• 2 جون, 2020

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ایک متضرّعانہ دعا

’’اے میرے مالک میرے قادر خدا! میرے پیارے مولیٰ میرے رہنما! اے خالقِ ارض و سماء! اے متصرّفِ آب و ہوا! اے وہ خدا !جس نے آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک لاکھوں ہادیوں اور کروڑوں رہنماؤں کو دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجا۔ اے وہ علی و کبیر ! جس نے آنحضرت ؐ جیسا عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا۔ اے وہ رحمٰن! جس نے مسیح سا رہنما آنحضرت ؐ کے غلاموں میں پیدا کیا۔ اے نور کے پیدا کرنے والے ظلمات کے مٹانے والے ! تیرے حضور میں ہاں صرف تیرے ہی حضور میں مجھ سا ذلیل بندہ جھکتا اور عاجزی کرتا ہے کہ میری صدا سن اور قبول کر کیونکہ تیرے ہی وعدوں نے مجھے جرأت دلائی ہے کہ مَیں تیرے آگے کچھ عرض کر نے کی جرأت کروں۔ میں کچھ نہ تھا تُو نے مجھے بنایا۔ میں عدم میں تھا تُو مجھے وجود میں لایا۔ میری پرورش کیلئے اربعہ عناصربنائے اور میری خبر گیری کیلئے انسان کو پیدا کیا جب میں اپنی ضروریات کو بیان تک نہ کر سکتا تھا تُو نے مجھ پر وہ انسان مقرر کیے جو میری فکر خود کرتے تھے ۔ پھر مجھے ترقی دی اور میرے رزق کو وسیع کیا ۔ اے میری جان ! ہاں اے میری جان! تُو نے آدم کو میرا باپ بننے کا حکم دیا اور حوا کو میری ماں مقرر کیا اور اپنے غلاموں میں سے ایک غلام کو جو تیرے حضور عزت سے دیکھا جاتا تھا اس لیے مقرر کیا کہ وہ مجھ سے ناسمجھ اور نادان اور کم فہم انسان کیلئے تیرے دربار میں سفارش کرے اور تیرے رحم کو میرے لیے حاصل کرے۔ میں گناہ گار تھا تُو نے ستّاری سے کام لیا۔ میں خطا کار تھا تُو نے غفّاری سے کام لیا۔ ہر ایک تکلیف اور دکھ میں میرا ساتھ دیا۔ جب کبھی مجھ پر مصیبت پڑی تُو نے میری مدد کی اور جب کبھی میں گمراہ ہونے لگا تُو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ باوجود میری شرارتوں کے تُو نے میری چشم پوشی کی اور باوجود میرے دُور جانے کے تُو میرے قریب ہوا ۔ میں تیرے نام سے غافل تھا مگر تُو نے مجھے یاد رکھا۔ ان موقعوں پر جہاں والدین اور عزیز و اقرباء اور دوست و غمگسار مدد سے قاصر ہوتے ہیں تُو نے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھایا اور میری مدد کی۔ میں غمگین ہوا تو تُو نے مجھے خوش کیا ۔ میں افسردہ دل ہوا تو تُو نے مجھے شگفتہ کیا۔ میں رویا تو تُو نے مجھے ہنسایا۔ کوئی ہو گا جو فراق میں تڑپتا ہو مجھے تو تُو نے خود ہی چہرہ دکھایا۔ تُو نے مجھ سے وعدے کیے اور پورے کیے اور کبھی نہیں ہوا کہ تجھ سے اپنے اقراروں کے پورا کرنے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو۔ میں نے بھی تجھ سے وعدے کیے اور توڑے مگر تُو نے اس کا کچھ خیال نہیں کیا ۔ میں نہیں دیکھتا کہ مجھ سے زیادہ کوئی گناہ گار کوئی اور بھی ہو اور میں نہیں جانتا کہ مجھ سے زیادہ مہربان تُو کسی اور گناہ گار پر بھی ہو۔ تیرے جیسا شفیق وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔ جب میں تیرے حضور میں آکر گڑگڑایا اور زاری کی تُو نے میری آواز سنی اور قبول کی۔ میں نہیں جانتا کہ تُو نے کبھی میری اضطرار کی دعا رد کی ہو ۔ پس اے میرے خدا ! میں نہایت دردِ دل سے اور سچی تڑپ کے ساتھ تیرے حضور میں گرتا اور سجدہ کرتا ہوں کہ میری دعا کو سن اور میری پکار کو پہنچ۔ اے میرے قدوس خدا! میری قوم ہلاک ہو رہی ہے اسے ہلاکت سے بچا ۔ اگر وہ احمدی کہلاتے ہیں تو مجھے اُن سے کیا تعلق؟ جب تک اُن کے دل اور سینے صاف نہ ہوں اور وہ تیری محبت میں سرشار نہ ہوں مجھے اُن سے کیا غرض؟ سو اے میرے رب! اپنی صفاتِ رحمانیت اور رحیمیت کو جوش میں لا اور اُن کو پاک کر دے۔ صحابہ کا سا جوش و خروش اُن میں پیدا ہو اور وہ تیرے دین کیلئے بے قرار ہو جائیں۔ اُن کے اعمال اُن کے اقوال سے زیادہ عمدہ اور صاف ہوں۔ وہ تیرے پیارے چہرہ پر قربان ہوں اور نبی کریم ؐ پر فدا ۔ تیرے مسیح کی دعائیں اُن کے حق میں قبول ہوں اور اُس کی پاک اور سچی تعلیم اُن کے دلوں میں گھر کر جائے ۔ اے میرے خدا میری قوم کو تمام ابتلاؤں اور دکھوں سے بچا اور قسم قسم کی مصیبتوں سے اُنہیں محفوظ رکھ ۔ اُن میں بڑے بڑے بزرگ پیدا کر ۔ یہ ایک قوم ہو جائے جو تُو نے پسند کر لی ہے اور یہ ایک گروہ ہو جس کو تُو اپنے لیے مخصوص کرے ۔ شیطان کے تسلّط سے محفوظ رہیں اور ہمیشہ ملائکہ کا نزول اُن پر ہوتا رہے۔ اس قوم کو دین و دنیا میں مبارک کر مبارک کر۔ آمین ثمّ آمین یا ربّ العالمین۔‘‘

اس کے بعد میں اپنے لیے اپنے بھائیوں کیلئے اپنی والدہ کیلئے اپنی ہمشیروں کیلئے ، اپنے دوستوں کیلئے اور اُن لوگوں کیلئے جن کا نام نیچے لکھتا ہوں دعا کرتا ہوں اور نہایت عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ ہم کو دین و دنیا میں مبارک کر ، نیک کر، پاک کر ، اپنے لیے چُن لے ۔ ہدایت کا پھیلانے والا بنا ، اسلام کا خادم بنا اور صحت و پاک عمر عطا فرما ۔ ہم اسلام پر مریں اور تُو ہماری وفات کے وقت ہم پر خوش ہو اور ہماری عمر تیری ناراضگی سے پاک ہو ، پھر میں خاص طور پر خلیفۂ وقت کیلئے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے ربّ ! اُن کے علم و فضل میں ترقی دے ۔ اُن کو اپنے کام میں کامیاب کر اور ہر قسم کے دکھوں سے بچا ۔ اُن کی تدابیر میں برکت ڈال اور اُن راہوں پر چلا جو اسلام کی ہوں ۔


میری اس دعا کو اس جگہ نقل کرنے سے غرض یہ ہے کہ شاید کوئی نیک روح فائدہ اُٹھائے اور اس مبارک مہینہ میں خاص طور پر سے جماعت احمدیہ اور اسلام کی ترقی کیلئے دعاؤں میں لگ جائے ۔ میں آخر میں پھر اپنے احباب پر زور دیتا ہوں کہ اس وقت کو ضائع مت کرو ۔ رات کو خدا کے حضور چلااؤ اور دن کو صدقہ کرو ۔ یہ ایک ایسی تدبیر ہے کہ اگر تم میں سے ایک جماعت سچے دل سے ایسا کرنے والی نکل آئے تو خدا اپنے پاک کلام میں کامیابی کا وعدہ دیتا ہے ۔ پس کون بدبخت ہے جس کو خدا کے وعدے پر اعتبار نہ ہو ؟ خدا کرے کہ ہم لوگوں میں وحدت پیدا ہو اور ہم کو نیک اعمال اور دعاؤں کی توفیق ملے اور ظلمت کے دن دُور ہو کر اسلام کا نورانی چہرہ دنیا پر ظاہر ہو۔ آمین یا ربّ العالمین

پچھلا پڑھیں

Covid-19 افریقہ ڈائری نمبر 21، 07 مئی 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 مئی 2020