• 20 ستمبر, 2020

مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریّت عطا کر

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
ایک جگہ حضرت زکریا علیہ السلام کے ذریعہ دعا سکھائی اور وہ دعا یہ ہے کہ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ (آل عمران :39) اے میرے رب مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریّت، اولاد عطا کر۔ یقیناً تُو بہت دعائیں سننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود یہ دعا سکھائی کہ مَیں دعائیں سننے والا ہوں۔ اس لئے تم بھی کہو کہ اے اللہ تُو دعا سننے والا ہے۔ اس لئے ہماری دعائیں قبول کر اور ہمیں پاک اولاد بخش۔

پس جب پاکیزہ اولاد کی خواہش ہو تو اس کے لئے دعا بھی ہونی چاہئے لیکن ساتھ ہی ماں باپ کو بھی ان پاکیزہ خیالات کا اور نیک اعمال کا حامل ہونا چاہئے جو نیکوں اور انبیاء کی صفت ہیں۔ ہر ماں اور باپ کو وہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض دفعہ مائیں دینی امور کی طرف توجہ دینے والی ہوتی ہیں، عبادات کرنے والی ہوتی ہیں تو مردنہیں ہوتے۔ بعض جگہ مرد ہیں تو عورتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہیں۔ اولاد کے نیک ہونے اور زمانے کے بد اثرات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اولاد کی خواہش اور اولاد کی پیدائش سے بھی پہلے مرد عورت دونوں نیکیوں پر عمل کرنے والے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ کے واقعات میں ایک واقعہ ملتا ہے جس میں اولاد ہونے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک شخص کے لئے دعا ہے۔ لیکن اس دعا کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مشروط کر دیا اور مشروط کیا اس شخص کے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے سے۔ وہ شخص ابھی احمدی بھی نہیں تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں نہیں آیا تھا لیکن شاید اس کی کوئی نیکی تھی جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے لئے دعا کی۔ یہ منشی عطا محمد صاحب پٹواری ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں غیر احمدی تھا۔ دین سے دُور ہٹا ہوا تھا۔ ان کے ایک دوست تھے وہ انہیں احمدیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے لیکن کہتے ہیں میں نے کبھی توجہ نہیں کی۔ ایک دن انہوں نے مجھے بہت زیادہ اس بارے میں کہا اور میرے پیچھے پڑ گئے کہ میری باتیں سنو اور ان پہ غور کرو۔ مَیں نے کہا اچھا اگر آپ یہی کہتے ہیں تو میں آپ کو ایک دعا کے لئے کہتا ہوں۔ اگر وہ سنی گئی تو پھر میں غور کروں گا۔ آپ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں تو ان کو میرے لئے دعا کے لئے کہیں اور دعا اس بات کی ہے کہ میری تین بیویاں ہیں کسی کی اولادنہیں ہے۔ ایک کے بعد دوسری شادی مَیں نے کی تا کہ اولاد پیدا ہو۔ یہ دعا کریں کہ مجھے بیٹا عطا ہو اور بیٹا بھی پہلی بیوی سے ہو۔ کہتے ہیں یہ خط انہوں نے میری طرف سے لکھ دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب کی طرف سے جواب آیا کہ حضور نے دعا کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی ہے اور فرمایا کہ آپ کو بیٹا عطا ہو گا لیکن شرط یہ ہے کہ آپ زکریا والی توبہ کریں۔ منشی صاحب کہتے ہیں مَیں ان دنوں میں سخت بے دین تھا۔ شرابی کبابی اور راشی ہوا کرتا تھا۔ رشوت لینا میرا عام کام تھا۔ مجھے کیا پتا ہونا تھا کہ زکریا والی توبہ کیا ہوتی ہے۔ کہتے ہیں میں یہ پتا کرنے کے لئے کہ زکریا والی توبہ کیا ہے مسجد میں گیا تو مسجد کا امام مجھے مسجد میں دیکھ کر حیران ہوا کہ یہ شرابی کبابی کہاں سے آ گیا۔ لیکن بہرحال جب مَیں نے سوال کیا تو میرے سوال کا وہ جواب نہیں دے سکا۔ کہتے ہیں پھر مَیں مولوی فتح دین صاحب احمدی کے پاس دوسرے گاؤں میں گیا۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ زکریا والی توبہ بس یہ ہے کہ بے دینی چھوڑ دو۔ حلال کھاؤ۔ نماز روزے کے پابند ہو جاؤ اور مسجد میں زیادہ آیا کرو۔ کہتے ہیں یہ سن کر مَیں نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔ شراب چھوڑ دی۔ رشوت لینی بند کر دی۔ نماز روزے کا پابند ہو گیا۔ کہتے ہیں چار پانچ مہینے کا عرصہ گزرا ہو گا کہ ایک دن میری بڑی بیوی رونے لگی۔ خیر اس کو دائی سے چیک کروایا تو اس نے جو بات کی اور وہ اس طرف شک کا اظہار تھا کہ شاید اولاد ہونے والی ہے۔ بہرحال اس کی بات سن کر میں نے اس سے کہا کہ میں نے مرزا صاحب سے دعا کروائی ہے۔ یہ اولاد ہونے کی نشانی ہے۔ شک والی کوئی بات نہیں۔ کہتے ہیں کچھ عرصہ بعد حمل کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے تو مَیں نے لوگوں کو بتانا شروع کر دیا کہ میرے بیٹا پیدا ہو گا اور صحتمند اور خوبصورت بھی ہو گا۔ چنانچہ بیٹا پیدا ہوا۔ اور کہتے ہیں اس کے بعد میں نے بیعت کر لی اور اس علاقے کے بہت سے اَور لوگوں نے بھی بیعت کی۔

(ماخوذ ازسیرت المہدی جلد1 صفحہ220-221 روایت نمبر 241)

تو اللہ تعالیٰ کسی کا انجام بخیر کرنا چاہتا ہے تو اس طرح بھی ہوتا ہے کہ اولاد کی خواہش اور اولاد ہونا ان کی اصلاح اور پاک تبدیلی کا باعث بن گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی دعا کی قبولیت کو ان میں پاک تبدیلی کے ساتھ مشروط کیا تھا۔ تو بہرحال جہاں زکریا کی دعا ہم اپنی اولاد کے لئے کرتے ہیں وہاں ہمیں اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

لیکن اس ضمن میں یہ بھی بتا دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک اور شخص کا معاملہ پیش ہوا کہ وہ کہتا ہے کہ میرے لئے دعا کریں بیٹا پیدا ہو یا اولاد ہو تب مَیں احمدی ہو جاؤں گا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے۔ مَیں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ لوگوں کے ہاں بچے پیدا کروانے کے لئے مَیں آیا ہوں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحہ 115۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

(خطبہ جمعہ 14؍ جولائی 2017ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 ستمبر 2020