• 27 اکتوبر, 2021

اِکرامِ ضیف اور خدمتِ خلق کی تمنا

اِکرامِ ضیف اور خدمتِ خلق کی تمنا
تحریر مکرم میاں عبدالرحیم دیانت درویش قادیان

(جلسہ سالانہ کی مناسبت سے ایک تحریر)

1937ء کا واقعہ ہے۔ جلسہ سالانہ کی آمد آمد تھی کسیر لاد لاد کر لائی جا رہی تھی گاڑی والوں کو کرایہ وغیرہ تو ملتا ہی تھا لنگر خانہ کھلا ہوتا تو کھانا وغیرہ بھی مل جاتا ایک روز ایسا ہوا کہ ان کو دیر ہو گئی لنگر خانہ بند ہو گیا۔ سارا دن سفر کی صعوبت اور مزدوری کے کام کاج نے اُن میں اتنی سکت نہ چھوڑی تھی کہ خود کہیں سے انتظام کرتے۔ میں بھی جلسہ سالانہ کی تیاری میں دیر تک دکان پر کام کرتا تھا۔ میں نے اُنہیں واپس جاتے ہوئے کھانا نہ ملنے کے متعلق باتیں کرتے سُنا تو ٹھہرا لیا۔ اور کہا کہ آپ کے لئے کوئی انتظام کرتا ہوں آدھی رات کے وقت کھانے کا کیا ہو سکتا تھا؟ جلدی سے ایک آدمی کو آٹا لینے بھیجا۔ ایک کڑاہی کو اُلٹا کر کے تَوا بنا لیا آگ تو جل ہی رہی تھی فٹا فٹ روٹیاں پکتی گئیں گرم گرم روٹیاں تھکے ماندے لوگوں نے کھائیں تو بہت خوش ہوئے مجھے اس کام سے ایسی لذّت حاصل ہوئی کہ لنگر خانے کے منتظم مکرم محمد یٰسین سے کہا کہ اگر کسی آڑے وقت کوئی مہمان آجائیں خواہ کتنے بھی ہوں تو بلا تردد میرے پاس بھیج دیا کریں۔ اسی طرح مکرم محمد الدین اور مکرم چراغ الدین (تنور ہوٹل والے) سے بھی کہہ رکھا تھا کہ اگر کسی وقت بے وقت آنے والے کو کھانا نہ کھلا سکیں تو میرے پاس بھیج دیا کریں۔ میرے ذوقِ ضیافت میں میری اہلیہ برابر کی شریک تھی۔ وہ بھی اس کام میں راحت محسوس کرتی۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ شوق دیا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے شیدائیوں کی دعوت کر کے خوشی اور سکون محسوس کرتے۔میں جلسہ سالانہ پر کشمیر اور پونچھ سے آنے والے مہمانوں کو گھر پر مدعو کرتا۔ اسی طرح کبھی حفاظِ قرآن کو بُلا لیتا کبھی کسی طرح سے معذور افراد کی دعوت کر دیتا۔خاص طور پر نئے احمدی ہونے والے جب قادیان آتے تو کھانے پر بلا کر حالاتِ بیعت سُنتا بیوی بچے بھی اس ضیافت میں ہر طرح حصہ لیتے۔ گھر میں سارا دن تیاری ہوتی برتن دھونا کھانا پکانا صفائی کرنا بہت کام ہوتا۔دعوت کے بعد میری اہلیہ نے کئی بار کہا کہ لطیف کے ابا! جب دعوت کا کام سر پر ہوتا ہے تو لگتا ہے پہاڑ ہے کام کا جو کرنا ہے مگر کام کے بعد جسم تو تھکن سے چور چور ہوتا ہے مگر دل میں خوشی ہوتی ہے کمر ہلکی ہوجاتی ہے کہ ایک نیک بندئہ خدا کی خدمت کی توفیق ملی۔ میری یہ عادت بھی تھی کہ دس مہمان کہہ کر جاتا اور پندرہ لے کر آ جاتا میری اہلیہ محترمہ کو بھی یہ پتہ تھا وہ کُھلا کھانا بناتی۔ اور میرے اس شوق کو مجھ سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر پورا کرتی۔ پھر حالات میں بہت کچھ تبدیلیاں آئیں۔ وہ کشائش نہ رہی پھر بھی عادت کہاں بدلتی ہے 1970ء کی بات ہے میں ربوہ میں تھا جلسہ سالانہ کی رات کی شِفٹ میں کئی ملکوں کے گورے کالے فدائینِ احمدیت صداقتِ حضرت مسیح موعود پر تقریریں کر رہے تھے میرے خوشی کے آنسو جاری تھے میں نے اُن کو گھر پر دعوت پر بلا لیا میری بیوی نے بے ساختہ کہا۔ لطیف کے ابا! گردشِ ایام نے آپ کے سارے کس بل نکال دئے مگر دعوتوں کا چسکا نہ گیا۔ جہاں موقع دیکھا چنگاری سلگی۔ خدا کا شکر ہے کہ اب ان کی شریکِ حال میری بہو محمودہ نے اُن کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا ہے۔

کارِ خیر کا موقع

ایک دفعہ اپنی دکان واقع احمدیہ چوک میں کام ختم کر چکا تھا دس بج گئے تھے۔ دکان بند کر رہا تھا۔ کہ ایک کار آکر رکی دو آدمی اُترے ڈرائیور کار ہی میں بیٹھا رہا اُنہوں نے سوڈا واٹر پینے کی خواہش ظاہر کی میں نے برف ڈال کر پیش کیا۔اُن کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ محترم سیّد ولی اللہ شاہ صاحب سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے آئے تھے مگر تاخیر ہوجانے کی وجہ سے اُس وقت جا کر ملنا نا مناسب خیال کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کارِ خیر کا موقع مل سکتا ہے۔ میں نے اندر جا کر اپنی اہلیہ سے پوچھا دو تین مہمان ہیں کچھ کھانے کو مل سکتا ہے بتایا کہ سالن روٹی ہے آپ دو تین منٹ مہمانوں سے باتیں کریں میں سویاں پکا لیتی ہوں آپ ان کو شوق سے دعوت دے دیں۔ اور رات ٹھہرانے کا بھی انتظام کر دیتی ہوں۔ میں نے ان اجنبی مہمانوں کو طعام و قیام کی دعوت دی۔ وہ وجیہہ اور صاحبِ فہم و فراست معلوم ہوتے تھے۔ دعوت قبول کی جتنی دیر کھانا کھانے میں لگی اہلیہ نے صاف ستھرے بستر جائے نماز وغیرہ سب رکھ دیے صبح ناشتہ کرا کےرخصت کیا میں نے پوچھا نہیں کہ کون ہیں۔ محترم شاہ صاحب سے مل کر واپسی پر آئے اپنا ایڈریس دیا اور شناخت کروائی لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اکرامِ ضیف کا موقع دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

دارالشیوخ کے بچوں کی پکنک

ایک مرتبہ دل میں یہ خیال آیا کہ سکولوں میں چھٹیوں کے دنوں میں سب بچے خوشی خوشی اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں مناتے ہیں مگر دارالشیوخ (حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ نے مدرسہ احمدیہ کے غریب طلباء اور جماعت کے بے سہارا بوڑھوں کے لئے ایک ادارہ قائم کیا تھا جن کو لنگرخانہ سے کھانا مہیا کیا جاتاتھا۔ اس کو دارالشیوخ کہا جاتا تھا) کے بچے دل مسوس کر رہ جاتے ہوں گے۔ میرا دل درد سے بھر گیا۔ میں نے فطری طور پر ان کا کرب محسوس کیا اور میں نے سوچا ان کی خوشی کا بھی سامان کرنا چاہیے

چنانچہ ان کے نگران حکیم محمد الدین صاحب سے مشورہ کیا اُنہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور ان بچوں سے باپ کی طرح پیار کرنے والے حضرت میر محمد اسحق ؓصاحب کی اجازت سے پروگرام بنایا وہاں تیس پینتیس بچے تھے۔ اُن سے ہی پوچھا کہ کہاں جانا پسند کرو گے جوگندر نگر جہاں سے بجلی پیدا ہوتی ہے یا دریائے بیاس پر۔ فیصلہ یہ ہوا کہ دریائے بیاس کے کنارے پکنک کی جائے۔ جمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے گھر سے پراٹھے وغیرہ پکوا لئے ہمارے پاس صرف دو سائیکل تھے ان پر کھانا رکھ لیا۔ کوئی بچہ تھک جاتا تو اُسے سائیکل پر بیٹھا لیتے۔ مغرب سے قبل ایک جگہ رُک کر کھانا کھایا پھر عشاء کے بعد ایک مکان میں رک کر پلائو پکا کر کھایا۔ ایک بدمزگی ہوئی ایک بچے کو بچھو کاٹ گیا۔ بہر حال با جماعت نماز پڑھی اور بچے آپس میں خوشی خوشی کھیلتے کھیلتے سو گئے۔ صبح ہوئی دریا ایک میل کے فاصلے پر نظر آ رہا تھا تین دن وہاں ہنسی خوشی بچوں کے ساتھ گزارے مل جل کر کھانے پکائے باجماعت نمازیں پڑھیں خیر سے گھر آئے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اب جب درویشی میں خود اپنے بچوں سے جُدا ہوں یہ بات یاد کر کے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ ہنستے مسکراتے بچوں کے چہرے آنکھوں کے آگے آجاتے ہیں ایک دفعہ بچوں کو نہر کے کنارے خربوزوں کی دعوت دی۔ اکثر گڑ والے چاولوں کی دیگ پکوا کر دے آتا تھا۔ ایک دفعہ ایک لطیفہ بھی ہوا گھر میں ایک عزیزہ کی شادی پر کھانا پکوایا دعوت میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ بھی مدعو تھے۔ کھانا وقت پر نہ پہنچا۔ حضور کو میرے انتظام کے متعلق حُسنِ ظن بھی تھا آپ نے پوچھا عبدالرحیم کہاں ہے میں نے عرض کیا کہ حضور لنگر خانے سے کھانا پکوایا تھا پتہ کرتا ہوں دیر کیوں ہو گئی۔ لنگر خانے گیا تو معلوم ہوا کہ وہ سمجھے تھے کہ حسبِ سابق دارالشیوخ کے لڑکوں کے لئے کھانا پکوایا ہے وہاں بھجوا دیا گیا تھا۔

ارشاد سے پہلے تعمیلِ ارشاد

ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ کرام ایک ایک کر کے ہم سے جُدا ہو رہے ہیں کیوں نہ ایسا پروگرام بنائوں کہ ہفتے دس دن بعد کسی ایک رفیق کو گھر پہ دعوت دوں تاکہ بیوی بچے پاکیزہ کلام، سیرت و سوانح، ذکر حبیب سُن کر اپنے ایمان کو تازہ کریں۔ چنانچہ اس پر عمل شروع ہوا گھر کے افراد اُن کے اردگرد بیٹھ جاتے۔ مل کر کھانا کھاتے اور باتیں سن کر لطف اندوز ہوتے۔ ایک دن ہم دونوں میاں بیوی نماز جمعہ کے لئے مسجد میں موجود تھے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ارشاد فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا اصحاب مسیح دیکھنے کو بھی نہ ملیں گے ایک ایک کر کے جدا ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی صحبت سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ میں نے اس ارشاد سے بہت لطف لیا۔ جمعہ کے بعد میں اور دلنشیں نصیحتیں فرماتے۔ تربیت کے لئے چھوٹی چھوٹی بات کا خیال رکھتے کھانے کو بایاں ہاتھ بالکل نہ لگاتے۔ نماز با جماعت ادا کرتے اور کرواتے میرے بڑے بھائی حضرت مولوی عبدالغفور صاحب بھی ان کے گھر برائے تعلیم رہا کرتے تھے۔ کہانی کہانی میں بات سمجھانے کی ایک مثال دیتا ہوں۔ یہ اُن کی سنائی ہوئی ایک کہانی ہے۔

ایک بادشاہ کی سات لڑکیاں تھیں۔ بادشاہ نے سب لڑکیوں سے پوچھا کہ آپ کی ہر قسم کی پرورش کا کون ذمہ دار ہے؟ چھ لڑکیوں نے کہا آپ ہماری پرورش کے ذمہ دار ہیں مگر ساتویں نے کہا اللہ کارساز ہے۔ بادشاہ ناراض ہوا اور اُسے جنگل بیابان میں پھینکوا دیا اُدھر سے کسی فقیر کا گذر ہوا تو تنہا بچی کو دیکھ کر اُس کے پاس آیا بچی کی داستان سُن کر اُس کو اپنی بیٹی بنا لیا۔ اب اُسے فکر ہوئی کہ یہاں بچی سوئے گی کہاں؟ یہ تو جنگل ہے ایسا کرتا ہوں کہ ایک تہہ خانہ بناتا ہوں اور اُس میں بچی کا کمرہ بناتا ہوں۔ مگر کُھدائی کا سامان کہاں تھا؟ بچی نے سر پر ہاتھ پھیرا تو بال بال پروئے ہوئے موتیوں میں سے ایک باقی رہ گیا تھا اُس نے وہ موتی فقیر کو دیا کہ بیچ کر کھدائی کا سامان اور کھانے پینے کو کچھ لے آئے۔ فقیر نے زمین کھودنی شروع کی تو اُس میں سے بہت بڑا خزانہ نکلا۔ بادشاہ کی بیٹی نے بہت بڑا منصوبہ بنایا بہت سے مکان بنوائے گویا کہ نیا شہر بنوا لیا۔ پھر اس میں اپنے والد، بہنوں، وزیروں اور سب شہزادوں کو دعوت دی۔

ایک ہفتے تک سب کو خوب سونے چاندی کی پلیٹوں میں کھانا کھلایا اور کہا کہ بے شک جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں ساتویں دن وہ اپنے اُسی لباس میں بادشاہ کے سامنے آئی جس میں اُسے جنگل میں پھنکوا دیا گیا تھا۔ بادشاہ حیران اور نادم ہوا۔ وہ سمجھا تھا جنگلی درندے کھا گئے ہوں گے۔ مگر بیٹی نے سمجھایا کہ دیکھیں میں نے کہا تھا کہ رب میرا رازق ہے اُس نے مجھے یہ سارا کچھ غیب سے دے دیا۔ اب یہ سلطنت بھی آپ سنبھالیں اور خدا کو اپنا پروردگار مانیں۔

اس کہانی سے یہ سبق دینا مقصود تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑکو ساری دنیا چھوڑ دے مگر جو رب آپ کی پرورش کرتا ہے ساری دنیا کو آپ کے قدموں میں جھکا دے گا اور اپنا قادر ہونا سمجھا دے گا۔

جن کا ذکر کر رہا ہوں یہ وہی محترم رفیق ہیں جنہوں نے محمد حسین بٹالوی صاحب کے نیچے سے چادر کھینچ کر کہا تھا اُٹھ پلید گواہی عیسائی کے حق میں مسلمان کے خلاف دینے آیا ہے میری چادر کو پلید نہ کر۔ ان کی باتیں تو بہت ہیں مگر میں نے بات شروع کی تھی ان کے چھوٹے بھائی کی یعنی ٹھیکیدار اللہ یار صاحب کی۔ وہ ہمارے گھر مدعو تھے اور ہم نے اُن سے کوئی روایت سنانے کی فرمائش کی۔ انہوں نے کہا کھانے پر بیٹھے ہیں کھانے کی ہی بات بتا دیتا ہوں۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے والد محترم جناب مرزا غلام مرتضی صاحب کے قادیان کے مغربی جانب شہر سے لے کر عید گاہ تک جو تقریباً ایک میل کا فاصلہ ہے ڈھاک کے درخت تھے جن کو کاٹنے کا ٹھیکہ میں نے لیا۔ ہم تینوں بھائی اُن دنوں اس کام کو سر انجام دینے کے لئے قادیان میں ہی رہتے تھے۔ ایک دن مرزا صاحب نے اپنے دوست کے طفیل ہماری بھی دعوت کی اور فرمایا رات کا کھانا ہمارے ہاں سے آئے گا۔ اتفاق کی بات یہ کہ جب خادم کھانا لے کر آیا موصوف محمد بخش صاحب جو اچھے جسم اور بہت طاقتور تھے۔ کھانے کو دیکھ کر اپنے انداز میں یوں گویا ہوئے کہ یہ تم تین آدمیوں کا کھانا لائے ہو۔ ایک ٹرے میں کچھ زردہ اور پلاؤ تھا۔ خادم نے کہا میں تو خادم ہوں جو آپ نے دیا میں نے لاکر آپ کو دے دیا۔ محمد بخش صاحب نے کہا اپنے پنجابی انداز میں محاورہ بولا اس کو کون کھائے گا کون ہگَن جائے گا۔ (یعنی اس قدر کم ہے کہ کیا حصے میں آئے گا اور کیا حاجت میں نکلے گا)۔

بہرحال تینوں بھائی کھانے کے لئے بیٹھ گئے۔ اور خوب سیر ہو کر کھایا اگرچہ بھائی نے کہہ دیا تھا کہ کم ہے مگر ہم نے خوب پیٹ بھر کے کھایا کچھ زیادہ ہی کھایا مگر سُبْحَانَ اللّٰہِ کھانے میں ایسی برکت تھی کہ ختم نہ ہوا، آنے والے مسیح موعود کے گھر سے آمدہ کھانا، نہ معلوم تقدیر نے کب سے اس گھر کو برکتوں سے بھرپور کرنا شروع کر رکھا تھا۔ قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ باوجود سارے ہی جتن کیے کھانا بچ رہا۔ اس کی لذّت اللہ تعالیٰ شاہد ہے اب تک محسوس کرتا ہوں۔ اس کی خوشبو سے آج بھی لطف لیتا ہوں۔ پھر صبح ہوئی تو ہم بھائیوں نے سیر ہو کر ناشتہ اسی کھانے سے کیا۔ فَا لْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ ذَالِکَ

آپ ان واقعات کو بیان کرتے وقت ایک خاص قسم کے جذب و شوق سے بھرپور ہوتے کبھی مسحور بُت بنے بیٹھے رہتے ہمارے ان سے ایک طرح گھریلو تعلقات تھے میرے والد صاحب سے بہت تعلق تھا اسی نسبت سے ہم سے بھی محبت تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور مقام خاص عطا فرمائے آمین۔

ان کی اہلیہ محترمہ میری والدہ صاحبہ کی ہم نام تھیں یعنی برکت بی بی نام تھا۔ تعلیم یافتہ تھیں۔ آخری عمر میں میرے ایک بچے کو ان سے قرآن پاک پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ میں جب قادیان سے ربوہ جاتا خاص شوق اور اصرار سے قادیان کا تبرک لیتیں اور شکر گزار ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں غریقِ رحمت فرمائے۔

درخواست پر یہ روایت سنائی۔ ’’میں ابھی بچہ تھا میرے والد صاحب حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے گھر اندرونِ خانہ پانی بھرنے پر مقرر تھے۔ ایک روز حضرت اقدسؑ نے فرمایا ’’چلو میرے ساتھ‘‘ ہمیں ساتھ لے کر مہمان خانہ کے راستہ کے سب کوارٹر، مکان، رہائش گاہوں پر پوچھتے گئے کہ کھانا کس کو کھانا ہے؟ غالباً آپ کو کوئی الہام ہوا تھا سب جگہ پوچھ لیا واپس آ رہے تھے تو ایک شکستہ مکان سے کراہنے کی آواز آئی۔ (یہ مکان بھائی بشیر محمد صاحب کی دکان والی جگہ پر تھا) آپ نے اُن صاحب کو فرمایا دیکھنا یہاں کون ہے؟ دیکھ کر بتایا کہ ایک بیمار شخص ہے۔ آپ نے فرمایا پوچھ کر آئیں کہ روٹی کھائیں گے والد صاحب نے پوچھا۔ اور آکر بتایا کہ وہ کہتا ہے روٹی نہیں کھاؤں گا۔ آپ نے فرمایا کہ پوچھیں پھر کیا کھائے گا؟ اُس نے کہا کہ دودھ بکرم (Rusk) کھانا ہے۔

بدرالدین صاحب کے والد صاحب نے آ کر کہا حضور دودھ بکرم کھانے کو کہتا ہے۔ آپ کے ہاتھ پر تولیہ تھا اُسے ہٹایا تو ہاتھ پر ایک چینی کا پیالہ تھا جس میں دودھ اور بکرم پڑے تھے۔ آپ نے فرمایا:

لے جائیں اور اُس کو کھانے کو دیں

بدرالدین صاحب نے فرمایا: کہ والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ وہ مائدہ تھا جو خدا نے اُس بیمار حواری کے لئے بھجوایا تھا وہ قادر ہے۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ۔‘‘

محترمہ اہلیہ حضرت بدرالدین صاحب کی روایت

محترمہ اہلیہ بدرالدین صاحب بھی رفیقہ تھیں۔ ہم نے اُنہیں بھی دعوت دی وہ سن رسیدہ تھیں۔ چادر اوڑھتی تھیں۔ اُن کی باتیں بھی بہت دلنشین تھیں فرمایا جب میری شادی ہوئی حضرت اُم ناصر کی گود میں میاں نصیر احمد تھے جو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے سب سے پہلے پوتے تھے۔ حضرت اُمِّ ناصر کسی تکلیف کی وجہ سےبچے کو دودھ نہ پلاسکتی تھیں۔ بچے کو دودھ پلانے کے لئے جس بھی خاتون سے کہا گیا بچے نے منہ نہ لگایا۔ میرے خسر مرحوم نے مجھ سے پوچھا کہ تم دودھ پلا سکو گی؟ میری گود میں بچی تھی میں نہا دھو کر بخوشی تیار ہو گئی۔ حضرت اقدس مسیح موعود ؑکے پوتے کو دودھ پلایا۔ بچے نے پیٹ بھر کے دودھ پیا اور سو گیا۔ بچہ گہری نیند کافی دیر تک سویا رہا تو سب کو فکر ہوا کہ دودھ میں کوئی ناموافق بات نہ ہو ڈاکٹر صاحب کو دکھایا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کوئی فکر کی بات نہیں پیٹ بھرا تو خوب نیند آئی ہے بچہ کچھ دیر کے بعد اُٹھا اور کھیلنے لگا۔

اس ضمن میں حضرت مسیح موعودؑ کی قبولیتِ دعا کا ایک واقعہ بھی لکھ دوں حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے حضرت مولوی عبدالکریمؓ سے فرمایا کہ بچہ رات کو روتا ہے میں اس کی تکلیف سے سو نہیں سکتا ۔ یہ ذکر شیخ محمد نصیب صاحب نے سُنا تو بیتاب ہو کر حضرت مولوی عبدالکریمؓ سے عرض کی میں چاہتا ہوں میری بیوی بچے کو دودھ پلا دے۔ مولوی صاحب نے فرمایا شیخ صاحب جس نے دودھ پلانا ہے اُس سے پوچھ کر فیصلہ کریں۔ اُسی وقت حضرت حکیم نورالدین (خلیفۃ المسیح الاولؓ) سے بھی ذکر ہوا آپ نے بھی یہی فرمایا کہ جس نے دودھ پلانا ہے اُس سے پوچھ لیں۔ مکرم شیخ صاحب نے اپنی اہلیہ سے پوچھا وہ تیار ہو گئیں۔ حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا اُن کو ابھی بلا لیں آپ کے آنے تک ایک کمرہ اُن کی رہائش کے لئے تیار کیا گیا۔ اُس کمرے میں کئی برتن دودھ کے رکھے تھے۔ شیخ صاحب نے عرض کیا حضور اس قدر دودھ؟ آپ نے فرمایا جس عورت نے دو بچوں کو دودھ پلانا ہو اگر وہ خود نہ پئے گی تو اُن کو کہاں سے پلائے گی۔ یہ کمرہ بیت کے راستے میں پڑتا ہے۔ ایک دن حضورؑ نے جاتے ہوئے تیس روپے چارپائی پر رکھ دئے۔ شیخ صاحب نے جب تیس روپے دیکھے تو جاکر حضورؑ کی خدمت میں عرض کی کہ تیس روپے کمرے سے ملے ہیں آپ نے فرمایا شیخ صاحب میں نے خود رکھے ہیں اس لئے کہ آپ کی تنخواہ کم ہے اور آج کل خرچ زیادہ ہو رہا ہے۔ شیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اس روپے کا زیور بنا لیا تاکہ دیر تک تبرک محفوظ رہے۔

حضرت اُم ناصر زیادہ علیل ہوئیں تو لاہور لے جانے کا فیصلہ ہوا۔ شیخ صاحب اور اُن کی اہلیہ کو بھی ساتھ لاہور لے گئے بعد میں شیخ صاحب تو لاہور سے واپس آ گئے مگر اہلیہ ساتھ ہی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی بچی کو واپس اپنے پاس بلا لیا اہلیہ شیخ صاحب بہت غمزدہ ہوئیں اور روتی تھیں۔ آخر حضرت اقدسؑ سے اجازت مانگی کہ ان کو کچھ عرصہ اپنی والدہ صا حبہ کے پاس بھیج دیا جائے تاکہ کچھ طبیعت بہل جائے آپ نے بہت خوشکن جواب دیا۔

شیخ صاحب! بعض اوقات کسی تکلیف کو زیادہ محسوس کرنے سے آنے والی نعمت خدا روک لیا کرتا ہے میں دعا کروں گا اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکی کی بجائے دو لڑکے عطا فرما دے گا۔ یاد رکھیں دنیا میں خاوند سے زیادہ بیوی کا کوئی غم خوار نہیں ہو سکتا ویسے چند دن کے لئے آپ کی بیوی والدہ کے پاس چلی جاویں۔ آپ نے ایک نسخہ بھی عطا فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح کی دعا قبول فرما کر محترم شیخ محمد نصیب صاحب کو دو لڑکے عطا فرمائے۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ

اعزہ و اقرباء کی خدمت

اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے عزیز رشتے داروں کی خدمت کی بھی توفیق عطا فرمائی۔ میری بیوی کے رشتے دار بھی مجھے بہت عزیز تھے قادیان بلانے اور یہاں رہائش اور کاروبار شروع کرنے میں جو ہو سکا خدمت کی۔ میں خود کیا ذکر کروں سب عزیز جانتے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو شاد آباد رکھے۔

(مرسلہ: امۃ الباری ناصر۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ