• 19 اپریل, 2021

ڈائری مکرم عابد خان صاحب (حصہ دوم)

ڈائری مکرم عابد خان صاحب (حصہ دوم) جنوری 2021

ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ یوکے دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے کرونا وائرس کی ویکسین کی منظوری دے دی ہے، جس پر خاکسار نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے پوچھا کیا اب اسلام آباد (مسجد مبارک) جلد کھل جائے گی۔ اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک متعلقہ ادارے اس بات کا اعلان نہ کردیں کہ اس کا کھولنا لوگوں کے لئے خطرہ کا باعث نہیں ہے۔ ہم کو ئی بھی خطرہ مول نہیں لیں گے۔ بلکہ احتیاط سے کام لینا زیادہ بہتر ہے۔ محض ویکسین آجانےسے ہر چیز چند ہفتوں میں ٹھیک نہیں ہو جائے گی بلکہ یہ کچھ مزید وقت لے گی۔‘‘

اگرچہ اسلام آباد (یوکے) ابھی تک بند ہے اور ہمارے جلسے اور اجتماعات گزشتہ ایک سال سے کینسل ہو چکے ہیں تاہم احمدیہ مسلم جماعت کی ترقی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی راہنمائی میں بڑھتی جا رہی ہے۔ حضور کی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی خدمت اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پورا کرنے کی سعی میں صرف ہوتا ہے۔

جون (2020) میں خاکسار نے اس وبا کے ابتدائی ایام کے بارے میں ڈائری لکھی تھی ۔ اب اس دوسرے حصہ میں کئی واقعات اور یاداشتیں لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور اس راہنمائی کا بھی جو اس دوران خاکسار نے ذاتی طور پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے حاصل کی۔

ایک نئے باب کا آغاز

جولائی کے وسط میں ایک ملاقات کے دوران خاکسار نے حضور سے پوچھا کہ ایک احمدی دوست نے پوچھا ہے کہ کیا فیملی ملاقاتوں کے دوبارہ آغاز کی جلد کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’اس وقت فیملی ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا ممکن نہیں ہے۔ مگر چند ہفتوں میں، میں دنیا کے مختلف ممالک کے وفود سے آن لائن ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر رہا ہوں۔ (ان وفود کو) مارچ اور اپریل میں یوکے آنا تھا مگر کووڈ کی وجہ سے نہیں آسکے جب یہ میٹنگز شروع ہوں تو تم نے بھی شامل ہونا ہے۔‘‘

کئی ہفتوں کی بے تابی سے انتظار کے بعد پہلی میٹننگ 15 اگست 2020 کو کینیڈا کی مجلس اطفال الاحمدیہ کے 220 ممبران کے ساتھ منعقد ہوئی۔ جب میں حضور انور کے کمرہ میں داخل ہو ا تو ایک بڑا ٹیلی وژن حضورانور کے بالکل سامنے رکھا گیاتھا جہاں بالعموم ملاقات کے وقت ملاقات کے لئے آنے والے بیٹھتے ہیں۔

ویڈیو کال ملتے ہی کینیڈا کے اطفال جو بیت الاسلام مسجد (پیس ولج) میں اکٹھے تھے کھڑے ہو گئے جنہیں دیکھ کر حضور انور مسکرائے اور السلام علیکم کہا۔ دوران ملاقات ایک سوال کے جواب میں کہ حضورانور دوبارہ کینیڈا کب تشریف لائیں گے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
’’اس میٹننگ کے ذریعہ سے مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں کینیڈا میں ہی ہوں۔ میں مسجد دیکھ رہا ہوں اور وہ جگہ بھی جہاں ایک کینیڈئن جنرلسٹ نے میرا انٹر ویو کیا تھا۔ میں وہ ہال بھی دیکھ رہا ہوں جہاں تم سب بیٹھے ہو۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے میں تمہارے ساتھ ہی ہوں۔‘‘

ملاقات کے اختتام پر خاکسار نے حضور انور سے دریافت کیا کہ کیا اس میٹنگ کے کچھ حصے ایم ٹی اے کے پروگرام ’’This week with Huzoor‘‘ میں شامل کرلیں تاکہ دنیا بھر کے احمدی اس ملاقات سے مستفیض ہو سکیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’ہاں ۔ تم دکھا سکتے ہو۔ یہ ایک اچھی چیز ہوگی۔‘‘

وبا کے دوران دنیا بھر کا سفر

پہلی آن لائن ملاقات کے بعد پروگرام ’This week with Huzoor‘ کے توسط سے ہم نے حضور ا نور کی میٹنگز ایم ٹی اے پر دکھائی ہیں جن میں مختلف ممالک کی مجالس عاملہ، مربیان، ذیلی تنظیموں، جامعہ اور وقف نو کلاسز شامل ہیں۔

جامعہ احمدیہ انڈونیشیا سے میٹنگ سے ایک دن پہلے حضور انور نے خاکسار کو مخاطب کرکے فرمایا ’’کل انڈونیشئن جامعہ کے ساتھ کلاس ہے اس لئے تم کل میرے ساتھ انڈونیشیا کی سیر کرلینا، ادھر بیٹھے بیٹھے۔‘‘

ان آن لائن ملاقاتوں میں شاملین خلیفہ وقت کی علم و حکمت، راہنمائی اور دعاؤں سے مستفیض ہوئے۔ بہت سی کلاسز اپنے معینہ وقت سے زیادہ دیر تک چلتی رہیں مگر پھر بھی شاملین نے اظہار کیا کہ اچھا ہوتا اگر یہ کلاسز کچھ دیر مزید چلتی رہتیں۔ ہر میٹنگ کے آغا ز پر حضور انور استفسار فرماتے کہ کیا سب شاملین کرونا کے حوالہ سے محفوظ ماحول میں بیٹھے ہیں اور اپنے ملک کے قوانین اور سرکاری ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔

حال ہی میں مجلس اطفال الاحمدیہ کے ایک ممبر نے جو آن لائن ملاقات میں شامل ہو اتھا خاکسار کو لکھا کہ اسے اور دیگر بچوں کو ملاقات سے دو گھنٹے پہلے آنے کا کہا گیا تھا اور انہیں ہال میں ٹھنڈ میں بیٹھنا پڑا۔ اس نے مزید لکھا کہ جوں ہی ملاقات شروع ہوئی وہ اپنی تکلیف کو بھول گیا اور حضور انور سے ملاقات کی سعادت پر خوش ہونے لگا۔ بعد ازاں خاکسار نے یہ بات حضور انور سے عرض کی تو آپ نے فرمایا:
’’تمہیں فوراً اس ملک کے صدر خدام الاحمدیہ سے رابطہ کرکے ان سے پوچھنا چاہیئے کہ بچوں کو کیوں ٹھنڈ میں بٹھایا گیا۔ ان کے لئے مناسب گرمائش کا انتظام کرنا چاہیئے تھا اور ہر بچے کا محبت اور پیار سے خیال رکھنا چاہیئے۔‘‘

الحمد للہ یہ آن لائن ملاقاتیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لئے بھی باعث مسرت ہیں۔ جیسا کہ ماریشس کی نیشنل مجلس عاملہ سے میٹنگ کے دوران حضور انور نے فرمایا:
’’یہ آن لائن ملاقاتیں بہت مفید ثابت ہو رہی ہیں جیساکہ میں مختلف ممالک کے احمدیوں سے براہ راست بات کر سکتا ہوں۔ وہ اپنے مسائل براہ راست مجھے بتا سکتے ہیں اور میں براہ راست انہیں ہدایات دے سکتا ہوں۔ یہ پوری جماعت کو قریب لانے کا باعث بن رہی ہیں اور یہ بات ثابت کرتی ہے کہ جماعتی ترقی ہر حالات میں جاری رہے گی ان شاء اللہ۔ حتی کہ اس وبا میں بھی۔‘‘

حقیقی عاجزی

خاکسار نے اپنے والد صاحب کے متعلق ایک مضمون حضور انور کی خدمت میں پیش کیا جو چند ہفتے حضور انور کے پاس رہا اور جب مجھے واپس ملا تو میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ ایک تو اس مضمون کے ساتھ حضور انور کے دست مبارک سے لکھا ہوا دعاؤں بھرا خط میرے اور میرے والد صاحب کے لئے تھا ، دوسرا اس محبت نامہ کی ابتدائی سطر یوں تھی۔

’’پیارے عابد، میں نے تمہارا مضمون اب پڑھا ہے ، میں اس تاخیر پر معذرت خواہ ہوں۔‘‘

کیا دنیا کا کوئی اور لیڈر ہے ،جو اپنے غلام سے معذرت کرے؟

دوران شاپنگ ایک اہم فون کال

خاکسار اپنی اہلیہ کے ساتھ Ikea جو Croydon میں ہے، شاپنگ کے لئے گیا ہو اتھا کہ اچانک دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے کال موصول ہوئی اور پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ حضور انور میرے ساتھ بات کریں گے۔ فون پر حضور انور نے بتایا کہ انہوں نے اس ہفتہ کی This week with Huzoor کی قسط ملاحظہ فرمالی ہےجو اگلے دن ایم ٹی اے پر چلنی تھی ۔ اس قسط میں جرمنی کی نیشنل عاملہ سے ملاقات بھی شامل تھی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آخر کیوں خاکسار نے جرمنی کے نیشنل سیکرٹری امور خارجہ کے ساتھ حضور انور کی احمدی مسلمانوں کے اسائلم کے حوالہ سے گفتگو شامل نہیں کی ۔ جس پر خاکسار نے عرض کیا کہ حضور! میرا خیال تھا کہ یہ ایک اندر کا معاملہ ہے اور یہ بھی کہ اس کو شامل کرنے سے سیکرٹری امور خارجہ اور امیر صاحب جرمنی کو شرمندگی ہوگی ۔ اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’جرمنی کے کئی احمدی مجھے لکھتے ہیں اور انکا خیال ہے کہ مجھے ان کی تکلیف کا علم نہیں ہے اور ممکن ہے کہ کچھ ایسے بھی ہوں جن کا خیال ہو کہ ان کے کیسز اور مشکلات میرے لئے اہم نہیں ہیں اور یہ کہ میں نے ان کی مدد اور معاونت کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کئے۔ یہ مکمل طور پر غلط ہے۔ اس لئے اس غلط خیال اور غلط فہمی کو مٹانے کے لئے جو خلافت کے بارے میں ہے، ضروری ہے کہ اس حصہ کو شامل کیا جائے۔‘‘

حضور انور نے فرمایا:
’’ہر احمدی مسلمان کی زندگی میرے لئے نہایت اہم اور قیمتی ہے اور میں نے کئی بار نیشنل عاملہ کے ممبران کو ہدایت کی ہے کہ جن احمدی مسلمانوں نے انکے ملک میں اسائلم کیا ہو ان کی مدد اور معاونت کیا کریں۔ جرمنی کے احمدیوں کو اس بات کا پتہ ہونا چاہیئے۔‘‘

اپنے عقائد کا ادراک

دوران ملاقات خاکسار نے عرض کیاکہ پوپ Francis نے ہم جنس پرستی کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’دیگر لوگوں کی طرح ہم جنس پرستوں کے شہری حقوق کا تحفظ ہونا بھی ضروری ہے، تاہم دنیا کے بڑے مذاہب کا مؤقف اس حوالہ سے واضح ہے کہ اس طرح کے ملاپ ان کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ دراصل پوپ نے جس رائے کا اظہار کیا ہےوہ اس بات کا پرتو ہے کہ کس طرح معاشرہ مذاہب سے دور ہو رہا ہے اور کس طرح اکثر مذاہب لوگوں کی تعلیم پر چل رہے ہیں۔ بجائے اس مذہب کی تعلیم پر چلنے کے جو انسانیت کی راہنمائی کے لئے آئی تھی۔ اس لئے اگر میڈیا ہمارے مؤقف کے بارے میں سوال کرے تو تمہیں یہی جواب دینا چاہیئے کہ ہم قرآن کریم کو مانتے ہیں اسلئے ہم ایسے (ہم جنس پرستوں کے) ملاپ کی اجازت نہیں دے سکتے‘‘۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مزید فرمایا:
’’میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے تمہیں اور ہمارے سب احمدیوں کو جو میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں ،جرات اور حکمت سے کام لینا چاہیئے۔ کچھ لوگ یا تنظیمیں ہمارے خلاف محاذ آرائی کریں گے اور مخالفت کریں گے جس کی وجہ ہمارا اسلام کی سچائی پر یقین ہے۔ ہمیں حکمت سے کام لینا ہوگا لیکن دوسروں سے کبھی خوفزدہ نہیں ہونا اور صرف خدا سے ڈرنا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہےکہ ہم اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ ہم اپنی روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور اپنے مذہبی اصول و ضوابط کا تحفظ کرتے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ سچائی ہمارے ساتھ ہی ہے۔‘‘

فرانس میں دہشت گردی اور حقیقی اسلامی رد عمل

اکتوبر 2020 کے وسط میں ایک فرانسیسی استاد Samuel Paty کو ایک نام نہاد مسلمان نے بے دردی سے قتل کر دیا جس کے بعد Nice میں دہشت گرد حملہ ہوا اور دو سے تین لوگوں کو گلا دبا کر مار دیا گیا۔ بعد ازاں فرانس میں آنحضور ﷺ کے ہتک آمیز کارٹون دوبارہ شائع کئے گئے۔

اس دہشت گرد حملہ پر حضور انور نے جو ردعمل اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی اس کے مطابق فرانس کی جماعت نے دہشت گرد حملوں میں قتل ہونے والوں کے لئےاپنے ہمدردانہ جذبات کا اظہار کیا۔ اور ان حملوں کی جماعت نے شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ پھر پہلے حملے کے بعد جماعت کے خدام Samuel Paty کے قتل کی جگہ پر گئے اور انہوں نے Love for all hatred for none کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ اور اس سکول میں پھول بھی چڑھائے جہاں اس استاد کا قتل ہواتھا۔

خدا سب تدبیر کرنے والوں میں سب سے بہترہے

Nice میں دہشت گرد حملے سے ایک دن پہلے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بیان جو آپ نے ڈکٹیٹ کروایا تھا ا ور جس میں پہلے دہشت گرد حملے کی تردید کی گئی تھی ،تیار تھا۔ اور اگلے دن جب Nice میں دہشت گرد حملہ ہوا تو اس بیان میں کچھ ترمیم کرکے فوری طور پر حضورانور کی طرف سے یہ بیان شائع ہو گیا۔ جس کا سوشل میڈیا میں خوب چرچا ہوا۔ اگلے روز حضور انور سے ملاقات کے دوران آپ نے فرمایا:
’’گزشتہ روز جس طرح سے ہر چیز وقوع پذیر ہوئی کہ میں نے پہلے سے ایک بیان لکھوایا ہوا تھا جس میں فرانس میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی گئی تھی اور میں نے تمہیں تفصیلی نوٹ بھی لکھنے کا کہا ہوا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے طے شدہ تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہےکہ ایک اور بربریت والا دہشت گرد حملہ ہونے والا ہے اور اس بار میری طرف سے ایک بیان ضروری تھا۔ یوں ہر چیز پہلے سے ہی تیار تھی جس کا بہت اچھا اثر ہوا۔ اور بہت سے لوگو ں کو ہماری جماعت کا تعارف ہوا اور انہیں پتہ چلا کہ اسلام کا دہشت گردی یا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

دوران گفتگو حضور انور نے مزید فرمایا : ’’ہاں یہ درست ہے کہ دونوں بیان بر وقت تیار تھے جیساکہ میں نے کہا تھا اور یہ اللہ کی مدد اور نصرت سے ہو سکا ۔ تم نے مجھے بتایا ہے کہ کچھ غیر مسلموں نے میرے بیان کی تعریف کی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا تم نے ان سے رابطہ کیا ہے؟ کیا تم نے لوکل جماعتوں کو بتایا ہے کہ وہ وہاں رہتے ہیں اور یہ کہ ایسے لوگ خاص طور پر زیر تبلیغ ہونے چاہئیں ۔ کیا تم نے میرے بیان کے زیادہ سے زیادہ تراجم کروا لئے ہیں؟ میں نہیں چاہتا اور نہ امید رکھتا ہوں کہ تم اتنے پر ہی خوش ہو کر بیٹھ جاؤ بلکہ تمہیں ہر لمحہ قدم آگے بڑھانے کی فکر ہونی چاہیئے، مستقبل کی فکر کرتے ہوئے بجائے ماضی کے بارے میں سوچتے رہو۔‘‘

حضور انور نے مزید فرمایا:
’’اگر سوشل میڈیا یا دیگر کسی بھی ذریعہ سے تم دیکھو کہ کوئی غیر مسلم یا غیر احمدی ہمارے پیغامات یا عقائد کو پسند کرتا ہے یا ان کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تو تمہیں یا جو کوئی بھی ہمارے آفیشل اکاؤنٹ کو چلا رہا ہے اس کو ایسے لوگوں تک بلاواسطہ یا لوکل جماعت کے ذریعہ رسائی حاصل کرنی چاہیئے تاکہ ایسے لوگوں کو مزید توجہ پیدا ہو اور وہ حقیقی اسلام کے بارے میں مزید جان سکیں۔ اگر تم اس نقطہ نظر سے کام کرو گے اور لگن سے محنت کرو گے تو پھر ہی کہا جا سکتا ہے کہ تم اچھا کام کر رہے ہو۔‘‘

غیروں کی سیاست

فرانس کی حکومت نے جب دوبارہ ہتک آمیز کارٹون شائع کئے تو ترکی کی حکومت نے فرانس کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ۔ ایک ملاقات کے دوران میں نے ترکی کی حکومت کے ردعمل کا حضور انور سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا:
’’فرانس کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنا کوئی قابل قدر اقدام نہیں ہے‘‘ دنیا اس قدر مربو ط ہو چکی ہے کہ ایسی کوششیں لازماً ناکام ہوں گی۔لاکھوں مسلمان فرانس میں رہتے ہیں تو وہ کیا کریں گے؟ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے کس طرح کسی چیزکی خریداری سے رک سکتے ہیں ۔ اس طرح کی بائیکاٹ کی اپیل ڈنمارک میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں بنائے جانے والے کارٹون کے بعد بھی کی گئی تھیں۔ جبکہ میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ایسے جواب جذباتی ہیں اور دلیل پر مبنی نہیں ہیں ۔‘‘

حضور انور نے مزید فرمایا:
’’ہمارا جواب ایسی صورت میں لازماً یہ ہو نا چاہیئے کہ ہم آنحضور ﷺ کے حقیقی کردا رکو ظاہر کریں اور اس حوالہ سے میں نے اب اس دور میں توجہ دلانی شروع نہیں کی بلکہ یہ طریق خود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ہے، جب آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مطھرات کے بارے میں توہین آمیز کتاب ‘‘امھات المومنین’’ شائع ہوئی تھی۔‘‘

حضور انور نے مزید فرمایا:
’’اسی طرح حضرت مصلح موعود ؓکے دور میں ایک اور پر جوش کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ شائع ہوئی تاکہ آنحضرت ﷺ کی کردار کشی کی جاسکے۔اس وقت بائیکاٹ کرنے کی بجائے یا فساد برپا کرنے کی بجائے حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا کہ مسلمانوں کو چاہیئے کہ آنحضرت ﷺ کے پاکیزہ کردار کے بارے میں جلسے اور دیگر پروگرام منعقد کریں۔‘‘

پھر ترکی کے صدر کےخفیہ عزائم کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا :
’’حقیقت یہ ہے کہ ترکی کا صدر اس معاملہ میں سیاست کھیل رہا ہے تاکہ وہ اپنی جگہ مضبوط کر سکے اور مسلم دنیا میں اپنا رعب پیدا کرسکے۔ یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کا سربراہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘

حضور انور نے مزید فرمایا:
’’بطور احمدی، ہم کبھی بھی انسانوں کی بنائی ہوئی خلافت کو قبول نہیں کریں گے یا کسی سیاسی لیڈر کو جو اسلام کے نام پر کھڑا ہو۔ ہم ہمیشہ اسی پر عمل کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے جو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جو پیغمبر اسلام ہیں ان کی ہر معاملے میں اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ تعلیمات پر عمل پیرا رہیں جو آنحضرت ﷺ کی پیشگو ئیوں کے مطابق تشریف لائے ہیں۔‘‘

5نومبر 2020 کو جب ان دہشت گرد حملوں کے بعد فضا کچھ صاف ہوئی تو حضور انور نے مجھے فرمایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ غیر مسلم دنیا کو بھی بھرپور جواب دیا جائے۔

حضور انور نے فرمایا:
’’ہم نے غیر مسلموں کے حق میں بہت کچھ کہہ لیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہم آواز بلند کریں اور غیر مسلم دنیا کی طرف سے مسلمانوں کی تحقیر کی مذمت کریں۔‘‘

اگلے دن ہی خطبہ جمعہ میں حضور انور نے اس موضوع پر بھی روشنی ڈالی اور فرنچ صدر کے اس بیان کہ اسلام مشکلات میں گھرا ہوا ہے کے جواب میں فرمایا:
’’ایک تقریر میں اس (Macron) نے کہا ہے کہ اسلام مشکلات میں گھرا ہوا ہے، بہر حال یہ بات واضح ہو جانی چاہیئے کہ اگر کوئی چیز مشکلات میں گھری ہوئی ہے تو وہ ان کا اپنا مذہب ہے۔ وہ بھی اس صورت میں اگر وہ کسی مذہب کو مانتے ہیں۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے یہ ایک زندہ، بڑھتا اور پھلتا پھولتا مذہب ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ یہ پوری دنیا میں پھیلے گا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی سعی کے نتیجے میں یہ اکنافِ عالم میں پھیل رہا ہے۔‘‘

حضور انور نے مزید فرمایا:
’’یقینی طور پر یہ کسی بھی ملک کے صدر یا لیڈر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی شخص ِ واحد کے غلط عمل کو اسلام کا حصہ قرار دے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے مشکلات میں مبتلا ہونے کی گھنٹی بجائے اور یوں عوام الناس کو اسلام کے خلاف بھڑکائے۔‘‘

پھر کارٹونز کی دوبارہ اشاعت کے بارے میں حضور انور نے فرمایا:
’’بلا شبہ ایسے کارٹونز کا شائع کرنا ہر سچے مسلمان کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ اگر یہ ایسی نفرت آمیز چیزیں شائع کرتے رہے اور اپنی مکروہ سرگرمیاں جاری رکھیں تو وہ خود دوسروں کو بھڑکانے والے ہوں گے۔ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ہم ہمیشہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق اسلام کے خلاف اور آنحضرت ﷺ کے کردار پر لگائے جانے والے الزامات کے جواب دیتے ہیں اور ایسا کرتے رہیں گے۔‘‘

حضور انور نے مسلم دنیا کی متحد جوابی کاروائی کی ناکامی کے بارے میں فرمایا:
’’اگر مسلم دنیا اس (ہتک آمیز) کارروائی کا مستقل حل چاہتی ہے تو سب مسلم دنیا کو متحد ہونا ہوگا۔ اگر جملہ مسلم ممالک یک آواز ہو کر آوز بلند کرتے تو فرانس کے صدر کے پاس سوائے معذرت کرنے کے کوئی راہ باقی نہ بچتی اور وہ اپنا بیان واپس لے لیتا۔ بہرحال میں یہاں یہ بات خوب واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو کم از کم غیر مسلم دنیا کے سامنے متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیئے۔ پھر دیکھیں کہ کیسا شاندار تاثر اور مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے۔‘‘

حضور انور کا خطبہ جمعہ بہت واضح اور دوٹوک تھا اور غیر مسلم دنیا اس پر تنقید کر سکتی تھی ، اس رائے کے جواب میں حضور انور نے فرمایا:
’’مجھے اپنے بیان پر کسی شخص یا ادارے کے رد عمل کا کوئی خوف نہیں ہے۔ میں کسی کی تنقید سے خوفزدہ نہیں ہوں میرا مقصد صرف سچ بولنا ہے۔ ہمیں اپنے مسلمات کے بارے میں بہادری سے کام لینا چاہیئے۔ یاد رکھنا سب کو راضی رکھنا ممکن نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کو میرا بیان پسند آئے گا اور کچھ کو نہیں۔ بلاشبہ میرا مقصد آنحضرت ﷺ کی عزت کا دفاع کرنا ہے اور اس لئے بھی تاکہ مغربی لوگوں پر واضح ہو کہ وہ بھی مورد الزام ہیں اور انہیں دیانتداری سے کام لینا چاہیئے اور ایسا ہی مسلم ممالک کو بھی۔‘‘

سوئٹزرلینڈ کی نیشنل مجلس عاملہ سے online ملاقات

اگلے دن سوئٹزرلینڈ کی نیشنل عاملہ سے online ملاقات کا پروگرام تھا جو بہت اچھا رہا اور دوران ملاقات ایک سوال کے جواب میں کہ اگر تیسری جنگ عظیم ہوئی تو احمدیوں پر اس کے کیا اثرات ہوں گے، کے جواب میں حضور انور نے فرمایا:
’’یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر خدا نخواستہ تیسری جنگ عظیم ہوئی تو ہماری جماعت کے دوستوں پر بھی اس کے کچھ نہ کچھ بد اثرات ہوں گے۔ اگر ہم اسلام کے ابتدائی دور میں لڑی گئی جنگوں کی طرف دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح کی یقین دہانی کروائی تھی مگر پھر بھی کیا چند صحابہ کی شہادت نہیں ہوئی؟ اس لئے قانون قدرت سے کوئی فرار نہیں۔‘‘

حضور انور نے مزید فرمایا:
’’اس دور میں قدرتی آفات اور وبائیں خداتعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کے طور پر آرہی ہیں اور حضرت اقدس مسیح موعو د علیہ السلام کی سچائی کے نشان کے طور پر۔ تاہم چند احمدی بھی ان آفات میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ اگر ہم اللہ تعالیٰ سے وفا اور خلوص کا تعلق رکھیں تو پھر ان وباؤں میں ہماری جماعت کے متاثرہ لوگوں کی تعداد دوسروں کے مقابل پر بہت کم ہوگی۔ ان شاء اللہ۔‘‘

بطور احمدی ساری دنیا کو متنبہ کرنے کے حوالہ سے ہماری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:
’’یقیناً یہ ہمارا فرض ہے بطور احمدی مسلمان کہ لوگوں کو متنبہ کریں کہ ان مصائب و شدائد کی اصل وجہ جو انسانیت کو درپیش ہیں ، جن میں جنگیں بھی شامل ہیں یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے دور ہٹتا جا رہا ہے اور خدا کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے میں غفلت برت رہا ہے۔ اگر مستقبل میں کوئی جنگ ہوئی تو دوسروں کو یہ خیال آئے گا کہ ایک جماعت ایسی تھی کہ جو انسانیت کو آنے والے حالات سے آگاہ کرتی رہی ہے اور یوں ممکن ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائیں۔‘‘

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خاکسار کے خطبہ جمعہ کے انگریزی ترجمہ کے معیار کی تعریف فرمائی اور فرمایا ’’تاہم، میں امید کرتا ہوں کہ یہ تعریفی کلمات تمہیں عاجزی میں بڑھائیں گے کیونکہ تکبر یا بڑائی انسان کے تنزل کا باعث بنتے ہیں۔‘‘

پھر حضور انور نے فرمایا
’’ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی سے بھی ڈریں۔ ہم نے صرف حق کی بات کرنی ہے۔‘‘

مجلس عاملہ ماریشس سے online ملاقات کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اظہار فرمایا کہ آپ کو لیچی بہت پسند ہے اور یہ کہ ماریشس میں اگر لیچی کے باغات اگائے جائیں تو جماعتی سطح پر بہت نفع کمایا جا سکتا ہے۔ دوران ملاقات خاکسار نے عرض کی کہ ایم ٹی اے کے ایک دوست کا خیال ہے کہ پروگرام This week with Huzoor میں اس حصہ کو edit کردیا جائے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’اس حصہ کو edit کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں میں نے کہا تھا کہ مجھے لیچی پسند ہے اور یہ بھی کہ میرے نزدیک یہ جماعت کے لئے بہت نفع بخش پھل ہے کیونکہ ماریشس میں لیچی بہت شاندار ہوتی ہے۔‘‘

حضور انور نے خاکسار کو مخاطب ہو کرفرمایا:
’’جو میں تمہیں اب کہہ رہاہوں اسے یاد رکھنا، میں کبھی ایم ٹی اے کو چند الفاظ یا ٹکڑے edit کرنے کی اجازت دیتا ہوں جہاں بے جا کوئی چیز دہرائی جا رہی ہو یا اگر کوئی گرائمر کی غلطی ہو یا اگر میری تقریر کے دوران لمبی خاموشی ہو، تاہم میں کبھی بھی کسی حصہ کو دوسروں کے رد عمل کے ڈر کی وجہ سے edit کرنے کی ہدایت نہیں دیتا یا اس غرض سے کہ وہ میرے الفاظ کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ اگر کسی کو میرا بیان پسند نہیں آتا یا میرے بیان سے متفق بھی ہے تو یہ اس کا مسئلہ ہے میرا نہیں۔‘‘

امریکہ کے صدارتی انتخابات 2020

خاکسار نے حضور انور سے عرض کی کہ حتمی نتائج جو سامنے آرہے ہیں ان کے مطابق Joe Biden صدر منتخب ہو جائے گا۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے فرمایا:
’’ان کے پولز کیا کہتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میرے خیال سے الیکشن 50-50 ہے اور اس کے نتائج فوراً واضح نہ ہوں گے۔ قطع نظر اس کے کہ کون جیتتا ہے، امریکہ کے حالات مثبت نہیں ہیں۔ اگر Biden جیت گیا تو Trump اسے قبول نہیں کرے گا اور اس کے حمایتی سخت غصہ کا اظہار کریں گے اور کچھ انتہا پسند حمایتی تو ہو سکتا ہے کہ گلیوں میں بھی نکل آئیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں پارٹیوں میں منافرت مزید بڑھ جائے گی۔دوسری طرف اگر Trump جیت گیا تو وہ اسے اپنی پالیسیوں کی کامیابی خیال کرے گا اور زیادہ سخت پالیسیوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرے گا جن میں مہاجرین اور اقلیتیں نشانہ پر ہوں گی۔‘‘

6 نومبر 2020 تک الیکشن کے حتمی نتیجہ کا اعلان نہیں ہو سکا تھا۔ دوران ملاقات حضور انور نے فرمایا:
’’میرا خیال ہے کہ کسی خاص مقصد کے تحت الیکشن کے نتیجہ کا اعلان تاخیر کا شکار ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ سٹیٹ گورنر ز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وقت میسر آجائے کہ اگر حتمی نتائج کے بعد ملک میں خرابی یا افراتفری پھیل گئی۔ مزید براں اس میں کچھ Trump مخالف افسران کی طرف سے انتقام کا پہلو بھی ہو سکتا ہے، تاکہ وہ Trump کے حوصلہ کا امتحان لے سکیں یہ جانتے ہوئے کہ اسے اس آہستہ اور بلا وجہ تاخیر والی شکست سے سخت نفرت ہوگی۔‘‘

توکل علی اللہ
حضور انور کے دادا جان کا مثالی نمون
ہ

دسمبر 2020 کے ابتداء میں خاکسار نے حضور انور سے ایک ملاقات کے دوران عرض کی کہ ایم ٹی اے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے بارے میں ایک ڈاکو منٹری تیار کر رہا ہے اور خاندان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خاتون کے انٹر ویو کا بھی ذکر کیا جنہوں نے حضور انور کے دادا جان حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے خدشہ کا ذکر کیا کہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ جس کثرت سے آپ پیسے (فی سبیل اللہ) خرچ کرتے ہیں کہیں آپ مقروض نہ ہو جائیں۔ جس پر حضور انور نے اپنے دادا جان حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے بارے میں فرمایا:
’’میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے خدشہ کے بارے میں تو نہیں جانتا، مگر دادجان بہت سخی اور کھلے دل کے مالک تھے اور اللہ پر بہت زیادہ توکل کرنے والے تھے۔ انہیں ہمیشہ یقین رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی جملہ مالی ضروریات پوری کرے گا۔‘‘

اپنے دادا جان کا ایک واقعہ سناتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:
’’جو ہمارے دادا جان کی زمین کے فارم مینجر تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے گنے کی فصل کی اچھی خاصی رقم ابا جان کو دی۔ ایک غریب اور چھوٹے کسان نے انہیں یہ رقم لیتے دیکھ لیا اور آپ کے جانے کے وقت وہ کسان سڑک پر آیا اور آپ کو روک لیا ۔ اس نے نہایت پتلے مالی حالات کا ذکر کیا اور یہ بھی کہ اس کی بیٹی کی عنقریب شادی ہے اور اس کے پاس شادی پر خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ یہ سننے پر اور ایک لمحہ بھی سوچے بغیر ابا جان نے ساری رقم (600 روپے) جو آپ کے پاس تھی نکال کر اس کو دے دی۔ اور یہ رقم اس زمانہ میں اچھی خاصی تھی۔ یہ آپ کی زندگی کے کئی واقعات میں سے ایک ہے جو آپ کی اعلیٰ سخاوت کو ظاہر کرتا ہے اور بہت سی مثالیں بھی ہیں۔‘‘

پھر حضور انور نے فرمایا:
’’اسی طرح ابا جان 1940 کی دہائی میں یوکے تشریف لائے کسی کام کی غرض سے اور اس دوران آپ نے ایک سیکرٹری رکھ لیا۔ کئی بل جمع ہو چکے تھے اور ایک دن سیکرٹری نے بتایا کہ اس کے پاس بل ادا کرنے کے لئے کوئی رقم نہیں ہے۔ وہ بہت پریشان تھا جس پر ابا جان نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ ہماری ہر طرح کی ضرورت خود پوری کردے گا۔‘‘

پھر مسکراتے ہوئے حضور انور نے اس واقعہ کو جاری رکھا اور فرمایا:
’’بعد ازاں جب آپ گلی میں باہر نکلے تو ایک اجنبی آدمی نے ابا جان کو دیکھا اور آپ کے چہرے اور شخصیت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس نے آپ کی طرف اشارہ کیا اور بلند آواز میں پکارنے لگا ’بزرگ، بزرگ‘۔ اور ساتھ ہی اس بھلے مانس آدمی نے ابا جان کے ہاتھ میں ایک لفافہ تحفۃ تھما دیا ۔ ابا جان نے وہ لفافہ سیکرٹری صاحب کو دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمام بلز ادا کرنے کے لئے کافی ہو گا جن کی ادائیگی کے لئے تم پریشان تھے۔ جب اس نے لفافہ کو کھولا تو وہ حیران رہ گیا کہ جس قدر رقم کی ضرورت تھی وہ مہیا وہ چکی تھی ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اباجان کی ضروریات پوری کردیتا تھا۔‘‘

تنازعہ بابت خلیفہ اسلام

گزشتہ چند ماہ سے اور خاص طور پر دسمبر 2020 سے مخالفین نے ایک پروپیگنڈا شروع کیا ہوا تھا کہ google سے خلیفہ اسلام کی سرچ کرتے ہی جو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا نام اور تفصیل آتی ہے اسے ہٹایا جائے۔ اس حوالہ سے جب خاکسار نے حضور انور سے google اور دیگر ادارہ جات سے بات کرنے کی اجازت چاہی تو حضور انور نے فرمایا:
’’ہاں، تم ان سے رابطہ کرو اور انہیں بتاؤ کہ ہم کون لوگ ہیں اور ہمارے عقائد کیا ہیں اور جس ظلم و تعدی کا ہمیں سامنا ہے۔ تم انہیں صاف طور پر بتاؤ کہ اگر وہ انتہا پسندوں کے سامنے جھک گئے تو وہ بھی معصوم احمدیوں پر ظلم میں برابر کے شریک ہوں گے۔‘‘

بعد ازاں خاکسار نے حضور انور سے درخواست کی کہ مجلس خدام الاحمدیہ یوکے سوشل میڈیا پر خلیفہ اسلام کے نام سے ایک مہم چلانا چاہتی ہے جو وہی اصطلاح ہے جس کو حضور انور نے ماضی میں مرکز میں استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’وہ (مجلس خدام الاحمدیہ) سوشل میڈیا مہم چلائیں مگر انہیں خلیفہ آف اسلام یا Caliph آف اسلام کی اصطلاح استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف اس لئے کہ مخالفین اس اصطلاح کو میرے نام کے ساتھ سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کر دوں۔ میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا ہے کہ میرا ٹائیٹل خلیفۃ المسیح ہے۔ میں نے کبھی بھی مسلم امت کی لیڈر شپ کا دعویٰ نہیں کیا۔ اگر اس حقیقت کی وجہ سے کہ میں جو بھی کہتا ہوں وہ اسلامی تعلیمات پر مبنی ہوتا ہے اور قرآن کریم سے ہوتا ہے، کچھ غیر مسلم مجھے اسلام کا خلیفہ کہتے ہیں تو یہ ا ن کا حق ہے ،مگر یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو میں کہتا ہوں یا جسے ہمیں خود فروغ دینا چاہیئے۔‘‘

خدا کی طرف جھکیں

چند دنوں کے بعد، حضور انور نے خاکسار کو فون کرکے ملاقات کا شرف بخشا تاکہ پاکستان میں جماعتی مخالفت اور ایم ٹی اے اور دیگر ویب سائیٹس پر پابندی کے حوالہ سے راہنمائی فرمائیں۔ بعد ازاں حضور انور نے ایک شہرت یافتہ فرد کے بارے میں جو جماعتی مخالفت میں دوسروں سے بڑھا ہو اہے فرمایا:
’’ایک طرف تو وہ شخص آنحضرت ﷺ اور اسلام کی عزت کا دفاع کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ تاہم جس طرح سے وہ اسلام کا دفاع کر رہاہے وہ نہ تو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے اور نہ ہی آنحضرت ﷺ کی ہدایات کے مطابق ہے۔ بلکہ مجھے ایک ذمہ دار افسر نے بتایا ہے کہ وہ حد درجہ کا کرپٹ آدمی ہے اور اکثر رشوت وغیرہ کے معاملات میں ملوث رہتا ہے اور ایک رائی برابر بھی امانت داری اور دیانتداری سے کام لینے کو تیار نہیں ہے۔‘‘

اس پر خاکسار نے بے اختیار کہا کہ اللہ رحم کرے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’تم ان پر اللہ کا رحم کیوں مانگتے ہو؟ ایسے لوگوں پر رحم کا وقت گزر چکاہے بلکہ تمہیں یہ دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ ہم پر رحم کرے اور وہ انہیں تباہ و برباد کرے جو ظلم اور بے انصافی کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ ہم کبھی بھی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور نہ ہی باغیانہ رویہ اپنائیں گے مگر ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے ہو کر انصاف کرے تاکہ ہمارے مخالفین کی ظالمانہ کاروائیوں کا خاتمہ ہو سکے۔‘‘

حضور انور نے مزید فرمایا:
’’یہ لوگ جو ہمارے ساتھ ظلم و تعدی کا سلوک کر رہےہیں وہ دراصل ’رحمۃ للعالمین‘ کے خطاب کو بد نام کر رہے ہیں۔ درحقیقت احمدی وہ لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کی توقیر کی خاطر اپنی زندگیوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ یہ مادہ پرست لوگ اپنی دنیاوی مال و دولت اور طاقت کے سر پر ہمارے خلاف بے انصافی کو ہوا دے رہے ہیں تاہم انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ ہم اس خدا کو ماننے والے ہیں جو بہترین محافظ اور بہترین مدد گار ہے۔‘‘

دوران ملاقات خاکسار نے ایک احمد ی دوست کا سوال حضور انور کی خدمت میں پیش کیا کہ کیا حضور انور نے مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جنرل ضیاء الحق کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا کیونکہ وہ ذاتی حیثیت میں احمدی مسلمانوں پر ظلم و تعدی کا حکم دے رہا تھا۔ پاکستان کا موجودہ وزیر اعظم ذاتی حیثیت میں کئی طرح سے بےاختیار ہے اور انتہا پسندوں کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ اس لئے دونوں حالات ایک جیسے نہیں ہیں اس لئے یہ وقت مباہلہ کا نہیں ہے۔‘‘

(مترجم : ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 مارچ 2021