• 15 اپریل, 2024

قرآن عظیم الشان کتاب ہے

• میں مَوَاقِعِ النُّجُوْم کی قسم کھاتا ہوں، اور یہ بڑی قسم ہے اگر تمہیں علم ہو اور قسم اس بات پر ہے کہ یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اور اس کی تعلیمات سنت اللہ کے مخالف نہیں۔ بلکہ اس کی تمام تعلیمات کتاب مکنون یعنی صحیفہ فطرت میں لکھی ہوئی ہیں اور اس کے دقائق کو وہی لوگ معلوم کرتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔(اس جگہ اللہ جلّشانہ نے مَوَاقِعِ النُّجُوْم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ کیا کہ جیسے ستارے نہایت بلندی کی وجہ سے نقطوں کی طرح نظر آتے ہیں مگروہ اصل میں نقطوں کی طرح نہیں بلکہ بہت بڑے ہیں ایسا ہی قرآن کریم اپنی نہایت بلندی اور علو شان کی وجہ سے کم نظروں کے آنکھوں سے مخفی ہے اور جن کی غباردور ہو جاوے وہ ان کو دیکھتے ہیں اور اس آیت میں اللہ جلشانہ نے قرآن کریم کے دقائق عالیہ کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے جو خد اتعالیٰ کے خاص بندوں سے مخصوص ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے پاک کرتا ہے اور یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اگر علم قرآن مخصوص بندوں سے خاص کیا گیا ہے تو دوسروں سے نافرمانی کی حالت میں کیونکر مواخذہ ہو گاکیونکہ قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے وہ عام فہم ہے جس کو ایک کافر بھی سمجھ سکتا ہےاور ایسی نہیں ہے کہ کسی پڑھنے والے سے مخفی رہ سکے اور اگروہ عام فہم نہ ہوتی تو کار خانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا۔مگر حقائقِ معارف چونکہ مدارِ ایمان نہیں صرف زیادتِ عرفان کے موجب ہیں اس لئے صرف خواص کو اس کوچہ میں راہ دیا کیونکہ وہ دراصل مواہب اور روحانی نعمتیں ہیں جو ایمان کے بعد کامل الایمان لوگوں کو ملا کرتی ہیں۔)

(کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد7 صفحہ52-53)

• دنیاوی علوم کی تحصیل اور ان کی باریکیوں پر واقف ہونے کے لئے تقویٰ و طہارت کی ضرورت نہیں ہے ایک پلید سے پلید انسان خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو، ظالم ہو، وہ ان کو حاصل کر سکتا ہے۔ چوڑھے چمار بھی ڈگریاں پالیتے ہیں لیکن دینی علوم اس قسم کے نہیں ہیں کہ ہر ایک ان کو حاصل کر سکے۔ ان کی تحصیل کیلئے تقویٰ وطہارت کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۸۰﴾ (الواقعہ:80)۔ پس جس شخص کو دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش ہے اسے لازم ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرے جس قدر وہ ترقی کرے گا اسی قدر لطیف دقائق اور حقائق اس پر کھلیں گے۔

(البدر جلد3نمبر2موٴرخہ8؍ جنوری 1904ء صفحہ3)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ