• 19 اپریل, 2021

فرانس میں مسلمانوں کو ملک کا سیکولر تشخص برقرار رکھنے کے لئے قانون سازی

فرانس جو یورپی یونین کا ایک اہم ملک ہے وہاں مسلمانوں کی تعداد ساٹھ لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے ۔ ان میں اکثریت کا تعلق شمالی افریقہ کے ممالک الجزائر ،مراکش اور تیونس ہے ۔ یہ ممالک فرانس کے زیر اثر رہے اور فرانسیسیوں نے بتدریج ان کو آزاد کیا۔ اس لئے ان ممالک کے شہری عربی کے ساتھ ساتھ اسی روانی سے فرنچ زبان بھی بولتے ہیں ۔ گزشتہ چند سالوں میں جب سے اخبار میں شائع کئے جانے کارٹونوں کے خلاف مسلمانوں نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے حکومت نے آزادی اظہار کا سہارا لے کر مسلمانوں کے گرد دائرہ تنگ کرنا شروع کر رکھا ہے ۔ خصوصا ایک مسلمان طالب علم کی طرف سے اپنے استاد کو ہلاک کئے جانے کے بعد فرانس کے صدر نے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ وہ یہ برداشت نہیں کریں گے کہ مذہب کی آڑ میں لوگوں کا خون بہایا جائے۔ اس موقعہ پر فرانس کے صدر نے مسلمان تنظیموں کو ایک ماہ کی مہلت دی تھی کہ وہ وزیر داخلہ سے ملاقات کرکے امن و امان اور مساجد کے ماحول کو عبادت تک محدود رکھنے کے حوالے سے تحریری یقین دھانی کروائیں ۔اس حوالے سے وزارت داخلہ نے ایک مسودہ بھی جاری کیا ۔ اس محدود مدت کے دوران مسلم تنظیموں کے اکابرین ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے میں ناکام رہے۔ چنانچہ فرانس کی حکومت نے نیشنل اسمبلی میں اب ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کی سمت مسلمانوں کی جانب ہے۔اس قانون میں مسلمانوں کا نام تو نہیں لیا گیا بلکہ اس قانون کی غرض انتہا پسندی کی روک تھام اور نفرت کا پرچار کرنے والوں کی کڑی نگرانی بتلائی جا رہی ہے ۔ اس قانون کے حق میں 347 ووٹ پڑے ،151 اراکین اسمبلی نے مخالفت کی جبکہ 65 ممبران ایوان سے غیر حاضر رہے ۔عوامی تنقید سے بچنے کے لئے حکومت کہہ تو یہ رہی ہے کہ اس اقدام کا مقصد فرانس میں رہنے والی تمام قومیتوں کے افراد کو فرانسیسی اقدار میں شامل کرنا مقصود ہے۔ اس قانون کے بعد فرانس میں رہنے والے ہر شہری کو خود کو سیکولر تشخص کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ اس قانون کے بننے کے بعد اب عبادت گاہوں کو قوم پرستی اور دوسرے ممالک کی حکومتوں کی حمائت کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ انتہا پسند عقیدے کو فروغ دینے والی تنظیموں ، عبادت گاہوں کی کڑی نگرانی کی جاے گی ۔ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ مذہبی تنظیموں پر پابندی لگا دے یا عبادت گاہوں کو بند کر دے اور کسی بھی ایسے مذہبی رہنما کوجو فرانسیسی اقدار کے خلاف بات کرے یا لوگوں کو اکسائے اس کو معزول کر دے یا ملک بدر کر دے۔ مذہبی تنظیموں اور عبادت گاہوں کو بیرون ملک سے آنے والی امداد کا حساب رکھنا ہو گا اور کوئی بھی امداد جو دس ہزاریورو سے زیادہ مالیت کی ہو اس کو فورا حکومت کے نوٹس میں لانا ہوگا ۔ حکومتی ترجمان کے مطابق اب تک ترکی، قطر،سعودی عرب سے جو پریکٹس جاری تھی اب اس قانون کے بننے کے بعد اس کو ڈسپلن کا پابند کر دیا گیا ہے۔ مذہبی تنظیموں کے اکاؤنٹ اور کھاتوں کی جانچ پڑتال اب حکومت کرے گی اور مذہبی تنظیموں کی مالی شفافیت کے نئے اصول بنائے جائیں گے جس کی پابندی کرنا لازمی ہو گا ۔ جو مذہبی تنظیمیں فرانس کی حکومت سے مالی معاونت کی طالب ہوں گی ان کو لکھ کر دینا ہو گا کہ وہ فرانس کی لبرل اور روشن خیال پالیسی کی حمایت کرتی ہیں ۔ بلا اجازت سکول قائم کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ شادی سے پہلے کنوارے پن کا ٹیسٹ کروانا یا کنوارے ہونے کا سرٹیفکیٹ مہیا کرنا یا مطالبہ کرنا قابل گرفت ہو گا جس کی سزا مقرر کی جائے گی ۔ زبردستی کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کے لئے حکومتی اداروں کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ مرد اور عورت کا انٹرویو کر کے چاہیں تو تسلی کر لیں کہ یہ رشتہ والدین نے زبردستی تو طے نہیںکروایا ۔ ایک سے زائد شادیاں کرنے والوں کو فرانس میں رہائش کا اجازت نامہ اب نہیں دیا جائے گا ۔ سوئمنگ پولز پر خواتین اور مردوں کے لئے علیحدہ علیحدہ اوقات مقرر نہیں کئے جائیں گے ۔ کسی سرکاری ملازم کی نجی معلومات کسی دوسرے کو بتانا یا سرکاری ملازم کے خلاف کسی دوسرے فرد کو اکسانا بھی قابل گرفت جرم ہو گا ۔ کوئی بھی شخص ، افراد یا تنظیم جو اس قانون کی خلاف ورزی کرے یا دوسروں کو خلاف ورزی پر مائل کرے اس کو پانچ سال قید اور 75 ہزار یورو تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے ۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں 2015 سے اب تک مسلمان شدت پسندوں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس نئے قانون کے نافذالعمل ہونے کے بعد مذہبی عبادت گاہوں میں دی جانے والی انتہا پسندانہ تعلیم اور رویوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔ جبکہ مسلمان تنظیموں کی رائے ہے اس طرح مسلمانوں کو بطور خاص نشانہ بنانے سے فرانسیسی عوام اور مسلمانوں کے درمیان خلیج بڑھے گی ۔ ہمارا تعلق فرانسیسی کالونیوں سے ہے اور ہم فرانسیسی کلچر سے خوب واقف ہیں ۔ چند شدت پسند جو ہر مذہب اور سوسائٹی میں ہوتے ہیں کو بنیاد بنا کر ساٹھ لاکھ مسلمانوں کو متاثر کرنے والے فیصلے کرنا محض وقتی سیاسی فائدے اٹھانے کے لئے ہے۔ فرانس جو ایک سیکولر ملک ہے اس میں مذہبی کارڈ کا استعمال کسی طرح بھی ملک کے لئے فائدہ مند نہیں ہے ۔ ساٹھ لاکھ مسلمانوں کے بچے سیکولر سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ بچے فرانس کا مستقبل ہیں ۔ ایسے قوانین بچوں کے ذہنوں میں تفریق کو جنم دیں گے ۔ بعض مسلمانوں کا خیال ہے کہ فرانس کے صدر نے جو ایک ماہ کی مہلت مسلم اکابرین کو گفت و شنید کے لئے دی تھی اس سے فائدہ نہ اٹھا کر مسلمانوں نے خود اس تکلیف دہ قانون کی راہ ہموار کی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فرانس میں اب کوئی ایسا واقعہ روح پذیر نہیں ہونا چاہیے جو انسانی ہلاکتوں کا باعث ہو۔ اب یہ بھی امکان ہے کہ فرانس کی تقلید میں یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی اس طرح کی قانون سازی کی طرف متوجہ نہ ہو جائیں کیونکہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والی دائیں بازو کی سیاسی پارٹیاں مقبول ہو رہی ہیں اور مسلمانوں کو جکڑ کے رکھنا ان سب پارٹیوں کے منشور کا حصہ ہے جس کا اظہار سیاسی جلسوں میں کھل کر کیا جاتا ہے ۔

فرانس کے حالیہ قانون کے خلاف دنیا کے 13 ممالک سے تعلق رکھنے والی 36 غیر سرکاری تنظیموں نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق میں اپیل دائر کی ہے کہ اقوام متحدہ اس قانون کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان ممالک، مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی و دیگر مسلمان این جی اوز بھی اٹھ کھڑے ہوں اور دنیا کے 13 ممالک کی 36 غیر سرکاری تنظیموں کا ساتھ دیں تاکہ ایک بھرپور قوت کے ساتھ فرانس کی طرف سے کی جانے والی نا انصافی کا مقابلہ کیا جا سکے ۔

(عرفان احمد خان ۔ نمائندہ روزنامہ الفضل لندن آن لائن جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 مارچ 2021