• 23 اکتوبر, 2020

محبت کا ایک آنسو

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ قیامت کے دن سات قسم کے آدمی عرش کے سایہ میں ہوں گے۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہو گا جس کے متعلق آنحضور ؐفرماتے ہیں کہ: رجل ذكر اللّٰه خاليا فاضت عيناه یہ پر کیف نظم اسی تنہائی کے آنسو کی تقریب میں کی گئی ہے ۔

ہزار علم و عمل سے ہے بالیقیں بہتر
وہ ایک اشک محبت جو آنکھ سے ٹپکا
خراجِ حُسن میں ہم جنس سے گراں مایہ
نذور عشق میں کیا خوب گوہر یکتا
خلاصۂ ہمہ عالم ہے قلب مومن کا
خلاصۂ دل مومن یہ اشک کا قطرہ
نه انفعال ، نه حسرت ، نہ خوف وغم باعث
وہ ایک اور ہی منبع ہے جس سے یہ نکلا
نہ اس کے راز کو دو کے سوا کوئی جانے
نہ ہی کسی کو خبر کب بنا کہاں ڈھلکا
جو جھلکے آنکھ میں تو مست و بے خبر کر دے
گرے تو لیویں ملائک اسے لپک کے اٹھا
نہیں زمانہ میں اس سا کوئی فصیح و بلیغ
جو دل کا حال ہو دلبر سے اس طرح کہتا
عرق ہے خون دل عاشقاں کا یہ آنسو
یہی ہے نار محبت سے جو کشید ہوا
یہ تحفہ وہ ہے جو خالص خدا کی خاطر ہے
نہیں ہے اس میں ریا اور نفاق کا شعبہ
پناہ تیزئ خورشید روز محشر ہے
ملے گا اشک کی برکت سے عرش کا سایہ
جو ’’عین جاریہ‘‘ درکار ہے اے زاہد خشک
تو ’’عین جاریہ‘‘ اپنی بھی کچھ بہا کے دکھا
میں کیا سرشک محبت تری کروں تعریف
کہ ذات باری نے خود تجھ کو دوست فرمایا

(حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ الفضل 23اکتوبر 1924)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اکتوبر 2020