• 19 اپریل, 2021

دین (اسلام) آسان ہے

تبرکات حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ

حدیث

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ وَ لَنْ یُّشَادَ الدِّیْنَ اِلَّا غَلَبَہُ فَسَدِّدُوْا وَ قَارِبُوْا وَ اَبْشِرُوْا وَاسْتَعِیْنُوْا بِالْغَدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ مِنَ الدُّلْجَہ۔

ترجمہ:۔ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ فرمایا رسول کریم ﷺ نے دین (اسلام) آسان ہے اور جو کوئی بھی دین میں حد سے بڑھے گا۔ دین اس کو مغلوب کر دے گا۔ پس میانہ روی اختیار کرو۔ حدود کے قریب قریب رہو اور خوش رہو۔ صبح و شام دعا و ذکر سے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرتے رہو اور ایسا ہی رات کے پچھلے پہر۔

اسلام کے احکام فطرتِ انسانی کے مطابق ہیں اور انسان ان کو بغیر کسی دقت کے سرانجام دے سکتا ہے۔ لیکن برعکس اس کے دوسرے مذاہب مثلاً عیسائی و آریہ وغیرہ ان کے احکام ایسے سخت اور پیچیدہ ہیں۔ جن کو انسان خوش اسلوبی سے سرانجام نہیں دے سکتا۔ مثلاً آریہ سماج کی تعلیم مردہ جلانے کے متعلق یہ ہے کہ مردہ کے وزن سے سہ گنا گھی ہونا چاہئے۔ اگر اتنا نہ مل سکے تو دوگنا اور اگر اتنا بھی نہ مل سکے تو کم از کم مساوی الوزن ہونا ضروری ہے۔ چاہے بھیک مانگ کر کیوں نہ جمع کیا جائے۔ اس پر کون عمل کرتا یا کر سکتا ہے۔ اسی طرح عیسائیوں میں کئی ایسے احکام ہیں جن پر عمل کرنا نہایت ہی مشکل امر ہے۔ چنانچہ پولوس رسول فرماتے ہیں «اگر تیری بیوی نہیں۔ تو بیوی کی تلاش نہ کر۔» (باب 7 آیت 27 کرنتھیوں) یہ تو ایسی بات ہوئی کہ انسان کو آنکھیں دی گئی ہیں وہ ان سے کام نہ لے۔ پاؤں دیئے گئے ہیں ان سے کام نہ لے۔ انسان کو اعضاء رجولیت دیئے گئے ہیں ان سے بھی کام نہ لے۔ کیا فطرت انسانی کا یہی تقاضا ہے۔

اب ہم مذہب اسلام کو لیتے ہیں اور نماز فجرکی مثال پیش کرتے ہیں کہ کیا یہ حکم فطرت انسانی کے خلاف ہے یا اس کے مطابق۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ زمیندار وغیرہ جن کے متعلق ایسے کام ہوتے ہیں جو کہ علی الصبح ہی سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔ وہ قریباً تین بجے بیدار ہوتے ہیں۔ مسافر بھی علی الصبح اپنے سفر کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ غرض ہر شخص جس کو کوئی دنیاوی غرض و منفعت کا خیال ہو وہ علی الصبح بیدار ہونے کے لئے فکر مند رہتا ہے۔جب انسان دنیاوی غرض و منفعت کے لئے علی الصبح بیدار ہو سکتے ہیں اور انسانی فطرت اس امر کو گراں محسوس نہیں کرتی تو دینی امر یعنی نماز کے لئے اٹھنا بھی فطرت انسانی کے خلاف نہیں قرار دیا جا سکے گا۔

اسی طرح ان مذاہب کے عقائد ہیں جو کہ قریباً تمام کے تمام عقدۂ لاینحل کی طرح ہیں۔ مثلاً عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ تین میں ایک اور ایک میں تین۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ انسانی دماغ اس کو قبول کرنے سے قاصر ہے۔ امرت سر میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ڈپٹی آتھم کے مابین مباحثہ ہوا اور پندرہ دن تک جاری رہا۔ جو جنگ مقدس کے نام سے مشہور ہوا تو ڈپٹی آتھم درمیان میں دو دن بیمار ہو گئے۔ مباحثہ کے لئے ان کے پریذیڈنٹ مارٹن کلارک آئے اور انہوں نے کہا کہ میں محمدیؐ وحدانیت کو صحیح نہیں سمجھتا کیونکہ اسے تو ایک بچہ بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ لیکن ہماری (عیسائیوں) کی وحدانیت ایسی ہے جو کہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتی اور یہی صحیح وحدانیت ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ ایک مرتبہ ایک انگریز پادری کے ہاں گئے اورنوکر کو اندر یہ کہہ کر بھیجا کہ توحید فی التثلیث کی وضاحت کر جائیں۔ پادری صاحب نے جواب بھیجا کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جو کہ ایشیائی دماغ نہیں سمجھ سکتے۔ حضرت خلیفہ اول نے نوکر کو پھر اندر بھیجا کہ پادری صاحب سے پوچھ آؤ۔ حضرت عیسیٰ کہاں کے رہنے والے تھے۔ نوکر نے آ کر جواب دیا کہ پادری صاحب اس سوال پر خاموش رہے۔

غرض یہ ایسا عقیدہ ہے جو کہ بالکل سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اسی طرح آریوں میں نیوگ کا ایسا مسئلہ ہے جس پر عمل کرنے کے متعلق سوامی دیانند بہت زور دے گئے ہیں۔ لیکن تم کسی آریہ سے پوچھو کہ اس پر عمل کرتے ہو۔ تو وہ نفی میں جواب دے گا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ عقیدہ ہی ایسا ہے جس پر عمل کرنے کے لئے فطرت انسانی معذور و لاچار ہے۔

لیکن ان مذاہب کے برعکس کامل و اکمل دین اسلام کے کسی عقیدہ اور حکم کو لو۔ انسانی فطرت کے مطابق اور نہایت آسانی سے ہو جانے والا ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے جو کوئی بھی دین میں حد سے تجاوز کرے گا اس سے دین کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ لیکن دین اس شخص پر غالب آ جائے گا۔ مثلاً کوئی شخص ایک گھنٹہ روزانہ نماز تہجد میں خرچ کرتا ہے۔ اگر وہ چاہے کہ میں اس سے زیادہ عبادت کیا کروں تو وہ شخص چاہے کس قدر لمبی عبادت کرے تھک جائے گا۔ لیکن دین پھر ویسا کا ویسا ہی ہو گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادات ایسی اختیار کرنی چاہئیں جو آسانی سے ادا ہو سکیں۔

خداتعالیٰ کو عبادات کے ذریعہ خوش کرنے کے متعلق بھی دو معیار ہیں۔ ایک معیار اسلامی دوسرا غیر مذاہب کا۔ اسلام کا معیار یہ ہے کہ خدا کی اطاعت میں عبادات و احکام بجا لانا۔ غیر مذاہب والوں کا معیار یہ ہے کہ نفس کو جس قدر زیادہ سے زیادہ تکلیف میں ڈالا جا سکے ڈال کر خدا کوخوش کرنا۔ اب ہم فطرتِ انسانی کے ساتھ ان دونوں کا موازنہ کرتے ہیں۔

ہندوؤں میں جسم کو طرح طرح کی تکالیف میں مبتلا کر کے خدا کو خوش کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ مثلاً ساری ساری رات ایک ٹانگ پر کھڑے رہنا۔ سردیوں میں ساری رات پانی میں گزار دینا۔ گرمیوں میں سارا سارا دن دھوپ میں گزار دینا۔ مٹھی بھر جَو کھا کر چالیس دن بھوکے رہنے کا چلّا کاٹنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایسی عبادات ہیں جن کو ادا کر کے وہ خیال کرتے ہیں کہ خدا اس طرح خوش ہوتا ہے۔ حالانکہ ان کا یہ خیال اصلیت کے برعکس ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھ آئے گی کہ ایک شخص کے دو بیٹے ہیں۔ ایک نے باپ کوخوش کرنے کا یہ طریقہ سوچا کہ میں سارا دن دھوپ میں کھڑا رہوں گا لیکن دوسرا بیٹا باپ کے پاس رہا اور جو جو کام اس نے بتائے اس نے ان کو اطاعت کے ساتھ سرانجام دیا۔ بتاؤ کہ تم کس بیٹے کو فرمانبردار کہو گے۔ کیا اس کوجو دھوپ میں کھڑا رہا۔ یا دوسرے کو جس نے والد کے پاس رہ کر اس کی اطاعت کی۔

پس یہ امر ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کو تکلیف میں ڈالتا ہے وہ سخت غلطی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضامندی اسی میں ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ جب اس کاحکم ہو کھانا کھائے۔ جب حکم ہو عبادت کرے۔ جب حکم ہو سوئے وغیرہ وغیرہ۔ اسی لئے قرآن مجید ہماری راہنمائی کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے

اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ

(النساء:60)

خدا اور رسول کی اطاعت کرو

صوفیوں میں رواج ہے کہ رات کو نماز پڑھتے پڑھتے اگر اونگھ آ جائے تو رسہ لٹکا کر، ٹانگیں اوپر باندھ کر لٹک جاتے ہیں اور اس نماز کا نام انہوں نے «صلوٰۃ معکوس» رکھا ہے۔ ایسی عبادات خدا کو خوش کرنے کے خلاف ہیں۔ کیونکہ یہ عبادات اس کی اطاعت کے ماتحت ادا نہیں کی جاتیں۔

پس آسان اور صحیح دین دنیا میں صرف اور صرف اسلام ہی ہے۔ جس کے احکام و عقائد انسانی عقل کی سمجھ سے بالاتر نہیں۔ بلکہ آسانی سے عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔

حدیث میں آگے جا کر آسانی سے عبادات ادا کرنے کے طریقے اور اوقات بتائے گئے ہیں۔ فَسَدِّدُوْا سے مراد یہ ہے کہ حدود سے تجاوز نہ کرو۔ قَارِبُوْا سے مراد قریب قریب رہو اور خوشی سے عبادات بجا لاؤ اور صبح و شام دعا و ذکر سے خداتعالیٰ کی مدد طلب کرتے رہو۔ اسی طرح رات کے پچھلے پہر بھی۔ تا تمہیں قرب الٰہی حاصل ہو۔ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان قرآن مجید کے اس حکم کے مطابق ہے۔ وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًا۔ وَ مِنَ اللَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ وَ سَبِّحْہُ لَیْلًا طَوِیْلًا۔ (الدھر:26-27)

(ادارہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اپریل 2021