• 20 ستمبر, 2020

آٹھویں صدی کے مجدد حضرت علامہ ابن حجر عسقلانیؒ

نام و نسب

آپ کا نام احمد بن علی، کنیت ابوالفضل اور لقب شہاب الدین تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے: احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن محمود بن احمد۔

آپ کے والد محترم کی کنیت ابو الحسن اور لقب نور الدین، آپ کے دادا کی کنیت ابوالقاسم اور لقب قطب الدین، پڑدادا کا لقب ناصر الدین اور دادا کے دادا کا لقب جلال الدین تھا۔ آپ کا تعلق فلسطین کے شامی ساحل پر واقع شہر عسقلان کے کنانی قبیلہ سے تھا اس لیے آپ علامہ ابن حجر عسقلانی کہلاتے ہیں۔

پیدائش

علامہ ابن حجرکے والد محترم بھی ایک فاضل عالم تھے۔ آپ کا ایک بھائی جو علم فقہ پڑھتا تھا اس کی عنفوان شباب میں وفات ہوگئی جس کا آپ کے والد محترم کو بہت گہرا صدمہ ہوا اور وہ شدید غمگین رہتے۔ ایک دن وہ ایک بزرگ شیخ یحی صنافیری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ مسئلہ بیان کیا تو انہوں نے علامہ ابن حجر کے والد محترم کو بشارت دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک جانشین بیٹا عطا فرمائے گا جو لمبی عمر پائے گا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ شیخ یحییٰ صنافیریؒ نے آپ کے والد محترم کو فرمایا
’’تمہاری نسل سے ایک ایسا عالم ظاہر ہوگا جو زمین کو علم سے بھر دے گا۔ پھر کہا کوئی ولی اللہ اس وقت تک اللہ کا دوست نہیں ہوسکتا جب تک وہ لوح محفوظ میں جو ہے وہ نہ جان لے (یعنی اللہ تعالیٰ اسے لوح محفوظ کے بارہ میں مطلع نہ کر دے) نیز اسے ولایت دی جائے اور پھر معزول کیا جائے گا اور دنیا اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ کی طرح ہوگی۔‘‘

شیخ صنافیری توعلامہ ابن حجر کی پیدائش سے ایک سال قبل وفات پاگئے لیکن اس پیشگوئی کے بعد 22 شعبان 773 ہجری کو مصر میں دریائے نیل کے کنارے علامہ ابن حجر کی پیدائش ہوئی۔

(الجواہر والدرر للسخاوی جزء1 صفحہ104-105)

اہل علم خاندان

علامہ ابن حجر ایک علم دوست خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے پڑدادا ناصر الدین ایک فاضل عالم تھے۔ اسی طرح آپ کے دادا بھی علماء میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کے والد کے چچا فخر الدین ابن بزار اپنے زمانہ کے معروف فقیہ اور ثغر کے مفتی تھے۔ علامہ ابن حجر کے والد محترم نور الدین فقہ اور عربی ادب کے ماہر تھے۔ آپ کے کئی دیوان تھے جن میں سے ایک دیوان الحرم جو رسول اللہﷺ اور مکہ مکرمہ کی مدح میں لکھا، معروف ہے۔ آپ ایک بااخلاق انسان تھے۔ اسی طرح آپ کے ایک بھائی بھی ماہر فقہ اور ایک بہن عالمہ تھیں۔

(الجواہر والدرر للسخاوی جزء1 صفحہ107)

ایام طفولیت اور ابتدائی تعلیم

علامہ ابن حجر کے والد محترم رجب 777ھ میں جبکہ آپ کی عمر صرف چار سال تھی، وفات پاگئے۔ آپ کی والدہ محترمہ بھی آپ کے عہد طفولیت میں وفات پاگئیں۔ اس طرح آپ نے یتیمی کی حالت میں نشوونما پائی۔ خواجہ زکی الدین ابو بکر الخروبی آپ کے کفیل مقرر ہوئے۔ آپ پانچ سال کی عمر کے بعد مدرسہ میں داخل ہوئے۔

(المنهل الصافي والمستوفى بعد الوافي جزء2 صفحہ17)

علامہ شمس الدین ابن العلاف، شمس الدین اطروش سے آپ نے پڑھنا شروع کیا لیکن حفظ قرآن آپ نے نوسال کی عمر میں مشہور فقیہ اور شارح مختصر التبریزی علامہ صدر الدین محمد السفطی المقری سے کیا۔

سفر مکہ اور حج بیت اللہ

علامہ ابن حجر جب بارہ سال کے ہوئے تو اپنے سرپرست خواجہ زکی الدین ابوبکر الخروبی کے ساتھ مکہ جاکر حج کیا اور وہاں شیخ عفیف الدین عبد اللہ بن محمد بن محمد سے صحیح بخاری پڑھی اور عبور حاصل کیا۔ آپ جس مکان میں بخاری کا درس سنتے تھے وہ باب صفا کے پاس تھا اور اس گھر کی کھڑکی سے مسجد حرام کا نظارہ ہوتا تھا اور دیکھا جاسکتا تھا کہ کون خانہ کعبہ اور رکن اسود میں بیٹھتا ہے۔ قاری اور مسمع (سننے والا) دونوں اس کھڑکی کے پاس بیٹھتے تھے۔

(الجواہر والدرر للسخاوی جزء1 صفحہ122)

مصر میں آمد

786ھ میں آپ واپس مصر آگئے اور متعدد علوم کی کتب کو حفظ کیا جن میں العمدة، الحاوی الصغیر، مختصر ابن الحاجب الاصلی، الملحة للحریری وغیرہ شامل ہیں۔

(البدر الطالع و ابن حجر صفحہ88)

سریع الحفظ

اللہ تعالیٰ نے علامہ ابن حجر کو غیر معمولی قوت حفظ سے نوازا تھا۔ آپ نے سورة مریم ایک دن میں حفظ کی۔ کتاب الحاوی الصغیر چند ایام میں حفظ کی ۔اس بارہ میں علامہ سخاوی لکھتے ہیں کہ علامہ ابن حجر نے پہلے کچھ ایام میں اس کتاب کے صفحات درست کیے دوسری دفعہ اس کتاب کو غور سے پڑھا اور تیسری دفعہ اسے حفظ کرلیا۔ علامہ ابن حجر بچوں کی طرح حفظ نہیں کیا کرتے تھے بلکہ کتاب کی عبارت کا بغور مطالعہ کرکے پھر اس کو حفظ کیا کرتے تھے۔

(الجواہر والدرر للسخاوی جزء1 صفحہ122)

تحصیل علم اور اساتذہ

علامہ ابن حجر نے علم تجوید قرآن علامہ شہاب احمد خیوطی اور علامہ تنوخی سے حاصل کیااور کتاب عمدة الاحکام للحافظ عبد الغنی بارہ سال کی عمر میں مکہ میں قاضی حافظ جمال الدین سے پڑھی اور اس کی روایات پر تحقیق کی۔ اس طرح آپ اس کتاب کی احادیث پر بحث کرنے والے پہلے عالم بنے۔ علم السنن کی تحصیل علامہ سلیمان بن عبد الناصر بشیطی سے کی۔ علامہ شمس الدین محمد بن علی سے فقہ، اصول فقہ، عربی، حساب وغیرہ کا درس لیا۔ علامہ نجم الدین ابو محمد کی مسند سنی اور علامہ حافظ جمال الدین ابو حامدسےصحیح بخاری پڑھی۔ 792ھ میں علامہ ابن حجر نے فنون الادب سیکھےاور اپنے ہم عصروں میں ممتاز ہوئے۔ آپ نعتیہ اشعار کہا کرتے تھے اور اپنے والد محترم کی طرح مکہ و مدینہ اور رسول اللہﷺ کی مدح میں شعر لکھتے تھے۔

(الجواہر والدرر للسخاوی جزء1 صفحہ126)

تحصیل علوم حدیث

793ھ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے دل میں علم حدیث کے حصول کی محبت ڈال دی گئی اور آپ نے اپنی پوری توجہ اس طرف کردی۔ اس زمانہ کے مشہور عالم علامہ زین الدین العراقی سے دس سال زانوائے تلمذ تہہ کیا اور ان سے ’’الالفیة‘‘ اور اس کی شرح پڑھی اور اس پر تحقیق کی۔ اس طرح علامہ ابن حجر محدث بنے۔ اور انہوں نے ہی علامہ ابن حجر کو علوم حدیث کی تدریس کی اجازت دی۔ آپ کی قابلیت کی بناء پر علامہ زین الدین عراقی نے آپ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ چنانچہ علامہ سیوطی لکھتے ہیں کہ ’’جب علامہ زین الدین کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بعد کون آپ کا جانشین ہوگا؟ تو انہوں نے کہا کہ ابن حجر اس کے بعد میرا بیٹا ابو زرعة اور اس کے بعد ہیثمی۔‘‘

(ذيل طبقات الحفاظ للسيوطي صفحہ 251)

تحصیل علم فقہ وعلم النحو

علم فقہ آپ نے ابن قطان اور علامہ برہان الدین ابراہیم ابناسی سے سیکھا۔ اسی طرح علامہ سراج الدین ابو حفص بلقینی سے بھی ایک مدت تک فقہی علوم حاصل کیےاور الروضة ان سے پڑھی۔ علم فقہ اور علم العربیة امام نور الدین علی بن احمد الادمی سے پڑھی۔ علامہ ابن حجر کے فقہ کے پہلے استاد ابن قطان اور ادمی تھے ۔پھر ابناسی اور ابن ملقن ہوئے۔ان کے بعد بلقینی سے فقہ سیکھی۔ علم النحو ابو الفرج الغزی اور ابو عبد اللہ المرسی وغیرہ سے حاصل کیا۔

علامہ ابن حجر عسقلانی نے 25 سال کی عمر تک متعدد شیوخ سے اتنے علوم حاصل کرلیے جو ان کے ہم عصروں میں سے کسی نے اس عمر میں نہ کیے تھے۔ آپ نے علوم قرآن و تفسیر، فقہ، لغت، ادب، تاریخ، حدیث، نحو اور دیگر علوم نقلیہ و عقلیہ حاصل کیے اور ان علوم کے ماہرین و متخصصین سے انہیں اخذ کیا۔ علامہ ابن حجر خود فرماتے ہیں کہ میں نے پندرہ ایسے علوم سیکھے ہیں جن کے نام اس دور کے علماء بھی نہیں جانتے تھے۔

( الجواهر والدرر للسخاوی جزء1 صفحہ140)

مختلف اسفار

علامہ ابن حجر نے تحصیل علم کے لیے متعدد اسفار کیے۔ 793ھ میں قوص کی طرف سفر کیالیکن وہاں سے علم حدیث کے سلسلہ میں زیادہ استفادہ نہ کرسکے البتہ دیگر کئی علماء سے ملے جن میں قاضی نور الدین وغیرہ شامل ہیں۔

797ھ میں اسکندریہ کی طرف کوچ کیاوہاں علامہ شمس الدین ابن الجزری وغیرہ سے ملاقات کی۔ پھر مصر واپس آگئے اور 22 شوال 799ھ کوسمندری راستہ سے ارض حجاز کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں ساحل طور پر علامہ نجم الدین ابو علی محمد سے احادیث اخذ کیں۔ پھر یمن پہنچے اور وہاں علامہ جار اللہ بن صالح شیبانی سے ترمذی کی احادیث پڑھیں۔

( الجواهر والدرر للسخاوی جزء1صفحہ145-148)

زبید اور وادی الحصیب میں مشہورلغوی علامہ قاضی مجد الدین ابو طاہر فیروزآبادی سے ملاقات کی اور ان سے متعدد علوم سیکھے۔ علامہ مجدالدین نے آپ کو اپنی نصف ثانی تصنیف ’’قاموس المحیط‘‘ بھی تحفةً عنایت کی۔ بالآخر800ھ میں آپ مکہ پہنچے اور حج کا فریضہ ادا کیا۔ اس کے بعددوبارہ یمن تشریف لے گئے۔ آپ جس کشتی پر سوار تھے وہ پھٹ گئی اور آپ کا تمام مال و متاع اور کتب وغیرہ ڈوب گئیں لیکن آپ نے اتنا علمی سرمایہ کھوجانے پر بھی ہمت نہ ہاری۔ ان غرق شدہ تصانیف میں اطراف المزی، اطراف مسند احمد، اطراف المختارة، ترتیب، مسندی الطیالسی و عبد وغیرہ شامل ہیں۔ علامہ ابن حجر فرمایا کرتے تھے کہ ان کا غرق ہونا بھی اللہ کے حکم سے تھا اور وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔

( الجواهر والدرر للسخاوی جزء1 صفحہ151)

802ھ میں آپ نے شام کا سفر کیا اور سریاقوس، قطیہ، غزہ، نابلس، رملہ، بیت المقدس، خلیل، صالحیہ، دمشق وغیرہ میں جاکر علوم حدیث حاصل کیے۔ 836ھ میں حلب کا سفر کیا۔ اس دوران آپ نے متعدد علماء و فقہاء سے اکتساب فیض کیا۔

تلامذہ

علامہ ابن حجر کی علمی قابلیت کی بناء پر انہیں علماء نے متفقہ طور پر ’’حافظ الاسلام‘‘ اور ’’امیر المومنین فی الحدیث‘‘ قرار دیا۔ آپ اسماء الرجال اور معرفة علل حدیث کے بارہ میں بخوبی علم رکھتے تھے۔

( المنهل الصافي والمستوفى بعد الوافي لابن تغري بردي، جزء2صفحہ19)

آپ کی علمی شہرت کی وجہ سے طلباء امڈ امڈ کر آپ کے پاس آتے تھے کہ آپ کے علم سے فیضیاب ہوسکیں۔ آپ کے شاگرد رشید علامہ سخاوی نے اپنی کتاب الجواہر والدرر میں ان تلامذہ کے نام تحریر فرمائے ہیں اور لکھا ہے کہ آپ کے شاگردوں کی تعداد 626 سے بھی زائد تھی۔

(الجواهر والدرر جزء3 صفحہ1064- 1179)

یہ طلباء مکی، شیرازی، ہروی، غرناطی، بغدادی، شامی، مری اور مختلف بلاد سے تعلق رکھنے والے تھے اور مختلف فقہی مسالک حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی وغیرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ خود علامہ ابن حجر عسقلانی کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ شافعی المذہب تھے۔

آپ کے معروف شاگردوں میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں ابن قاضی شھبة، ابن فہد مکی، ابن تغری بردی، محمد الکافیجی حنفی اور علامہ شمس الدین سخاوی وغیرہ

(ابن حجر العسقلاني مصنفاته ودراسة في منهجه وموارده في كتابه الإصابة، جزء1صفحہ107- 108)

تجدیدی کارنامے و اہم خدمات

آٹھویں صدی ہجری میں بادشاہوں اور ان کے احکام اور لوگوں کی حالت دگرگوں تھی اور اکثریت اسلامی تعلیمات سے ہٹ چکی تھی۔ اس پر آشوب زمانہ میں علامہ ابن حجر اصلاح دین کے لیے ہمیشہ مستعد رہتے تھے۔ تجدید اسلام کے لیے آپ مخالف اسلام تحریکات کے خلاف کھڑے ہوئے۔ آپ نے امر بالمعروف و نھی عن المنکر کی طرف خاص و عام کو توجہ دلائی۔ آپ نے معاشرتی و سیاسی اصلاح کی بھرپور سعی کی۔

(ابن حجر العسقلاني۔ مصنفاته ودراسة في منهجه وموارده في كتابه الإصابة جزء1 صفحہ156)

علامہ ابن حجر نے اپنے زندگی میں متعدد اہم خدمات سرانجام دینے کی توفیق پائی جن میں سے چند یہ ہیں تصنیف و کتابت، درس و تدریس، فتاویٰ، خطابات، قضاء وغیرہ

1۔ جہاں تک تصنیف و کتابت کا تعلق ہے تو آپ نے 808ھ میں شیخونیہ میں’’امتاع بالاربعین المتباینة بشرط السماع‘‘ کتاب کی املاء کی سولہ مجالس سے اس کام کی ابتداء کی اوریہ مجالس املاء 850ھ تک جاری رہیں۔ آپ نے کل 1150 مجالس املاء کروائیں۔

(الجواهر والدرر جزء 2صفحہ581- 584)

2۔ علامہ ابن حجر نے درس و تدریس کے لیے مختلف مقامات مخصوص فرمائے تھے وہاں جاکر آپ طلباء کو درس دیا کرتے تھے۔ درس تفسیر مدرسہ حسینیہ، قبة منصوریہ میں، درس حدیث شیخونیہ، خانقاہ بیبرس، مدرسہ جمالیہ مستجدہ اور جامع ابن طولون میں، درس فقہ شیخونیہ، مدرسہ شرفیہ فخریہ، مؤیدیہ، مدرسہ خروبیہ بدریہ ٍمصر، مدرسہ صالحیہ میں دیا کرتے تھے۔

(ابن حجر مؤرخا لمحمد كمال الدين عز الدين ص58- 62)

3۔ علامہ ابن حجر 811ھ میں افتاء دارالعدل کے نگران مقرر ہوئےاور تاوفات آپ اس عہدہ پر قائم رہے۔ آپ ہر روز تیس سے زائدفتاویٰ تحریر فرمایا کرتے تھے۔ آپ سے اس قدر مسائل دریافت کیےجاتے تھے کہ آپ سواری پر بیٹھے ہوئے بھی سوالات کے جوابات دیا کرتے تھے۔

4۔ جہاں تک خطابات کا تعلق ہے تو آپ 819ھ میں جامع الازھر میں ابن رزین کی جگہ خطیب مقرر ہوئے۔ پھر جامع عمرو بن العاص میں 838ھ میں بھی خطیب مقرر ہوئے۔ اسی طرح آپ نے جامع قلعة بالسلطان اور جامع اموی دمشق میں بھی خطابات فرمائے۔ آپ کا خطاب بہت دیرپامؤثر اور دلوں کو گرما دینے والا ہوتا تھا۔ علامہ سخاوی کہتے ہیں کہ ’’آپ کا خطاب دل کو جالگتا تھا اورجب آپ منبر پر ہوتے تھے تو آپ کے نور اور رعب میں اضافہ ہوجاتا تھا۔ میں ان کا وصف بیان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا میں جب بھی ان کی طرف دوران خطاب منبر پر دیکھتا توبے اختیار آنسو نکل جاتے۔‘‘

(الجواهر والدررجزء2 صفحہ 605- 609، 617)

عہدۂ قضاء

5۔ علامہ ابن حجر کو صدی کے اختتام سے قبل سترہ سال کی قاضی کے عہدہ کی پیشکش ہوئی جوکہ آپ نے مسترد کردی کیونکہ آپ نے حدیث کے بارہ میں ابھی زیادہ علم حاصل نہ کیا تھا۔ اس کے بعد پھر الملک المؤید نے آپ کو شام میں قاضی کے عہدہ کی دوبارہ پیشکش کی۔ آپ نے پھر انکار کر دیا اور اسی پر مصر رہے۔

(لحظ الألحاظ بذيل طبقات الحفاظ لابن فهد المكي جزء1 صفحہ212)

پھر قضاء سے متعلق اہم معاملات میں آپ کی رہنمائی لی جاتی اور ان امور میں آپ کو شامل کیاجاتا نیز اس شعبہ سے متعلق شخصیات اور لوگوں کے اصرار پر آپ نے نائب قاضی کا عہدہ قبول کیا اور 27 محرم 827ھ کو آپ نے یہ عہدہ سنبھالا اور الملک الاشرف برسبای نے آپ کو یہ عہدہ سونپا۔

(المنهل الصافي والمستوفى بعد الوافي لابن تغري بردي جزء2 صفحہ20)

عہدہ قضاء سے دستبرداری

علامہ ابن حجر عفت و پاکدامنی کے پیکر تھے اور تواضع و انکساری کے مرقع تھے۔ چھوٹےکا بڑے کی نسبت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ آپ اپنے ارادہ کے پکے اور غریبوں اور طلباء کے محسن تھے اور عدل و انصاف کو قائم کرنے والے اور مظلوموں کے حامی تھے جوکہ ایک مجدد اسلام کا خاصہ ہے لیکن اس زمانہ میں بغض و عناد اور ایک دوسرے سے مقابلہ بازی اور عدم انصاف کا دور دورہ تھا۔ چنانچہ آپ نے اس عہدہ پر انصاف سے کام کرنے میں رکاوٹ محسوس کی۔

(الجواهر والدرر جزء2 صفحہ 620)

چنانچہ آپ نے ذی قعدہ 827ھ میں خود کو اس عہدہ سے الگ کرلیا۔ ابن فہد مکی اس پر کہتے ہیں کہ ’’اگر علامہ ابن حجر اس عہدہ پر قائم رہتے تو ان کے لیے دینی و دنیا وی لحاظ سے بہت بہتر ہوتا۔‘‘

(لحظ الألحاظ بذيل طبقات الحفاظ، جزء1 صفحہ212)

اسی طرح علامہ ابن حجر متعدد دفعہ قاضی مقرر ہوئے لیکن پھر اس منصب سے ہٹا دئیے گئے۔ پھر قاضی القضاة کے عہدہ پر مقرر ہوئے اور اس سے بھی متعدد دفعہ معزول اور مقرر ہوئےجس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال قاضی القضاة کےعہدے سے مستعفی ہوگئے۔

(المنهل الصافي والمستوفى بعد الوافي جزء2 صفحہ22)

اسی طرح عہدۂ مشیخت، نگرانی کتب خانہ وغیرہ کے فرائض آپ کے سپرد ہوئے۔ آپ نے ان تمام فرائض کو ادا کرتے ہوئے لوگوں کو اصلاح نفس کی طرف بلایا اور آپ نے اپنے دائرہ اختیار کے ذریعہ تجدید اسلام کے لیے ہر ممکن سعی کی۔

آب زمزم پینا

شیخ نور الدین ابن ابی الیمن بیان کرتے ہیں کہ 851 ھ میں علامہ ابن حجر نے انہیں بتایا کہ
’’میں نے تین دفعہ آب زمزم پیا ایک دفعہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے علامہ ذہبی جیسا مقام و مرتبہ عطا فرمادے چنانچہ وہ مقام میں نے الحمدللہ پالیا۔ پھر دوسری دفعہ اس لیے پیاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے شیخ سراج بلقینی کی طرح فتاویٰ کے بارہ میں کتاب لکھنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ علامہ سراج جب کتاب لکھنا شروع کرتے تو ان کا قلم کبھی واپس نہیں پلٹتا تھا یعنی کوئی غلطی یا سہو کتابت نہیں ہوتی تھی اور وہ درست لکھتے جاتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نےیہ بھی میرے لیے آسان کردیا اور ’’فتاویٰ شہر‘‘ ضبط تحریر میں لایا جو ایک جلد میں ہے اور اس کا نام میں نے ’’عجب الدہر‘‘ رکھا۔ اور تیسری حاجت کا علامہ ابن حجر نے کبھی ذکر نہیں کیا۔ علماء نے اس بارہ میں بہت پوچھا لیکن جواب نہ پایا۔ اس تیسری حاجت کے بارہ میں مختلف علماء کی مختلف آراء ہیں۔

(الجواهر والدررجزء1 صفحہ166)

تصنیفات

علامہ ابن حجر نے تصنیف کے کام کی ابتداء 796ھ سے کیااور آپ نے اپنی زندگی میں سینکڑوں کتب تصانیف فرمائیں جو عالم اسلام میں کافی متداول ہوئیں اور اس زمانہ کے بادشاہ آپ کی کتب بطور تحائف ایک دوسرے کو بھجوایا کرتے تھے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر خود لکھتے ہیں کہ ’’833ھ میں شاہ رخ بن تیمور مشرقی بادشاہ نے فتح الباری شرح بخاری کی کتاب العلم یہاں کے بادشاہ سے بطور ہدیہ منگوائی کتاب کا اول حصہ تین جلدوں میں تیار کیا گیا اور انہیں بھجوایا گیا۔ پھر839ھ میں دوبارہ مکمل کتاب کا مطالبہ کیا گیا۔‘‘

(انباء الغمر بابناء العمر جزء3 صفحہ434)

آپ کی کتب میں سے چند اہم یہ ہیں
تعلیق التعلیق، فتح الباری، فوائد الاحتفال فی بیان احوال الرجال، التشويق إلى وصل التعليق، التوفيق، تهذيب التهذيب، تقريب التهذيب، لسان الميزان، الإصابة في الصحابة، نكت ابن الصلاح، أسباب النزول، تعجيل المنفعة برحاب الأربعة، المدرج، المقترب في المضطرب، اتحاف المھرة، طبقات الحفاظ، الددر الکامنة فی المائة الثامنة، انباء الغمر بانباء العمر، قضاة مصر، اکاستدراک علیہ، کتاب الاحکام لبیان ما فی القرآن من الابھام، کتاب الزھر، الافتان فی روایة القرآن، المقترب فی بیان المضطرب، توالی التانیس، الاتقان فی فضائل القرآن، کتاب الانوار بخصائص المختار، بلوغ المرام بادلة الاحکام، بذل الماعون بفضل الطاعون، والمنحة فيما علق الشافعي به القول عَلَى الصحة، والأجوبة المشرقة عن الأسئلة المفرقة، ومنسك الحج، وشرح مناسك المنهاج كذلك، وتصحيح الروضة، ونخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر، والانتفاع بترتيب الدارقطني عَلَى الأنواع، مختصر البداية والنهاية لابن كثير، تخريج الأربعين النووية بالأسانيد العلية، الأربعين المتباينة وغیرہ

(ذيل طبقات الحفاظ للسيوطي صفحہ251، المنهل الصافي والمستوفى بعد الوافي جزء2صفحہ27)

مرض اور وفات

علامہ ابن حجر ذیقعدہ 852ھ میں معدہ کی بیماری میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود آپ مجالس املاء میں شرکت کرتے اور لوگوں کو احکام دین سکھاتے۔ اسی حالت میں نماز جمعہ ادا کی۔ پھر عید الاضحیٰ کے لیے بھی مستعد رہے۔ پھر آپ اپنی حلبیہ اہلیہ کے گھر چلےگئے۔ آپ کو قرب وقت وفات کا احساس ہوگیا تھا اور خوابوں کی بناء پرآپ کو اس کا اشارہ مل چکا تھا۔ چنانچہ آپ نے ان ایام میں ایک شعر کہا

ثاءُ الثلاثین قد اوھت قُوی بدنی
فکیف حالی فی ثاء الثمانینا

اور آپ کہا کرتے تھے اللھُمَّ حرمتنی عافیتک فلا تحرمنی عفوک۔

(الجواھر والدررصفحہ1187)

آپ کا مرض بڑھتا گیا اور ہر خاص و عام، چھوٹا بڑا، امراء و قاضی، علماء و طلباء وغیرہ سب آپ کی عیادت کو دوڑے چلے آئے۔

آپ کی وفات ہفتہ کی شب 28 ذوالحجہ 852ھ بعد عشاء ہوئی۔ ہفتہ کے روز شیخ زین الدین بوتیجی نے غسل دیا اور آپ کے بیٹے نے تجہیز و تکفین کی۔ آپ کے جنازہ میں سلطان سمیت علماء و فضلاءو طلباء وخلق کثیر نے شرکت کی۔ شہاب منصوری بیان کرتے ہیں کہ وہ علامہ ابن حجر کے جنازہ میں شامل تھے جب نماز کے لیے صف بندی کی تو بارش شروع ہوگئی تو میں نے اس وقت یہ شعر کہا

قد بكت السحب على قاضي القضاة بالمطر
وانهدم الركن الذي كان مشيدا من حجر

(ذيل طبقات الحفاظ للسيوطي صفحہ 252)

ترجمہ: آسمان قاضی القضاة کی وفات پر آنسو بہارہا ہے اور جو ستون پتھروں سے مضبوط بنا ہوا تھا وہ گرگیا۔

ازواج و اولاد

علامہ ابن حجر نے تین شادیاں کیں۔ ان کی پہلی شادی انّس خاتون سے ہوئی۔ پھر دوسری شادی ابو بکر امشطی کی بیوہ سے کی۔ تیسری شادی لیلیٰ بنت محمود بن طوغان الحلبیہ سے 836ھ میں ہوئی۔ اور ایک ام ولد خاص ترک تھی۔

آپ کے کل پانچ بچے ہوئے۔ جن میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ چاروں بیٹیاں آپ کی پہلی زوجہ انّس خاتون سے ہوئیں۔ اور بیٹا بیوی کی کنیز خاص ترک سے ہوا جس کا نام ابو المعالی بدر الدین محمد تھا۔

(الجواهر والدرر، جزء 3 صفحہ 1208- 1228)

اخلاق کریمانہ

علامہ ابن حجر جہاں غیر معمولی علمی خصوصیات کے حامل تھے وہاں اخلاق کریمانہ سے بھی متصف تھے۔ آپ ایک عالم باعمل کے لیے بطور نمونہ ہیں۔ ابن تغری بیان کرتے ہیں کہ
’’علامہ ابن حجر پُرنور چہرہ، نورانی داڑھی رکھتےتھے۔ آپ ایک باوقار اور بارعب شخصیت کےحامل تھے۔ عقل و حکمت، سکینت وحلم، سیاست و معاشرت کا علم رکھنے والے اور اس دور کے لوگوں کے مدار المہام تھے۔ جو آپ کے بارہ میں برا بھلا کہتے وہ آپ قبول کرتے بلکہ اس کے ساتھ ہمیشہ بھلائی کا سلوک فرماتے۔‘‘

(المنهل الصافي والمستوفى بعد الوافي، جزء2 صفحہ 23)

حافظ تقی الدین کہتے ہیں
’’آپ امام، علامہ، حافط، مضبوط دین والے، اچھے اخلاق والے، عمدہ گفتگو کرنے والے اور بہترین تعبیر کرنے والے اور عدیم النظیر تھے۔ آنکھوں نے آپ جیسا کوئی اور نہیں دیکھا نہ ہی انہوں نے کسی اور کو اپنے جیسا پایا۔‘‘

(فوائد الجامعة صفحہ439)

تقویٰ شعاری

علامہ سخاوی لکھتے ہیں کہ
’’علامہ حجر بہت متقی انسان تھے۔ ایک دفعہ ان کے اہل خانہ نے انہیں کھانا پیش کیا جو آپ نے کھا کربہت پسند فرمایا۔ سارا کھانا کھانے سے قبل اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ڈالا کہ اس بارہ میں پوچھا جائے کہ یہ کہاں سے آیا ہے۔ گھر والوں نے ایسی مشتبہ جہت کا بتایا کہ جس سےکھانا آپ ناپسند کرتے تھے لیکن انہوں نے مختلف عذر بیان کیے کہ آپ کھالیں یہ آپ کےلیے جائز ہے لیکن آپ نے فرمایا کہ میں وہی کروں گا جو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کیا اور قے کرکے سارا کھانا باہر نکال دیا۔‘‘

(الجواهر والدرر جزء3 صفحہ 980)

حلیم الطبع

آپ حلم ودرگزرکے پیکر تھے۔ ایک دفعہ بعض شعراء نے آپ کی ہجو کی اور اس میں بہت مبالغہ کیا۔ آپ کے محبین اور شاگرد اسے برداشت نہ کرسکے اور وہ ایک شاعر کو پکڑ لائے کہ اس سے مواخذہ کیا جائے۔ علامہ ابن حجر وہاں پہنچے تو اس بات کو سخت ناپسند کیا اور اسے عزت سے رخصت کرنے کو کہا بلکہ اسے انعام و اکرام دے کر روانہ کیا۔

(الجواهر والدرر جزء3 صفحہ992)

آپ تواضع اور عجز و انکسارکی اپنی مثال آپ تھے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ جیسا کوئی اور بھی ہے؟ تو آپ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ (النجم 33) پس اپنے آپ کو (ىونہى) پاک نہ ٹھہراىا کرو۔

بعض لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ زیادہ حافظ ہیں یا علامہ ذہبی اس پرآپ خاموش رہے جو کہ آپ کے تواضع کی وجہ سے تھا۔

(الجواہر والدرر جزء1 صفحہ166)

علامہ ابن حجر نہ کبھی اپنی علمیت پر فخر نہیں کیا اور نہ تکبر کا مظاہر ہ کیا۔ ایک دفعہ ایک شاگرد نے آپ کو کہا کہ اے استاذ! آپ نے فتح الباری لکھ کر امام بخاری پر احسان کیا ہے تو آپ نے اسے کہا کہ تو نے یہ کہہ میری کمر توڑ ڈالی ہے۔

(الجواهر والدرر جزء3 صفحہ 1023- 1024)

زہدوعبادت

علامہ ابن حجر عبادت گزار انسان تھے۔ نماز تہجد کو باقاعدگی سے ادا کرتے اور سفر و حضر میں قیام اللیل کرتے۔ بیماری کے آخری ایام میں بھی بیٹے کے ساتھ ٹیک لگا کر قیام اللیل کرتے رہے۔ آپ عام دنوں میں ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن روزہ رکھتے۔ ماہ رمضان میں باقاعدگی سے روزے رکھتے۔ قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرتے۔ عیادت مریضان اور جنازوں میں لازماً شرکت کرتے۔ سنت رسولﷺ کی بہت پیروی کرتے۔ آپ تحریر و تقریر سے لوگوں کو سنت رسول کی پیروی کی طرف بلاتے اور اس کی مخالفت سے روکتے تھے۔

(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اگست 2020

اگلا پڑھیں

قارئین کرام سے ضروری درخواست برائے اطلاعات و اعلانات