• 5 اگست, 2021

حضرت منشی نور محمد صاحبؓ

تعارف صحابہ کرام ؓ
حضرت منشی نور محمد صاحب رضی اللہ عنہ۔ کوئٹہ

حضرت منشی نور محمد صاحب رضی اللہ عنہ ولد منشی فتح محمد صاحب پنشنر تحصیلدار موضع جلہن ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ اپنی ملازمت کے سلسلے میں گلگت، قلات وغیرہ مختلف جگہوں پر رہے جس کے بعد قادیان آگئے اور نظارت بیت المال قادیان میں خدمات بجا لاتے رہے۔ آپ نے 1901ء میں قادیان حاضر ہوکر حضرت اقدس علیہ السلام کی بیعت کا شرف پالیا تھا لیکن بیعت کی توفیق 6؍جنوری 1906ء کو پائی۔ بیعت کرنے پر اوروں کے علاوہ اپنے والد صاحب کی سختیاں برداشت کیں لیکن احمدیت پر مضبوطی سے قائم رہے اور والد صاحب سے حسن سلوک میں بھی فرق نہ آنے دیا۔آپ قبول احمدیت کے متعلق بیان کرتے ہیں:
’’میں 4؍ جون 1901ء میں پولیٹیکل ایڈوائزر قلات کے دفتر میں بمقام کوئٹہ ملازم تھا۔ وہاں قاضی نظیر حسین صاحب سرشتہ دار تھے ان کے ہمراہ مَیں 22 ؍ دسمبر1901ء کو دارالامان میں آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس روز الہام ہوا تھا کہ قدیمان خودرا بیفزا قدراور یہ الہام ہر احمدی کی زبان پر جاری تھا۔ میری عمر اس وقت 20سال کی تھی اور اس وقت سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب میرے واقف ہیں میں چونکہ اس وقت مخالفت سے ڈرتا تھا اور یہ بھی خیال تھا میری شادی میں روک واقع ہو جاوے گی اس لئے بغیر بیعت کئے واپس چلا گیا۔ سال 1905ء کے جلسہ پر پھر میں مع اپنی بیوی مسماۃ اللہ بی بی اور اپنی ہمشیرہ مسماۃ نور بی بی کے حاضر ہوا۔ بٹالہ سے جب روانہ ہوئے تو گڈوں پر سامان اور عورتوں کو سوار کیا اور خود پیدل روانہ ہوئے۔ اس وقت قدرت خدا کی ہمارے تین دوست (1) چوہدری کریم بخش صاحب نمبردار رائے پور ریاست نابھہ خسر مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری پٹیالہ کے اور ایک (2) مولوی عبدالعزیز صاحب سکنہ پٹیالہ ریاست پٹیالہ خسر ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب ضلع جالندھر کے تھے۔ (3) سراج الحق صاحب سکنہ پٹیالہ ریاست پٹیالہ (4) مولوی عمر الدین صاحب سکنہ صریح ضلع جالندھر جو ہمارے خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب ناظر امور و خارجہ کے والد ہیں۔ رات کے 2:30 بجے دارالامان پہنچے۔ جلسہ پر صرف تقریر حضرت اقدس و حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقاریر ہوئیں۔ اس موقع پر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بھائی بھائی میں فرق ہو گا مگر احمدی احمدی میں کوئی فرق نہیں ۔ 6؍ جنوری 1906ء کو گول کمرہ میں بیعت سے مشرف ہوا۔ میری بیوی اور ہمشیرہ کے لئے حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے ایک چھوٹا سا کمرہ علیحدہ جس کا ایک دروازہ اندر کی طرف اور دوسرا دروازہ باہر گلی کی طرف جہاں اب حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد کا مکان ہے کھلتا تھا۔ ہمار ی رہائش کا انتظام کیا۔ ڈاکٹر حکیم احمد حسین صاحب لائل پوری کو متعلق نگرانی و ضروریات مہیا کرنے کے لئے کہہ دیا گیا تھا۔ 7؍ جنوری 1906ء کو مع عیال خود واپس بلوچستان چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر جب میرے استاد مولوی محمد صاحب امام مسجد اہل حدیث نے سنا تو مجھ کو طلب کیا اور کہا کہ مرزا صاحب کتابوں میں تو اچھا لکھتے ہیں مگر درپردہ تلقین کچھ اور کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت اقدس کے حضور عرض کیا گیا تو حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی قلم سے جواب ملا کہ ہماری تلقین دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے اور نبی کریم ﷺ کے قول اورفعل پر کمی یا زیادتی کرنے والا لعنتی ہے۔ یہ جواب جب مولوی صاحب کو دکھایا گیا تو اس نے صرف یہ کہا کہ سناؤ تم کو بھی کوئی الہام ہوا ہے یا نہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اخبار میں یہ پڑھ کر کہ لوگوں کو ہمارے متعلق خدا سے پوچھنا چاہئے تو میں نے دعا کی تھی اور مجھے الہام ہوا تھا کہ صادق ہے قبول کر لو۔ تو اس نے یہ سن کر کہا کہ بس اس الہام پر ایمان لے آئے مگر الہام تو شیطانی بھی ہوتا ہے اور روحانی بھی۔ اگر الہام ہی پر بیعت کی بنا ہے تو پھر بہتوں کو الہام ہوا ہے کہ مرزا جھوٹا ہے۔ میں نے یہ بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھ دیا۔ تو جواب ملا کہ ملہم کو اپنی حالت پر غور کرنا چاہئے کہ وہ شیطان کے پھندے میں گرفتار ہے یا رحمٰن کے فضل کا جاذب بن رہا ہے۔ اگر وہ خبیث ہے تو اس کا الہام بھی ایسا ہی ہو گا اور یہ کہ ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ ہمارے ساتھ لگنے والا اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد میں جدھر جاتا، بازار میں چلتا بلکہ دفتر کے اندر باہر مجھے چڑانے کے لئے لوگ آوازے کستے اور چپڑاسی کو کہتے کہ جاؤ حقہ موعود لے آؤ اور یہ کہ بلی موعود کو مارو۔ کاغذ موعود لے آؤ وغیرہ وغیرہ۔ میری اس وقت کی دعائیں یہ ہوتی تھیں کہ اے مولیٰ کریم حضرت مسیح موعود کے طفیل میری فلانی دعا قبول فرما اور ہر اتوار کو حضرت اقدس کے حضور عریضہ لکھ دیا کرتا۔ چنانچہ ایک دعا میری یہ تھی کہ بہ طفیل حضرت صاحب کوئٹہ سے ترقی پر میری تبدیلی فرما کیونکہ میرا افسر خان بہادر محمد جلال الدین سی آئی ای پولٹیکل ایڈوائزر قلات تھا اور وہ بھی احمدیت کا سخت مخالف تھا۔ تین روز نہ گزرے تھے کہ میں مستوفی صاحب لاہڑی کا سررشتہ دار ہو کر تبدیل کیا گیا۔ وہاں پہنچتے ہی جب میں نے دیکھا کہ میں تنہا ہوں تو حضرت صاحب کے حضور روزانہ دعا کے لئے ایک کارڈ لکھنا شروع کیا ۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہاں 12 آدمی ایک سال کے اندر اندر احمدی بنائے اور اس کثرت سے مجھ پر الہامات کا دروازہ کھلا کہ کوئی رات نہ جاتی تھی کہ کوئی نہ کوئی الہام نہ ہوتا۔ چنانچہ ایک شادی خاں نامی قصاب تھا اس کو میاں گل صاحب کٹھ پار کے رہنے والا تھا اور تمام سرداران بلوچ اس کے مرید تھے وہ میرے پاس آیا اور سمجھایا اور جواب سن کر اس نے حکم دیا کہ شادی خاں کا گوشت پھینک دو۔ جو احمدی ہے اس کو مارو۔ چنانچہ وحشی مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا اور مقدمہ ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر سبی بلوچستان کے حضور داد رسی کی درخواست دی گئی تو مقدمہ دائر کرنے کے بعد مجھ کو الہام ہوا کہ شادی خاں کا مکان بچایا جاوے گا۔ میں نے سب دوستوں کو اس سے اطلاع دی کہ سب مع بال بچوں کے جو تعداد میں 36 کس تھے سب شادی خاں کے مکان میں چلے جاؤ۔ چنانچہ سب چلے گئے۔ نتیجہ کا انتظار تھا کہ شادی خاں نے آدھی رات کے وقت کہا کہ میں ایک بڑے دربار میں طلب کیا گیا وہاںایک شخص بڑی شان و شوکت سے خیمہ لگائے تخت پر بیٹھا ہے اس کے اردگرد اس امت کے اولیاء بیٹھے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام دروازہ پر کھڑے میرا انتظار کر رہے ہیں۔ میں نے جب پوچھا تو اس وقت میرے سر سے خون بہہ رہا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ہاتھ میری ٹھوڑی پر اور دوسرے سے سر کو پکڑ کر اس تخت کے پاس لے گئے اور عرض کی کہ جب میرے مریدوں کا یہ حال ہو تو میں کیا کروں تخت والے نے آواز دی کہ کوئی ہے۔ ایک بڑا جرنیل کہ تمغے اس کے لگے ہوئے ہیں۔ حاضر ہوا۔ اس کو حکم ہوا کہ شادی خاں کے ساتھ جاؤ۔ چنانچہ میں آگے ہوں میرے پیچھے جرنیل اور اس کے پیچھے فوج ہے۔ اس شہر میں داخل ہو گئی ہے اب میں مقدمہ کرنا نہیں چاہتا۔ میرا بدلہ خدا خود لے گا۔ چنانچہ اس کے بعد پانی کا طوفان عظیم آیا ہے اور شہر کے بیرونی حصہ کو غرق کر دیا۔ صرف شادی خاں کا مکان بچ گیا۔ اس وقت وہاں کے ساہوکاروں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور دعا کے لئے عریضے بھیجے اور اس میں جماعت کی بے کسی اور مسلمانوں کے مظالم کی شکایت کی۔ اس کے جواب میں حضور کا یہ آخری پیغام مجھے پہنچا کہ مومن کے ساتھ خدا ہوتا ہے اور صبر کی تلقین کی۔ اس کے بعد حضرت اقدس کا وصال ہو گیا اور اس وقت کے مناسب حال پھر مجھے الہام ہوا کہ چار روز انتظار کرو۔ مگر میرا یہ خط اس وقت پہنچا جب حضرت صاحب رخصت ہو چکے تھے اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تھے۔

نوٹ:۔ حضرت اقدس کے وصال کے ایک سال بعد سرداران بلوچستان کے پیر کی درخواست پر کہ نور محمد سررشتہ دار کو فوراً یہاں سے نکال دیا جاوے۔ ورنہ وہ قتل کیا جاوے گا مجکو بلوچستان سے نکالا گیا اور سرٹیفکیٹ دیا گیا اس میں لکھا ہے کہ اس کا چال چلن اچھا تھا مگر احمدی ہونے کی وجہ سے ملازمت سے علیٰحدہ کیا گیا۔ انگریزی الفاظ یہ تھے :

His Conduct was good but his services were dispensed as he was from the Qadiani sect

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر5 صفحہ72، 73۔ رجسٹر روایات صحابہ نمبر7 صفحہ433 تا 435)

آپ کے والد صاحب محترم منشی فتح محمد صاحب سابق تحصیلدار مستونگ بلوچستان ریٹائرمنٹ کے بعد موضع موچی پورہ ڈاکخانہ کہروڑ پکا ضلع ملتان میں مقیم تھے چنانچہ انہوں نے بھی بالآخر 11؍نومبر 1921ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق پائی۔ بیعت کے بعد حضورؓ نے حضرت منشی نور محمد صاحبؓ سے دریافت فرمایا: ’’آپ نے تو کوئٹہ میں بیعت کی تھی۔ منشی صاحب نے عرض کیا مَیں نے 1906ء میں کوئٹہ میں ہی بیعت کی تھی۔ تحصیلدار صاحب نے عرض کیا کہ جب انہوں نے بیعت کی تھی، اُس وقت ان کے داڑھی بھی نہیں آئی تھی۔ اس وقت اور لوگوں کی مخالفت اور میری شدید سختی کے باوجود یہ ذرا پیچھے نہیں ہٹے، میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح سختیوں کو برداشت کر کے قائم رہنے والا کوئی کوئی ہی ہوگااور کہا کہ یہ میری سعادت اور خوش قسمتی ہے کہ میں اس سلسلہ میں آج داخل ہوا اور میں اپنے اس لڑکے سے ان سختیوں کی معافی مانگتا ہوں جو مَیں نے اُس وقت کی تھیں جب اس نے بیعت کی تھی۔‘‘

(الفضل یکم دسمبر 1921ء صفحہ6)

1909ء میں جبکہ آپ بلوچستان کے علاقے بھاگ میں متعین تھے، زلزلہ آیا ،زلزلہ کے متعلق آپ کا خط محررہ 23؍اکتوبر 1909ء اخبار بدر 4؍نومبر 1909ء صفحہ2 پر شائع شدہ ہے جس کے آخر پر آپ کا نام ’’خادم بندہ نور محمد سر رشتہ دار مستوفی صاحب بہادر لاہڑی براستہ بیل پٹ بلوچستان‘‘ درج ہے۔ کچھ دنوں بعد پھر آپ نے ایک خط حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی خدمت میں لکھا جس میں زلزلہ کے حالات درج کرتے ہوئے لکھا :
’’….. کمترین کا خیال تھا کہ شاید لوگ اپنی کچھ اصلاح کریں مگر وہ مخالفت میں اور بڑھ گئے ہیں۔ اب میری تبدیلی کی نسبت رعایا نے چند معاندین کی ترغیب سے حکام کو درخواست دی ہے ….. میرے افسر نے مگر بہت انصاف سے کام لیا ہے اور رپورٹ کی ہے کہ نور محمد جیسا دیانتدار اور غریب مزاج میں نے اپنی تمام سروس میں نہیں دیکھا ….‘‘

(بدر 23؍دسمبر 1909ء صفحہ2)

اصحاب احمد جلد سوم میں بھی زلزلہ کے حوالے سے آپ کا ذکر بیان ہوا ہے۔

خلافت اولیٰ کے زمانے میں ہی آپ حضور انور کی اجازت سے قادیان آگئے اور نظارت بیت المال میں لمبا عرصہ بطور ہیڈ کلرک خدمت کی توفیق پائی۔ قادیان میں آپ کی رہائش محلہ دار الفتوح میں تھی۔ پاکستان بننے کے بعد پھر کوئٹہ چلے گئے اور گورنر بلوچستان کے دفتر میں لائبریرین لگ گئے۔ آپ نے 24؍اگست 1961ء کو کوئٹہ میں وفات پائی اور بوجہ موصی (وصیت نمبر 323) ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔ آپ کی بھانجی محترمہ ناصرہ بیگم صاحبہ (وفات: 8؍نومبر 2003ء) اہلیہ محترم مسعود احمد خورشید سنوری صاحب آپ کے متعلق ایک مضمون میں لکھتی ہیں:
’’حضرت ماموں جان قصبہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے ….آپ نے میٹرک تک تعلیم پائی اور منشی فاضل کیا۔ آپ کو فارسی کے علاوہ عربی پر بھی عبور حاصل تھا۔ آپ نے گلگت جاکر وہاں ملازمت کی اور محترم حضرت خان بہادر غلام محمد صاحب کے ماتحت ملازم ہوئے ….. آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی اور آپ کو یتیموں اور بیواؤں کی خدمت کا بڑا شوق تھا اور ہمیشہ یتیموں کی پرورش کر کے خوشی محسوس کرتے تھے …. آپ نے اولاد کی خاطر یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں مگر ہم نے دیکھا کہ انصاف آپ پر ختم تھا۔ میں اور میرا بھائی عبدالحئی بھی والدین کے فوت ہونے پر آپ کے پاس رہتے تھے، خدا جانتا ہے کہ آپ نے ہمیں کبھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ ہمارے والدین نہیں ہیں۔ ہم دونوں بہن بھائی کی شادیاں بھی آپ نے کیں …. آپ نماز روزے کے بہت پابند تھے، وقت پر نماز ادا کرتے اور تہجد بہت پابندی سے اور خاموشی سے ادا کرتے ….‘‘

آپ کی اہلیہ محترمہ الٰہ بی بی صاحبہ اور محترمہ اختر النساء صاحبہ (وفات: یکم جون 1978ء) بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔

(نوٹ: آپ کی تصویر محترم منیر احمد صاحب بریمپٹن، ٹورانٹو نے مہیا کی ہے۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ۔)

(غلام مصباح بلوچ۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جولائی 2021