• 2 جون, 2020

خواہشِ دید کا جذبہ

یاد کے درد کا جب دل میں دھواں رہتا ہے
خواہشِ دید کا ہر جذبہ جواں رہتا ہے
قلبِ مضطر کو کسی طور نہیں ملتا قرار
ہجر کا غم مری رگ رگ میں نہاں رہتا ہے
بےکلی دل کی جو بڑھ جاتی ہے حد سے زیادہ
اشک کا بحر سا آنکھوں سے رواں رہتا ہے
شربتِ دید کے سب کو ہی عطا ہوتے ہیں جام
دستِ ساقی ہے تو کیوں مجھ سے کشاں رہتا ہے
ایک میں نے ہی ترے دل میں جگہ نہ پائی
ورنہ اس قلبِ حسیں میں تو جہاں رہتا ہے
کیسے دو قلب کو یک جاں بنایا اُس نے
میں یہاں اور وہ دلدار وہاں رہتا ہے
تیرے دیدار کی مسدود سبھی ہیں راہیں
نقشِ پا تک بھی تو بے نام و نشاں رہتا ہے
کس سے پوچھوں میں ترا مجھ کو نہیں ہے معلوم
کون سا شہر، محلّہ، ہے کہاں رہتا ہے
واسطہ شانِ کریمی کا تجھے میرے قدیر
واں ہی پہنچا دے جہاں میرِ زماں رہتا ہے
یار بِن جینا بھی اب جینا ہے کیا پیارے خلیقؔ
اَشک آنکھوں سے رواں لب پہ فغاں رہتا ہے

(عبدالحمید خلیق)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اپریل 2020