• 28 اکتوبر, 2021

میرا جلسہ سالانہ2021ء

میری اُمی جان بہت محبت سے لطف لے لے کر ہمیں قادیان کی باتیں بتاتیں۔ پھر سامی صاحب ملے تو انہیں قادیان کا شیدا پایا۔ جب بھی قادیان کا ذکر ہوتا وہ اپنے والدین ’گھر‘ جلسہ سالانہ اور مہمانوں کے قصے سناتے ہمیں یہ کہانیوں کی باتیں لگتیں ہم سب شوق سے سُنتے تھے۔ اب میں خود عمر کے ایسے حصے میں ہوں کہ یادوں کو سینے سے چمٹائے ہوئے زندہ ہوں۔ دل کرتا ہے سارے مناظر جو ربوہ میں دیکھے ہو بہو دوسروں کے دلوں میں اُتار دوں ایک ایک بات تفصیل سے سناؤں۔ کیونکہ میں نے ربوہ کی بستی میں وقت گزارا ہے۔ وہ شب و روز آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے وہ جلسے بھی دیکھے جہاں تین تین گھنٹے شدید بارش ہو رہی ہے اور لوگ ہیں کہ آسمانی بارش کے ساتھ برستی آنکھوں سے حضرت مصلح موعود ؓ کی تقریر کا مزہ لے رہے ہیں، بچے بوڑھے سب ہی مجال ہے کہ کوئی اُٹھ کر چلا جائے سب سکون سے بیٹھے ہیں۔ ہمارا گھر جامعہ احمدیہ کے سامنے مسجد اقصیٰ کے پاس تھا، ہمارے مہمان لاہور سے میرے تایا جی اپنے بچوں کے ساتھ فیصل آباد کے پاس ایک گاؤں تھا جہاں میرے اباجان کے کزن بھائی رہتے تھے وہ اپنے خاندان اور گاؤں کے دوستوں کے خاندانوں سمیت ہمارے گھر تشریف لے آ تے اور صحن میں بہت بڑی مارکی میں سب مرد ہوتے اور عورتیں ہمارے ساتھ کمروں میں ہوتیں۔ ہمیں کچھ علم نہیں ہوتا تھا کہ کون کہاں سویا ہوا ہے سارے گھر پر مہمانوں کا قبضہ ہمیں جہاں کہیں تھوڑی بہت جگہ مل گئی سو جاتے تھے اکثر میری اور میری بہنوں کی جلسہ سالانہ میں ڈیوٹیاں ہوتی تھی گھر آ کر اپنی امی کے ساتھ بھی ہاتھ بٹانا ہوتا تھا۔ کھانا بے شک لنگر سے آتا لیکن میری امی جان تھوڑا بہت گھر میں بھی بناتی تھیں اور ایک دعوت سارے مہمانوں کی ضروری ہوتی تھی۔ ہمارے گھر اسٹور روم میں ایک پڑولی تھی جس میں ایک سال کی گندم اسٹور کر لی جاتی تھی اُس کا چھوٹا سا دروازہ بھی تھا جلسے کے دنوں میں اُس میں مونگ پھلی، چلغوزے، انڈے، ریوڑیاں اور مٹھائی وغیرہ اسٹور کی جاتی۔ کینو مالٹوں کے پورے پورے کریٹ لئے جاتے تھے تا کہ جلسہ کے مہمانوں کی خاطر مدارت کی جاسکے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ یہ بہت ہی یاد گار دن تھے جن کی یادیں بہت انمول ہیں۔

دُنیا بدل گئی اور ہم بھی بدل گئے کہاں سے کہاں آ گئے، شادیاں ہو گئیں بہنیں اور بھائی سب ربوہ سے دور ہو گئے۔ میں نے ربوہ کے آخری جلسہ میں دو چھوٹے بچوں اور سامی صاحب کے ساتھ لندن سے جا کرشمولیت کی اور یادوں کو تازہ کیا۔

پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ہمارے پیارے خلیفۃ المسیح الرابع ؒ خود ہی لندن تشریف لے آئے اور لندن میں جلسے شروع ہو گئے۔ خوش قسمت اسلام آ باد ٹلفورڈ جگمگا اُٹھا،خیمے لگے زمین پر دریاں بچھیں، بارشیں ہوئیں پیارے حضور خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی تقریریں ہوئیں، یہاں بھی وہ نظارے دیکھے کہ شدید بارش میں خیمے لگے ہیں بارش اُن خیموں کا لحاظ کئے بغیر اندر بیٹھنے والوں کو بھگوتی رہتی۔ یہ بھی ہؤا کہ کڑکتی بجلی میں تھوڑی دیر کے لئے ساؤنڈ سسٹم رُکا لیکن فوراً ہی بحال ہو گیا اور تقریر میں وہی جوش اور جذبہ قائم رہا۔ اندر بچھے قالین پانی سے تر نماز پڑھتے ہوئے ماتھے اور گھٹنے مٹی سے بھر پور بارش کا مزا دلا رہے ہوتے۔ کس کس بات کا ذکر کروں میرے اباجان جلسہ سے ایک ماہ پہلے اسٹور کی ڈیوٹی کے لئے چلے جاتے اور دس بارہ دن کے بعد واپس گھر آتے۔ اتنے عرصہ میں میری اُ می جان اباجان کے لئے گھر سے کھانا بنا کر بھجواتیں (ابا جان شوگر کے مریض تھے اس لئے وہ اپنے گھر کا کھانا کھاتے) یا اباجان وہاں خود اپنا کھانا بناتے مگر اپنا راشن خود گھر سےلے کر جاتے کہتے لنگر کا کھانا مہمانوں کا حق ہے۔ جلسے کے دنوں میں اباجان کو ایک خیمہ مل جاتا جہاں کچھ دن پہلے میری اُمی جان بھی چلی جاتیں اور ہم سب فیملی والے اُن کے مہمان ہوتے اور دوست احباب ملنے والوں کی میری امی جان خدمت میں مصروف رہتیں وہاں بھی گھر سے تمام ڈرائی فروٹ کھانے پینے کا پورا سٹور مہمانوں کی خدمت کے لئے ساتھ لے کر آتیں۔ میرے اباجان دوست احباب کو پکڑ پکڑ لاتے اور خدمت کرتے۔ جلسہ کے بعد مہمانوں کو لندن کی سیر کرواتے کوٹ کی دونوں جیبوں میں بادام پستہ وغیرہ ڈال لیتے مہمانوں کی خدمت کرنا ہی اُن کے سکون کا باعث ہوتا اور یہ میرے اباجان کی خوشی کے دن ہوتے ان کے چہرے پر ایک شفیق سی مسکراہٹ رہتی۔ اس کی کیفیت کیسے لکھ سکتی ہوں۔

جلسے کا ذکر ہو اور سامی صاحب یاد نہ آئیں غیر ممکن ہے بہت یادیں ہیں۔ سامی صاحب کی امام مسجد لند ن محترم عطاء المجیب راشدصاحب کے ساتھ جلسہ گاہ میں اسٹیج کی ڈیوٹی ہوتی تھی اور سامی صاحب اُن کے معاون تھے۔ اُن کے متعلق زیادہ نہیں لکھوں گی صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ سب سے آخر پر ہم جلسہ گاہ سے نکلتے تھے، اسلام آ باد اُن دنوں میں بہت دور لگتا تھا رات کو جب ہم واپس آتے بہت اندھیرا ہوتا سامی صاحب کی سارے دن کی تھکن کے بعد رات کی ڈرائیونگ سے بچوں کے ساتھ بہت ڈر لگتا رہتا تھا ( اب تو یہ سب راستے بہت آسان ہو گئے ہیں ) اور میں صبح کے لئے جاتے ہوئے اپنی جگہ بنانے کے لئے سب سے آگے اسٹیج کے پاس اپنی چادر بچھا کر نکلتی تھی اور اکثر صبح کو ہم ہی سب سے پہلے ہوتے ہماری چادر ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہم جلسہ شروع ہونے تک اپنی اُمی جان کے خیمہ میں بیٹھتے اور اپنی اُ می سے ملنے والے مہمانوں کی داستانیں سنتے بہت مزا آتا تھا۔ دنیا میں ہے کوئی ایسی جگہ یا ماحول جہاں اتنے مزے ہوں۔ نہیں ہر گز نہیں ہو سکتا۔

سامی صاحب کی وفات کے بعد بھی میں نے کبھی جلسہ نہیں چھوڑا بلکہ جب سے ہمارے جلسے حدیقۃ المہدی میں شروع ہوئے ہیں اور ٹرینوں کی سہولت ہوئی میں نے اکثر اکیلے ہی جلسے کے لئے ٹرین پر سفر کیا ٹرین کے بعد جلسہ گاہ تک بسوں میں واپسی پر ہمارے چاق وچوبند خدام لوگوں کو پیک کیا ہوا۔ قیمہ بریانی یا اور جو بھی لنگر کا کھانا اور بچوں کو ٹافیاں دے کر خدا حافظ کہتے ہوئے رخصت کرتے ہوئے اتنے اچھے لگتے کہ بیان نہیں کر سکتی دل سے اُن کے لئے دعائیں نکلتی تھیں وہ جذبہ وہ دعائیں وہ ٹرین میں اپنے ہی احمدی مسافروں کے ساتھ سفر اور جلسے پر تبصرے یہ سب میری یادوں کا سر مایہ ہے۔

اور اب دوتین سالوں سے میں نے گھر بیٹھ کر ہی ٹی وی پر جلسے سُنے اور دیکھے ہیں بات کرتی ہوں اس جلسے کی جو کووِڈ کی وجہ سے بہت محدود تعداد میں لوگوں کو دعوت نامہ دے کر بلایا گیا تھا اور بہت ساری پابندیاں بھی تھیں میں تو ویسے بھی عمر کے اُس حصہ میں آ جاتی ہوں جس کو گھر بیٹھ کر ہی دیکھنا اور سُننا چاہئے۔ سو میں نے یہ جلسہ اپنے گھر بیٹھ کر ہی دیکھا اور سُنا۔

جی ہاں میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ 2021ء کا جلسہ میرے لیے کافی مختلف تھا ایک تو پچھلے سال جلسہ نہیں ہوسکا تھا اب بے تابی سے انتطار تھا۔ دوسرے میری بہو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے والدین کے گھر گئی ہوئی تھی، اور میرا بیٹا عکاشہ ڈیوٹی کی وجہ سے پہلے ہی حدیقہ المہدی چلا جاتا تھا۔ سو میں نے یہ جلسہ اکیلے میں گھر بیٹھ کر دیکھا نہ صرف بیٹھ کر بلکہ کبھی سوفے پر کبھی کرسی پر اور بہت تھک گئی تو بیڈ میں بیٹھ کر سُن لیا اکیلی تھی اس لئے اس بات کا مزا بہت آیا کہ ساری پُرانی یادوں کو ساتھ لے کر چلتی رہی اسٹیج پر سامی صاحب کو ڈھونڈا، اپنے والدین کے لگے خیموں کی تلاش میں گھومتی رہی، جہاں رات کو چادر بچھا کر آتی تھی وہ جگہ تلاش کرتی رہی، کبھی وہ اندھیری رات کو سونی سڑک پر بچوں کے ساتھ سامی صاحب کی ڈرائیو کرتی ہو ئی A3 پر دوڑتی ہوئی کار کا پیچھا کرتی رہی غرض جہاں میں نے حضور پُر نور کے خطاب سنے، نظمیں سنیں، ایم ٹی اے پر وہ نظارے دیکھے جو کیمرے کی آنکھ دکھا رہی تھی کیچڑ میں پھنسی ہوئی کاروں کو اپنے بہادر جوانوں کو پُر جوش اَللّٰہُ اَکْبَرْ کی صدا بلند کر کے دھکا لگاتے ہوئے بارش میں بھیگتے ہوئے wellington shoes پہنے ہوئے ممبرات لجنہ اماء اللہ کو بھی مشکل حالات میں جواں مردی سے کام کرتے ہوئے دیکھا، اِ ن سب باتوں سے جو جذبات ہوتے ہیں وہ سب اکیلے میں ہی مزا دے سکتے ہیں کوئی پاس ہو تو ضبط کرنا پڑتا ہے اب صرف میں تھی اور میرا جلسہ تھا اور بلک بلک میری یادیں اور میرے تمام جلسے تھے۔۔ ہاں دو دن کھانا میں نے لنگر کا ہی کھایا رات کو میرا بیٹا عکاشہ میرے لئے تبرک لے کر آ تا تھا۔

ہے نا مزے دار میرا جلسہ، جلسہ 2021ء یاد گار جلسہ!

(صفیہ بشیر سامی۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ