• 28 اکتوبر, 2021

قرآن کریم نصائح سے لبریز ہے

قرآن کریم نصائح سے لبریز ہے
اس کے چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالنا نہیں چاہئے

حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’جب ایک حیات بخش چشمہ (دعا اور قبولیت دُعا۔ ناقل) موجود ہے اور ہر وقت اس میں سے پانی پی سکتا ہے۔ پھر اگر کوئی اس سے سیراب نہیں ہوتاہے تو خود طالب موت اور تشنہ ہلاکت ہے۔ اس صورت میں تو چاہیے کہ اس پر منہ رکھ دے اور خوب سیراب ہو کر پانی پی لیوے۔ یہ میری نصیحت ہے جس کو میں ساری نصائح قرآنی کا مغز سمجھتا ہوں۔ قرآن شریف کے 30سپارے ہیں اور وہ سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں۔ لیکن ہر شخص نہیں جانتا کہ ان میں سے وہ نصیحت کون سی ہے جس پر اگر مضبوط ہو جاویں اور اس پر پُورا عملدرآمد کریں تو قرآن کریم کے سارے احکام پر چلنے اور ساری منہیات سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔ مگر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کلید اور قوت دُعا ہے۔ دُعا کو مضبوطی سے پکڑ لو۔‘‘

(ملفوظات جلد7 صفحہ،193 ایڈیشن 1984ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےاپنے اس بابرکت ارشاد میں تمام نصائح قرآنی کا مغز اور کلید دُعا کو قرار دیا ہے۔ اس پُر معارف اور خوبصورت موضوع پر جتنے بھی آرٹیکلز اور اداریے لکھے جائیں کم ہیں۔ خاکسار نے بھی اس اہم موضوع پر کئی بار قلم اٹھایا ہے اور مندرجہ بالا ارشاد کی روشنی میں آئندہ بھی اس پر لکھنے کی اللہ تعالیٰ سے توفیق پانے کا طلبگار ہے۔ لیکن آج اس ارشاد میں بیان الفاظ ’’قرآن شریف کے 30سپارے ہیں وہ سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں‘‘ پر کچھ گزارشات محترم قارئین سے کرنی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں قرآن کے 700 سے زائد احکام کا ذکر فرمایا ہے اور بعض جگہوں پر 1200احکام لکھے ہیں۔ اور کشتی نوح میں فرمایا ہے کہ ’’جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے۔ وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔‘‘

(کشتی نوحؑ)

ہمارے پیارے آقا سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’قرآن کریم کے تمام حکموں پر عمل کرنا حبل اللہ کو پکڑنا ہے۔‘‘

نیز حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
’’انسان کو ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ میرا مقصد اور میرا کام صرف یہ ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اُس کے احکامات پر عمل کرنا ہے اور اس کے بے شمار احکامات ہیں۔ایک درجے کا آپ کو کس طرح پتہ چل سکتا ہے؟ پہلے قرآن کریم سے تلاش کریں۔ قرآن کریم کے 700 حکم ہیں یا بعض جگہ پر 1200 بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ تو کیا ان 700 یا 1200 حکموں پر عمل کرلیا ہے؟ کیا ان کی تلاش کر لی ہے؟جب ان حکموں کی تلاش کر لی ہے اور ان پر عمل کر لیا ہے تو پھر اگلی بات آپ کریں کہ کیا اب میں کوئی اور درجہ دیکھوں گا تو پھر خدا تعالیٰ خود وہ درجہ عطا فرماتا ہے۔ انسان کی کوششوں سے عطا نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے ایک مومن کا کام یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ اس کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔‘‘

یہ سات سو احکام ِ قرآنی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی نصائح ہی ہیں۔ جن سے قرآن لبریز ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و شمائل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؓ نے فرمایا:

کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنَ

یعنی آپ ﷺ کے اخلاق و شمائل قرآن کے عین مطابق ہیں۔

ذرا دربارِ نبوی ﷺ کے ماحول کو ذہن میں اُجاگر کریں۔ ہمارے آقا ؐ اپنے جانثاروں میں رونق افروز ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے احکام کے بارے میں فرماتے اور صحابہ ؓ بھی اسی تگ ودو میں رہتے تھے کہ انہیں کسی حکم کی اطلاع ہو تو وہ اس پر عمل کریں۔ بعض صحابہؓ نے تو ایسے احکام ِ قرآنی کی فہرستیں بنا رکھی تھیں، یعنی ایک فہرست ایسی جن پر عمل کر چکے اور دوسری جن پر عمل کرنا ابھی باقی تھا۔

ایک مہاجر صحابیؓ نے قرآنی احکام کی فہرست تیار کر رکھی تھی اور اُن کی کوشش رہتی تھی کہ کوئی ایسا حکم قرآن کا نہ رہ جائے جس پر وہ عمل پیرا نہ ہوں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ قرآنی حکم ’’اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو‘‘ پر تعمیل کی غرض سے، میں ساری عمر کوشاں رہا۔ مدینہ کے ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ کوئی مجھے کہہ دے کہ میں اِس وقت ملاقات نہیں کرنا چاہتا، تم واپس لوٹ جاؤ تو میں واپس لوٹ آؤں۔مگر مجھے ایسی آواز سنائی نہ دی اور یہ حکم بغیر عمل کے رہ گیا۔

(جامع البیان فی تفسیر القرآن از ابو جعفر محمد بن جریر الطبری جلد18زیرِ آیت سورۃ النور: 28)

اس واقعہ میں صحابہ ؓ کی شخصیت کے دو کردار بیان ہوئے ہیں۔

1۔صحابہؓ کا احکام پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ۔
2۔صحابہ ؓ کا با اخلاق ہونا کہ اپنے گھر آنے والے کسی مہمان کو ملنے سے انکار نہ فرماتے تھے۔

(700احکام خداوندی، از حنیف محمود صفحہ37)

یہی کیفیت آج کے دور اُخروی میں جماعت احمدیہ کے مخلصین کی ہے۔ اور کیوں نہ ہو۔ احادیث کے مطابق مسیح و مہدیؑ کے ماننے والے ہر قرآنی حکم و اسلامی تعلیم پر اُسی طرح عمل پیرا ہونے کی پوری کوشش کرتے ہیں، جس طرح صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:

ع صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا

صحابہؓ مسیح موعود علیہ السلام اوربزرگان و مخلصینِ جماعت نے بھی اپنے اپنے قرآن کریم کے نسخوں پر احکام ِالہٰی کے نشان لگا رکھے تھے۔ جن پر وہ عمل بھی کرتے تھے۔ ان میں حضرت حکیم مولوی نور الدین خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ ایک تھے۔ احباب جماعت کی آسانی اور سہولت کے لئے بعض مصنفین نے احکام قرآن کو اکٹھا بھی کیا تا آسانی سے تعمیل ہو سکے۔ ان میں سے ایک نے 700احکام خداوندی کے نام سے 614صفحات پر مشتمل ضخیم کتاب میں تمام احکام کو جمع کیا ہے جو جماعت کی مرکزی ویب سائٹ www.alislam.org پر دیکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔

اس تحقیقی اور علمی کتاب کے تعارف میں مصنف بیان کرتے ہیں: ’’قرآن کریم تو ایک سمندر ہے جس کی تہہ میں بڑے بڑے نایاب اور بے بہاگوہر پوشیدہ ہیں، جن کے حصول کے لئے غوطہ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق حصہ پاتا ہے‘‘

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر احمدی کو ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ’’قرآن شریف کے 30 سپارے ہیں اور وہ سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں‘‘ کے مطابق احکام ِ الہٰی پر نگاہ رکھنی چاہئے۔ صحابہ ؓ کی طرح ہر حکم پر تعمیل کی کوشش کرنی چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’انسان کو چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ ؓ کی زندگی کا ہر روز مطالعہ کرتا رہے۔‘‘

(ملفوظات جلد8 صفحہ185 ایڈیشن 1984ء)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو قرآن کریم سے بہت پیار تھا، محبت تھی اور عشق تھا۔ آپؐ خود بھی میٹھے لحن میں تلاوت فرماتے اور دوسروں سے خوش الحانی سے قرآن کریم سنا کرتے تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول خدا ؐ نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن کریم سناؤ۔ میں نے عرض کی کہ حضورؐ ! آپؐ پر قرآن نازل ہوا اور میں آپ ؐ کو قرآن سناؤں۔ آپؐ نے فرمایا۔ دوسرے سے قرآن سننا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔

(صحیح بخاری، باب حسن الصوت بالقراءۃ)

پھر ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا:
جس نے خوش الحانی سے اور سنوار کر قرآن نہ پڑھا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

(سنن ابوداؤد، کتاب الصّلوٰۃ)

پھر فرمایا:

خَیْرُ کُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُراٰنَ وَ عَلَّمَہٗ

(صحیح بخاری، کتاب الفضائل)

کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھتا بھی ہے اور دوسروں کو بھی سکھاتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو احسن رنگ میں یوں بیان فرمایا:
’’احکام الہٰی کا بجا لانا تو ایک بیج کی طرح ہوتا ہے جس کا اثر رُوح اور وجود دونوں پر پڑتا ہے۔ ایک شخص جو کھیت کی آبپاشی کرتا اور بڑی محنت سے اس میں بیج بوتا ہے اگر ایک دو ماہ تک اس میں انگوری نہ نکلے تو ماننا پڑتا ہے کہ بیج خراب ہے۔ یہی حال عبادات کا ہے۔ اگر ایک شخص خدا کو وحدہ لا شریک سمجھتا ہے، نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے اور بظاہر نظر احکام الہٰی کو حتی الوسع بجا لاتا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص مدد اس کے شاملِ حال نہیں ہوتی تو ماننا پڑتا ہے کہ جو بیج وہ بو رہا ہے وہی خراب ہے۔ یہی نمازیں تھیں جن کو پڑھنے سے بہت سے لوگ قطب اور ابدال بن گئے۔‘‘

(ملفوظات جلد دہم صفحہ43 ایڈیشن 1984ء)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی معنوں میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کی زندگیوں کے مطابق قرآن کریم سے پیار کرنے والا بنائے اور اس کے احکام و نصائح پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

(ابو سعید)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ