• 20 جون, 2021

نبوّت اور امامت

’’قرآن شریف میں جو یہ آیت آئی ہے اَ فَلَا یَنْظُرُ وْ نَ اِ لَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ (الغاشیہ: 18)۔ یہ آیت نبوّت اور امامت کے مسئلہ کو حل کرنے کے واسطے بڑی معاون ہے۔ اونٹ کے عربی زبان میں ہزار کے قریب نام ہیں اور پھر ان ناموں میں سے اِبِل کے لفظ کو جو لیا گیا ہے اس میں کیا سرّ ہے؟ کیوں اِلَی الْجَمَل بھی تو ہو سکتا تھا؟‘‘

اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جَمَل ایک اونٹ کو کہتے ہیں اور اِبِل اسم جمع ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کو چونکہ تمدّنی اور اجمالی حالت کا دکھانا مقصود تھا اور جَمَل میں جو ایک اونٹ پر بولا جاتا ہے یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا تھا اسی لئے اِبِل کے لفظ کو پسند فرمایا۔ اونٹوں میں ایک دوسرے کی پیروی اور اطاعت کی قوّت ہے۔ دیکھو اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے اور وہ کس طرح پر اس اونٹ کے پیچھے ایک خاص انداز اور رفتار سے چلتے ہیں اور وہ اونٹ جو سب سے پہلے بطور امام اور پیشرَو کے ہوتا ہے وہ ہوتا ہے جو بڑا تجربہ کار اور راستہ سے واقف ہو۔ پھر سب اونٹ ایک دوسرے کے پیچھے برابر رفتار سے چلتے ہیں اور ان میں سے کسی کے دل میں برابر چلنے کی ہوس پیدا نہیں ہوتی جو دوسرے جانوروں میں ہے۔ جیسے گھوڑے وغیرہ میں۔ گویا اونٹ کی سرشت میں اِتّباع امام کا مسئلہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اَ فَلَا یَنْظُرُ وْنَ اِ لَی الْاِبِلِ کہہ کر اس مجموعی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے جبکہ اونٹ ایک قطار میں جارہے ہوں۔ اسی طرح پر ضروری ہے کہ تمدّنی اور اتحادی حالت کو قائم رکھنے کے واسطے ایک امام ہو۔

پھر یہ بھی یاد رہے کہ یہ قطار سفر کے وقت ہوتی ہے۔ پس دنیا کے سفر کو قطع کرنے کے واسطے جب تک ایک امام نہ ہو انسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے۔ پھر اونٹ زیادہ بارکش اور زیادہ چلنے والا ہے۔ اس سے صبر و برداشت کا سبق ملتا ہے۔ پھر اونٹ کا خاصہ ہے کہ وہ لمبے سفروں میں کئی کئی دنوں کا پانی جمع رکھتا ہے۔ غافل نہیں ہوتا۔ پس مومن کو بھی ہر وقت اپنے سفر کے لئے تیار اور محتاط رہنا چاہئے اور بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔

اُنْظُر کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھنا بچوں کی طرح نہیں ہے بلکہ اس سے اتّباع کا سبق ملتا ہے کہ جس طرح پر اونٹ میں تمدّنی اور اتّحادی حالت کو دکھایا گیا ہے اور ان میں اتّباع امام کی قوت ہے۔ اسی طرح پر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اتّباع امام کو اپنا شعار بناوے۔ کیونکہ اونٹ جو اس کے خادم ہیں ان میں بھی یہ مادہ موجود ہے۔ کَیْفَ خُلِقَتْ میں ان فوائد جامع کی طرف اشارہ ہے جو اِبِلکی مجموعی حالت سے پہنچتے ہیں‘‘۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ393-394 ایڈیشن 1988)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جون 2021