ماخوذ ازمجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160 مطبوعہ ربوہ)

یہ بھی حقیقی رنگ میں اس وقت ہو سکتا ہے جب خالص ہمدردی کے جذبے کے تحت دنیا کو خدا تعالی کے قریب کرنے کی کوشش کریں اور انہیں کامل اور مکمل دین کے بارے میں بتائیں۔ اور یہ اس وقت ہو گا جب پیغام پہنچانے والے کے اپنے عمل بھی اس تعلیم کے مطابق ہوں گے۔ اور پھر ایک درد کے ساتھ ماحول میں پیغام پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

شرائطِ بیعت کی آخری شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مجھ سے اطاعت اور تعلق سب دنیاوی رشتوں سے زیادہ ہو۔

(ماخوذ ازمجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس ہر ایک کو جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے رشتے، ہماری عزیز داریاں، ہمارے تعلقات، ہماری قرابت داریاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تعلق میں حائل تو نہیں ہو رہے اور اس کے معیار کا علم ہمیں اس وقت ہو گا جب ہم آپ کی تعلیم (جو اسلام کی حقیقی تعلیم ہے) کا جوٴا مکمل طور پر اپنے گلے میں ڈالنے والے ہوں گے یا اس کے لئے کوشش کرنے والے ہوں گے۔ آپ نے اپنے بعد جس قدرتِ ثانیہ کے آنے کی خوشخبری دی تھی جو دائمی ہو گی اس قدرتِ ثانیہ یعنی خلافت کے ساتھ کامل اطاعت اور وفا کا نمونہ بھی آپ دکھائیں گے۔ اگر ہر ایک حقیقی تعلق کو قائم رکھنے کا عہد کرے گا تو وہ حقیقت میں آپ کی جماعت میں شمار ہو گا ورنہ احمدیت کا صرف لیبل ہے۔ یہ نہ ہو کہ بعد میں آنے والے احمدی آگے نکل کر ان برکات سے فیض پا لیں اور پرانے احمدی جن کے باپ دادا نے قربانیاں دے کر احمدیت کے چشمے اپنے گھروں میں جاری کئے تھے وہ اس چشمے سے محروم ہو جائیں۔ پس بہت دعاوٴں اور توجہ کی ضرورت ہے۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد17 شمارہ20 مورخہ14مئی تا 20مئی 2010 صفحہ5تا8)

(خطبہ جمعہ 23؍ اپریل 2010ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اکتوبر 2020