• 2 جون, 2020

احادیث نبویہؐ میں خوراک کے ضیاع کے بارے میں ہدایات اس دور میں زیادہ اہم کیوں ہیں؟

آنحضرت ﷺ کی مبارک احادیث میں کھانے پینے کے متعلق جو اصولی راہنمائی پائی جاتی ہے اس میں سے بعض ہدایات نیچے درج کی جاتی ہیں۔

’’حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جب کھانا کھاتے تو انگلیوں کو چاٹ لیتے اور آپ فرماتے تھے کہ جب کسی کا لقمہ گر پڑے تو اس کا گندہ حصہ علیحدہ کرے اور اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔ اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پونچھ لیں رکابی کو اور فرماتے تھے کہ تم نہیں جانتے کس کھانے میں تمہارے لئے برکت ہے۔‘‘

(جامع ترمذی۔ كتاب الأطعمة۔ باب مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ حدیث نمبر:1803)

اور جامع ترمذی کے اسی باب میں مذکور اگلی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم درج ہے کہ جو کسی برتن میں کھائے تو اسے پونچھ لے۔

سنن ابن ماجہ میں یہ حدیث مذکور ہے۔

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو روٹی کا ٹکڑا پڑا دیکھا۔ آپ نے اسے اُٹھایا اور پونچھا اور کھا لیا۔ اور فرمایا کہ اے عائشہ عزت والی چیز کو عزت دو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رزق جب کسی قوم سے چلا گیا تو اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتا۔‘‘

(سنن ابن ماجہ ۔کتاب الاطعمہ۔ باب نھی عن القاء الطعام)

رزق کی قدر کرنے کے بارے میںصحیح ابن حبان میں روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر پر کھانا تناول فرمایا۔ اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

’’روٹی، گوشت اور خشک اور تر کھجوریں ۔مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بار ے میں سوال ہو گا۔‘‘

(صحیح ابن حبان کتاب الاطعمۃ ۔ ذکر الامر بتمحید اللّٰہ جلّ و علا عند الفراغ من الطعام علی من اسبغ و افضل و انعم)

اور سامنے موجود کھانے کو آخر تک ختم کرنے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

’’یقیناً کھانے کے آخری حصے میں برکت ہے۔‘‘

(حیح ابن حبان ۔ کتاب الاطعمۃ ۔باب ذکر الامر للمرء بلعق الاصابع للاکل قبل مسحھا بالمندیل ضدّ القول من تفذّرہ)

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دستر خوان پر کھانے کے بچ جانے والے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو بھی ضائع نہ کرنے بارے میں یہ ہدایات عطا فرمائیں۔

’’جو دسترخوان پر ریزوں کو تلاش کرے گا اس کی بخشش کر دی جائے گی۔‘‘

(کنزالعمال اردو ترجمہ از دارالاشاعت جلد 8 ص 118)

’’روٹی کی قدر کرو ۔کیونکہ اللہ نے اسے آسمان کی برکتوں سے اتارا اور زمین کی برکتوں سے نکالا ہے۔جو دسترخوان کے ریزے کھائے گا اس کے گناہ معاف ہوں گے۔‘‘

(کنزالعمال اردو ترجمہ از دارالاشاعت جلد 8 ص 120)

اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دستر خوان پر کھانے کو ضائع نہ ہونے دینا اولاد کی تربیت کا بھی عمدہ ذریعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’جس نے دسترخوان کے ریزے کھائے وہ وسعت کی زندگی گزارے گا اور اپنے بیٹے اور پوتے میں حماقت سے محفوظ رہے گا۔‘‘

(کنزالعمال اردو ترجمہ از دارالاشاعت جلد8ص 123)

مندرجہ بالا احادیث میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوراک ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا حساب لیا جائے گا۔ جو توجہ سے خوراک کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے تو یہ فعل اس کے لئے بخشش اور خوشحالی کا باعث بنتا ہے۔ ان ارشادات کی ایک واضح حکمت تو یہ ہے کہ خوراک بہرحال اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس دور میں جب کہ ہر قسم کے اعداد و شمار جمع ہو رہے ہیں اور کسی بھی چیز کا جائزہ لینا پہلے کی نسبت بہت آسان ہو چکا ہے، یہ جائزہ لینا ضروری ہے اس طرح اگر خوراک کو ضائع ہونے سے بچایا جائے تو اس کے کیا عالمی اثرات ہو سکتے ہیں؟ یا دوسری صورت میں اگر خوراک کو ضائع ہونے دیا جائے تو اس کے دنیا پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟

پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ مختلف مراحل میں اندازاً ہر سال دنیا میں کتنی خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ خوراک کے عالمی ادارے FAO کے اندازے کے مطابق ہر سال دنیا میں 1.3 ارب ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ اور اسے بچا کر استعمال میں لانا ممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں جتنی خوراک لوگوں کے پیٹ میں جانے کی بجائے ضائع ہو جاتی ہے وہ دنیا بھر کی خوراک کی پیداوار کا ایک تہائی ہے۔ اس کی قیمت 2.6 کھرب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ یہ مقدار اتنی ہے کہ دنیا بھر میں جن لوگوں کو صحیح خوراک میسر نہیں نہ صرف اِن لوگوں کو کھلانے کو کافی ہے بلکہ اگر ان سے چارگنا زیادہ تعداد میں لوگ دنیا میں بھوکے ہوں تو ان کا پیٹ بھرنے کے لئے بھی کافی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ا ِس وقت بھی دنیا میں اتنی خوراک پیدا ہو رہی ہے جو کہ دنیا میں موجود آبادی کی ضرورت سے زیادہ ہے لیکن یہ خوراک اتنی زیادہ مقدار میں ضائع ہو جاتی ہے کہ دنیا میں 81 کروڑ سے زائد افراد پوری طرح اپنا پیٹ نہیں بھر سکتے۔

یہ صورت حال واضح ہے کہ دنیا میں ایک طبقہ خوراک ضائع کر رہا ہے اور دوسرا کم از کم مطلوبہ خوراک سے بھی محروم ہے۔ اس مسئلے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2018ء میں دنیا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 21.9 فیصد بچوں کا قد خوراک کی کمی کے باعث چھوٹا رہ گیا تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباََ ڈیڑھ کروڑ بچوں کا قد عمر سے چھوٹا تھا۔اور 7.3 فیصد بچوں کا وزن قد کی نسبت سے چھوٹا تھا ۔ دوسری انتہا یہ تھی کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سے 5.9 فیصد بچے موٹاپے کا شکار تھے۔ دنیا کے تین خطے ہیں جہاں پر خوراک کی کمی کی وجہ سے بچوں میں چھوٹے قد کا مسئلہ زیادہ سنگین ہے اور یہ خطے جنوبی ایشیا، مشرقی افریقہ اور وسطی افریقہ ہیں۔ایسے پانچ بچوں میں سے دو جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔

(Levels and trends in child malnutrition UNICEF / WHO / World Bank Group Joint Child Malnutrition Estimates 2019)

خوراک کی پیداوار کا بہت سا حصہ کھیتوں میں جمع کرتے ہوئے یا خوارک کی ترسیل اور پیکنگ کے وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ اور جو صنعت کھانے پینے کی اشیاء کو کھانے والوں یعنی صارف تک سپلائی کرتی ہے وہ بھی بڑی حد تک اس ضیاع میں حصہ دار ہے ۔کئی ممالک میں تو اس ضمن میں سائنسی خطوط پر اعدا و شمار جمع نہیں کئے گئے۔ مگرایک تحقیق کے مطابق سویڈن میں فوڈ سروس انڈسٹری کھانے پینے کی جو اشیاء خریدتی ہے اس میں سے بیس فیصد ضائع کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ میں پرچون کی سطح پر کھانے پینے کی اشیاء کا 19 فیصد ضائع جاتا ہے۔ کم وسائل والے ممالک بھی خوراک کے ضیاع میں امیر ممالک سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں ہیں۔ایک طرف دنیا کے کروڑوں افراد بھوکے ہوں اور دوسری طرف اس سنگدلی سے خوراک ضائع کی جا رہی ہو، یہ ایک المیہ نہیں تو کیا ہے؟

امریکہ میں کینساس سٹیٹ یونیورسٹی نے اپنے طلباء میں دو مرتبہ یہ جائزہ لیا کہ کتنے فیصد طلباء اپنی ٹرے میں کھانے کی اشیاء چھوڑ دیتے ہیں؟ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ناشتہ میں 49 فیصد، دوپہر کے کھانے میں 55 فیصد اور رات کے کھانے میں35 فیصد طلباء کھانے کی اشیاء مکمل طور پر کھائے بغیر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق دنیا میں باقی مراحل پر جو غذا ضائع جاتی ہے وہ تو ضائع جاتی ہے صرف پلیٹوں کے اندر بھی 6 فیصد سے کچھ زائد خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ اور یہ ابھی سب سےکم اندازہ ہے دوسری تحقیقات کے مطابق یونیورسٹی کے کھانے کے مقام پر 11سے 30 فیصد خوراک پلیٹوں میں ضائع ہوجاتی ہے۔

(Quantifying Food Plate Waste: Case Study of a University Dining Facility by Ochieng’ Allan Alooh)

LUMS یونیورسٹی نے لاہور کے ریستورانوں میں تحقیق کی کہ کتنی خوراک ضائع کی جاتی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ان مقامات پر خوراک کی تین بڑی وجوہات ضرورت سے زیادہ کھانا تیار کرنا، کھانا کھانے والوں کا کھانے کو ضائع کرنا اور کھانے کا سڑ جانا ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جتنا مہنگا ریستوران ہو گا اتنا ہی یہ امکان زیادہ ہو گا کہ ضرورت سے زیادہ کھانا تیار ہونے کی وجہ سے رزق ضائع جاتا ہے۔ اور سستے ریستورانوں میں زیادہ تر کھانا اس لئے ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ کھانے والے پلیٹوں میں کھانا کھائے بغیر چھوڑ دیتے ہیں۔

(Musa Aamir, Huzaifa Ahmad, Qasim Javaid & Syed M. Hasan (2018) Waste Not, Want Not: A Case Study on Food Waste in Restaurants of Lahore, Pakistan, Journal of Food Products Marketing, 24:5, 591-610, DOI: 10.1080/10454446. 2018.1472695)

اس مسئلہ پر دنیا بھر میں تحقیق کی جا رہی ہے کہ خوراک کے اس ضیاع پر کس طرح قابو پایا جائے؟ سب سے پہلے تو کھیتوں میں اناج کے ضیاع پر قابو پانا اور ترسیل کے دوران اور معیار برقرار رکھنے کے نام پر خوراک ضائع ہونے کو روکنا ضروری ہے۔ اس بات کی احتیاط کرنی ضروری ہے کہ ضرورت سے زیادہ کھانا نہ پکایا جائے۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو افراد کا کھانا تین کے لئے اور تین کا چار کے لئے کافی ہوتا ہے۔

(صحیح بخاری ۔ کتاب الاطعمہ، باب طعام الواحد یکفی الاثنین)

اور سب اپنے طور پر یہ مثبت قدم تو اُٹھا سکتے ہیں کہ اپنی پلیٹوں میں ضرورت سے زائد کھانا ڈال کر ضائع نہ کریں۔ اب مختلف ممالک میں اس بات کے انتظامات کئے جا رہے ہیں کہ گھروں میں جو کھانا بچ جائے اور قابل استعمال ہو وہ فوری طور پر مستحقین تک پہنچایا جائے۔ اور جو کھانا پھر بھی بچ جائے وہ کم از کم کھاد بنا کر مفید بنایا جائے۔

(ڈاکٹر مرزا سلطان احمد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اپریل 2020