• 11 اگست, 2020

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ بعض روحانی فضائل اور پوشیدہ قرآنی اسرار

قرآن کریم کتاب مبین بھی ہے اور کتاب مکنون بھی ہے۔ اس زمانہ میں کتاب مکنون کے بعض روحانی فضائل اور پوشیدہ اسرار اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کھولے جیسا کہ فرمایا لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ:80) صرف پاک باطن لوگوں کو ہی کتاب عزیز کا علم دیا جاتا ہے۔

(اربعین نمبر 4 صفحہ 137)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا الرحمن علم القرآن یعنی وہ خدا ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے حقیقی معنوں سے تجھے اطلاع دی فرمایا ’’قرآن شریف کے تین تجلیات ہیں۔وہ سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نازل ہوا اورصحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ سے اس نے زمین پر اشاعت پائی اورمسیح موعودؑ کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے ولکل امر وقت معلوم…‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ر خ جلد21 ص 66)

بطور نمونہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام سے صرف چند اسرار و نکات معرفت قرآنی پیش خدمت ہیں۔
سورۃ فاتحہ کا اعجاز لطیف
’’سورہ فاتحہ… مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل…. آئینہ قرآن نما ہے اس کی تصریح یہ ہے کہ
٭ قرآن شریف کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمام محامدہ کاملہ باری تعالیٰ کو بیان کرتا ہے اور اس کی ذات کے لئے جو کمال تام حاصل ہے اس کو بوضاحت بیان فرماتا ہے سو یہ مقصد الحمد اللہ میں بطور اجمال آگیا کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تمام محامد کاملہ اللہ کے لئے ثابت ہیں جو مستجمع جمیع کمالات اور مستحق جمیع عبادات ہے۔
٭ دوسرا مقصد قرآن شریف کا یہ ہے کہ وہ خدا کا صانع کامل ہونا اور خالق العالمین ہونا ظاہر کرتا ہے اور عالم کے ابتداء کا حال بیان فرماتا ہے اور جو دائرہ عالم میں داخل ہو چکا اس کو مخلوق ٹھہراتا ہے اور ان امور کے جو لوگ مخالف ہیں ان کا کذب ثابت کرتا ہے سو یہ مقصد رَبِّ الْعَالَمِينَ میں بطور اجمال آگیا۔
٭ تیسرا مقصد قرآن شریف کا خدا کا فیضان بلا استحقاق ثابت کرنا اور اس کی رحمت عامہ کا بیان کرنا ہے سو یہ مقصد لفظ الرَّحْمـٰنِ میں بطور اجمال آگیا۔
٭ چوتھا مقصد قرآن شریف کا خدا کا وہ فیضان ثابت کرنا ہے جو محنت اور کوشش پر مترتب ہوتا ہے سو یہ مقصد لفظ الرَّحِيمِ میں آگیا۔
٭ پانچواں مقصد قرآن شریف کا عالم معاد کی حقیقت بیان کرنا ہے سو یہ مقصد مَـٰلِكِ يَوْمِ میں آگیا۔
٭ چھٹا مقصد قرآن شریف کا اخلاص اور عبودیت اور تزکیہ نفس عن غیر اللہ اور علاج امراض روحانی اور اصلاح اخلاق ردیہ اور توحید فی العبادت کا بیان کرنا ہے سو یہ مقصد إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں بطور اجمال آگیا۔
٭ ساتواں مقصد قرآن شریف کا ہر یک کام میں فاعل حقیقی خدا کو ٹھہرانا اور تمام توفیق اور لطف اور نصرت اور ثبات علی الطاعت اور عصمت عن العصیان اور حصول جمیع اسباب خیر اور صلاحیت دنیا و دین اسی کی طرف اسے قرار دینا اور ان تمام امور میں اسی سے مدد چاہنے کے لئے تاکید کرنا سو یہ مقصد إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بطور اجمال آگیا۔
٭ آٹھواں مقصد قرآن شریف کا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے دقائق کو بیان کرنا ہے اور پھر اس کے طلب کے لئے تاکید کرنا کہ دعا اور تضرع سے اس کو طلب کریں سو یہ مقصد اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں بطور اجمال آگیا۔
٭نواں مقصد قرآن شریف کا ان لوگوں کا طریق و خلق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا انعام و فضل ہواتا طالبین حق کے دل جمیعت پکڑیں سو یہ مقصد صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں آگیا۔
٭ دسواں مقصد قرآن شریف کا ان لوگوں کا خلق و طریق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا غضب ہوا یا جو راستہ بھول کر انواع واقسام کی بدعتوں میں پڑ گئے تا حق کےطالب ان کی راہوں سے ڈریں سو یہ مقصد غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم وَلاَ الضَّآلِّينَ میں بطور اجمال آگیا ہے۔
یہ مقاصد عشرہ ہیں جو قرآن شریف میں مندرج ہیں جو تمام صداقتوں کا اصل الاصول ہیں سو یہ تمام مقاصد سورہ فاتحہ میں بطور اجمال آگئے‘‘

(براہین احمدیہ ر خ جلد اول صفحہ 488 تا 492 حاشیہ نمبر 11)

سورہ القصص میں جسمانی اور روحانی تکمیل کے مراتب ستہ

’’خدا تعالیٰ نے اس سورہ کے ابتداء میں جو سورۃ المومنون ہے جس میں یہ آیت فَتَبَارَکَ اللُّہ اَحْسَنَ الْخَالِقْیِن ہے اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ کیونکر انسان مراتب ستہ کو طے کرکے جو اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں اپنے کمال روحانی اور جسمانی کو پہنچتا ہے سو خدا نے دونوں قسم کی ترقیات کو چھ چھ مرتبہ پر تقسیم کیا ہے اور مرتبہ ششم کو کمال ترقی کا مرتبہ قرار دیا ہے اور یہ مطابقت روحانی اور جسمانی وجود کی ترقیات کی ایسے خارق عادت طور پر دکھلائی ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے کبھی کسی انسان کے ذہن نے اس نکتہ معرفت کی طرف سبقت نہیں کی اور اگر کوئی دعویٰ کرے کہ سبقت کی ہے تو یہ بار ثبوت اس کی گردن پر ہوگا کہ یہ پاک فلاسفی کسی انسان کی کتاب میں سے دکھلاوے اور یہ یاد رہے کہ وہ ایسا ہر گز ثابت نہیں کر سکے گا پس بدیہی طور پر یہ معجزہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وہ عمیق مناسبت جو روحانی اور جسمانی وجود کے ان ترقیات میں ہے جو کامل کے مرتبہ تک پیش آتے ہیں ان مبارک آیات مبارکہ میں ظاہر کر دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ظاہری اور باطنی صنعت ایک ہی ہاتھ سے ظہور پذیر ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے’’

(تفسیر سورۃ المؤمنون بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

پاک محمد مصطفیٰ ؐ

سورۃ الشعراء آیات 218 تا 220 ‘‘خدا پر توکل کر جو غالب اور رحم والا کرنے والا ہے وہی خدا جو تجھے دیکھتا ہے جب تو دعا اور دعوت کے لئے کھڑا ہوتا ہے وہی خدا جو تجھے اس وقت دیکھتا تھا کہ جب تو تخم کے طور پر راست بازوں کی پشتوں میں چلا آتا تھا یہاں تک کہ اپنی بزرگ والدہ آمنہ معصومہ کے پیٹ میں پڑا ‘‘

(تریاق القلوب)

’’حکمت الہٰی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنیٰ خلقت سے اور اسفل سے اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم جس کے معنے یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی کمالات تامہ کا مظہر‘‘

(تو ضیح مرام)

اسریٰ اور معراج

یہ مضمون قرآن کریم کی سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ النجم کے شروع میں بیان ہوا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا
’’یہ خدا کے قریب ہوا یعنی اوپر کی طرف گیا اور پھر نیچے کی طرف تبلیغ حق کے لئے جھکا اس لئے یہ دو قوسوں کے وسط میں آگیا اوپر خدا اور نیچے مخلوق‘‘

(اربعین نمبر 3 صفحہ 37)

’’یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کو روح الامین کے نام سے بولتے ہیں کیونکہ یہ ہر یک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام ذوالافق الاعلی بھی ہے کیونکہ یہ وحی الہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اور اس کو رای ما رای کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کی کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان اور وہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانی کا ختم ہو گیا اور دائرہ استعداد بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے‘‘

(توضیح مرام)

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج میں زمانہ گزشتہ کی طرف صعود ہے اور زمانہ آئندہ کی طرف نزول ہے اور ماحصل اس معراج کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خَیْرُ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ ہیں۔ معراج جو مسجد الحرام سے شروع ہوا اس میں یہ اشارہ ہے کہ صفی اللہ آدم کے تمام کمالات اور ابراہیم خلیل اللہ کے تمام کمالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھے اور پھر اس جگہ سے قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکانی سیر کے طور پر بیت المقدس کی طرف گیا اور اس میں یہ اشارہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام اسرائیلی نبیوں کے کمالات بھی موجود ہیں اور پھر اس جگہ سے قدم آنجناب علیہ السلام زمانی سیر کے طور پر اس مسجد اقصیٰ تک گیا جو مسیح موعودؑ کی مسجد ہے یعنی کشفی نظر اس آخری زمانہ تک جو مسیح موعودؑ کا زمانہ کہلاتا ہے پہنچ گئی‘‘

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ اشتہار چندہ منارۃالمسیح)

ابن مریم کی پیشگوئی

قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومن کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ایک مثال فرعون کی عورت سے ہے جو کہ اس قسم کے خاوند سے خدا کی پناہ چاہتی ہے یہ ان مومنوں کی مثال ہے جو نفسانی جذبات کے آگے گر گر جاتے ہیں اور غلطیاں کر بیٹھتے ہیں پھر پچھتاتے ہیں توبہ کرتے ہیں خدا سے پناہ مانگتے ہیں ان کا نفس فرعون کے خاوند کی طرح ان کو تنگ کرتا رہتا ہے وہ لوگ نفس لوامہ رکھتے ہیں بدی سے بچنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں
دوسرے مومن وہ ہیں جو اس سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں وہ صرف بدیوں سے ہی نہیں بچتے بلکہ نیکیوں کو حاصل کرتے ہیں۔ ان کی مثال اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سے دی ہے۔ احْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا ہرایک مومن جو تقوی اور طہارت میں کمال پیدا کرے وہ بروزی طور پر مریم ہوتا ہے اور خدا اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے جو کہ ابن مریم بن جاتی ہے….. اس آیت میں بھی اشارہ ہے کہ ہر ایک مومن جو اپنے تئیں اس کمال کو پہنچائے خدا کی روح اس میں پھونکی جاتی ہے اور وہ ابن مریم بن جاتا ہے اور اس میں ایک پیشگوئی ہے کہ اس امت میں ابن مریم پیدا ہوگا۔

(تفسیر مسیح موعود ؑجلد 6 صفحہ 86)

اب اس کی کیفیت اور لطافت براہین احمدیہ سے معلوم ہوگی کہ پہلے میرا نام مریم رکھا پھر اس میں روح صدق نفخ کر کے مجھے عیسیٰ بنایا۔

(تفسیر مسیح موعودؑ جلد 8 صفحہ 183)

انسان ایک عالم صغیر ہے

سورہ الشمس کی تفسیر میں فرمایا ‘‘انسان ایک عالم صغیر ہے جس کے نفس میں تمام عالم کا نقشہ اجمالی طور پر مرکوز ہے پھر جب یہ ثابت ہے کہ عالم کبیر کے بڑے بڑے اجرام یہ خواص اپنے اندر رکھتے ہیں اور اسی طرح پر مخلوقات کو فیض پہنچا رہے ہیں تو انسان جو سب سے بڑا کہلاتا ہے اور بڑے درجہ پر پیدا کیا گیا ہے وہ کیونکر ان خواص سے خالی اور بے نصیب ہو گا ‘‘

(تفسیر مسیح موعود جلد 8 صفحہ 390)

’’ یہ تو ظاہر ہے کہ عالم صغیر اور عالم کبیر میں نہایت تشابہ ہے اور قرآن سے انسان کا عالم صغیر ہونا ثابت ہے اور آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الإنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ تقویم عالم کی متفرق خوبیوں اور حسنوں کا ایک حصہ انسان کو دے کر بوجہ جامعیت جمیع شمائل وشیون عالم اس کو احسن ٹھہرایا گیا ہے ۔‘‘

(تفسیر مسیح موعود جلد 8 صفحہ 390)

(محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

ٹیلیویژن۔ ایجاد سے LCD اور LED تک

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جنوری 2020