• 2 دسمبر, 2020

اخلاق سے مراد خدا کی رضا ہے

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں۔
’’مثلاً عقل ماری جاوے تو مجنون کہلاتا ہے۔ صرف ظاہری صورت سے ہی انسان کہلاتا ہے۔( کوئی پاگل ہو تو ظاہری صورت سے وہ انسان کہلاتا ہے۔ لیکن اس کی عقل بالکل نہیں ہے اور جو انسانوں میں عقل ہوتی ہے وہ اس سے عاری ہو جاتا ہے)‘‘ پس اخلاق سے مراد خداتعالیٰ کی رضا جوئی (اور وہ رضا جوئی کیا ہے؟) (جو رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی میں مجسم نظرآتا ہے) (اخلاق وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے وہ جو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں آپ کے ہر پہلو سے ہمیں نظر آتا ہے) کا حصول ہے(یہ ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ اخلاق سے مراد خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کا حصول ہے۔)‘‘ اس لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرزِ زندگی کے موافق اپنی زندگی بنانے کی کوشش کرے۔ یہ اخلاق بطور بنیاد کے ہیں۔ اگر وہ متزلزل رہے تو اس پر عمارت نہیں بناسکتے۔ اخلاق ایک اینٹ پر دوسری اینٹ کا رکھنا ہے۔ اگر ایک اینٹ ٹیڑھی ہو تو ساری دیوار ٹیڑھی رہتی ہے۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے

خِشتِ اوّل چوں نہد معمار کج
تا ثریّا مے رَوَد دیوار کج

(کہ اگر معمار پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی لگا دے تو اس سے بننے والی دیواریں جو ہیں وہ آسمان تک پھر ٹیڑھی ہی جائیں گی۔)‘‘

(خطبہ جمعہ 9جون 2017ء)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 افریقہ ڈائری نمبر 21، 07 مئی 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 مئی 2020