• 9 اگست, 2022

خدا کے کلام کی علامات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
جس پر کوئی کلام نازل ہو جب تک تین علامتیں اس میں نہ پائی جائیں اُس کو خدا کا کلام کہنا اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
اوّل۔ وہ کلام قرآن شریف سے مخالف اور معارض نہ ہو مگر یہ علامت بغیر تیسری علامت کے جو ذیل میں لکھی جائے گی ناقص ہے بلکہ اگر تیسری علامت نہ ہو تو محض اس علامت سے کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔

دوم۔ وہ کلام ایسے شخص پر نازل ہو جس کا تزکیہ نفس بخوبی ہو چکا ہو اور وہ اُن فانیوں کی جماعت میں داخل ہو جو بکلّی جذبات نفسانیہ سے الگ ہو گئے ہیں اور اُن کے نفس پر ایک ایسی موت وارد ہو گئی ہے جس کے ذریعہ سے وہ خدا سے قریب اور شیطان سے دور جا پڑے ہیں کیونکہ جو شخص جس کے قریب ہے اُسی کی آواز سنتا ہے پس جو شیطان کے قریب ہے وہ شیطان کی آواز سنتا ہے اور جو خدا سے قریب ہے وہ خدا کی آواز سنتا ہے اور انتہائی کوشش انسان کی تزکیۂ نفس ہے اور اُس پر تمام سلوک ختم ہو جاتا ہے اور دوسرے لفظوں میں یہ ایک موت ہے جو تمام اندرونی آلایشوں کو جلا دیتی ہے۔ پھر جب انسان اپنا سلوک ختم کر چکتا ہے تو تصرفات الٰہیہ کی نوبت آتی ہے تب خدا اپنے اس بندہ کو جو سلب جذبات نفسانیہ سے فنا کے درجہ تک پہنچ چکا ہے۔ معرفت اور محبت کی زندگی سے دوبارہ زندہ کرتا ہے اور اپنے فوق العادت نشانوں سے عجائبات روحانیہ کی اُس کو سیر کراتا ہے اور محبت ذاتیہ کی وراء الوراء کشش اُس کے دل میں بھر دیتا ہے جس کو دنیا سمجھ نہیں سکتی اِس حالت میں کہا جاتا ہے کہ اُس کو نئی حیات مل گئی جس کے بعد موت نہیں۔

پس یہ نئی حیات کامل معرفت اور کامل محبت سے ملتی ہے اور کامل معرفت خدا کے فوق العادت نشانوں سے حاصل ہوتی ہے اور جب انسان اس حد تک پہنچ جاتا ہے تب اُس کو خدا کا سچا مکالمہ مخاطبہ نصیب ہوتا ہے۔ مگر یہ علامت بھی بغیر تیسرے درجہ کی علامت کے قابل اطمینان نہیں کیونکہ کامل تزکیہ ایک امر پوشیدہ ہے اس لئے ہر ایک فضول گو ایسا دعویٰ کر سکتا ہے۔

تیسری علامت مُلہم صادق کی یہ ہے کہ جس کلام کو وہ خدا کی طرف منسوب کرتا ہے خدا کے متواتر افعال اُس پر گواہی دیں یعنے اس قدر اس کی تائید میں نشانات ظاہر ہوں کہ عقلِ سلیم اس بات کو ممتنع سمجھے کہ باوجود اس قدر نشانوں کے پھر بھی وہ خدا کا کلام نہیں اور یہ علامت درحقیقت تمام علامتوں سے بڑھ کر ہے …….. غرض کسی کلمہ کا جو بدعوئے الہام پیش کیا گیا ہے قرآن شریف سے مطابق ہونا اس بات پر قطعی دلیل نہیں ہے کہ وہ ضرور خدا کا کلام ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ ایک کلام اپنے معنوں کی رو سے خدا کے کلام کے مخالف بھی نہ ہو اور پھر وہ کسی مفتری کا افترابھی ہو کیونکہ ایک مفتری بڑی آسانی سے یہ کارروائی کر سکتا ہے کہ وہ قرآن شریف کی تعلیم کے موافق ایک کلام پیش کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے اور یا ایسا کلام حدیث النفس ٹھہر سکتا ہے یا شیطانی کلام ہوسکتا ہے۔

(حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد22 ص535)

پچھلا پڑھیں

ٹیلیویژن۔ ایجاد سے LCD اور LED تک

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جنوری 2020