• 31 مئی, 2020

صحابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت شیخ احمد اللہ رضی اللہ عنہ۔ سیالکوٹ

حضرت شیخ احمد اللہ قریشی رضی اللہ عنہ ولد مکرم شیخ الہٰی بخش سیالکوٹ کے رہنے والے تھے ۔ آپ نے اپنی ملازمت کے سلسلہ میں ایک لمبا عرصہ نوشہرہ (صوبہ خیبر پختونخواہ) میں گزارا ۔جہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد قادیان کے محلہ دارالعلوم میں سکونت اختیار کی اور تقسیم ملک تک وہیں رہے۔ وصیت کے ریکارڈ کے مطابق آپ کی بیعت 1903ء کی ہے۔ آپ خلافت سے والہانہ محبت رکھنے والے اور سلسلہ احمدیہ سے حد درجہ اخلاص رکھنے والے تھے اور سلسلہ کی ہر تحریک پر لبیک کہنے والے تھے۔جیسا کہ ذکر ہوا آپ نے ایک لمبا عرصہ نوشہرہ کینٹ میں گزارا جہاں آپ چھاؤنی مجسٹریٹ کے دفتر میں ہیڈکلرک تھے۔ ملازمت کے دوران آپ نے احمدیت کا مثالی نمونہ پیش کیا۔ حضرت قاضی محمد یوسف رضی اللہ عنہ ’’تاریخ احمدیت صوبہ سرحد‘‘ میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’یہ شیخ صاحب چھاؤنی مجسٹریٹ کے پاس ہیڈ کلرک تھے۔ 1921ء کے قریب نوشہرہ میں تھے، سالہا سال وہاں قیام رہا اور یہیں سے پنشن پائی اور قادیان جاکر رہے۔ یہ ایک مستعد جوان تھے، شکار کے شائق تھے۔ تبلیغ احمدیت کے دلدادہ تھے، مہمان نواز تھے۔ خاکسار سے بڑا اخلاص تھا۔ جب تک نوشہرہ میں رہے خوب رونق قائم رکھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح (اوّلؓ۔ناقل) اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں نوشہرہ میں رہے۔ اکثر جماعت احمدیہ کے امیر رہے ……

یہ شیخ صاحب ایک دفعہ پشاور تشریف لائے جب کہ انجمن احمدیہ پشاور کا مکان بازار جہانگیر پورہ کے بالاخانہ میں تھا، فرمانے لگے مجھے تبلیغ اسلام کا شوق ہے اور انگلینڈ جاکر تبلیغ کرنا چاہتا ہوں مگر نہ مجھے علم دین پورا حاصل ہے اور نہ میرے پاس آنے جانے کا خرچ ہے اور نہ صدر انجمن یا جماعت پر بوجھ ڈالنا چاہتا ہوں، آپ دعا بھی کریں کہ میری یہ خواہش پوری ہو اور مشورہ بھی دیں کہ کیا میں تبلیغ کے لیے جاؤں۔ خاکسار نے عرض کی کہ دورانِ تعلیم ہمارا ایک ہم سبق تھاسردار محمد آصف نامی، وہ بغیر ایک پیسہ خرچ کرنے کے پہلے بمبئی اور پھر وہاں سے انگلینڈ پھر آیا۔ آپ بھی بمبئی جاکر کسی کمپنی کے ساتھ ایجنٹ ہونے کا یا جہاز میں ملازمت کا انتظار کر کے ان کے خرچ سے انگلینڈ جائیں اور جو معلومات آپ کو اسلام اور احمدیت کے پڑھنے اور مشاہدہ سے حاصل ہیں، صرف اسی کو بیان کر کے تبلیغ کریں۔ خدا تعالیٰ برکت دے گا۔ اہل انگلستان یا دوسرے مسلمان اسلام اور احمدیت سے قطعًا ناواقف ہیں، ان کے واسطے آپ ایک علّامہ ثابت ہوں گے۔

شیخ صاحب نے نوشہرہ جاکر ایک سال کی رخصت حاصل کی کچھ باتنخواہ اور کچھ بے تنخواہ، بمبئی جاکر ایک کمپنی کے ایجنٹ مقرر ہوئے اور کمپنی کے خرچ سے لندن پہنچ گئے۔ اپنی ایک انگریزی ٹائپ مشین بھی ساتھ لے گئے اور خدا کا نام لے کر تبلیغ کا کام شروع کر دیا اور کمپنی کی ملازمت سے کچھ عرصہ بعد فارغ ہوگئے۔ روزانہ اپنی تبلیغ رپورٹ دو درجن کے قریب چھاپ کر قادیان مرکز سلسلہ اور باہر دوستوں کو بھیجتے رہے، خاکسار کو بھی ایک کاپی روانہ کرتے رہے۔ ہائیڈ پارک کے میدانوں میں تبلیغ کرتے، کئی افراد اُن کے ذریعہ اسلام میں داخل ہوئے۔ دو دفعہ انگلستان گئے اور خدا تعالیٰ نے کامیابی دی۔‘‘

(تاریخ احمدیت صوبہ سرحد از حضرت قاضی محمد یوسفؓ صفحہ266,265)

جماعتی لٹریچر میں آپ کے سفر لندن کا کچھ بیان محفوظ ہے، ڈائری 29 جنوری 1921ء مسجد مبارک بعد نماز ظہر کے تحت لکھا ہے:

’’شیخ احمد اللہ صاحب ہیڈ کلرک دفتر چھاؤنی مجسٹریٹ نوشہرہ نے لندن بغرض تبلیغ جاتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے ملاقات کی۔‘‘

(الفضل 3فروری 1921ء)

آپ کے انگلستان پہنچنے کی خبر دیتے ہوئےاخبار الفضل نے زیر عنوان ’’ہمارا ایک اور مبلغ لنڈن میں‘‘ لکھا:
’’تازہ ڈاک ولایت سے معلوم ہوا ہے کہ شیخ احمد اللہ صاحب ہیڈ کلرک چھاؤنی نوشہرہ بغرض تبلیغ بخیریت لنڈن پہنچ گئے ہیں۔ خدا ان کے ساتھ ہو۔‘‘

(الفضل 11۔اپریل 1921ء)

اُس وقت کے مبلغ انگلستان کی رپورٹوں میں بعض جگہ آپ کا ذکر بھی موجود ہے۔ آپ نے کچھ عرصہ وہاں تبلیغ احمدیت میں گزارا جس کے بعد واپس ہندوستان آگئے۔ اس کے بعد 1936ء میں پھر اسی غرض سے انگلستان گئے اور تبلیغی کوششوں میں حصہ لیا، مبلغ انگلستان حضرت مولانا جلال الدین شمس نےاپنی بعض رپورٹوں میں آپ کا بھی ذکر کیا ہے۔ آپ 14فروری 1940ءکو انگلستان سے ہندوستان واپسی کے لیے روانہ ہوئے، آپ کی واپسی پر مسجد بیت الفضل لندن میں ایک دعوت چائے دی گئی، مولانا جلال الدین شمس نے اخبار الفضل کو ارسال کردہ ایک رپورٹ میں لکھا:

’’شیخ احمد اللہ صاحب تجارت و تبلیغ کی غرض سے 1936ء میں لندن تشریف لائے تھے، تین سال لندن میں قیام کا ارادہ تھا، اب ساڑھے تین سال کے قریب قیام کر کے ہندوستان روانہ ہوئے۔ آپ تجارتی کاروبار کرتے تھے لیکن ساتھ ساتھ جب کبھی موقعہ پاتے لوگوں سے مسجد کا ذکر کر دیتے اور بعض وقت سلسلہ کے متعلق بھی گفتگو کرتے چنانچہ ان کی تحریک پر جو لوگ مسجد دیکھنے کے لیے تشریف لائے اُن میں سے مسٹر یوسف گریگری بھی تھے جو آخر کار سلسلہ میں داخل ہوگئے۔ ایک بات کا جس کا میں خصوصیت سے ذکر ضروری خیال کرتا ہوں وہ اُن کا جمعہ کی نماز کے لیے پابندی کے ساتھ مسجد میں تشریف لانا تھا، بعض قارئین خیال کریں گے کہ یہ کون سی قابل ذکر بات ہے کہ وہ جمعہ کی نماز کے لیے باقاعدہ مسجد میں آتے تھے لیکن جو شخص لندن میں رہ چکا ہو اُس کے لیے اس کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ وہ مسجد سے بہت دور رہتے تھے، کم از کم ڈیڑھ شلنگ خرچ کر کے انہیں مسجد میں آنا پڑتا تھا اور جمعہ منڈی لگنے کا دن بھی ہوتا تھا جس میں ان کا زیادہ کاروبار ہو سکتا تھا۔ اس لیے مجھے یہ ذکر کرنے میں خوشی ہے کہ آپ نے بہت اچھا نمونہ دکھایا….‘‘

(الفضل 9مارچ 1940ء)

لندن سے واپسی پر قادیان میں ہی مقیم رہے۔ تاریخ احمدیت جلد ہشتم میں درج صحابہ قادیان کی فہرست میں آپ کا نام 380 نمبر پر موجود ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں دفن ہونے کی خواہش تھی لیکن انڈیا اور پاکستان کی تقسیم ہوگئی اور آپ کو بھی پاکستان آنا پڑا اور آپ اپنے وطن مالوف سیالکوٹ میں رہے جہاں مورخہ 18نومبر 1948ء بعمر 74 سال وفات پائی اور بوجہ موصی (وصیت نمبر 1917) ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔ آپ کی وفات پر آپ کے بھتیجے مکرم قریشی مطیع اللہ نے (الفضل 14دسمبر 1948ء) اور حضرت مرزا غلام حیدر صاحب بی اے ایل ایل بی امیر جماعت احمدیہ نوشہرہ نے (الفضل 4مارچ 1949ء) میں مضامین لکھے۔

حضرت شیخ احمد اللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ کا نام حاجی خانم تھا جو افغان قوم سے تھیں اور 1920ء میں بیعت کرکے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئیں۔ محترمہ حاجی خانم نے 4۔اگست 1944ء کو قادیان میں وفات پائی اور بوجہ موصیہ (وصیت نمبر 5991) ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئیں۔ آپ کی اولاد میں سے دو بیٹوں قریشی عبدالمنان اور قریشی عبدالرحمٰن اور دو بیٹیوں حنیفہ طاہرہ قریشی اور بسم اللہ سلطانہ قریشی کا علم ہوا ہے۔

آپؓ کے بھائی حضرت صوبیدار محمد عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی تھے، 1903ء میں بیعت کی توفیق پائی اور 6۔جنوری 1940ء بعمر 63 سال وفات پاکر بوجہ موصی (وصیت نمبر 5250) ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔

(غلام مصباح بلوچ۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اپریل 2020