• 18 اکتوبر, 2021

سورۃ الکہف اور مریم کا تعارف از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ

سورۃ الکہف اور مریم کا تعارف
از حضرت مرز اطاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع ؒ

سورۃ الکہف

یہ مکی سورت ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی ایک سو گیارہ آیات ہیں۔ اس کا زمانہ نزول نبوّت کا چوتھا یا پانچواں سال ہے۔

سورۃ الکہف کا آغاز سورۃ بنی اسرائیل کے اسی مضمون سے ہوا ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بندہ ہونے کو بڑی صراحت اور جلال سے پیش فرمایا گیا ہے اور بہت ہی سادہ الفاظ میں یہ اعلان فرما دیا گیا کہ انہیں علم ہی کوئی نہیں کہ حضرت عیسیٰ کیسے پیدا ہوئے اور نہ یہ علم ہے کہ اللہ تعالیٰ تولید کے نظام سے کلیۃً پاک ہے۔ وہ اللہ پر بہت ہی بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کے دعویٰ کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔

اس کے بعد ابتدائی عیسائیوں کا ذکر فرمایا گیا کہ کس طرح وہ توحید کی حفاظت کی خاطر سطح زمین کو چھوڑ کر غاروں میں چلے گئے۔ اصحاب کہف کے ذکر سے پہلے ان ابتدائی آیات میں یہ فرمایا گیا تھا کہ دنیا کی جو ظاہری نعمتیں بنی نوع انسان کو عطا کی گئی ہیں وہ ان کی آزمائش کی خاطر ہیں لیکن ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ یہ نعمتیں ان سے چھین لی جائیں گی اور اُن لوگوں کو عطا کر دی جائیں گی جنہوں نے اللہ کی خاطر سطح زمین کی زینت کی بجائے غاروں میں زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی۔

اس کے بعد دو ایسی جنتوں یعنی باغوں کی مثال دی گئی ہے جن کی وجہ سے ایک شخص دوسرے پر فخر کرتا ہے کہ مجھے تو یہ سب کچھ عطا ہوا ہے اور میرے مقابل پر تم تہی دست ہو۔ لیکن ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرما دی گئی کہ جب اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے بگولے تمہاری نعمتوں پر اتریں گے تو تمہیں خاکستر کر دیں گے۔ وہی صَعِیْدًا جُرُزاً والا مضمون دوسرے لفظوں میں دہرایا گیا ہے۔

اسی سورت میں حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اورآپ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس سفر کا ذکر ملتا ہے جس میں انہیں اپنی امت کی آخری حدیں دکھا دی گئیں اور اُس مقام کی نشان دہی فرما دی گئی جہاں روحانی غذا کی مچھلی واپس سمندر میں چلی گئی اور یہ عیسائیت کے ظہورِ اسلام سے پہلے کے اُس دَور کی طرف اشارہ ہے جب وہ روحانیت کھو چکی تھی۔

اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تمثیل میں اُس بزرگ کی صورت میں دکھایا گیا ہے جسے عوام الناس حضرت خضر کہتے ہیں اور بتایا گیا کہ جو حکمتیں اس کو عطا کی جائیں گی وہ موسیٰ علیہ السلام کی پہنچ سے بالا ہیں اور ان کی کُنہ تک پہنچنے کے لئے جس صبر کی ضرورت ہے وہ موسیٰ علیہ السلام کو عطا نہیں ہوا تھا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰؑ پر یہ فضیلت عطا ہوئی کہ آپ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کے ہمراز بنائے گئے۔

اس کے بعد ذوالقرنین کا ذکر آتا ہے جو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ آپؐ کو دو زمانوں کی بادشاہی دی جائے گی۔ ایک اَوَّلِیْن کی اور ایک اٰخَرِیْن کی۔ اس میں جو ذوالقرنین کے سفر کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں وہ اپنے اندر بہت سے اشارے رکھتی ہیں جن کی تفصیل یہاں بیان نہیں کی جا سکتی مگر ایک بات بہر حال حتمی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا پھیلاؤ مغرب تک بھی ہو گا جہاں اہلِ مغرب کے باطل خیالات کے گدلے پانی میں سورج غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے اور مشرق میں سفر اس سر زمین تک ہو گا جس سے پرے سورج اور زمین کے درمیان کوئی اوٹ نہیں۔

اس سورت کے آخر پر قطیعت سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اس میں عیسائیت کے عروج و زوال کا قصہ بیان فرمایا گیا ہے۔ عروج ابتدائی مؤحدین کی وجہ سے ہوا تھا اور زوال اس وقت ہوا جب کہ ایک اللہ کا عقیدہ بگڑتے بگڑتے سینکڑوں بلکہ ہزاروں اولیاء کو خدا ماننے پر منتج ہوا۔ چنانچہ عملاً آج فرضی Saints کو جو الوہیت کا رتبہ دیا جا رہا ہے اس کا اس سورت کے آخر پر یوں ذکر ہے کہ اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوۡلِیَآءَ۔ کہ وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر رہے ہیں کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو اس کے سوا اولیاء بنا لیں گے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا واضح عرفان عطا کیا گیا تھا کہ اس سورت کا تعلق دجّال سے ہے۔ چنانچہ آپؐ نے یہ نصیحت فرمائی کہ جو شخص اس سورت کی پہلی دس آیات اور آخری دس آیات کی تلاوت کیا کرے گا وہ دجّال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔اور باوجود اس کے کہ آپؐ بھی ایک بشر ہی تھے آپؐ کی زبان سے یہ اعلان کروایا گیا کہ میں بشر تو ہوں مگر ہر قسم کے شرک سے پاک۔ پس اگر تم بھی چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی لقاء تمہیں بھی نصیب ہو تو اپنے آپ کو ہر قسم کے شرک سے پاک کر لو۔ یہاں وحی الہٰی کے جاری رہنے کی پیشگوئی بھی فرمائی گئی ہے۔ اللہ کے پاک بندے جو اپنے آپ کو شرک سے پاک رکھیں گے،اللہ تعالیٰ اُن سے بھی ہمکلام ہو گا۔

(قرآن کریم اردو ترجمہ مع سورتوں کا تعارف از حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ، صفحہ484-483)

سورۃ مریم

یہ مکی سورت ہے اور بسم اللہ سمیت اس کی ننانوے آیات ہیں۔ اس کا زمانہ نزول ہجرت حبشہ سے قبل نبوت کا چوتھا یا پانچواں سال ہے۔

اس سورت میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے باپ کی پیدائش کا ذکر ہے اوربتایا گیا ہے کہ یہ پیدائش ایک ایسے معجزے کے طور پر تھی جس کو دنیا اُس وقت نہیں سمجھ سکتی تھی۔ ضمناً یہ ذکر ضروری ہے کہ آج کل خود عیسائی محققین نے یہ بات قطیعت سے ثابت کر دی ہے کہ مرد سے تعلق قائم کئے بغیر بھی ایک کنواری کے بطن سے بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔ پہلے خیال تھا کہ صرف لڑکی پیدا ہو سکتی ہے لیکن آخری تحقیق سے ثابت ہے کہ لڑکا بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

جہاں تک اعجازی پیدائش کا تعلق ہے وہ بعض دفعہ اس رنگ میں ہوتی ہے کہ باپ اور ماں کے ملنے سے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے مگر اس عمر میں کہ بظاہر اولاد ہونا نا ممکن ہو۔ یہی صورت حضرت زکریا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیش آئی۔ آپ کو اولاد کی خواہش تھی مگر خود اتنے بوڑھے ہو چکے تھے کہ سفیدی سے گویا سر بھڑک اٹھا تھا اور بیوی نہ صرف بوڑھی بلکہ بانجھ تھی پس اعجازی پیدائش کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آپ کو ان دونوں باتوں کے باوجود حضرت یحییٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام عطا فرمائے گئے۔ اور بیٹے کی خواہش ان کو حضرت مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام کے حالات پر غور کرنے سے پیدا ہوئی تھی جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بِن باپ کی پیدائش کا معجزہ دکھانا تھا۔

اس کے بعد ان تفاصیل کا ذکر ہے جن میں حضرت مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام فلسطین کو چھوڑ کر اس کے مشرق میں کسی طرف چلی گئیں تھیں اور وہاں دن رات ذکرِ الہٰی میں مصروف رہتی تھیں اور وہیں آپ کو پہلی بار ایک فرشتے کے ذریعہ جو انسان کے روپ میں متمثل ہوا تھا ایک بیٹے کی خوشخبری دی گئی۔

پیدائش کے بعد جب حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حضرت مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام ساتھ لے کر فلسطین پہنچیں تو یہود نے بہت شور مچایا کہ، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ، یہ ناجائز اولاد ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام کو یہ ارشاد فرمایا کہ تم اللہ کی خاطر چُپ کا روزہ رکھو اور یہ بیٹا (جو اُس وقت ابھی پنگھوڑے میں تھا یعنی دو تین سال کی عمر کا تھا) خود جواب دے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہودی علماء کے سامنے معرفت کی وہ باتیں کیں جو ایک ناپاک بچہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ اور ان باتوں میں اپنے آئندہ نبی بننے کی پیشگوئی بھی شامل تھی۔ اور آپؑ نے یہ بھی پیشگوئی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مجھے تمہاری قتل کی سازشوں سے نجات بخشے گا۔ چنانچہ فرمایا: ’’وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا‘‘ جب میں پیدا کیا گیا اس وقت بھی مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نصیب تھی اور جب میں وفات پاؤں گا تو طبعی موت سے وفات پاؤں گا اور پھر جب میرا احیائےنَو ہو گا اس وقت بھی مجھ پر اللہ کی سلامتی ہو گی۔

اس سے بہت ملتی جلتی آیت حضرت یحییٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق بھی آتی ہے جس میں فرمایا: ’’سَلٰمٌ عَلَیۡہِ یَوۡمَ وُلِدَ وَ یَوۡمَ یَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ یُبۡعَثُ حَیًّا‘‘ کہ اس پر سلامتی تھی جب اس کی ولادت ہوئی اور اس پر سلامتی ہو گی جب وہ وفات پائے گا اور سلامتی ہوگی جب اس کا احیائےنَو ہو گا۔ اس آیت سے میں استنباط کرتا ہوں کہ حضرت یحییٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی قتل نہیں کئے گئے تھے۔

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر فرماتے ہوئے آپ کی اعجازی اولاد کا ذکر فرما دیا گیا جب کہ بڑھاپے میں آپ کو حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی عطا ہوئے اور حضرت اسحاق علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی اور آپ کے بعد آپؑ کی نسل سے حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام۔

اس کے بعد دیگر انبیاء کا ذکر ملتا ہے جس میں روحانی ولادت کی مختلف صورتیں بیان فرمائی گئی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رَفَع کی مثال بھی حضرت ادریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رَفَع کی صورت میں پیش فرمائی گئی ہے۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کے وہ نیک بندے تھے جن کی بعد کی نسلیں پاکباز نہ رہ سکیں اور اپنی نمازیں ضائع کر دیں اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔ پس ان کے لئے وعید ہے کہ وہ ضرور اپنی کجی کا بدلہ پائیں گے۔

اس سورت میں صفت ِ رحمانیت کا بکثرت بیان ہے۔ رَحْمٰن کے معنے ہیں:

بے انتہا رحم کرنے والا اور بن مانگے عطا کرنے والا۔

اور اس سورت کا مضمون بعینہ ٖ اس صفت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

اس کے آخر پر رَحْمٰن خدا کی طرف بیٹا منسوب کرنے کو ایک بہت ہی بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں قریب ہے کہ زمین و آسمان پھٹ جائیں۔ مراد یہ ہے کہ یہی لوگ انتہائی خوفناک جنگوں میں مبتلاء کئے جائیں گے جو ایسی ہولناک ہوں گی کہ گویا آسمان اُن پر پھٹ پڑا ہے۔

اس کے برعکس اس کی آخری آیات میں ا ن لوگوں کا ذکر ہے جو متقی ہیں اور نیک اعمال بجا لاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں رَحْمٰن خدا باہمی محبت پیدا کر دے گا، نہ کہ آپس کا وہ بغض و عناد جس کا پہلے ذکر گزر چکا ہے۔

(قرآن کریم اردو ترجمہ مع سورتوں کا تعارف از حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ، صفحہ506-505)

(عائشہ چوہدری۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ