• 19 اکتوبر, 2021

انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جب تک ۔۔۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہراوے۔ اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت و تندرستی کے چارپائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چارپائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرشِ زمین پسند نہ کروں۔ اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سو رہوں اور اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں۔اور اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں۔ بلکہ مجھے چاہئے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے روروکر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمارہے۔ اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہئے کہ میں اس سے ٹھٹھا کروں یا چیں بہ جبیں ہوکر تیزی دکھاؤں یا بدنیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں۔ کوئی سچا مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو۔ جب تک وہ اپنے تئیں ہر یک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختیں دُور نہ ہوجائیں۔ خَادِمُ الْقَوْم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جُھک کر بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے، اور بدی کا نیکی کے ساتھ جوا ب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصے کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجے کی جوانمردی ہے۔ مگر میں دیکھتاہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں۔‘‘

(شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد6 صفحہ395۔396)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ