• 19 اپریل, 2021

تعارف سورۃ الحشر (59 ویں سورۃ)

(تعارف سورۃ الحشر (59 ویں سورۃ))
(مدنی سورۃ ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی25 آیات ہیں)
(ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003)

وقت نزول اور سیاق و سباق

یہ سورۃ آخری سات مدنی سورتوں میں سے تیسری ہے۔ سابقہ سورۃ میں مدینہ کے یہودیوں کی اسلام کے خلاف سازشوں اور بد حرکات کا ذکر کیا گیا تھا۔ موجودہ سورۃ میں ان کی سزا کے بارے میں بتایا گیا ہے بالخصوص مدینہ کے قبیلے بنو نظیر کے جلا وطن کئے جانے کا، جو تین یہودی قبائل (بنو قینقاع، بنو نظیر اور بنو قریظہ) میں سے ایک تھا۔ یہ جلا وطنی غزوہ احد کے چند ماہ بعد ہجرت کے چوتھے سال میں ہوئی۔ یہ جلا وطنی آپ ﷺ کی غیر معمولی فراست، حکمت اور دور اندیشی کا ثبوت ہے۔ کیونکہ مدینہ کے یہودیوں کو یہاں رہنے کی اجازت دے دی جاتی تو وہ اپنی سازشوں اور خفیہ تدبیروں کی وجہ سے اسلام کے لئے ایک مستقل خطرہ ثابت ہوتے۔ پھر اس سورۃ میں مدینہ کے منافقوں کا ذکر کیا گیا ہےجو نہ تو پکے مسلمان ہیں اور نہ یہودی ہیں۔ منافق بنیادی طور پر بزدل ہوتا ہے اور ایک بزدل آدمی کسی کے ساتھ بھی مخلص یا قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔ مدینہ کے منافق بعد میں خطروں کے وقت یہودیوں کے ساتھ بھی بد عہدی کے مرتکب ہوئے۔

یہ سورۃ خدا کی تحمید سے شروع ہوتی ہے اور مسلمانوں کو اس نصیحت پر ختم ہوتی ہے کہ انہیں رحیم و کریم خدا کی خوب تعریف کرنی چاہیئے جس نے ان کے دشمنوں کے جملہ بد ارادے ابتداء میں ہی دبا دئے اور انکے لئے ترقی اور کامیابی کی غیر معمولی شاہرائیں کھول دیں۔ اس سورۃ کے مضامین کی سورۃ الانفال کے مضامین سے بہت قریبی مشابہت ہے۔

(ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اپریل 2021